امور داخلہ کی وزارت

انسانی حقوق کے تحفظ کا ترمیمی بل 2019 اتفاق رائے سے منظور


وزیرداخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا کے تمام ممبران سے انسانی حقوق کے تحفظ کے ترمیمی بل کی حمایت کرنے کی اپیل کی
بے اعتمادی کے ماحول میں جمہوری ادارے کام نہیں کرسکتے:امت شاہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 JUL 2019 7:58PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  23 جولائی 2019، راجیہ سبھا نے وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی اپیل کے بعد انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق ترمیمی بل2019 اتفاق رائے سے پاس کردیا ہے۔

انسانی حقوق کے قومی کمیشن این ایچ آر سی کے چیئرپرسن اور ممبران کے لئے سلیکشن کے عمل کی شفافیت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی ایک گونا گوں نوعیت کی ہے جس میں وزیر اعظم و مرکزی وزیرداخلہ کے علاوہ  لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے  نائب چیئر پرسن کے  ساتھ ساتھ دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈر شامل ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اس طرح کی وسیع اور گونا گوں کمیٹی کے فیصلے کو بے اعتمادی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

 داخلی امور کے مرکزی وزیرمملکت، نتیہ آنند رائے نے کہا کہ گزشتہ 13 سالوں کے دوران جن چیلنجوں کا سامنا کرناپڑا ان کی بنیاد پر ترمیم کی گئی ہے  اور اس سے کمیشن کی افادیت میں  اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کمیشن کی آزادی اور آٹو نامی( خود مختاری) کے  لئے عہد بستہ ہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کا قانون 1993 انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے انسانی حقوق کی عدالتوں ، انسانی حقوق کے قومی کمیشن اور ریاستی انسانی حقوق کے کمیشن کا ایک آئین  فراہم کرنے کے لئے لاگو کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے قانون میں بہت سی ترامیم کی تجویز رکھی ہیں تاکہ مخصوص عالمی پلیٹ فورموں پر اٹھائی گئی تشویش سے نمٹا جاسکے۔ اس کے علاوہ ریاستی سرکاروں نے قانون میں ترمیم کی بھی تجویز رکھی ہے۔ کیونکہ انہیں مذکورہ عہدے کے لئے موجودہ اہلیت کے ضابطے کی وجہ سے متعلقہ ریاستی کمیشنوں کے چیئرپرسن کےعہدے کے لئے مناسب امیدواروں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

 انسانی حقوق کے تحفظ کے ترمیمی بل 2019 کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

  • ہندوستان کے چیف جسٹس کے علاوہ کسی ایسے شخص کو بھی جو سپریم کورٹ کاجج رہا ہے۔ کمیشن کے چیئرپرسن کی حیثیت سے مقرر کرنے کے لئے اہل بنایا جاسکے۔
  •  کمیشن کے ممبروں کی تعداد کو دو سے بڑھا کر تین کیاجاسکے۔ جن میں سے ایک خاتون بھی ہوگی۔
  • پسماندہ طبقوں کے قومی کمیشن کے چیئرپرسن ، بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قومی کمیشن کے چیئرپرسن اور معذور افراد کے چیف کمشنر کو کمیشن کے لئے ممبروں کی حیثیت سے شامل کیا جاسکے گا۔
  • کمیشن اور ریاستی کمیشنوں کے چیئرپرسن اور ممبروں کی مدت پانچ سال سے کم کرکے تین سال کی جاسکے اور وہ دوبارہ تقرری کے لئے اہل ہوں گے۔
  •  مرکزی انتظام والے علاقے دہلی کے علاوہ دیگر مرکزی انتظام والے علاقوں کے ذریعہ انجام دیئے جارہے انسانی حقوق سے متعلق کام کاج کو ریاستی کمیشنوں کو عطا کئے جاسکے۔ مرکز کے  انتظام والے علاقے دہلی کے سلسلے میں کمیشن کے ذریعہ کارروائی کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

  م ن۔ ح ا۔رض

U- 3328


(ریلیز آئی ڈی: 1579913) وزیٹر کاؤنٹر : 93