امور داخلہ کی وزارت

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے شہریوں کے قومی رجسٹر این آر سی سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا

Posted On: 20 AUG 2019 1:49PM by PIB Delhi

نئی دہلی،20؍اگست،مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  19 اگست 2019 کو آسام میں  شہریوں کے قو می رجسٹر این آر سی  کی حتمی اشاعت سے متعلق  معاملات کا  جائزہ لیا  ۔ جائزہ میٹنگ میں آسام کے وزیراعلیٰ  ، مرکزی  داخلہ سکریٹری  ، آسام کے چیف سکریٹری اور دیگر  سینئر افسروں نے بھی شرکت کی۔ امور داخلہ کی  وزارت  اور  آسام کی ریاستی سرکار  کے درمیان  حالیہ ہفتوں میں اس  مسئلے پر  کافی زبردست بحث ومباحثہ ہوا ہے۔

میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ  این آر سی  میں شامل نہ  کئے گئے افراد کو  سہولت  پہنچانے کی غرض سے  ریاستی سرکار کی جانب سے مناسب انتظامات کئے جائیں گے، تاکہ  ان کی  عدم شمولیت کے خلاف  اپیل  کے لئے  پورا  موقع فراہم کیا جاسکے۔ ہر فرد  جس کا نام  حتمی این آر سی میں  شامل نہیں ہے وہ  مجاز یا اپیلٹ اتھارٹی یعنی فارن ٹرائیبونل کے سامنے اپنی  ؍ اپنا معاملہ  پیش کرسکتا ہے۔ غیر ملکیوں کے قانون-1946 اور  غیر ملکیوں کے  (ٹرائیبونلس حکم 1964 کی شقوں کے تحت صرف غیر ملکیوں سے متعلق ٹرائیبونل کو  یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ  کسی بھی شخص  کو غیر ملکی قرار دے۔ اس طرح  این آر سی میں  کسی ایک شخص کے نام  شامل نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ  یہ اپنے آپ میں اسے غیر ملکی شہری کے طور پر  قرار دیا جاسکے۔

این آر سی میں شامل نہ کئے گئے افراد کو سہولت پہنچانے کے لئے  اس طرح کی  ٹرائیبونل کی مناسب تعداد  سہولت والے مقامات پر قائم کی جارہی ہیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ  ریاستی سرکار  این آر سی  میں شامل نہ کئے گئے ان ضرورت مند لوگوں کو  قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے انتظامات بھی کرے گی۔

حتمی این آر سی میں شامل نہ کئے گئے اُن سبھی لوگوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ  مجوزہ  وقت کے اندر اپیل دائر کریں، لہذا  مرکزی وزارت داخلہ  حتمی این آر سی میں  شامل  نہ کئے جانے سے متعلق  60 سے 120 دن کے اندر  غیر ملکیوں سے متعلق  ٹرائیبونل  میں  اپیلیں داخل کرنے کی  موجودہ وقت کی حد میں اضافہ کرنے کے لئے  ضابطوں میں ترمیم کرے گی۔ شہریت (شہریوں کے رجسٹریشن اور  قومی شناختی کارڈوں کے معاملے )  کے ضابطے 2003 میں  بھی  مناسب  ترمیم کی جارہی ہے۔

 امن و قانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے  ریاستی سرکار کو  جائزہ کے لئے  سینٹرل سکیورٹی فورسز فراہم کی جارہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U-3783



(Release ID: 1582407) Visitor Counter : 158


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Punjabi