وزارت دفاع

دفاعی برآمدی نمائش میں 200 سے زیادہ مفاہمت ناموں پر دستخط کئے گئے ، ٹکنالوجی کی منتقلی اور مصنوعات کی شروعات کی گئی


اترپردیش کو دفاعی سامان کی تیاری کے ایک مرکز کے طور پر ابھرناچاہئے:رکشا منتری
ایچ اے ایل کا لائٹ یوٹی لیٹی ہیلی کاپٹر تجارتی پیداوار کے لئے تیار ہے

Posted On: 07 FEB 2020 2:59PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 7 فروری /آج لکھنؤ میں دفاعی سامان کی  برآمد سے متعلق نمائش 2020  کے تیسرے دن ‘بندھن  ’ نامی تقریب میں   200 سے زیادہ شراکت داریاں  دیکھنےمیں آئیں جن میں مفاہمت ناموں پر دستخط ، ٹکنالوجی کی منتقلی (ٹی او ٹیز) اور مصنوعات کی شروعات   شامل ہیں۔  اس طرح  یہ  بھارت میں   منعقد ہونے والی  سب سے کامیاب تقریب بن گئی ہے۔  اختراعی نوعیت  کے تعاون   کے قیام  اور  شراکت داری کی تجدید  اور ملک میں    دفاعی   سامان کی تیاری   کے عمل میں  انقلابی نوعیت کی  تبدیلی لانے کے سلسلہ میں   سمجھوتے کئے گئے  جن پر  مختلف  ڈی پی ایس یوز   ،  بھارت  کی پرائیوٹ دفاعی کمپنیوں اور  بیرون ملکوں کی کمپنیوں کے درمیان  ان کے نمائندوں نے دستخط کئے۔   اس موقع پر رکشا منتری جناب راج ناتھ سنگھ اور اترپردیش کے وزیراعلی جناب یوگی ادتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔  

رکشا منتری نے  مفاہمت ناموں پر  دستخط کرنے کو  ، اگلے پانچ برسوں میں    بھارت کی برآمدات 5 ارب ڈالر   کرنے کے  وزیراعظم کے  نشانے کو  حاصل کرنے کی سمت میں ایک قدم قرار دیا ہے۔ دفاعی سامان تیار کرنے والے  مرکزی حکومت کے  ادارے  اور بھارت کی  دفاع سے متعلق پرائیوٹ صنعت آج اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ   بھارت کے   نوجوانوں کے   تیز ذہن کو استعمال کرکے دنیا میں   ابھرتے ہوئے آر اینڈ  ڈی مرکز میں بھارت کی قیادت کریں۔ حکومت نے لائسنس دینے کی  پالیسی کو  آسان بنایا ہے  جس سے   بھارتی   اور عالمی  کمپنیوں کی طرف سے  بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے ان تمام ساجھے داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مفاہمت ناموں پر دستخط کئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ اترپردیش دفاعی سامان تیار کرنے کے ایک مرکز کے طور پر ابھرے گا۔  

آج جن مفاہمت ناموں پر دستخط کئے گئے  ان میں سے 23 پر اترپردیش کی حکومت کی طرف سے دستخط کئے گئے۔ وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ  ان مفاہمت ناموں کے ذریعہ  ریاست میں   قائم دفاعی   کوریڈور میں   50 ہزار کروڑ  روپے کی  سرمایہ کاری ہوگی اور روزگار کے  تین لاکھ مواقع فراہم ہوں گے۔  انہوں نےیقین دلایا کہ   ریاست میں کی جانے والی سرمایہ کاری محفوظ ہے   اور ریاست کی  سرمایہ کاری سے متعلق  پالیسی ملک کے سب سے پرکشش پالیسی ہے۔ وزیراعلی نے یہ اعلان بھی کیا کہ  ایچ اے ایل جلد ہی ڈور نیئر   19 سیٹر شہری  ہیلی کاپٹر  اترپردیش  کو فراہم کرے گا۔

محکمہ دفاع کے سکریٹری ڈاکٹر اجے کمار نے کہا کہ یہ نمائش بہت سی پہل قدمیوں کے لئے یاد کی جائے گی۔  اس میں   اتنی بڑی تعداد میں مفاہمت ناموں پر دستخط کیا جانا  ،  ٹی او ٹیز   اور اشیا کی   شروعات شامل ہے۔ بندھن تقریب کے دوران 13 سے زیادہ مصنوعات کی شروعات کی گئی   ،  ڈی پی ایس یوز  پرائیوٹ اور عالمی  دفاعی سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان    124 مفاہمت نامے ہوئے۔ 23 مفاہمت ناموں پر  اترپردیش کی حکومت اور پرائیوٹ کمپنیوں نے دستخط کئے۔ 

دفاعی  تحقیق و ترقی کی تنظیم    ڈی آر ڈی او  کے سکریٹری  اور چیئرمین  جناب ستیش ریڈی نے کہا کہ  ڈی آر ڈی او کا  یہ فرض ہے کہ   وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اترپردیش  کا دفاعی کوریڈور  ترقی کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے ڈی آر ڈی او نے   ریاستی حکومت کے ساتھ    ٹکنالوجیکل  شراکت داری کے  ایک سجھوتے پر دستخط کئے ہیں۔   اس سمجھوتے کے تحت  ٹکنالوجی سے متعلق تمام   پہلوؤں پر   رہنمائی  فراہم کی جائے گی جس میں صلاحیت سازی کی  تربیت بھی شامل ہے۔  اس عمل میں   آسانی پیدا کرنے کے لئے   ریاست میں   ایک تال میل سیل  پہلے ہی قائم کردیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا   کہ ریاست میں   تحقیق اور ترقی   سے متعلق ایک مرکز قائم کیا جائےگا  جو  دفاعی   ترقی کے معاملے میں   سہارا دینے والے  کے طو ر پر کام کرے گا۔ ٹکنالوجی کی منتقلی  کمپنیوں کو  بغیر کسی قیمت کے فراہم کی گئی ہے  تاکہ ملک میں   دفاعی    ماحولیاتی نظام مزید آگے بڑھے۔ اس کے علاوہ    ڈی آر ڈی او کے پاس جو پیٹنٹس ہیں وہ   بھارتیہ کمپنیوں کو  مفت دیئے گئے ہیں تاکہ ایسی ٹکنالوجیوں کو  ترقی دی جاسکے  جن سے   بھارتیہ کمپنیوں کو فائدہ پہنچے۔ 

تقریب کے دوران   ایک بڑا اعلان کیا گیا   جس کے تحت ہندستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کو  لائٹ یوٹی لیٹی ہیلی کاپٹر  (ایل یو ایچ) تیار کرنے کے لئے   انیشنیل آپریشنل کلیئرنس   (آئی او سی)  سرٹی فکیٹ  جاری کیا گیا۔ ایچ یو ایل  دراصل   چیتا اور چیتک ہیلی کاپٹروں کی جگہ   ڈیزائن کیا گیا ہےاور تیار کیا گیا ہے  یہ دونوں ہیلی کاپٹر بھارت کی مسلح افواج   استعمال کررہی ہیں۔   

ایل یو ایچ  نئی نسل کا ہیلی کاپٹر ہے جو  تین ٹن  کلاس سے  تعلق رکھتا ہے  اور جس میں  جدید  ٹکنالوجی طریقوں کو استعمال کیا  گیا ہے جن سے آنے والی دہائیوں میں  اس کلاس کے  ہیلی کاپٹروں کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے گا۔

او بی ایف ‘‘شارنگ’’ کی شروعات کی جو 155 ملی میٹر کی آرٹلری گن ہے  اور جس کی مار کرنے کی صلاحیت 36 کلو میٹر ہے۔   اس کا ایک ماڈل   فو ج کے سربراہ  جنرل ایم ایم  نروانے  کو پیش کیا گیا۔  او بی ایف نے    جے وی   پی سی الفا گن   کی شروعات بھی کی  جس کی مار کرنے کی صلاحیت 100 میٹر ہے  ۔ اس کے علاوہ  800 میٹر  صلاحیت کی لائٹ مشن گن  اور   یو  بی جی ایل  -انڈ ر بیرل  گرینیڈ لانچر  کی بھی شروعات کی گئی۔

بی ڈی ایل انے   ٹیکن شیکن گائیڈڈ میزائل اموگھا -3 کی شروعات کی ۔ یہ   انسان کے ذریعہ لے جایا جانے والا میزائل ہے ۔  

بی ڈی ایل نے  آبدوز شکن  ٹورپیڈو    ورونسترا  کی شروعات کی  ، اسے  ڈی آر ڈی او کی  ٹکنالوجیکل رہنمائی میں  تیار کیا گیا ہے۔  

اس تقریب کے موقع پر موجود اہم شخصیات میں رکشا راجیہ منتری  جناب شری پد نائیک  ، حکومت اترپردیش کے    صنعتی ترقی کے وزیر   جناب   ستیش   مہانا اور یو پی   ای  آئی ڈ ی اے  کے   سی ای او جناب   اوانیش کمار   اوستھی بھی شامل تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 م ن۔ج  ۔ ج۔

U- 631



(Release ID: 1602432) Visitor Counter : 130


Read this release in: English , Hindi , Marathi