آبی وسائل، دریائی ترقیات اور گنگا احیاء کی وزارت
این ایم سی جی کی 9 ویں ایگزیکیوٹیو کمیٹی کی میٹنگ میں تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے
کے پروجیکٹوں کو منظوری
प्रविष्टि तिथि:
22 FEB 2018 4:05PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 22فروری / صاف ستھری گنگا سے متعلق قومی مشن (این ایم سی جی ) کی 9 ویں ایگزیکیوٹیو کمیٹی کی میٹنگ میں تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی، جن میں اترپردیش کے کانپور شہر کے جاجمؤ کے دباغت یعنی چمڑا رنگنے کے کارخانوں کے کلسٹر کے لئے 20 ایم ایل ڈی کامن ایفلو اینٹ ٹریٹمینٹ پلانٹ (سی ای ٹی پی )شامل ہیں ۔ 629 کروڑ روپے کی لاگت سے 3 مرحلوں میں نافذ کئے جانے والے ان پروجیکٹوں میں 380 انفرادی دباغت خانہ اکائیوں میں پری –ٹریٹمینٹ یونٹ ،فزیکل ، بایولوجیکل اور تین درجوں والے 20 سی ای ٹی پی، 200 کے ایل ڈی صلاحیت والے زیرو لکوئڈ ڈسچارج (زیڈ ایل ڈی )پر مبنی پائلٹ پلانٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ اس پروجیکٹ میں مرکزی شراکت داری 472 کروڑ روپے ہے۔ یہ اہم صنعتی شہر کانپور سے ہوکر گزرنے والے دریائے گنگا کی آلودگی کو قابو میں کرے کےلئے ایک اہم اقدام ہے۔ اس پروجیکٹ کا نفاذ ایک مخصوص مقصدی تنظیم (ایس پی وی )جاجمؤ ٹینری ایفلو اینٹ ٹریٹمینٹ ایسو سی ایشن کے ذریعے کیا جائے گا۔
کانپور میں 967.23 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے ایک اور پروجیکٹ کو منظوری دی گئی جس کا مقصد ہائبرڈ اینوایٹی – پی پی پی موڈ کے تحت جاجمؤ، بنگاون، سراری زون میں میں سیویج ٹریٹمینٹ انفراا سٹرکچر کی بعض آباد کاری اور انہیں مربوط کرنا ہے۔ اس پروجیکٹ میں پنکھا کے مقام پر 30ایم ایل ڈی کی صلاحیت والے ، ایس ٹی پی کی تعمیر بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت اس پروجیکٹ میں سرمایہ لگائے گی اور 15 برسوں تک اسے چلائے گی اور اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرے گی ۔
الہ آباد میں ہائبرڈ اینوایٹی – پی پی پی موڈ کے تحت الہ آباد زون کےنینی ، سلوری ،نمایاڈاہی، راجہ پور، پونگھٹ ، کودرا میں سیویج ٹریٹ مینٹ انفرااسٹرکچر کی باز آباد کاری اور انہیں باہم مربوط کرنے کے لئے 904 کروڑ روپے کی لاگت والے ایک پروجیکٹ کو منظوری دی گئی۔ سبھی ایس ٹی پی اور ایس پی ایس کے مناسب طریقے سے نفاذ کے لئے ایک آن لائن نگرانی نظام کو بھی منظوری دی گئی۔ مرکزی حکومت اس پروجیکٹ میں سرمایہ لگائے گی اور 15 برسوں تک اسے چلائے گی اور اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرے گی ۔
تقریباً 410 کروڑ روپے کی لاگت سے دریائے گنگا میں ملنے والے نالوں کے لئے ایک ان- سیٹو ؍ ایکس- سیٹو بایو ریمیڈی ایشن ٹریٹمینٹ پروجیکٹ کو بھی منظوری دی گئی ۔ این ایم سی جی نے سی پی سی بی اور دیگر پی ایس یوز کے تعاون سے ایسے اہم نالوں کی نشاندہی کی ہے جو اصل دھارے میں جا کر ملتی ہے ۔ یہیں پر ٹریٹمینٹ مراکز قائم کئے جائیں گے جس میں دریائے گنگا اور اس کی معاون ندیوں میں آلودگی پر قابو پانے کےلئے کنٹینیرائز موڈیولر ٹریٹمینٹ پلانٹوں کا قیام شامل ہے۔ ان نشاند زد نالوں کی بھی ترجیحی نالوں کی شکل میں درجہ بندی کی جائے گی۔ یہ وہ نالے ہیں جہاں فوری اقدام کی ضرورت ہے ۔ اس پروجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں ٹریٹمینٹ کے لئے 20 نالوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام تیز، تکنیکی اور مالی نقطۂ نظر سے کم خرچ والے تکنیکوں کو بروئے کار لانے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ سرگرمی دریائے گنگا میں بہنےو الے کچرے کو قابو میں کرنے کے لئے نمامی گنگے پروگرام کے تحت اپنائے جانے والے جامع نقطۂ نظر کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔
تقریباً 165.16 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے ہائبرڈ اینو ایٹی موڈ کےتحت مغربی بنگال میں کیورا پوکُر ایس ٹی پی (50 ایم ایل ڈی )اور گارڈن ریچ ایس ٹی پی (57 ایم ایل ڈی ) کی بازیابی اور15 برسوں تک آپریشن اور رکھ رکھاؤ کے لئے ایک پروجیکٹ کو منظوری دے دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت اس پروجیکٹ میں سرمایہ لگائے گی اور 15 برسوں تک اسے چلائے گی اور اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرے گی ۔
ان کے علاوہ بہار کے بیگو سرائے ، حاجی پور اور مونگیر میں بالترتیب 230.60 کروڑ ، 305.18 کروڑ اور 294.02 کروڑ روپے کی لاگت سے تین سیویج انفرااسٹرکچر پروجیکٹوں کو بھی نظرثانی کے بعد منظوری دی گئی ہے۔ ان پروجیکٹوں میں مرکز کی حصہ داری بالترتیب 161.04 کروڑ ، 213.63 کروڑ اور 205.81 کروڑ روپے ہوگی ۔ مرکزی حکومت اس پروجیکٹ میں سرمایہ لگائے گی اور 15 برسوں تک اسے چلائے گی اور اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرے گی ۔
میٹنگ کی صدارت دریاؤں کی ترقی اور گنگا بازآبادکاری کی وزارت کے سکریٹری نیز این ایم سی جی کے ڈائریکٹر جنرل جناب یوپی سنگھ نے کی۔ وزارت اور این ایم سی جی کے سینئر اہلکار اس موقع پر موجود تھے۔
U. No. 1016
(रिलीज़ आईडी: 1521424)
आगंतुक पटल : 67