وزارت خزانہ
اتراکھنڈکو سیاحت کے معاملے میں موازناتی بالادستی حاصل ہے ، اسے اپنے وسائل کو بہترطورپربروئے کارلانے کی ضرورت ہے :جناب این کے سنگھ
اترکھنڈاکو درپیش چنوتیاں اصل اوراس کی ضروریات جائز ہیں :مالیاتی کمیشن تمام پہلوؤں کا مثبت انداز میں جائزہ لیگا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 OCT 2018 8:02PM by PIB Delhi
نئی دہلی ،18اکتوبر : پہلی مرتبہ فائنس کمیشن نے آج نینی تال میں سیاحت کی صنعت کے نمائندگان کے ساتھ تفصیلی میٹنگ کااہتمام کیا ۔ اس میٹنگ کے اہتمام کا مقصد اس امرکو پیش نظررکھتے ہوئے کیاگیاتھا کہ سیاحت اتراکھنڈ کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے ۔ جناب این کے سنگھ نے کہاکہ اتراکھنڈ کو سیاحت کے شعبے میں نسبتاًبالادستی حاصل ہے جو دیگرمتعدد ریاستوں کو حاصل نہیں ہے ۔ یہاں سرمایہ کاری کے کئی گنافوائد حاصل ہوسکتے ہیں اورنمواور روزگار کے متعدد نتائج بھی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ یہ کام ریاستی حکومت کا ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے اپنے وسائل کو بروئے کارلائے ۔
16اکتوبر کو دہرہ دون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین موصوف نے کہاکہ اتراکھنڈ میں زبردست مالی مضمرات پنہاں ہیں اور ماحولیاتی اورجغرافیائی مسائل کے باوجود بے پناہ مواقعے بھی موجود ہیں ۔ ریاست سیاحت ، ایکولوجی سی متعلق خدمات اور پورے ملک کے لئے تحفظاتی عمل کا ایک نمونہ بن سکتی ہے ۔ اتراکھنڈ کو درپیش چنوتیاں اپنی نوعیت کے لحاظ سے اصل ہیں اور اس کی ضروریات بھی جائز ہیں ۔ مالیاتی کمیشن ریاست کو آئین کے دائرہ کے اندررہ کرامداد فراہم کرنے کے لئے عہد بندہے تاکہ یہاں دستیاب بے پناہ اوراب تک بروئے کارنہ لائے گئے مضمرات سے استفادہ کیاجاسکے ۔
ریاستی حکومت کے ساتھ مختلف النوع موضوعات پرمنعقدہ تفصیلی تبادلہ خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ یہ کمیشن ریاست کی جانب سے پیش کی گئی مالیہ خسارہ امداد کی درخواست پرمثبت انداز میں غورکریگا ۔ اب تک ان مطالبات پر گذشتہ کمیشنوں نے غورنہیں کیاتھا ۔ انھوں نے اعلاجی ایس ڈی پی شرح نمواور فی کس آمدنی جو ریاست میں دستیاب ہے ، قومی اوسط کے موازنے کے لحاظ سے ، اس کی ستائش کی تاہم ریاست کے اندر جو عدم مساوات اور اصلاح کی ضروریات درپیش ہیں ،ان کے تئیں انھوں نے معقول پالیسی اقدامات کے ذریعہ انھیں حل کرنے کی ضرورت اجاگرکی ۔ چیئرمین موصوف نے یہ بھی کہاکہ اتراکھنڈ کو جی ایس ٹی مالیات کی کم وصولی کاسامنا ہے تاہم انھوں نے کہاکہ جی ایس ٹی کے عمل میں ابھی تک حتمی توازن ابھی تک قائم نہیں ہوسکاہے ۔ کمیشن کو ریاست کے مالیہ اوراخراجات کا تخمینہ لگاناہوگا اوریہ کام مرکزی اورریاستی دونوں سطح پرہوگا، جو اپنے آپ میں ایک چنوتی بھراکام ہے ۔
وزیراعلیٰ ، جناب تریویندرسنگھ راوت ، وزیرخزانہ جناب پرکاش پنت اور کابینہ کے دیگررفقأ نے کمیشن کا خیرمقدم کیااوراس امر کو واضح کیاکہ اتراکھنڈ کا جغرافیائی محل وقوع ایسا ہے جہاں بنیادی ڈھانچے کے رکھ رکھاؤ ، لازمی خدمات کی فراہمی ، لاگت وغیرہ کے پہلو براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں اور ان کا مقامی جغرافیائی حالات سے گہراتعلق ہوتاہے اور منتشر آبادی کی وجہ سے مالیہ کی حصولیابی کم ہوتی ہے اواس کے نتیجے میں اقتصادی ترقی کی سطح بھی نیچے رہتی ہے ۔ انھوں نے کمیشن کو آگاہ کیاکہ اتراکھنڈ کے پاس ایک مضبوط ثانوی شعبہ (49فیصد ) کا ہے تاہم یہ کمزوربنیادی سہولتوں اورخدمات پرمبنی شعبہ ہے ۔ ثانوی شعبے میں نموبنیادی طورپرریاست کو فراہم کی گئی خصوصی صنعتی پیکج کی مرہون منت تھی جو 2010میں ختم ہوگئی ، لہذاصنعت کاری کی رفتاربھی سست پڑگئی تھی اس طریقے سے ریاست باغبانی اورخوراک ڈبہ بندی کو بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں نیز پن بجلی سیاحت اور نجی شعبے میں چاق وچوبندرہنے سے متعلق خدمات کوفروغ دے رہی ہے ۔
انھوں نے جی ایس ڈی پی شرح نموسے متعلق دوموضوعات یعنی نسبتاکم وسعت والی مالی بنیاد اورماحولیاتی مسائل اوررکاوٹوں کی بات اٹھائی، جس کے نتیجے میں بین ریاستی عدم مساوات کو بڑھاواملاانھوں نے کہاکہ قواعد وضوابط کی شکل میں عائد پابندیوں اوربندشوں اور ایکونظام کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کے نتیجے میں متعدد پن بجلی پروجیکٹوں کو عملی جامہ نہیں پہنایاجاسکتا اورایسی صورت میں بنیادی ڈھانچہ ترقیات بھی کافی مشکل ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ریاست کو 16-2015میں سابق منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے حاصل ہونے والی مرکزی گرانٹ کے رک جانے کی وجہ سے تقریبا2500کروڑروپے کا خسارہ لاحق ہواتھا ۔دیگرموضوعات جن پرپرزنٹیشن کے دوران گفت وشنید عمل میں آئی وہ درج ذیل ہیں :
1-ریاست کی جانب سے فراہم کرائی جانے والی ایکونظام خدمات کے لئے گرین بونس فراہم کرانے کی دلیل ۔
2-فی کس آمدنی کے علاوہ سی ڈی تناسب پربھی غورکیاجاناچاہیئے ۔
3-25655کروڑروپے کی گرانٹ جو خصوصی مسائل کے حل کے لئے درکارہے اور بنیادی ڈھانچہ کا بہتربنایاجانا ۔
4-پہاڑی علاقوں کے لئے علیحدہ سے کچھ رقم مختص کی جانی چاہیئے ۔
5-دوردراز اورپہاڑی علاقوں میں درپیش مسائل اوران علاقوں میں عمدگی کی حامل سرکاری خدمات کے فقدان کی وجہ سے ریاست کے باہر ہونے والانقل مکانی کا مسئلہ۔
6-زیارت پرمبنی سیاحت اور فلوٹنگ آبادی کادباؤ۔
7-زمین کی محدود دستیابی زرعی بنیاد کو وسیع نہیں ہونے دیتی ۔
تینوں سطح کے پی آرآئی اداروں کے لئے ریاستوں میں فنڈ کی فراہمی کے لئے زبردست اتفاق رائے
15واں مالیاتی کمیشن اپنے چارروزہ ہماچل پردیش کے دورے پرہے اوراس کمیشن نے مختلف سیاسی پارٹیوں مقامی اداروں تجارت اور صنعت اور سیاحت کے نمائندگان سے بھی ملاقات کرکے ان کے نظریات وخیالات سے آگاہی حاصل کی ہے ۔ مقامی اداروں کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران پالیسی سے متعلق کچھ موضوعات مثلامقامی اداروں کو فنڈ کی منتقلی کے لئے طریقہ کاراورذرائع پرخاص طورسے توجہ مرکوز کی گئی ۔ میونسپل اداروں نے کمیشن سے گذارش کی کہ وہ ان علاقوں میں آنے والے سیاحوں کی تعداد کو مدنظررکھتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ یہاں کے موسمیاتی حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سرمایہ کی فراہمی اور عطیات کی تخصیص عمل میں لائے ۔ نمائندگان نے ضلع پریشدوں اور پنچایت سمتیوں کو بھی سرمایہ فراہمی کئے جانے کی ضرورت پرزوردیا۔ اب تک صرف گرام پنچایتوں کو 14ویں مالیاتی کمیشن کی جانب سے محض معمولی سا سرمایہ فراہم کرایاگیاہے ۔ چیئرمین موصوف نے خیال ظاہرکیاکہ تمام ریاستیں اس بات پرمتفق ہیں کہ حکومت کی تیسری سطح کے ان اداروں یاسہ سطحی حکمرانی کے اداروں کو فوری طورپر سرمایہ فراہم کرایاجاناضروری ہے ۔
**************
U-5384
(ریلیز آئی ڈی: 1549996)
وزیٹر کاؤنٹر : 76