مالیاتی کمیشن

پندرہویں مالی کمیشن کی حکومت میگھالیہ کے ساتھ میٹنگ

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2019 2:45PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  4 جون 2019،      پندرہویں مالی کمیشن کے چیئرمین جناب این کے سنگھ نے آج میگھالیہ کے وزیراعلی کونراڈ کونگکل سنگما کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔

زیر غور و خوص آنے والے چند اہم موضوعات میں درج ذیل شامل رہے۔

  • ٹیکس مالیہ کا حصول: میگھالیہ کے ٹیکس مالیہ کی وصولی ، جی ایس ڈی پی کے فیصد کے مطابق 17۔2016 مین 4.38 فیصد (شمال مشرق اور پہاڑی ریاستوں کے لئے اوسطاً 5.02 فیصد)رہی۔ ان کا مرکزی حکومت پر انحصار کافی زیادہ ہے۔ میگھالیہ کو مرکز سے اس کے کل مالیہ وصولی (ٹی آر آر) کا 80 فیصد حاصل ہوتا ہے۔
  • قرض: میگھالیہ کے قرض/ جی ایس ڈی پی کا تناسب 17۔2016 میں 33.19 فیصد اور 18۔2017 میں 31.76 فیصد تھا۔ یہ ایف آر بی ایم کے مقرر کردہ 20 فیصد کے نشانے سے بہت زیادہ تھا۔ یہ  دوسری شمال مشرق اور پہاڑی ریاستوں  کے قرض کے اوسط سے بھی کہیں زیادہ تھا یعنی 17۔2016 میں 29.32 فیصد تھا۔
  • میگھالیہ میں کوئلہ کی کانکنی پر  این جی ٹی کی پابندی: سال 2014 میں این جی ٹی کے ذریعہ ریاست میں کوئلے کی کانکنی پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔ اس پابندی کا ریاست  کی جی ایس ڈی پی اور مالیہ پر اثر پڑا تھا۔
  • چونکہ کانکنی کی زیادتی اور کمی کا دوسری معاشی سرگرمیوں پر  کافی اثر پڑتا ہے اس لئے 15۔2014 میں ریاست کے حقیقی جی ایس ڈی پی میں  21 فیصد کی می آئی ہے۔
  • اس کا ریاست میں روزگار پر بھی اثر پڑا تھا۔ یہ محسوس کیا گیا کہ اس کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا۔
  • سال 15۔2014 میں 255 کروڑ روپے  کا خسارہ دیکھنے میں آیا جس کی اصل وجہ کوئلے کی کانکنی پر عائد پابندی رہی۔ ریاست حکومت  نے کل  سالانہ مالیہ میں خسارہ کا تخمینہ 600 کروڑ روپے لگایا ہے۔یہ کمی او ٹی آر (سیلس ٹیکس، ایکسائز وغیرہ) میں بھی دیکھی گئی ہے۔ ایسا کانکنی سے متعلق سرگرمیوں میں اضافہ اور کمی کی وجہ سے ہوا ہے (وسیلہ ریاست کا  میمورنڈم)تاہم جی ایس ٹی کی شروعات اور معیشت میں آرہی معمول کی بہتری کی وجہ سے ریاست کے ٹیکس مالیہ میں بھی سست رفتار کے ساتھ بہتری آئی ہے۔
  • کیش ڈپازٹ تناسب: میگھالیہ میں کیش ۔ ڈپازٹ کا تناسب گزشتہ دس برسوں 35 سے 40 فیصد رہا ہے جبکہ ملک کا کیش ڈپازٹ تناسب 60 فیصد رہا ہے۔
  • صحت اشاریئے: میگھالیہ میں  صحت کے کچھ اشاریئے  قومی اوسط سے کم رہے ہیں۔ جیسے بچوں میں ساکت ہوجانے کا مرض، خواتین میں خون کی کمی اور آئی ایم آر  شامل ہیں۔
  • سڑکوں کا ناقص بنیادی ڈھانچہ: میگھالہ میں سڑکوں کی کل لمبائی 401کلومیٹر/1000 مربع کلومیٹر ہے۔  پھر بھی ہندوستان میں سڑکوں کی کل لمبائی کا اوسط 952.8 ہے۔
  • ایس ڈی جی رینک:میگھالیہ کا رینک  تمام ایس ڈی جی (پائیدار ترقیاتی اہداف) پر 22 واں رہا۔ میگھالیہ کے  کمپوزٹ ایس ڈی جی انڈیکس کا حساب نیتی آیوگ کے ذریعہ 52لگایا گیا ہے جو کہ ہندوستان کے کمپوزٹ انڈیکس 56 سے  کافی کم ہے۔ آسام، شمال مشرق اور پہاڑی ریاستوں میں واحد ریاست ہے جس کا رینک میگھالیہ سے نیچے ہے۔
  • بجلی کے شعبہ سمیت پی ایس یو کی مالی حالت:

ریاست میں 15 ایس پی ایس یو میں سے  صرف ایس پی ایس یو (فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن میگھالیہ لمیٹیڈ) میں سال 17۔2016 کے اختتام پر کھاتے میں منافع دکھا ہے۔یہ حالت ریاست میں بجلی کے شعبے کی ایس پی ایس یو میں اور بھی خراب ہوگئی ہے۔ بجلی کے شعبے کے ایس پی ایس یو میں خسارہ بڑھ کر 1836 کروڑ روپے ہوگیا ہے جو کہ جی ایس ڈی پی کا 6.5 فیصد ہے۔ پھر بھی ایس پی ایس یو جس میں بجلی کے شعبے کا ایک ایس پی ایس یو بھی شامل ہے، نے سال 17۔2016 میں منافع پیش کیا ہے۔ یہ ایس پی ایس یو کی جانب سے مثبت اشاریہ ہے۔ ایس پی ایس یو کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ریاست میگھالیہ کے لئے درمیانی مدت کا مالی خطرہ پیدا  ہوگیا ہے۔

  • اے ٹی اینڈ سی خسارہ: میگھالیہ میں بجلی کے شعبے کا اے ٹی اینڈ سی خسارہ 27.50 فیصد کے مقرر نشانے کے مقابلے میں 36.64 فیصد  (18۔2017) رہا ہے۔

ریاست کی چند اہم درخواستیں:

  • عمودی تفویض اختیار 42 فیصد سے بڑھ کر 48 تک ہوسکتا ہے۔ 48 فیصد میں سے 30 فیصد خصوصی طور پر ریاست کے  خصوصی زمرے کے لئے مخصوص ہونا چاہیے تاکہ قومی مالیہ اور ملک کی معیشت کے اتار چڑھاؤ  سے اس کی مالی وصولی پر پڑنے والے اثرات کو  بے اثر کرسکیں۔
  • میگھالیہ  نے  پندرہویں مالی کمیشن کی ایوارڈ کی مدت کے لئے ریاست کا پری ڈیوولیشن خسارہ  62870 کروڑ روپے پیش کیا ہے۔

کمیشن نے پانچویں تنخواہ کمیشن کے نفاذ، اودے (یو ڈی اے وائی) کے اثر کی وجہ سے دینداری کے اثرات سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔تبادلہ خیالات کے دوران 2022 میں 39 ویں قومی کھیل کی میزبانی سے ریاست میگھالیہ پر پڑنے والے اثر  کا معاملہ بھی آیا کیونکہ اسی سال میگھالیہ اپنے قیام کی گولڈن جوبلی بھی منا رہا ہے۔ یہ چیلنج بھرا کام ہوگا جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور معقول وسائل پیدا کرنا شامل ہوگا تاکہ پروجیکٹوں اور سرگرمیوں کے لئے سرمایہ مہیا کرایا جاسکے۔

ریاستی حکومت کے ساتھ اپنے جامع تبادلہ خیال کے اختتام پر مالی کمیشن کے چیئرمین نے  ریاست کے میکرو۔ ایکونومک چیلنجوں کے بارے میں بات چیت کی اور مالی نیز قرض کے استحکام پر زور دیا۔ انہوں نے ریاست کے معمولی جی ایس ڈی پی کے  رجحان پر تشویش ظاہر کی جو کہ ملک کے مجموعی رجحان کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ جناب چیئر مین نے سیاحت اور متعلقہ شعبوں میں پرائیویٹ سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے مخصوص اور جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے  قابل احتیا توانائی کے فروغ کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا جو ریاست کو قدرتی طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔ کمیشن نےریاست کی ان تمام درخواستوں پر غور کرنے کا وعدہ کیا جو اس کی ترقی پر کئی طرح سے اثر انداز ہوں گے۔

آخر میں شام میں کمیشن نے ریاست کی تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی۔بلا کسی اختلاف کے ریاست کی تمام سیاسی  پارٹیوں کے نمائندوں نے بنیادی ڈھانچے ، ریاست کو درپیش مسائل، خصوصیت کے ساتھ شیلانگ شہر میں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سڑکوں پر ہونے والے جام کے بارے میں، دیہی علاقوں میں اسکولوں اور اسپتالوں ٹرینڈ اساتذہ اور ڈاکٹروں  کے فقدان ، سرحدی تجارت کی عدم رسائی اور دیگر اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کا تعلق  درج ذیل پارٹیوں سے تھا:

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)

میگھالیہ پردیش کانگریس کمیٹی (ایم پی سی سی)

نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی ) میگھالیہ

بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی)

ہیل اسٹیٹ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ایس پی ڈی پی)

کھن  ہائنی ٹریپ نیشنل اویکننگ موومنٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U- 2301


(रिलीज़ आईडी: 1573379) आगंतुक पटल : 105
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी