ایٹمی توانائی کا محکمہ

ملکی تکنیک کے  دس نیوکلیئر پاور ریئکٹروں کا قیام

प्रविष्टि तिथि: 19 JUL 2018 4:07PM by PIB Delhi

نئی دہلی،19 جولائی 2018؍ایٹمی توانائی، خلا، عملے، عوامی شکایات ،پنشن اور شمال مشرقی خطے کی ترقی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، کے علاوہ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے جون 2017ء میں فلیٹ موڈ میں ہر 700میگاواٹ کے ملکی تکنیک کے دس پریشرائزڈ ہیوی واٹر ریئکٹر ز کے قیام کے لئے مالی منظوری اور انتظامی منظوری دے دی تھی۔یہ ملک کی ٹیکنالوجی کے ریئکٹرز نیوکلیئرپاور کاروپوریشن آف انڈیا لمٹیڈ کے ذریعے قائم کئے جارہے ہیں، جو ایٹمی توانائی کے محکمے کے انتظامی کنٹرول کے تحت حکومت ہند کا پوری طرح اپنا پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ ہے۔

یہ ریئکٹرز حسب ذیل مقامات پر قائم کئے جانے ہیں:

مقام اور ریاست

پروجیکٹ

صلاحیت(میگا واٹ)

چھٹکا، مدھیہ پردیش

چھٹکا1 اور 2

2 X 700

کیگا، کرناٹک

کیگا-5 اور 6

2 X 700

ماہی بانسواڑہ، راجستھان

ماہی بانسواڑہ-1 اور 2

2 X 700

گورکھپور، ہریانہ

جی ایچ اے وی پی-3 اور 4

2 X 700

ماہی بانسواڑہ، راجستھان

ماہی بانسواڑہ-3 اور 4

2 X 700

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

وزیر موصوف نے بتایا کہ زمین کی حصولی، باز آبادکاری اور دوبارہ بسانا، ماحولیاتی منظوری وغیرہ جیسی پروجیکٹ سے پہلے کی سرگرمیاں ان مقاما ت پر مختلف مرحلوں میں ہے۔کیگا اور گورکھپور مقاما ت پر زمین دستیاب ہے اور چھٹکا اور ماہی بانسواڑہ مقامات پر زمین کی حصولی پیشگی مرحلے میں ہے۔چھٹکا 1 اور 2 اور جی ایچ اے وی پی 3اور 4پروجیکٹوں کے لئے ماحولیاتی منظوری مل گئی ہے۔ دیگر مقامات کے لئے ماحولیاتی منظوری کا عمل مختلف مرحلوں میں ہے۔ اس کے علاوہ طویل مینوفیکچرنگ سائیکل آلات، انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کی حصولی شروع کردی گئی ہے۔

بھارتیہ نابھیکہ وِدوت نگم لمٹیڈ کے ذریعے 500میگاواٹ کے پورٹو ٹائپ فاسٹ بریڈئیر ریئکٹر سمیت زیر تعمیر پروجیکٹوں اور10 پریشرائزڈ ہیوی واٹرریئکٹرز سمیت منظور کئے گئے پروجیکٹ کی تکمیل کے  ساتھ کل نیوکلیائی پاور کی صلاحیت 2031ء تک 22480میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔

 

U: 3712


(रिलीज़ आईडी: 1539329) आगंतुक पटल : 78
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , Bengali