امور داخلہ کی وزارت
غیر ملکی افراد کو26 ہزار 786 طویل مدتی ویزا دیئے گئے، جن میں یکم جنوری 2015 سے 31 دسمبر 2019 تک بنگلہ دیش ، افغانستان اور پاکستان سے آنے والے اقلیتی فرقوں کے 25 ہزار 782 افراد شامل ہیں: جناب نتیانند رائے
प्रविष्टि तिथि:
17 MAR 2020 3:45PM by PIB Delhi
نئی دہلی،17؍مارچ،امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت جناب نتیا نند رائے نے آج لوک سبھا میں پڑوسی ممالک کی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ویزا دئے جانے کے سلسلے میں کئے گئے سوالات کے تحریری جواب میں بتایا کہ بنگلہ دیش ، افغانستان اور پاکستان سے قانونی سفری دستاویزات یعنی جائز پاسپورٹ اور جائز ویزہ کے ساتھ ہندوستان آنے والے اور ہندوستان کی شہریت حاصل کرکے یہاں مستقل طور پر رہنے کے خواہش مند افراد کے درجہ ذیل زمروں کو طویل مدتی ویزا (ایل ٹی بی) دیا جاتا ہے۔:
- بنگلہ دیش ؍ افغانستان ؍ پاکستان میں اقلیتی فرقوں ہندوؤں، سکھوں ، بودھ ، جین ، پارسیوں اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد ۔
- بنگلہ دیش ؍ پاکستان کی ایسی خواتین جنہوں نے ہندوستانی شہری سے شادی کی ہے اور ہندوستان میں رہتی ہوں یا افغانستان کے شہری نے ہندوستان کے شہری سے ہندوستان میں شادی کی ہو اور ہندوستان میں قیام پذیر ہوں۔
- بنگلہ دیش ؍ افغانستان ؍ پاکستان کی شہریت رکھنے والی ہندوستان نژاد خواتین ، جنہوں نے بنگلہ دیش ؍ افغانستان ؍ پاکستان کے شہری سے شادی کی ہو اور بے ہوہ ہوجانے ، طلاق دیئے جانے کی وجہ سے ہندوستان واپس لوٹ رہی ہوں، اور جن کی مدد کرنے کے لئے بنگلہ دیش ؍ افغانستان ؍ پاکستان میں کوئی مرد رُکن نہ ہو ۔
- انتہائی ہمدردی کے تقاضے والے معاملے۔
جناب نتیا نند رائے نے کہا کہ یکم جنوری 2015 سے 31 دسمبر 2019 تک ہندوستان میں آمد کے بعد ایسے 26 ہزار 786 غیر ملکی افراد کو طویل مدتی ویزا دیا گیا ہے۔ ان میں 25 ہزار 782 افراد کا تعلق بنگلہ دیش ، افغانستان اور پاکستان کے اقلیتی فرقوں سے ہے، جنہیں اسی مدت کے دوران ہندوستان میں آمد کے بعد ایل ٹی وی دیا گیا۔ سری لنکا سے آنے والے اقلیتی فرقے کے لوگوں کے لئے ایسا ایل ٹی وی دئے جانے کا کوئی مخصوص ضابطہ نہیں ہے۔
امور داخلہ کے وزیر مملکت نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے ایل ٹی وی پر ہندوستان میں رہنے والے ایسے افراد کو بہت سی سہولیات بھی فراہم کرائی ہیں۔ ان میں ایک بار میں پانچ برس کی مدت کے لئے ایل ٹی وی دیا جانا ، ایسا ایل ٹی وی رکھنے والوں کے بچوں کو اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں ، تکنیکی ؍ پروفیشنل انسٹی ٹیویشن وغیرہ میں ریاستی حکومت ؍ مرکز کے زیر انتظام خطے کی انتظامیہ سے کسی خصوصی اجازت کے بغیر داخلے کی اجازت ، نجی شعبے میں روز گار حاصل کرنے کی اجازت ، اپنے روز گار کے لئے ایکوموڈیشن اور رہائشی اکائی خریدنے کی اجازت ، اپنے آبائی ملک ؍ تیسرے ملک جانے کے لئے یہ پھر سے داخلہ (ریٹرن ویزا) دینا ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام خطے کے اندر آزادی سے آنے جانے وقت پر ایل ٹی وی کی مدت آگے نہ بڑھانے پر جرمانے کی تخفیف، بینک کھاتے کھولنے ، ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے، پین کارڈ اور آدھار نمبر وغیرہ جاری کرنے کی سہولت شامل ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ شہریت (ترمیم) قانون – 2019 بنگلہ دیش ؍ افغانستان اور پاکستان سے آنے والے ایسے ہندو ، سکھ ، بودھ، جین ، پارسی اور عیسائی فرقے سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو شہریت دیتا ہے، جو 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے قبل ہندوستان میں داخل ہوئے ہوں اور جن کو مرکزی حکومت نےپاسپورٹ (ہندو ستان میں داخلہ) قانون -1920 کی دفعہ - 3 کی ضمنی دفعہ (2) کی کلاز سی کے تحت یا غیر ملکیوں سے متعلق قانون – 1946 یا اس کے تحت تیار کئے گئے کسی اصول ؍ حکم کے ضابطوں کے اطلاق سے چھوٹ دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن-وا- ق ر)
U-1285
(रिलीज़ आईडी: 1606822)
आगंतुक पटल : 189