وزیراعظم کا دفتر

باغپت میں   ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے کو قوم کے نام وقف کرنے  کے موقع پر وزیراعظم کی تقریر کا متن

प्रविष्टि तिथि: 27 MAY 2018 6:46PM by PIB Delhi

نئیدہلی۔28؍مئی۔

بھارت ماتا کی جئے

اتنی بڑی تعداد میں آئے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنوں ۔

چار سال پہلے آپ نے زبردست حمایت کے ساتھ مجھے پورے ملک کی خدمت کرنے کا موقع دیا۔ مئی کی اس گرمی میں اور جب  دوپہر کو سورج اتنا تپ رہا ہے آپ کا اتنی بڑی تعداد میں ہم سب کو آشیرواد دینے کیلئے آنا اس بات کا گواہ ہے کہ چار سال میں ہماری سرکار ملک کو صحیح سمت میں لے جانے میں کامیاب رہی ۔ بھائیو او ربہنوں، اتنی شفقت اور اتنا پیار تب ہوتا ہے جب خادم سے اس کا مالک خوش ہوتا ہے۔ آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے چار سال پورے ہونے پر آپ کا یہ پردھان سیوک پھر آپ کے سامنے سر جھکا کر سوا کروڑ اہل وطن  کو سلام کرتا ہے۔

ساتھیو آج باغپت، مغربی اترپردیش اور دہلی این سی آر والوں کیلئے ایک بہت بڑا دن ہے۔ دو بڑے سڑک پروجیکٹوں کوآج قوم کے نام وقف کیا گیا ہے۔ یہ دلّی ۔ میرٹھ ایکسپریس وے کا پہلا مرحلہ اور دوسرا یسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے۔

ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے پر گیارہ ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے گئے جبکہ دلّی ۔ میرٹھ ایکسپریس  وے  کے ابھی کے حصے پر تقریباً ساڑھے آٹھ سو کروڑ روپئے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ پورا پروجیکٹ لگ بھگ پانچ ہزار کروڑ روپئے کا ہے۔ آج جب اس نئی سڑک پر چلنے کا مجھے موقع ملا تو میں نے محسوس کیا چودہ لین کا سفر دلّی این سی آرکے لوگوں کی زندگی کو کتنا آسان بنانے والا ہے۔ کہیں کوئی روکاوٹ نہیں ۔ ایک سے ایک جدید تکنیک کا استعمال کنکریٹ کے ساتھ ہریالی کا بھی میل ۔

بھائیو اور بہنوں، صرف 18 مہینوں  میں یہ کام پورا ہوا ہے۔ آج چودہ لین کی 9 کلو میٹر سڑک کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے۔ لیکن اس 9 کلو میٹر کی بھی کتنی اہمیت ہے۔ وہ دلّی کے پٹ پڑگنج ، میور وہار ، غازی آباد،اندرا پورم، ویشیالی اور نوئیڈا کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ ساتھیو، جس رفتار سے یہ 9 کلو میٹر کی سڑک بنی ہے اسی رفتار سے میرٹھ تک اس پورے ایکسپریس وے کاکام کرکے جلد ہی دوسرے مرحلے کو بھی قوم کے نام وقف کیا جائیگا۔ اور جب یہ پورا ہوجائے گا تو میرٹھ سے دلّی کی دوری صرف 40 سے 45 منٹ رہ جائے گی۔

ساتھیو، دلّی این سی آر میں صرف جام کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ آلودگی کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جو سال در سال اور زیادہ خوفناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ آلودگی کے مسئلے کی ایک وجہ دلّی میں آنے جانے والی گاڑیاں اور لمبا ٹریفک جام ہے۔ ہماری حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دلّی کے چارو ں طرف ایکسپریس وے میں سے ایک گھیرا بنانے کا بیڑا اٹھایا ۔ یہ دو مرحلوں میں بنایا جارہا ہے اس میں سے ایک مرحلہ یعنی ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے کو ابھی تھوڑی دیر پہلے  قوم کے نام وقف کرنے کا موقع ملا۔ بھائیو اور بہنوں، دہلی کے اندر آج جتنی گاڑیاں پہنچتی ہیں اس میں سے اب لگ بھگ 30 فیصد کی کمی آجائے گی۔ وہ باہر سے باہر نکل جائیں گی ، نہ صرف بڑی گاڑیاں اور ٹرک بلکہ 50 ہزار سے زیادہ کاروں  کو بھی اب دلّی شہر کے اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ایسا انتظام اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے اپنے آپ  میں ملک کا پہلا ایکسپریس وے ہے جو ایکسس کنٹرول را گرین فیلڈ ایکسپریس وے ہے۔ یہ سڑک صرف 500 دن میں بن کر تیار ہوئی ہے۔ ساتھیو، یہ دونوں جو بڑے پروجیکٹ آج آپ سبھی کی خدمت کیلئے تیار ہیں یہ پوری طرح سے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ بجلی کی ضرورت بھی یہاں شمسی توانائی سے پوری کی جائے گی۔ یعنی وقت کی بھی بچت ، آلودگی بھی کم ، ایندھن بھی کم ، مغربی یوپی سے دلّی دودھ، سبزی ، اناج پہنچانا بھی آسان ہوجائے گا۔

بھائیو اور بہنوں، سواسو کروڑ اہل وطن کا معیار زندگی اوپر اٹھانے میں ملک کے جدید انفراسٹرکچر  کا بہت اہم رول ہے۔ اور یہی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا راستہ ہے۔ کیوں کہ انفراسٹرکچر ذات پات، پنتھ ،فرقہ ، اونچ  نیچ ، امیر غریب، یہ کسی میں بھید بھاؤ نہیں کرتا ہے۔ اس سے سب کے لئے برابری کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے ہماری سرکار نے ہائی وے ، ریلوے ، ایئروے  اور بجلی سے جڑے بنیادی ڈھانچے پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے۔ ساتھیو، گزشتہ چار برسوں میں تین لاکھ کروڑ سے زیادہ خرچ ہم نے 28 ہزار کلو میٹر سے زیادہ کے نئے ہائی وے بنانے کیلئے کیا ہے۔ چار سال پہلے تک جہاں ایک دن میں اور میں چاہوں گا کہ آپ بھی اس بات کو دھیان سے سنیں اور میرے ملک کے شہری بھی سنیں چار سال پہلے تک جہاں ایک دن میں صرف 12 کلو میٹر ہائی وے بنتے تھے آج لگ بھگ 27 کلو میٹر ہائی وے ا یک دن میں بنتے ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت 5 لاکھ کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت لگ بھگ 35 ہزار کلو میٹر ہائی وے تیار کیاجارہا ہے۔ ہائی وے ہی نہیں ریلوے میں بھی ایسا کام ہورہا ہے جو پہلےنہیں ہوا ہے۔ جہاں ریلوے کی کنیکٹیویٹی نہیں تھی وہاں تیزی سے ریل نیٹ ورک بچھایا جارہا ہے۔ سنگل لائنوں کو ڈبل میں بدلنا ، میٹر گیج کو براڈ گیج میں بدلنا، اس کام کو تیز رفتار سے ہم کررہے ہیں۔ ریل گاڑیوں کی رفتار بھی بڑھائی جارہی ہے، لگ بھگ ساڑھے پانچ ہزار بغیر آدمی والے ریلوے کراسنگ کو گزشتہ چار برسوں میں ہم نے ہٹا دیا ہے۔ بھائیو اور بہنوں، ہوائی خدمت کو سستا کرنے او رملک میں نئے ہوائی روٹ شروع کرنے کیلئے اڑان یوجنا چلائی جارہی ہے۔ گزشتہ سال تقریباً دس کروڑ لوگوں نے ہوائی سفر کیا۔ یعنی اے سی ٹرین میں ریلوے کے ایئرکنڈیشن ڈبے میں جتنوں سے سفر کیا اس سے زیادہ لوگوں نے ہوائی جہاز میں سفر کیا۔ یہ میں  ہندوستان کی  چار سال کی کہانی بتارہا ہوں۔ ہوائی چپل پہننے والا بھی ہوائی جہاز میں جائے۔ یہ خواب لیکر کے کام کررہے ہیں۔ ملک کی آبی طاقت کا بھی پورا استعمال کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ ملک میں 100 سے زیادہ نئے واٹر ویز بنائے جارہے ہیں یہاں یوپی میں بھی گنگا جی میں بھی جہاز چلنے لگے ہیں۔ گنگا جی کے ذریعے سے یوپی سیدھا سیدھا سمندر سے جڑنے والا ہے۔ جلد ہی سامان ڈھونے والے جہاز یوپی میں تیار سامان بڑی بڑی بندرگاہوں تک پہنچانے کے قابل ہو جائیں گے۔ گنگا جی کی طرح یمنا جی کو لیکر بھی ایک کے بعد ایک نئے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔

ساتھیو، جہاں جہاں ٹرانسپورٹ کی یہ سہولت کھڑی کی جارہی ہےوہاں وہاں نئی صنعتوں کے مواقع بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ اسی خیال کے ساتھ اس سال بجٹ میں اترپردیش میں ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا  ہے۔ اس کوریڈور کی توسیع آگرہ، علی گڑھ، لکھنؤ، کانپور، جھانسی اور چترکوٹ تک ہوگی۔ اکیلے یہ کوریڈور قریب قریب ڈھائی لاکھ لوگوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع تیار کریگا۔

ساتھیو، نیو انڈیا کے لئے تمام نئے انتظامات ملک کے نوجوانوں ، درمیانی طبقے کی توقعات کی بنیاد پر کھڑے کیے جارہے ہیں۔ ملک کے ہر گاؤں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کیلئے بھارت نیٹ یوجنا کے تحت کام تیز رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہماری حکومت کی رفتار کا اندازہ آپ اسی سے لگا سکتے ہیں  کہ کانگریس سرکار جہاں اپنے چار سال میں یہ بھی جیسے میں نے آپ کو ہائی وے کی تعمیر کے اعداد وشمار دیے تھے ، یہ بھی اعداد وشمار ذرا نوٹ کرنے جیسے ہیں۔ کانگریس کی یوپی اے حکومت اپنے چار سال میں 59 پنچایتیں یعنی قریب قریب 60 پنچایتوں کو ہی آپٹیکل فائبر  سے جوڑ پائی تھی، وہاں ہم نے ایک لاکھ سے زیادہ پنچایتوں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑ دیا ہے۔ کہاں چار سال میں ساٹھ سے بھی کم گاؤں اور کہاں چار سال میں ایک لاکھ گاؤں ۔ کام کیسے ہوتا ہے  میرا ملک اچھی طرح محسوس کررہا ہے۔ میک اِن انڈیا کے ذریعے سے ملک میں مینوفیکچرنگ مصنوعات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چار سال پہلے ملک میں صرف دو موبائل فون بنانے والی فیکٹریاں تھیں ، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں آج کہاں پہنچے ہیں۔ آپ کو جان کرکے خوشی ہوگی ، ان کے زمانے میں دو فیکٹریاں موبائل بناتی تھیں، آج 120 فیکٹری موبائل فون بنارہی ہے اور اس میں  تو کئی تو یہاں این سی آر میں ہی ہیں جن سے بہت سے نوجوانوں کو بھی روزگار ملا ہے۔ کچھ تو شاید یہاں موجود بھی ہوں گے۔

ساتھیو ، روزگار کے مواقع  تیار کرنے میں بہت چھوٹی ، چھوٹی اور اوسط صنعتوں ، جنہیں ہم ایم ایس ایم ای  بھی کہتے ہیں ان کا بہت بڑا رول ہے۔ زراعت کے بعد ایم ایس ایم ای شعبے میں ہی روزگار کے سب سے زیادہ مواقع دستیاب ہوتے ہیں اور یوپی میں تو قریب قریب 50 لاکھ چھوٹی چھوٹی صنعتوں کا جال ہے۔ ان صنعتوں کی  مزید توسیع کو اس کے لئے مرکز اور اترپردیش حکومت ملکر کے کام کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت  نے ایم ایس ایم ای سیکٹر کو ٹیکس میں بھی بھاری چھوٹ دیکر رکھی ہوئی ہے۔ اترپردیش کی بی جے پی حکومت نے ایک بڑی اہم پہل یوگی جی کی حکومت نے کی ہے۔ ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ یوجنا اپنے آپ میں بہت اہم ہے۔ یوپی حکومت کی اس یوجنا کو مرکزی حکومت کے اسکل انڈیا مشن، اسٹینڈ اپ انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا مشن اور پردھان منتری روزگار پروتساہن یوجنا کے ساتھ ہم نے اس میں تعاون کرنے کیلئے ایک پورا روڈ میپ بنایا ہے۔ ساتھیو، بہتر بزنس اور کاروبار تب ہوتا ہے جب حفاظتی انتظام صحیح ہو۔ یہاں مغربی اترپردیش میں تو آپ خود گواہ ہیں کہ پہلے کیا صورتحال تھی۔ لیکن اب یوگی جی کی قیادت والی حکومت میں مجرم خود سرنڈر کررہے ہیں۔ اب مجرم خود آگے سے کوئی جرم نہیں کریں گے۔ اس کا حلف لینے لگے ہیں۔ اور میں یوگی جی کو اور منوہر لال جی کو دونوں کو اس بات کیلئے مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے اترپردیش اور ہریانہ کے درمیان نظم ونسق کے معاملے میں اتنے اچھے طریقے سے ا یک دوسرے سے رابطہ کیا ہے کہ پہلے مجرم یہاں کھیل کھیلتے تھے وہاں بھاگ جاتے  تھے ۔ وہاں کھیل کھیلتے تھے یہاں پناہ حاصل کرلیتے تھے اب ان کے سارے راستے ان دونوں نے بند کردیے ہیں۔ میں دونوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

بھائیو اور بہنوں، ہم خواتین کے احترام اور ان کو تفویض اختیارات کو اولیت دے رہے ہیں۔ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت میں نے ملک میں ساڑھے سات کروڑ ٹوائلٹ  ہوں یا پھر اُجولا یوجنا کے تحت  دیے گئے چار کروڑ گیس کنکشن ہوں، انہوں نے خواتین کی زندگی کو آسان بنانے کے سلسلے میں بڑی خدمت کی ہے۔ وہیں مدرا یوجنا کے تحت  جو لگ بھگ 13 کروڑ قرضے دیے گئے ہیں، ان میں 75 فیصد سے زیادہ خاتون صنعت کاروں کو یہ قرضے ملے ہیں۔ کوئی تصور کرسکتا ہے ، ہندوستان میں مدرا یوجنا کی 13 کروڑ قرض لینے والوں میں سے  75 فیصد میرے ملک کی بیٹیاں ہیں، بہنیں ہیں ، مائیں ہیں ۔ گزشتہ چار برس میں ہم نے بیٹیوں کو عزت دی اور انہیں مزید بااختیار بنایا ، ساتھیو، خواتین کے ساتھ ساتھ دلتوں اور پسماندہ طبقات کو تفویض اختیارات کے لیے اور ان کے احترام کیلئے گزشتہ چار سال میں ہم نے ایک کے بعد ایک کئی اہم قدم اٹھائے ہیں، چاہے  وہ اپنا روزگار ہو یا پھر سماجی تحفظ ، آج بہت سی اسکیمیں اس سمت میں کام کررہی ہیں۔ مدرا یوجنا کے ذریعے سے جو لون دیا گیا ہے اس میں آدھے سے زیادہ لوگ دلت اور پسما ندہ طبقات کے ہیں۔ اسٹینڈ اپ انڈیا کے ذریعے بھی دلتوں کو ، خواتین کو، صنعت کاری کے ایک نئے منصوبے سے فائدہ ملا ہے۔ یہ ہماری حکومت کیلئے خو ش قسمتی کی بات ہے کہ ہم نے بابا صاحب امبیڈکر جی سے جڑے پانچ مقامات کو پنچ تیرتھ کے طور پر ترقی دی ہے۔ ساتھیو، آپ کو تجربے کے بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ جن کے من میں لالچ ہے وہ صرف گھڑیالی آنسو بہانے والی سیاست کرتے آئے ہیں۔ وہ عوام کو لبھانے والی سیاست کرتے آئے ہیں جو صحیح معنوں میں دلتوں مظلوموں، محروموں اور  پسماندہ لوگوں کے مفاد میں سوچتا ہے تو وہ عوامی مفاد کی سیاست کرتا ہے۔ عوام کو لبھانے والی سیاست نہیں کرتا ہے۔ دلت اور پسماندہ بھائی بہنوں کیلئے مواقع کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ اور انہیں انصاف دلانے کیلئے بھی گزشتہ چار برسوں میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

دلتوں پر ، قبائلیوں پر مظالم کے قوانین کو ہم نے اور سخت بنایا ہے۔ دلتوں پر ہونے والے مظالم کی فہرست کو 22 الگ الگ جرائم سے بڑھا کر 47 تک ہم نے اس کی توسیع کردی ہے۔ دلتوں کے مظالم سے جڑے معاملات تیزی سے سماعت کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں۔ بھائیو اور بہنوں، حکومت نے پسماندہ ذاتوں کی ذیلی درجہ بندی کے لئے ایک کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ او بی سی  لوگوں میں جو بہت زیادہ پسماندہ ہیں انہیں حکومت اور تعلیمی اداروں میں  طے شدہ حددو میں رہتے ہوئے ریزرویشن کا اور زیادہ فائدہ  حاصل ہو اور اس لئے او بی سی طبقے میں سب کٹیگری بنانے  کیلئے ہم نے کمیشن کی بھی تشکیل کی ہے۔ ساتھیو، حکومت تو اوبی سی کمیشن کو آئینی درجہ  تک دینا چاہتی تھی اور او بی سی سماج کا یہ مطالبہ پچھلے بیس پچیس سال سے چل رہا تھا، لیکن وہ یوپی اے میں بیٹھی ہوئی حکومت کو اس کی پروا نہیں تھی۔ ہم اس کے لئے قانون لائے، پارلیمنٹ میں او بی سی کمیشن کو  آئینی حق ملے اس کے لئے اہم قانون لائے،  لیکن کانگریس پارٹی کے لوگوں کو یہ گوارہ نہیں تھا۔ ان کی معاون پارٹیوں کو گوارہ نہیں تھا اور اس لئے وہ روڑہ  بن کرکے کھڑے ہوگئے اور اس قانون کو ابھی تک  لٹکائے بیٹھے ہیں لیکن میں او بی سی سماج کو یقین دلاتا ہوں جو قدم اٹھایا ہے اسے مودی پورا کرکے رہنے والا ہے۔ بھائیو اور بہنوں، سچائی یہ ہے کہ غریبوں کیلئے  دلتوں، پسماندہ طبقات قبائلیوں کیلئے جو بھی کام کیا جاتا ہے ، کانگریس اور اس کے ساتھ چلنے والی پارٹیاں یا تو اس میں روڑے اٹکانے لگتی ہیں ، انہیں ملک کی ترقی  بھی مذاق لگتی ہے۔ انہیں سوچھ بھارت کیلئے کیا گیا کام مذاق لگتا ہے۔ انہیں غریب خاتون کیلئے بنایا گیا ٹوائلٹ مذاق لگتا ہے، جب ہماری حکومت غریب خواتین کو مفت گیس کنکشن دیتی ہے تو بھی یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب غریب کیلئے بینک کھاتے کھلتے ہیں تو بھی یہ غریب مخالف ذہنیت والے اس کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ پیڑھی در پیڑھی خاندان میں اقتدار دیکھنے کے عادی یہ لوگ غریب کے لئے کئے جارہے ہر کام کو مذاق سمجھتے ہیں۔ کابینہ کے دستاویز کو پھاڑ کر پھینکنے والے لوگ پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پاس قانون کی عزت کرنا بھی مناسب نہیں مانتے ہیں۔

آج ملک کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ اپنے سیاسی فائدے کیلئے یہ لوگ سپریم کورٹ کے حکم پر بھی کھلے عام جھوٹ بولنے کی ہمت کرتے ہیں۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں سوچے کہ ان کے جھوٹ کی وجہ سے ملک میں کس طرح کے عدم استحکام  کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ چاہے دلتوں پر مظالم سے جڑے قانون کی بات ہو یا پھر ریزرویشن کی بات ہو، جھوٹ بول کر ، افواہ پھیلا کر، یہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازش کرتے ہیں۔ میں تو سن رہا ہوں اب انہوں نے نیا جھوٹ میدان میں اتارا ہے اور شاید اس علاقے کے لوگوں تک بھی پہنچ گیا ہوگا اورانہوں نے جھوٹ پھیلایا ہے ، اور وہ کسانوں کے بیچ پہنچارہے ہیں اور جھوٹ ایسا پھیلا یا جارہا ہے کہ جو لوگ کسان  کھیت ٹھیکے پر یا بٹائی پر دیگا اس سے 18 فیصد جی ایس ٹی لیا جائیگا، الیکشن میں ناکام ہوئے لوگ سیاست کرنے کی کچھ تو حدیں مقرر کیجئے۔ اتنا جھوٹ ۔۔۔۔  میرے ملک کے کسان کو گمراہ کررہے ہو، آپ کو پتا نہیں آپ کتنا بڑا پاپ کررہے ہو، میں اپنے کسان بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی کسی افواہ پر دھیان نہیں دیں، بلکہ جو افواہ پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف شکایت کریں، اور میں آپ کو وعدہ کرتا ہوں ایسے جھوٹ کا کھیل کھیلنے والوں کے خلاف قانون کام کرکے رہے گا۔

ساتھیو، ہماری حکومت گرام اودے سے بھارت اودے کے نظریے پر کام کررہی ہے، جب ہم گرام اودے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مرکز میرے ملک کا اناج پیدا کرنے والا میرا کسان ہے۔ میرے گاؤں کا چھوٹا کاریگر ہے، میرے گاؤں کا کھیت مزدور ہے۔ اس سال بجٹ میں گاؤں اور کھیتی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کیلئے 14  لاکھ کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ یوریا کی 100 فیصد نیم کوٹنگ پردھان منتری سینچائی پری یوجنا ، پردھان منتری فصل بیمہ یوجناکے دائرے میں تفصیل سے بھی کسان کو ایک  گارنٹی دیتا ہے، فائدہ پہنچا ہے، کسان کو لاگت کی ڈیڑھ گنا امداد ی قیمت کو بھی ہماری حکومت نے یقینی بنانا مقرر کیا ہے اور میں اپنے دونوں وزرائے اعلیٰ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایم ایس ای  کے نئے قوانین کے تحت کسانوں سے جتنا مال خرید  سکتے ہیں ، خریدنے کیلئے یوجنا بنائی ہے اور ماضی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ دونوں ہمارے کسانوں  کے لئے وقف حکومتوں کو دونوں وزرائے اعلیٰ کو میں مبارکباد دیتا ہوں۔ 

کھیت سے نکل کر بازار تک پہنچنے سے پہلے کسانوں کی پیداوار برباد نہ ہو، اس کے لئے 6 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری والی پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا  پر کام کیا جارہا ہے۔ یہ یوجنا مغربی یوپی کے آلو پیدا کرنے والے کسان ہیں، ان کو سب سے زیادہ مدد کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس بجٹ میں جس آپریشن گرین کا اعلان کیا گیا ہے وہ بھی نئی سپلائی چین  کے بندوبست سے جڑا ہوا ہے۔  یہ پھل، پھول اور سبزیاں پیدا کرنے والے یہاں کے کسانوں کیلئے بہت ہی فائدے مند ثابت ہوگا۔

بھائیو اور بہنوں، آرگینک کھیتی ، شہید کی مکھی پالنے کاکام، سولر فارم ، ایسے تمام جدید متبادلوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ کھیتی کے ان ضمنی شعبوں میں کام کرنے والے کسانوں کو قرض ملنے میں اور آسانی ہو ، اس پر بھی مفصل طریقے سے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔

یہاں کے گنا کسانوں کیلئے بھی ہماری حکومت مسلسل کام کررہی ہے، پچھلے برس ہی ہم نے گنے کی امدادی قیمت میں تقریباً گیارہ فیصد اضافہ کیا۔ اس سے گنے کے پانچ کروڑ کسانوں کو سیدھا فائدہ پہنچا تھا۔ ایتھنول سے جڑی پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے اب پٹرول میں ایتھنول کی 10 فیصد  بلینڈنگ کی بھی اجازت دی جاچکی ہے، گنا کسانوں کو چینی ملوں سے بقایہ رقم ملنے میں تاخیر نہ ہو اس سے جڑا ایک بڑا فیصلہ حال ہی میں لیا گیا ہے۔ سرکار نے طے کیا ہے کہ فی کوئنٹل گنے پر 5 روپئے پچاس پیسے کی مالی امداد  چینی ملوں کو دی جائے گی۔ لیکن یہ چینی ملوں کے مالک کے ہاتھ میں نہیں جائے گی اس میں بھی کس طرح کھیل  ہوتا تھا یہ ہمیں پتہ ہے۔ اور اس لئے ہم نے طے کیا کہ یہ رقم چینی ملوں کو دینے کی بجائے سیدھی سیدھی  گنا کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کردی  جائے گی۔ اس سے گنا کسانوں کا پیسہ چینی ملوں میں نہیں پھنسے گا۔ میں یہاں کے گنا کسانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت ان کی دقتوں کے بارے میں حساس ہے اور بہت سختی کے ساتھ گنا کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہم پابند عہد ہیں۔

بھائیو اور بہنوں، گاؤں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہم اپنے شہروں کو بھی اکیسویں صدی کےحساب سے تیار کررہے ہیں،  اسمارٹ سٹی مشن، امرت یوجنا کے ذریعے سے شہرکے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جارہا ہے۔ شہروں میں رہنے والے غریب  اوسط طبقے کے لوگوں کو اپنا گھر ملے اس کے لئے ہم بڑے پیمانے پر کوششیں کرر ہے ہیں۔ کانگریس کی حکومتو ں کے مقابلے میں کہیں زیادہ  تیزی سے یہ کام بھی ہم کررہے ہیں۔ سال 2004 سے لیکر 2014 کے دس برسوں میں  کُل ساڑھے تیرہ لاکھ گھر شہروں میں تعمیر کیلئے منظور کیے گئے۔  پچھلے چار برسوں میں ہم نے 46 لاکھ گھروں کو منظوری دی ہے۔ 50 لاکھ کے قریب پہنچ گئے ہیں یعنی تین گنا سے زیادہ  کام ہم نے کیا  ہے۔ کانگریس نے  دس برسوں میں ساڑھے پانچ  لاکھ گھروں کی چابیاں شہر کے  لوگوں کے سپرد کی تھی۔ جبکہ ہماری حکومت نے صرف چار برس کے اندر اندر آٹھ  لاکھ سے زیادہ شہری استفادہ کنندگان کو رہنے کیلئے گھر کی چابی دے دی ۔

بھائیو اور بہنوں، بڑھتی آبادی کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے بھی شہری انتظامات کو تیار کیا جارہا ہے۔ ایک خاندان کی 38 سال کی حکومت میں کیسے شہروں کی بے ترتیب ترقی ہوئی ، بغیر یوجنا کے  بڑھتے چلے گئے،  ملک  نے یہ بخوبی دیکھا ہے کہ مسائل کی  جڑ کہا ں ہے۔ نہ شہروں میں سیو ر کا پانی نکالنے کا انتظام، نہ پانی صاف کرنے کا،  ہمارے دریاؤں کا کام کیا ہوگیا ، شہر کی گندگی کو بڑھا کر سمندر  تک دریا ہی کھینچ کر لے جارہے ہیں۔ خصوصاً ہماری ماں گنگا  تو بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتی ہوئی صنعتی آلودگی سے پست پڑرہی ہے۔ اس لئے ہی اس حکومت میں نمامی گنگے پروگرم شروع کیا گیا۔ سرکار نے اولیت صرف گنگا کی صفائی کو ہی نہیں دی، بلکہ اب یہ بھی یقینی بنایا جارہا ہے کہ شہروں سے نکلنے والی گندگی بھی  گنگا میں نہیں  جانی چاہئے۔  سرکار کے ذریعے اب تک تقریباً 21 ہزار کروڑ کے 200 سے زیادہ پروجیکٹوں کو منظوری دی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ گنگا کے کنارے بسے گاؤوں کو اولیت کی بنیاد پر کھلے میں رفع حاجت سے پاک بنایا جارہا ہے۔ اتراکھنڈ، اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال جن پانچ ریاستوں سے گنگا جی ہوکر گزرتی ہیں ، وہاں گنگا کنارے کے کئی گاؤں اس مشن میں بہت کامیاب ہوچکے ہیں۔

ساتھیو،  گنگا صفائی پر ملک میں پہلے بھی بہت بڑی بڑی باتیں ہوئی ہیں، لیکن یہ حکومت باتوں میں نہیں ، کام کرکے اس کو ثابت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہی ہمارے کام کی کلچرہے یہی ہماری پونجی ہے۔ عوام کی کمائی کا ایک ایک پیسہ عوام پر خرچ ہو، اس کا دھیان رکھا جارہا ہے، اس لئے  ہم یہ بھی یقینی بنارہے ہیں کہ جو سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں وہ ٹھیک طرح سے چلے، کیونکہ یہ بھی ایک کانگریس کلچر رہا ہے کہ پلانٹ تو بنائے جاتے تھے لیکن نہ تو وہ اپنی اہلیت سے کام کرتے تھے اور نہ ہی طویل مدت تک چل پاتے۔ گنگا جی سے جڑے اہم پروجیکٹوں سے بھی اب کانگریس کلچر کو ہٹانے کاکام کیا جارہا ہے۔

ساتھیو، اب جو بھی پلانٹ بنائے جارہے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جارہا ہے کہ وہ پندرہ سال کے بعد کی ضرورتوں کو بھی دھیان میں رکھ کرکے کیا جائے، یعنی ہمارا زور صرف سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانے پر ہی نہیں بلکہ انہیں چلانے پر بھی ہے۔

بھائیو اور بہنوں، جنہوں نے 70 سال ملک کے ساتھ ملک کے غریبوں کے ساتھ اوسط طبقے ، کسانوں اور نوجوانوں کے ساتھ فریب کیا، انہیں مغالطے میں رکھا، انہیں دھوکہ دیا، وہ اب این ڈی اے حکومت پر عوام کا یقین دیکھ کر کافی بوکھلائے ہیں، ان کو پریشانی ہے کہ چار سال کے بعد اتنی گرمی میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا آنا ، ا ن کو سونے نہیں دیتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ انہیں نہ کبھی ملک کی جمہوریت پریقین رہا ہے اور نہ ہی آئین کے تحت  چلنے والے اداروں پر یقین رہا ہے۔ گزشتہ چار سال میں بار بار ان کی یہ ذہنیت کھل کر سامنے  آئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت پر کیسے ان لوگوں نے اعتماد کابحران کھڑا یہ ملک نے گزشتہ دنوں دیکھا۔

ملک کے الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کو کیسے انہوں نے شک کے دائرے میں کھڑا کیا یہ بھی ملک اچھی طرح جانتا ہے۔ ملک کے ریزرو بینک کو، اس کی پالیسیوں پر انہو ں نے کیسے سوالیہ نشان کھڑا کیا، اعتماد کا بحران پیدا کرنے کا گناہ کیا، یہ بھی ہم نے دیکھا ہے۔ ملک کی جو ایجنسیاں ان کے کالے کارناموں کی جانچ کررہی ہیں، یہ اسے بھی کٹگھرے میں کھڑا کررہے ہیں۔  اور تو اور اب تو انہیں ملک کا میڈیا بھی جانب دار نظر آنے لگا ہے۔

بھائیو اور بہنوں، ایک خاندان کی پوجا کرنے والے کبھی جمہوریت کا احترام نہیں کرسکتے،  یہ سرجیکل اسٹرائک کرنے والی ملک کی فوج کی ہمت کی بھی نفی کرتے ہیں۔ جب بین الاقوامی ایجنسیاں ہندوستان کی تعریف کرتی ہیں تویہ ان پر بھی ڈنڈا لیکر دوڑ پڑتے ہیں، ملک کی جو ایجنسیاں ان کے زمانے میں ترقی کے اعداد وشمار فراہم کراتی تھیں، وہی ایجنسیاں جب اسی طریقے سے نئی  حکومت کے  اعداد وشمار فراہم کراتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ملک  میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے۔ تو یہ ان کے اعتماد پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ یہا ں تک کہ بیرونی ملک سے آیا کوئی مہمان بھی اس حکومت کی تعریف میں کچھ بول دیتا ہے تو ساری وضع داری کو طاق پر رکھتے ہوئے اس پر بھی یہ لوگ سوال کھڑے کردیتے ہیں۔ ا س کی تنقید کرتے ہیں۔

 ساتھیو، ملک کے عوام کا اعتبار جن لوگوں سے اُٹھ چکا ہے وہ اتنا بوکھلا جائیں گے ان کی پریشانی کی وجہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا   ہوں۔  مودی کی مخالفت میں ملک کی مخالفت کرنے لگیں گے اس کی امید کم سے کم مجھے تو نہیں تھی۔ لیکن جب کے  پاس آپ کا اعتبار ہو ، آپ کا آشیرواد ہو ، ملک کے سواسو کروڑ لوگوں کا یقین ہو، وہ ان لوگوں کے لاکھ  حملوں سے بھی نہ کبھی  لڑکھڑاتا ہے ، نہ کبھی رُکتا ہے او رنہ کبھی تھکتا ہے۔

ساتھیو، میرے ہم وطنوں، آپ ہر چیز کو برابر تلاش کرکے دیکھ لیجئے، اس طرف اب کون لوگ ہیں، اس طرف کون لوگ ہیں، ذرا برابر جانچ کرکے دیکھ لیجئے ، اُس طرف وہ لوگ ہیں ، ان کے لئے ان کا خاندان ہی  ملک  ہے، میرے لیے میرا ملک ہی خاندان ہے، ملک کے سواسو کروڑ لوگ ہی میرے خاندان کے ارکان ہیں، کمانے کیلئے میرے پاس صرف آپ کا آشیرواد ہے،آپ کا پیار ہے، آپ کا یقین ہے، کرنے کیلئے میرے پاس صرف اور صرف سوا سو کروڑ ہم وطنوں کی خدمت ہے۔ آپ سبھی کے تعاون سے سواسو کروڑ ہم وطنوں کے کندھے سے کندھا ملاکر چلنے سے ایک بھارت سریشٹھ بھارت کا ہمارا عزم اور مضبوط ہوکر رہے گا۔ آپ بھاری تعداد میں یہاں آئیں، اس کے لئے میں آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ او رآج  جن سڑکوں کو قوم کے نا م وقف کیا گیا ہے اس کی اہمیت صرف اس علاقے سے نہیں اکیسویں صدی کا ہندوستان کیسا ہوسکتا ہے  اس کا یہ نمونہ ہے جو آپ کے گھر کے کنارے پر ہے۔

بہت بہت شکریہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U-2793


(रिलीज़ आईडी: 1533632) आगंतुक पटल : 204
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , Tamil