وزیراعظم کا دفتر
اورنگ آباد میں خواتین کے خود امدادی گروپوں کے ساتھ بات چیت کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2019 7:45PM by PIB Delhi
اسٹیج پر موجود سبھی معزز اور دور دور سے بڑی تعداد میں آئی ہوئی مائیں، بہنیں اور ساتھیوں۔ میں وہاں دیکھ رہا ہوں ، دور دور تک بہنیں کھڑی ہیں، شاید ان کو تو کچھ نظر بھی نہیں آتا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اتنی بڑی تعداد میں آپ کا آنا، ہم سب کو آشیرواد دینا، میں دل سے آپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں۔
آپ سبھی ملک کی ترقی میں ہمارے گاؤں دیہات کو اپنے خاندان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے میں بہت بڑا رول نبھا کر رہے ہیں۔ خود امدادی گروپوں کے ذریعے سے ملک کو بااختیار بنانے والی نئے بھارت کی تعمیر میں لگی سبھی بہنوں کو میں سلام کرتا ہوں اور بہن پنکجا کو خاص طور پر مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو، آج اورنگ آباد کی ترقی سے جڑی ایک اہم عبارت کا افتتاح تھوڑی دیر پہلے کیا گیا ہے۔ اورنگ آباد انڈسٹریل سٹی کی سیگنیچر بلڈنگ اب خدمت کے لیے تیار ہے۔ نئے اورنگ آباد شہر کی یہ عمارت ہوگی۔ اس عمارت سے پورے انڈسٹریل شہر کے کئی انتظامات کو چلایا جائے گا۔
ساتھیو، اورنگ آباد نیا اسمارٹ سٹی تو بن ہی رہا ہے ملک کی صنعتی سرگرمیوں کا بھی بڑا مرکز ہونے والا ہے۔ دلی ممبئی انڈسٹریل کاروڈور کا بھی یہ ایک اہم حصہ ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں یہاں کام کرنا شروع کر چکی ہیں۔ آنے والے وقت میں اور کمپنیاں بھی یہاں آئے گی۔ یہ کمپنیاں یہاں کے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرانے والی ہیں۔
ساتھیو، اورنگ آباد آج ایک بہت بڑی کامیابی کو دیکھ رہا ہے۔ یہ کامیابی آپ کی ہے، ملک کی کروڑوں بہنوں کی ہے۔
اجولا یوجنا کے تحت 8 کروڑ مفت گیس کنکشن دینے کا جو عزم ہم نے کیا تھا، وہ آج اس اسٹیج پر ان لاکھوں بہنوں کی حاضری میں مکمل ہوا ہے۔ صرف مکمل ہی نہیں ہوا بلکہ طےشدہ وقت سے 7 مہینے پہلے ہی نشانے کو ہم نے حاصل کر لیا ہے۔
ان 8 کروڑ کنکشن میں سے تقریباً 44 لاکھ، اکیلے مہاراشٹ میں دیئے گئے ہیں۔ ان حصولیابی کے لیے میں آپ سبھی کو، ملک کی ہر اس بہن کو، جس کو دھوئیں سے نجات ملی ہے، بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں، نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ میں پورے ملک کے ان ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں بہت محنت کی ہے، مدد کی ہے۔
ساتھیو، دھوئیں میں گھٹتی اپنی غریب بہنوں کی مدد کرنے کے لیے پہلے پانچ کروڑ گیس کنکشن مفت دینے کا نشانہ رکھا گیا تھا۔ گزشتہ سال مارچ میں اس نشانے کی توسیع کرتے ہوئے اسے آٹھ کروڑ کر دیا گیا ہے۔ انتخابات کے درمیان جب بھی میں آپ کے بیچ آیا تھا، تو اس نشانے کو حاصل کرنے کی بات کہی تھی۔ مجھے اطمینان ہے کہ سرکار بننے کے 100 دن کے اندر ہی یہ کام پورا ہو گیا۔
ساتھیو، یہ کام صرف کنکیشن دینے تک ہی محدود نہیں تھا اس کے لیے اور بھی وسیع انتظامات کیے گئے۔ کلی طور پر کام کیا گیا۔ ایک بہت بڑا بنیادی ڈھانچہ اس کے لیے ضروری تھا جس کو بہت ہی کم مدت میں تیار کیا گیا۔ اس کے لیے جو دس ہزار نئے ایل پی جی تقسیم کار تیار کیے اُن میں سے بیشتر کو گاؤوں میں مقرر کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں ملک بھر میں نئے ایل پی جی باٹلنگ پلانٹ لگائے گئے۔ تاکہ گیس سلنڈروں کی کمی نہ ہو۔ حکومت نے بندرگاہوں کے آس پاس ٹرمنل صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ہی گیس پائپ لائن کے نیٹ ورک کی توسیع بھی کی۔
ساتھیو، ہماری کوشش ہے کہ اب ملک میں ایک بھی ایسا خاندان نہ رہے جس کے گھر پر ایل پی جی کنشکن نہ پہنچا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اسکیم کو اور آسان بنانے کے لیے پانچ کلو کے سیلنڈر کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں پائپ سے گیس پہنچانے کا کام بھی تیزی سے چل رہا ہے۔
بھائیوں اور بہنوں اب ایک بہت بڑا مشن لے کر ہم چلے ہیں، جس کا سیدھا تعلق بھی آپ سبھی سے ہے۔ ملک کی کروڑوں کروڑوں بہنوں سے ہے۔ آپ سبھی بہنوں کو پانی کے لیے کتنی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے اس کا مجھے اچھی طرح احساس ہے۔ ملک کی ہر بہن کو اس پریشانی سے نجات دلانے کے لیے ہی جل جیون مشن کی شروعا ت کی گئی ہے۔ اس مشن کے تحت پانی بچانے کے لیے گھر گھر پانی پہنچانے کے لیے پورے ملک نے عزم کیا ہے۔ یہ طے کیا گیا ہے آنے والے پانچ برسوں میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے اس پانی کی مہم پر خرچ کیے جائیں گے۔
آپ نے شاید سنا ہوگا ، سماج وادی لیڈر رام منوہر لوہیا جی 70-60 کی دہائی میں انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک تقریر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے خواتین کی دو اہم مسائل ہیں۔ ایک پاخانہ دوسرا پانی یعنی خواتین کے لیے ٹوائیلٹ نہیں ہے اور خواتین کو گھر چلانے کے لیے پانی دستیاب نہیں ہے۔ اگر ان دو مسائل کو حل کریں تو اس ملک کی خواتین ملک کے مسائل کو حل کرنے کی طاقت بن جائیں گی۔ لوہیا جی تو چلے گئے، حکومتیں بھی آئیں اور چلی گئیں۔ لیڈر بھی آئے اور چلے گئے ایک ہمی ہیں جس نے ٹھان لی ہے کہ ہر گھر میں ٹوائیلٹ بھی ہوگا اور ہر گھر میں پانی بھی ہوگا۔
مراٹھ واڑا کا یہ علاقہ تو ویسے بھی اس کا بہت بڑا فائدہ حاصل کرنے والا ہے۔ پر آپ سبھی دیویندر جی کی حکومت کے ساتھ مل کر قابل تعریف کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ ابھی دیویندر جی نے تفصیل سے، ان کے من میں کیا سپنا ہے۔ اس علاقے میں پانی پہنچانے کے لیے ، اس کا گہرائی کے ساتھ ذکر کیا ہے آپ کےسامنے۔ مراٹھ واڑا میں جو پہلا واٹر گرڈ بنایا جا رہا ہے، وہ قابل تعریف کوشش ہے۔ یہ گرڈ جب تیار ہو جائے گا تو اس علاقے میں پانی کی دستیابی بڑھ جائے گی۔ ہر گاؤں تک پینے کا پانی پہنچانے، ہر کھیت تک آبپاشی کا پانی پہنچانے میں اس سے مدد ملے گی۔
ساتھیو، کسانوں کی آبپاشی کی سہولت دینے سے لے کر کئی اقدامات مرکز اور ریاستی حکومتیں کر رہی ہیں۔ ہر کسان خاندان کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست مدد ، ساٹھ سال کی عمر کے بعد کسانوں کو پنشن کی سہولت، مویشیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ٹیکہ کاری مہم ایسی بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بھائیوں اور بہنوں، گاؤں کی مالی حالت کو بہتر بنانے میں آپ سبھی کا تعاون بہت اہم ہے۔ خود امدادی گروپ ، مہیلا بچت گھٹوں کی شکل میں آپ جو کام کر رہے ہیں اُس سے آپ بااختیار، مالی اعتبار سے بااختیار تو ہو ہی رہے ہیں، خاندان کی حالت بھی بہتر ہو رہی ہے۔ جب خاندان مالی اعتبار سے مضبوط ہوتا ہے تو ملک کی طاقت اپنے آپ بڑھتی ہے۔
ساتھیوں ، ملک کی ترقی میں آپ کے اسی رول کو دیکھتے ہوئے گزشتہ پانچ برسوں میں اس تحریک کو توسیع اور زیادہ توسیع دینے کے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دین دیال اپادھیائے گرامن آجیویکا مشن کے ذریعے خواتین کے لیے صنعت کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہےہیں۔ نئے ہندوستان میں ہم خواتین کی بہبود سے آگے نکل کر خواتین کی قیادت میں قومی فلاح کی سوچ لے کر کے آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس سال کے بجٹ میں خود امدادی گروپوں کے لیے اہم اعلان کیا گیا ہے۔ خواتین کے خود امدادی گروپوں کے لیے سود پر جو سبسڈی ملتی تھی اُس کو اب پورے ملک میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح گروپوں کے جن ارکان کے پاس جن دھن بینک کھاتہ ہے ان کو پانچ ہزار روپے تک کہ اوورڈرافٹ کی اضافی سہولت ملے گی۔ اب کسی بھی ساہوکار سے زیادہ سود پر پیسہ نہیں لینا پڑے گا۔ مطلب یہ کہ اگر آپ کے کھاتے میں ایک بھی پیسہ نہیں جمع ہے، تب بھی آپ پانچ ہزار روپے اپنی ضرورت کے لیے اس سے نکال سکیں گی۔ یہ ایک طرح سے آسان قرض ہے۔ جس کی سہولت جن دھن کھاتے پر آپ کو ملے گی۔
اسی طرح مدرا یوجنا کے تحت بھی ہر ایک خود امدادی گروپ کی ایک خاتون رکن کو ایک لاکھ روپے تک کا قرض ملے گا اس سے آپ کو اپنا کاروبار شروع کرنے یا اسے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ساتھیوں، مدرا یوجنا بہنوں کو صنعت کار بنانے میں اہم رول ادا کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ابھی تک ملک میں تقریباً 20 کروڑ قرضے تقسیم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 14 کروڑ قرضے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے ہاتھ میں گئے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھی مدرا یوجنا کے ڈیڑھ کروڑ استفادہ کنندگان میں سے سوا کروڑ ، استفادہ کنندگان ہماری مائیں، بہنیں ہیں۔ خواتین کی صنعت کاری کے شعبے میں آ رہی اس تبدیلی کو ہمیں اور تیز کرنا ہے، اور مضبوط کرنا ہے اس کے لیے حکومت کی سطح پر جو بھی قدم اٹھانے ہوں گے وہ ضرور اٹھائے جائیں گے۔
ساتھیوں ، خود امدادی گروپ کی شکل میں آپ معاشی طور پر بااختیار بنائے جانے کا مضبوط ذریعہ تو ہے ہی آپ سماجک تبدیلی کے بھی اہم نگہہبان ہیں۔ بیٹیوں کی زندگی بچانے سے لے کر ان کی پڑھائی اور ان کے لیے محفوظ ماحول بنانے کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ یہاں دیویندر جی کی حکومت نے اس سمت میں قابل ستائش کام کیا ہے۔ لیکن صرف سرکاری اسکیم اور قانون ہی کافی نہیں ہے ہمیں بیٹیوں کے تئیں معاشرے کی سوچ میں بہت زیادہ تبدیلی لانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس میں آپ بہنوں بیٹیوں کا رول بھی اہم ہے۔
حال میں آپ نے دیکھا ہے کہ مسلم بہنوں کو تین طلاق کی برائی سے نجات دلانے کے لیے ایک سخت قانون بنایا گیا ہے۔ اب آپ کو معاشرے کے اندر اس قانون کو لے کر بیداری پھیلانی ہوگی۔
ساتھیوں، وقت سے پہلے جب مقصد ہم حاصل کرتے ہیں تو عزائم کو پورا کرنے کا حوصلہ اپنے آپ بڑھ جاتا ہے۔جب ایمانداری سے کام کیاجاتا ہے ، جب صاف نیت سے کام کیا جاتا ہے، تو کوششوں میں بھی کوئی کمی نہیں رہتی۔ آپ سبھی چندریان کو لے کر جو ہوا اس سے واقف ہوں گے۔
آپ سبھی چندریان کو لے کر جو ہوا، اس سے بہ خوبی واقف ہوں گے۔ ہمارے سائنسدانوں نے ایک بڑا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس میں ایک رکاوٹ آگئی۔ اس مشن کے لیے سائنسداں کافی عرصے سے محنت کر رہے تھے۔
بھوئیوں اور بہنوں کل رات اور آج صبح میں ان کے درمیان تھا۔ وہ جذباتی تھے لیکن ساتھ ساتھ بھی بلند حوصلے سے بھرے ہوئے تھے کہ اب اور تیزی سے کام کرنا ہے ، جو ہوا اس سے سبق لے کر، سیکھ کر کے آگے بڑھنا ہے۔اسرو جیسی عہد بندی کے ساتھ ہی ملک کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، لوگوں کی زندگی کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔
ساتھیوں، الگ الگ شعبوں میں ایسے محنتی لوگوں کی عہد بندی کی وجہ سے ملک کے ہر گاؤں تک بجلی پہنچانا ، آڑھ کروڑ خاندانوں کو گیس کنکشن دینا ، ایسے کئی کام وقت سے پہلے پورے ہو چکے ہیں۔ اب بہت جلد پورا ملک کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہونے کا اعلان کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ 2022 میں جب ہم آزادی کے 75 سال کا جشن منائیں گے اس وقت کے لیے ہم نے جو عہد کیے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے۔
بھائیوں او ربہنوں 2022 تک ہر غریب کو پکی چھت دینے کے مقصد کی طرف ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب تک ملک کے گاؤوں اور شہروں میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ گھر بن چکے ہیں۔ استفادہ کنندگان ان میں رہنے کے لیے چلے گئے ہیں۔ کئی لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ غریبوں کے گھر کی اسکیم تو پہلے بھی چلتی تھی، فنڈ پہلے بھی تھے لیکن آپ نے اس میں الگ کیا کیا؟ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس بات کو سمجھتے تھے کہ ہمیں مکان نہیں گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔ چار دیواری سے گھرے مکان نہیں آپ کے خوابوں کا گھر بنانا ہے۔ ہم ایسے گھر بنانا چاہتے تھے جہاں سبھی سہولتیں بھی موجود ہو یعنی گھر کے نام پر چار دیواریں کھڑی کرنے کے طور طریقوں سے الگ ہمیں کچھ بہتر کرنے کی ضرورت تھی۔ ہماری کوشش کم سے کم مدت میں بغیر کسی زیادہ لاگت کے زیادہ سے زیادہ سہولیات دینا ، یہ ہمارا ارادہ تھا۔
ساتھیو، ہماری حکومت نے جو گھر بنوائے اس کےلیے کوئی فکسڈ فارمولہ اختیار کیا کہ جو کاغذ پر ڈھال دیا ویسے ہی پورے ملک میں بننے چاہئیں۔ جی نہیں، بلکہ اس کے برخلاف ہم نے گھروں کی تعمیر میں مقامی لوگوں کی ضرورتوں اور وہاں کے لوگوں کو کی خواہش کو بھی مرکز میں رکھا۔ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے مکان بنانے کی اسکیم بنائی۔ گھر میں سبھی طرح کی بنیادی سہولتیں دستیاب ہوں، اس کے لیے ہم نے مختلف سرکاری اسکیموں کو ایک ساتھ جوڑ لیا۔ تاکہ ان گھروں میں بجلی ، گیس کنکشن، ٹوائیلٹ اور ایسی تمام سہولتیں بھی ساتھ کے ساتھ مل سکیں۔
یہ گھر لوگوں کی توقعات کے مطابق بن سکیں۔ اس کے لیے ہم نے آپ لوگوں کی ضرورتوں کو سنا۔ اس کے بعد نہ صرف گھر کا ایریا بڑھایا گیا بلکہ تعمیر کے لیے رقم میں بھی اضافہ کیا گیا۔ ہم نے اس کام میں مقامی کاریگروں اور مزدوروں کو بھی شامل کیا۔ جیسے بہت سی خواتین بھی آج اگر جھارکھنڈ جائیں گے تو رانی مستری لفظ سنائی دے گا آپ کو ۔ بغیر کسی اضافی لاگت کے کم سے کم مدت میں گھروں کی ڈلیوری ہو اس پر بھی ہم نے فوکس کیا۔ اس کے لیے ٹکنالوجی کو ایک اہم شکل میں اختیار کیا گیا۔
بھائیوں اور بہنوں ، ہم نے ان لوگوں کے خوابوں کو بھی تقویت دینے کی کوشش کی جو اپنا گھر خود خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سستے مکانوں کو مزید فروغ دینے کے لیے حکومت نے ہوم لون پر ڈیڑھ لاکھ روپے کے سود پر انکم ٹیکس میں اضافی چھوٹ کا اہتمام کیا تاکہ متوسط طبقے کا خاندان اپنا گھر بسا سکے۔
ساتھیو، ہمارا زور شفافیت پر بھی رہا۔ گھروں کی تعمیر کے الگ الگ مرحلے کی تصویروں کو آن لائن اپ لوڈ کیا گیا۔ شفاف طریقے سے انتظامیہ کو صحیح معلومات فراہم کرائی گئی۔ یہی نہیں ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں شفافیت کی بہت کمی تھی۔ اس سے گھر خریدنے والے لوگوں کو بھاری دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ سرکار نے ریرا قانون لاکر گھر خریدنے والوں کے من میں اعتماد بھرنے کا کام کیا ہے۔ آج زیادہ تر ریاستوںمیں ریرا قانون نوٹیفائی کیا جا چکا ہے۔ ٹریبیونل بھی کام کر رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت لاکھوں نئے فلیٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھیں تو گھر کو لے کر ہم نے ہولسٹک نظریے سے کام کیا ہے۔ اگر ہم الگ الگ ایک ایک اسکیم کے ساتھ سامنے آتے تو اتنی بڑی کامیابی ملنا مشکل تھا۔ بڑے پیمانے پر مسائل کا حل تبھی ممکن ہے جب تمام محکمے ، تمام فیصلے ایک بڑے مقصد کو ذہن میں رکھ کر کریں۔ تمام وزارتیں اور سبھی اسکیمں مل کر ایک ٹریک پر کام کریں ۔ یہی ہماری حکومت کی پہچان رہی ہے۔ ٹکڑوں میں نہیں کلیت کا لحاظ کرتے ہوئے سوچو اور سب کو اکٹھا کر کے کام کرو۔
ساتھیو، پچھلے پانچ برسوںمیں صفائی سے لے کر بینک سے لین دین تک سماج کے سلوک میں تبدیلی کی جتنی بھی عوامی تحریکیں چلائی گئی ہیں ان میں آپ سبھی نے بڑھ چڑھ کر کے حصہ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے پانچ برسوں کے لیے جو عہد کیے گئے ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے آپ پر مجھے بہت اعتماد ہے۔ یہ یقین مسلسل مضبوط ہوگا، اسی امید کےساتھ آپ کا بہت بہت شکریہ۔
شکریہ اور اتنی بڑی تعداد میں تہوار کے دن ماؤں او ربہنوں کا ہمیں آشیرواد دینے کے لیے آنا، یہ ہمارے لیے اپنے آپ میں ایک قوت کا احساس ہے۔ اس ماں کی قوت کو سلام کرتے ہوئے میں اپنے لفظوں کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ میرے ساتھ دونوں ہاتھ اوپر کر کے پوری طاقت سے بولیے۔
بھارت ماتا کی جے
بھارت ماتا کی جے
بھارت ماتا کی جے
بہت بہت شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن ۔ ا گ۔ م ت ح(
U-4082
(ریلیز آئی ڈی: 1584494)
وزیٹر کاؤنٹر : 191