سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

محکمہ بایو ٹکنالوجی کے یوم تاسیس کے موقع پر اہم مشن شروع کئے گئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 FEB 2019 2:43PM by PIB Delhi

 

حکومت ہند کی وزارت سائنس وٹکنالوجی کا محکمہ بایو ٹکنالوجی آج نئی دلی میں اپنا 33 واں یوم تاسیس منا رہا ہے۔ اس تقریب کا مرکزی خیال ‘سلیبریٹنگ بایوٹکنالوجی:ہندوستان کو ایک اختراع پرداز ملک بنانا’ ہے۔

اس موقع پر سائنس وٹکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے بایو ٹکنالوجی ریسرچ انوویشن اینڈ ٹکنالوجی ایکسلنس (بی آر آئی ٹی ای) ایوارڈ تقسیم کئے۔ وزیر موصوف نے حفظان صحت، فصلوں کی قسموں کو بہتر بنانے، مویشیوں کی تشخیص اور صاف ستھرائی توانائی کی پیداوار کے لئے ٹکنالوجی تیار کرنے اور ان کا کاروباری طور پر واجب حل تلاش کرکے مختلف شعبوں کو عمومی طور پر گزشتہ 33 برسوں کے دوران متاثر کرنے میں محکمہ بایو ٹکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صلاحیت سازی، نئی معلومات کے حصول، بایوٹکنالوجی اسٹارٹ اپ معاشی نظام میں تحقیق کے شعبوں میں ہوئی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر وزیر موصوف نے اٹل جے انوسندھان بایو ٹیک مشن، جوکہ قومی سطح پر متعلقہ ٹکنالوجی پیدا وار کرنے والا ادارہ (یو این اے ٹی آئی)ہے۔ اس سے آئندہ 5 برسوں کے دوران صحت، زراعت اور توانائی کے شعبے میں تبدیلی متوقع ہے۔ اس مشن میں جی اے آر بی ایچ۔آئی این آئی۔یہ زچہ، بچہ کی صحت کے فروغ اور پیدائش سے قبل کی پیش گوئی سے متعلق آلہ کی تیاری کا مشن،آئی این ڈی سی ای پی آئی۔ دائمی امراض کے لئے سستی ویکسین کی تیاری،بایو فورٹیفائڈ اور پروٹین سے مالا مال گندم کی تیاری کا مشن جو پوشن ابھیان میں تعاون کرتا ہے، قابل استطاعت تشخیص اور تھیراپیوٹکس کے لئے اینٹی میکوربین رسسٹنس سے متعلق مشن اور کلین انرجی مشن۔ سوچھ بھارت کے لئے اختراعی ٹکنالوجی کی مداخلت کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر ہرشن وردھن نے مزید بتایا کہ محکمہ نے حال ہی میں اسکل وگیان پروگرام کے عمل درآمد کے لئے جس کا مقصدداخلہ کی سطح پر طلبا کے لئے بایو ٹکنالوجی کے کثیر شعبہ جاتی شعبوں میں آلات اور تکنیک کی اعلیٰ معیار کی ٹریننگ دینا ہے۔ اس کے لئے محکمہ نے  اسٹیٹ کونسل آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے ساتھ اشتراک میں متعدد اداروں میں اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر قائم کئے ہیں۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے ڈی بی ٹی سرگرمیوں سے متعلق مختصر فلم کا افتتاح کیا۔ نئی ڈبی بی ٹی ویب سائٹ شروع کی اور کافی ٹیبل بک کا اجرا کیا۔

سائنس وٹکنالوجی کے وزیر نے تلاش  سے متعلق تحقیق اور بایولوجیکل سائنس کے نئے علوم پر بھی روشنی ڈالی، جو کہ بایو ٹکنالوجی میں مسابقتی تحقیق وترقیاتی سرگرمیوں میں اختراع کی بنیاد اور محکمہ کی مدد کے لئے کافی اہم ہیں۔ محکمہ نے اس سلسلے میں 6000 سے زائد اشاعتیں کی ہیں۔

محکمہ بایو ٹکنالوجی کی سکریٹری ڈاکٹر رینو سوروپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں تحقیقی اور منتقلی کی بنیاد کو مستحکم کرنے اور پائیداری نیز اس کے پھیلاؤ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ سکریٹری موصوفہ نے ان برسوں کے دوران اختراع پردازی   اور صنعت کاری کے فروغ میں (بی آئی آر اے سی ) کے کردار پر ، جس کے نتیجے میں 500 سے زائد اسٹارٹ اپ، پورے ملک میں پھیلے 35 بایو ان کیوبیٹر کی مدد حاصل ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سوروپ نے مزید کہا کہ ‘تقریباً 175 آئی پی تیار کئے گئے ہیں اور 140 مصنوعات نیز ٹکنالوجیوں کی کاروباری پیداوار ہوئی ہے، علاوہ ازیں محکمہ نے 15000 سے زائد سائنسدانوں اور 5000 ہنرمند تحقیقی افرادی قوت کی مدد کی ہے۔

اس موقع پر گلوبل ایلائنس فار جیومنکس اینڈ ہیلتھ، کناڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پیٹرگڈ ہینڈ نے یوم تاسیس کا خطبہ پیش کیا۔ بعد ازاں بایو ٹکنالوجی @2025: ہماری حصولیابیاں،ہماری توقعات اور نوجوان محققین کے ذریعہ اپنی سائنسی سفر کا بیان کے موضوع پر پینل ڈسکشن ہوا۔ سابق سکریٹری ڈاکٹر منجو شرما نے بھی سلیبریٹنگ بایو ٹکنالوجی، بھارت کو اختراع پرداز ملک بنانا کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 

 

U-1236


(ریلیز آئی ڈی: 1566412) وزیٹر کاؤنٹر : 122
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी