وزارت دفاع

ڈی آر ڈی او کے ڈائرکٹروں کی کانفرنس میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا کی تقریر کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 OCT 2019 5:46PM by PIB Delhi

 

نئی دلّی، 16 اکتوبر / وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا نے 16 اکتوبر، 2019 کو نئی دلّی میں ڈی آر ڈی او کے ڈائرکٹروں کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس تقریر کا متن حسب ذیل ہے:۔

            ”آج  میں آپ سب کے درمیان آ کر خوشی محسوس کر رہا ہوں، خاص طور پر نو جوان سائنسدانوں کے ذریعہ ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں اور اس کی پیش کش کے اجلاس میں۔ یقیناً یہ وزیر اعظم کے ذریعہ ایک نئی حوصلہ افزا پہل قدمی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ 35 سال سے کم عمر کے سائنسدانوں کو نئے شعبوں میں تلاش و اختراعات کے مواقع دیئے جائیں۔ اس نظرئیے کے ساتھ، ڈی آر ڈی او نے نو جوان سائنس دانوں کے لئے اعلیٰ تکنالوجی کی صلاحیت کی حامل پانچ لیباریٹریاں قائم کی ہیں جن میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس، کوانٹم تکنالوجیاں، کوگنیٹیو تکنالوجیاں، ایسیمیٹرک تکنالوجیاں  اور اسمارٹ میٹریل شامل ہیں۔ آج پانچ پریزنٹیشن دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ ڈی آر ڈی او کی یہ پہل قدمی قابل قدر ثابت ہو گی۔

            آج، ہم ب تکنالوجیوں کا ارتقاء بے مثال شدت کے ساتھ تمام کرہ ارض  کے مختلف شعبوں میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایک مضبوط ہم آہنگی تیار کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی ان تکنالوجیکل تبدیلیوں اور فوائد کے حصول کے لئے اولین توجہ مرکوز کرنے، اسے بر قرار رکھنے اور مقابلہ جاتی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جیو پولیٹیکل اور قومی سلامتی وجوہات بلکہ ہمیں  اختراعات کے شعبے میں نئی پہل قدمیوں کے ساتھ صنعت و تجارت کے لئے بھی عالمی تبادلہ خیالات کے لئے نشست کو یقینی بنا  ئے جانے کے لئے در کار  ہے۔

            ملک میں ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں کے تعین کے لئے میں تین آر تجویز کرتا ہوں جن میں ریکوائرمنٹ یعنی درکار ضرورت ،ریسورس یعنی وسائل اور ریلیوینس یعنی افادیت شامل ہیں۔

            ہماری در کار ضروریات میں ہمارے قومی مفاد کے لئے تحفظ کا کام کرنے والی مستقبل کی کلیدی تکنالوجیوں کی تلاش شامل ہے۔یہ ایک جاری و ساری عمل ہے اور سماجی۔ اقتصادی پیش رفت،کو یقینی بنانے کے لئے ضروری  ہے جس کے لئے اس طرح کی تکنالوجیوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔ تکنالوجی کی ترقی کے لئے ہماری ترقی صرف موجودہ افراط یا بالا دستی کے لئے نہیں ہونی چاہئیے بلکہ اس کے دیگر تقاصے بھی ہیں بلکہ اسے سب کے لئے یکساں طور پر افادیت کا حامل بنانا چاہئیے۔

            کلیدی وسائل کی دستیابی اس سلسلے میں ایک مسئلہ بن کر سامنے آ سکتاہے ۔ تاہم اس سلسلے میں یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ اس کے توسط سے تنوع کا راستہ بھی کھلے گا۔ ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں میں اس طرح کعے  اقدامات کا استعمال ممکن بنانے کے لئے ڈی آر ڈی او کو اپنی ہنر مندیوں کو جلا بخشنی چاہئیے تاکہ یہ ادارہ اضافی قدر و قیمت کے وسائل کا خاصل فراہم کار بن جائیس۔

            تیسرا آر، موزونیت کا حامل ہے۔ ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں کو ترقیاتی کوششوں کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہونا چاہئیے۔ ان ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں سے الگ ہٹ کر ہم جو کام کریں گے، وہ مختلف شعبوں میں ہماری کوششوں کو مہمیز کریں گے۔ مثال کے طور پر اسرو کے ذریعہ وضع کی گئی خلا ء سے متعلق تکنالوجیوں کا استعمال کاشت کاروں کے ذریعہ کئی طرح سے کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سے کمپپیوٹر پر مبنی اطلاعات اور استدلال زراعت، مینوفیکچرنک، صنعت اور یہاں تک کہ اسمارٹ میٹریل کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے جو کہ معیشت کے مختلف النوع شعبوں کے لئے بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

             آج تکنالوجی کا پہلو کار کردگی سے مربوط دو کسوٹیوں پر منحصر ہے۔ ان میں تکنالوجی تجزیہ اور تکنالوجی پیشن گوئی دونوں شامل ہیں۔ مستقبل میں تکنالوجی منظر نامے کا تعین اس بات پر ہو گا کہ مستقبل میں کیا چیز مفید ہو گی اورکس چیز کے ذریعہ ایسا ممکن ہو گا۔ پہل کرنے والا ہمیشہ نہ صرف یہ کہ اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق کامیابی حاصل کر پاتا ہے بلکہ اسے دور رس فوائد بھی حاصل ہو تے ہیں۔ تکنالوجی سے متعلق تنوع اور اسی کے متعلق سرمایہ کاری کے سلسلے میں پہلے سے کی گئی پیش گوئی کی صلاحیت در اصل اپنے آپ میں دانش ورانہ سرمایہ کہی جا سکتی ہے اور اس لحاظ سے اس کی حیثیت لازمی ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں بہترین سرمایہ کاری یہ ہوگی کہ ملک کے نو جوانوں کے مقتدر اداروں میں سرمایہ کاری کی جائے، جن میں یہ مضمرات پوشیدہ ہیں کہ وہ تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔ نو جوان سائنس داں اس امر پر قادر ہوں  گے کہ وہ اگلی پیڑھی کی تکنالوجی اور تنوع کے لئے در کار تبدیلیاں عمل میں لا سکیں۔ شرط یہ ہے کہ انہیں ایک ایسا مناسبت والا ساز گار ماحول فراہم کرایا جائے جہاں وہ آزادانہ طور پر سوچ سکیں اور اسے عملی جامہ پہنا سکیں۔

             نوجوان سائنس دانوں کی تجربہ گاہوں کو بند کمروں تک محدود نہیں ہونا چاہئیے۔ انہیں صنعت سے وابستہ ضروریات سے مربوط معاون محققین کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کام کرنا چاہئیے۔ اس منطق کا انحصار اس حقیقت پر ہے کہ ان پانچ تجربہ گاہو میں مختلف النوع پلیٹ فارموں کو یکجا ہو نے کا موقع حاصل ہونا چاہئیے جن کا تعلق خصوصی ترجیح والے شعبوں سے ہے۔ کیونکہ خصوصی ترجیح والے شعبے اپنی ترجیح کے لحاظ سے ایک دوسرے سے،مربوط ہیں لہٰذا ایک دوسرے کے ساتھ ان کا رابطہ اور مواصلات ضروری ہے۔ 

            تکنالوجی کے شعبے میں تیز رفتار والی ترقی متعدد مواقع فراہم کرتی ہے تاہم اس میں کئی چیلنج بھی کار فرما ہوتے ہیں۔ ان تجربہ گاہوں کے بہت سے پروجیکٹ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن کے مکمل ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ یہ بات سب پر واضح ہو جانی چاہئیے کہ نشو و نما میں جو وقت صرف ہوتا ہے اس کی وجہ سے کوئی پروجیکٹ فرسودہ نہیں ہوتا ہے۔ طے شدہ مقاصد کے حصول کے راستے میں پیش رفت کی نگرانی کے لئے ایک میکنزم بھی در کار ہوتا ہے اور متعلقہ شعبوں میں بین الاقوامی پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگ بھی رہنا پڑتا ہے۔ ہم یہ ہر گز نہیں چاہیں گے کہ ہم اس صورت حال کا سامنا کریں جس میں ہمیں اپنا پچھلا کام دوہرانا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ میں اکثر اس نظرئیے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افادیت کا حامل ہو۔ لہٰذا جو چیز ہمارے قومی پس منظر میں افادیت کی حامل ہو، اس پر کام کیا جانا چاہئیے اور اسے صرف اس لئے ترک نہیں کیا جاناچاہئیے کہ اس کی افادیت وقتی طور پر محدود نظر آتی ہے۔ دوسرا پہلو ہماری تحقیق و ترقیات کے نتائج سے مربوط ہے یعنی یہ دونوں امور  ایسے ہونے چاہئیں کہ انہیں صنعتی پس منظر اور حقیقی زندگی کی صورت حال کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ بڑے پیمانے پر ایسا کرنے کی صورت میں افادیت میں اضافہ ہو گا اور افادیت بھی بڑھے گی اور قیمت و استطاعت کے معاملے میں بھی فائدہ حاصل ہو گا۔

            اب میں اس موقع پر ایک دیگر اہم موضوع کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ جب ہم سازگار ماحول کی بات کرتے ہیں تو اس کی فراہمی محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیے تاکہ ہمارے نو جوان سائنس داں آزادی کے ساتھ کام کر سکیں اور ان پر کوئی دباؤ نہ ہو۔ ہمیں سوال پوچھنا چاہئیے کہ کیا ہم نے اس مسئلے کو حل کر لیا ہے کہ یہ تجربہ گاہیں اپنی تحقیق کو آگے بڑھانے کے لئے وسائل کہاں سے حاصل کرتی ہیں۔ وہ اپنی جستجو کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے اہم ساز و سامان کہاں سے حاصل کریں گی۔ تجربے کے لئے خام مواد کہاں سے آئے گا۔ ان تمام چیزوں کے سلسلے میں بین الاقوامی تحفظاتی میکنزم اور قواعد و ضوابط کا لحاظ رکھنا ہو گا۔ در اصل ان تجربہ گاہوں کو چپ، مواد اور دیگر متعلقہ چیزوں کے معاملے میں اعانت فراہم کرانے والے ہارڈ ویئر اور دیسی پیش رفت کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہئیے۔ یہ تمام امور ہمارے وزیر اعظم کی دیگر اہم پہل قدمی یعنی میک ان انڈیا سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔

            ہمیں صرف نئی تکنالوجیوں اور ان کے استعمال کی فراہمی سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہئیے بلکہ ہمیں اس معاملے میں عالمی قائدین کا مقام حاصل کرنا چاہئیے اور نئے بین الاقوامی نظام میں شراکت دار بننا چاہئیے اور ایسا ضرور ہو گا چونکہ دنیا لگا تار تکنالوجی تغیرات سے گزر رہی ہے اور اختراعی منظر نامے پر لگا تار نئی تکنالوجیاں ابھر رہی ہیں۔ لہٰذا میں چاہوں گا کہ ان توجہ طلب شعبوں میں ہمارے پاس بھی پیٹنٹ ہوں اور آئندہ آنے والے برسوں میں ان میں کئی گنا زیادہ اضافہ بھی ہو۔

            یہ پانچ تجربہ گاہیں ملک میں ابھرتی ہوئی تکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقیات میں مفید مواقع فراہم کریں گی۔ اگر ہمارے ملک کو عالمی مسابقت میں اہم مقام حاصل کرنا ہے تو ان کی کامیابی ضروری ہے۔ یہ بھی واضح رہنا چاہئیے کہ مصنوعات اور تکنالوجیوں کی محدود زندگی فزوں طور پر کم سے کم ہو تی جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسی بس ہے جس میں سوار ہونے کا موقع ہم ہر گز ہاتھ سے نکلنے نہیں دیں گے۔ اگر ہمیں اپنے شہریوں کی عمدہ زندگی یعنی عمدہ معیار حیات کو یقینی بنانا ہے یعنی ان کی ضروریات کے لحاظ کو بہتر بنانا ہے تو ہمیں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنی اولوالعزمی کا ثبوت دینا ہو گا

            میں ایک بار پھر نو جوان سائنس دانوں کی کوششوں کی ستائش کرتا ہوں۔ یہاں پیش کئے گئے پریزنٹیشنوں کی کوالٹی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نو جوان سائنس داں ڈی آر ڈی او کی تحقیقی و ترقیاتی سر گرمیوں کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت اور مضمرات کے حامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔

U.4635

 


(ریلیز آئی ڈی: 1588353) وزیٹر کاؤنٹر : 77
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English , Bengali