پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 NOV 2026 2:53PM by PIB Delhi
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
میرے پیارے اہل وطن،
آج ملک بھر اور دنیا کے کونے کونے میں کروڑوں بھارتی روشنیوں کا یہ مقدس تہوار منا رہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے دور دراز سے سفر کر رہے ہیں۔ یہ خاندان، اپنے پیاروں سے ملنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا ایک عظیم تہوار ہے۔ اور میں بھی آپ کے درمیان دیوالی منانے آیا ہوں۔ خواہ سرحدوں پر ہوں یا ملک کے اندر، آپ سب جو قوم کا دفاع کرتے ہیں، آپ سب جو قوم کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتے ہیں، ماں بھارتی کے آپ تمام بہادر بیٹے اور بیٹیاں میرے اپنے لوگ ہیں، میرے خاندان کا حصہ ہیں۔ ہمالیہ کی گود میں واقع کارگل سے لے کر لیپچا تک، سمندر کے کنارے سر کریک سے لے کر سمندر کی آغوش میں آئی این ایس وکرانت تک، ہمارے بہادر جوانوں کے ساتھ گزاری گئی ہر دیوالی میرے لیے یادگار رہی ہے۔
میرے بہادر سپاہیو،
اس مرتبہ میں آپ سب کے درمیان بستر کے جنگلات میں دیوالی منانے آیا ہوں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کبھی نکسل دہشت گردی کا راج تھا، اور آپ کی قربانی، لگن اور استقامت کی بدولت آج یہی سرزمین نکسل دہشت گردی کے ناسور سے نجات حاصل کر چکی ہے اور اس نے ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔
اور دوستو،
2026 کی یہ دیوالی واقعی خاص ہے۔ چالیس یا پچاس سال بعد آپ سب کے لیے ایسی دیوالی آئی ہے۔ یہ پہلی دیوالی ہے جب ملک نے نکسل واد اور ماؤ نواز دہشت گردی کے خلاف اپنی دہائیوں پرانی جنگ جیت لی ہے۔ یہ پہلی دیوالی ہے جب ملک کا ہر ضلع نکسل واد سے آزاد ہے۔ یہ پہلی دیوالی ہے جب کروڑوں شہری نکسل واد کے خوف سے باہر نکل آئے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا سہرا آپ کو، آپ جیسے لاکھوں بہادر اہلکاروں کو، ہمارے جوانوں، بیٹوں اور بیٹیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو جاتا ہے۔ اس لیے آج میں آپ کے ساتھ دیوالی منانے آیا ہوں۔ اور میں 140 کروڑ بھارتیوں کی جانب سے آپ کی قربانی، لگن اور خدمت کے جذبے پر اظہارِ تشکر کرنے بھی آیا ہوں۔
دوستو،
ہمارے دور اندیش آباؤ اجداد نے کہا ہے: 'ابھیانترم بھیم رکشیَم، اسارم باہیتو بھیم۔' اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم کی اندرونی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، تو بیرونی دشمن زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن جب اندرونی سلامتی کمزور پڑ جاتی ہے، تو بیرونی دشمن بھی سر اٹھانے لگتے ہیں۔ اس لیے، جو کردار ہماری مسلح افواج سرحدوں پر ادا کرتی ہیں، وہی کردار آپ تمام سکیورٹی اہلکار ملک کے اندر ادا کرتے ہیں۔ آپ نے ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ آپ نے بے پناہ لگن کا مظاہرہ کیا ہے۔ اندرونی سلامتی کے تحفظ میں مصروف سلامتی افواج، ہمارے سی آر پی ایف، کوبرا، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ہر ایک جوان، ایس ایس بی، آئی آر بی، ریاستوں کے پولیس اہلکار، بستر فائٹرز جیسی خصوصی افواج کے کمانڈوز، اور ہماری خواتین جنگجو، یہ ملک آپ سب کی خدمات کا مقروض ہے۔ کروڑوں شہریوں کو آپ پر فخر ہے۔ تشکر اور محبت کے اسی جذبے کے ساتھ، میں آپ میں سے ہر ایک کو، جہاں کہیں بھی آپ پہرہ دے رہے ہیں، دیوالی کی تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں ملک کے دفاع کے لیے سرحدوں پر تعینات اپنے جوانوں کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
دوستو،
ماؤ نواز دہشت گردی اور نکسل واد کے خلاف یہ جنگ آسان نہیں تھی۔ ایک وقت تھا جب ملک کی تقریباً 20 ریاستوں کے 230 سے زیادہ اضلاع نکسل واد سے متاثر تھے۔ سورج غروب ہونے کے بعد ان علاقوں میں زندگی تھم سی جاتی تھی۔ گھر سے باہر قدم رکھنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ ان نکسلیوں نے لوگوں سے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھین لیا تھا۔ بہار، مہاراشٹر، اڈیشہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ، ملک کا ایک بہت بڑا حصہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثر تھا۔ ہزاروں گاؤں اور کروڑوں لوگ اس کے جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایک ہی سال میں دو ہزار تک نکسلی حملے ہوتے تھے۔ ذرا یاد کیجیے، 2010 میں یہیں قریب دنتے واڑہ میں نکسلیوں کے ساتھ ایک مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 76 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اسی سال دنتے واڑہ میں ایک اور واقعے میں 44 بے گناہ شہریوں کی جان چلی گئی تھی۔ یہ سرزمین ہمارے بہادر جوانوں کے خون سے مقدس ہوئی۔ لیکن اپنے محلات میں رہنے والے ان دولت مند رہنماؤں کی جانب سے غم کی ایک سسکی بھی سنائی نہیں دی۔ ان کی آنکھوں سے ایک آنسو تک نہیں نکلا۔ ایسے حملے بار بار ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ دہائیوں تک چلتا رہا۔ اس عرصے کے دوران اکیلے چھتیس گڑھ میں ایک ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کئی فوجی آئی ای ڈی دھماکوں میں اپنے ہاتھ اور پیر گنوا بیٹھے۔ اگر آپ 2004 سے 2013 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو ہر سال مارے جانے والے نکسلیوں کی تعداد کے مقابلے میں ہمارے بہادر فوجیوں کی شہادتوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ نکسلی تنظیموں کے رہنما اسے اپنی فتح سمجھتے تھے اور اس کا جشن مناتے تھے۔ اور بدقسمتی سے، اس وقت کی حکومتوں نے نکسلیت کو ایک لاعلاج مرض سمجھ کر قبول کر لیا تھا اور اسے یونہی لاوارث چھوڑ دیا تھا۔ میرے قبائلی خاندانوں کو ان کے نصیب پر جینے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ مان لیا گیا تھا کہ یہ سب یونہی لامتناہی چلتا رہے گا، گولیاں چلتی رہیں گی، فوجی مرتے رہیں گے اور بے گناہ شہری تکلیفیں اٹھاتے رہیں گے۔
دوستو،
کوئی بھی ملک 'یہ سب یونہی چلتا رہے گا' کے رویے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ کسی ملک کو آگے بڑھانے کے لیے اس کے دشمنوں کو عزم، حوصلے اور واضح حکمتِ عملی کے ساتھ کچلنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے ملک میں جس سیاسی عزم کی کمی تھی، وہ 2014 میں حاصل ہوا۔ آپ نے اس پردھان سیوک کو ماں بھارتی کی خدمت کا موقع دیا۔ اور 2014 کے بعد، ہم نے حالات اور اعداد و شمار دونوں کو بدلتے ہوئے دیکھا۔ برسوں تک اس بات پر بحث ہوتی تھی کہ مارے جانے والے نکسلیوں کے مقابلے میں کتنے سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ لیکن 47 سال بعد، پہلی مرتبہ گزشتہ ایک برس کے دوران فرض کی ادائیگی کے دوران سی آر پی ایف کے ایک بھی جوان کی جان نہیں گئی۔ یہ ملک کی درست پالیسیوں اور پختہ عزم کی فتح ہے۔ یہ آپ کی بہادری، آپ کے حوصلے اور آپ کے صبر کی فتح ہے۔ میں دہراتا ہوں، یہ آپ کی بہادری، آپ کے حوصلے اور آپ کے صبر کی فتح ہے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
ان بہادر سپاہیوں کی جے۔
ہماری سلامتی افواج اور پولیس اہلکار انتہائی نامساعد حالات میں بھی ثابت قدم رہے۔ یہ فرض سے اسی لگن کی فتح ہے۔
دوستو،
کامیابی کے لیے درست نیت اور درست پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ قومی سلامتی کے لیے ہم نے یکے بعد دیگرے کئی سخت فیصلے کیے۔ ایسے کئی اقدامات بھی کیے گئے جو ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔ ان فیصلوں اور کوششوں کے ذریعے نکسلیوں اور علیحدگی پسندوں کے فنڈنگ نیٹ ورکس پر ایک بڑی ضرب لگائی گئی۔ جعلی کرنسی کا گٹھ جوڑ تباہ کر دیا گیا۔ اس سے نہ صرف ان کی مالی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی بلکہ ان کی پوری سپلائی چین بھی بند ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں ہتھیاروں کی فراہمی رک گئی، اور نکسلیوں کی نقل و حرکت اور بھرتیوں پر پابندیاں لگ گئیں۔
دوستو،
سابقہ حکومتوں نے زمین پر لڑنے والی سلامتی افواج کے ہاتھ بھی باندھ رکھے تھے۔ نکسلی حملے ہوتے رہتے تھے، لیکن سلامتی افواج کو فیصلہ کن جوابی کارروائی کرنے کی آزادی نہیں تھی۔ ہم نے سلامتی افواج کو ہر ضروری فیصلہ لینے کی آزادی دی۔ ہم نے اس حمایت کو روکنے کے لیے بھی کام کیا جو بائیں بازو کی انتہا پسندی کو حکومت اور نظام کے اندر بیٹھے کچھ مخصوص لوگوں سے ملا کرتی تھی۔
دوستو،
ہم ایک بہت بڑے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں تھے۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ کسی ماں کی گود سُونی نہ ہو، کوئی خاندان تباہی کے چکر میں نہ پھنسے، کوئی بچہ ہتھیار نہ اٹھائے اور تشدد کے راستے پر نہ چلے، اور کسی نوجوان کا مستقبل برباد نہ ہو۔ اس لیے، جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہو گیا، ہم عزم کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نہ کوئی تشہیر تھی، نہ کوئی دکھاوا۔ حساسیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے، ہم نے ماؤ نواز دہشت گردی کی کمر توڑ دی۔ خدمت کے جذبے کے ذریعے ہم نے نکسل واد سے متاثرہ علاقوں میں زندگیوں کو تبدیلی سے ہمکنار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نکسل واد کا شکار ہونے والے لوگ بھی حکومت اور سلامتی افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے۔ آج یہاں بھی ایسے شہری موجود ہیں جنہوں نے اس بڑی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ میں ان سب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
دوستو،
جب ہم 'ملک کو اولیت' کے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو ملک کا امن اور سلامتی یقینی ہوتی ہے، ملک ترقی کی نئی بلندیوں سے ہمکنار ہوتا ہے، اور ترقی میں ہر غریب اور محروم شہری کی شرکت بھی بڑھتی ہے۔ اس لیے، گزشتہ بارہ برسوں میں ملک نے نہ صرف نکسلیت اور علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ جیتی ہے، بلکہ اس نے غربت کے خلاف بھی ایک بڑی لڑائی جیتی ہے۔
دوستو،
اس سال دیوالی سے ٹھیک پہلے ایک ایسی خبر سامنے آئی جس کا چرچا ملک بھر اور دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔ چند روز قبل عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران پچاس کروڑ لوگ، جی ہاں پچاس کروڑ لوگ، انتہائی غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔ غربت مٹانے کے دہائیوں پرانے نعرے جو کچھ حاصل نہ کر سکے، ملک نے وہ محض بارہ برسوں میں کر دکھایا۔ ذرا تصور کیجیے کہ یہ کتنی بڑی کامیابی ہے۔ سوچئے کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔
دوستو،
دیوالی کے موقع پر ہم رنگولی کے ڈیزائن بناتے ہیں۔ شروع میں صرف چند لکیریں کھینچی جاتی ہیں، اور ابتدائی نقش و نگار چھوٹے اور الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے ایک کے بعد ایک چھوٹا حصہ آپس میں جڑتا ہے، ایک خوبصورت اور مکمل تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ہم نے فلاحی اسکیموں کی ایک ایسی رنگولی بنائی جس نے ناداروں کو مسلسل بااختیار بنایا۔ جن دھن یوجنا کے ذریعے کروڑوں لوگ بینکنگ نظام سے جڑ گئے۔ پی ایم آواس یوجنا کے ذریعے کروڑوں کنبوں کو پکے گھر ملے۔ مدرا یوجنا کے تحت ہم نے بغیر کسی ضمانت کے قرضے فراہم کیے۔ سواندھی اسکیم کے ذریعے ٹھیلے اور پٹری والوں کو بھی سہارا اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع حاصل ہوئے۔ آیوشمان بھارت کے تحت ہم نے غریبوں کو مفت علاج فراہم کیا۔ کروڑوں خاندانوں کو ہر ماہ مفت راشن ملا۔ بچوں کی تعلیم کے لیے پالیسیاں بنائی گئیں۔ دوسرے لفظوں میں، ہم نے ہر غریب خاندان کے لیے مفت دوا، مفت تعلیم اور مفت راشن کی سہولت کو یقینی بنایا۔ صرف یہی نہیں، سوچھ بھارت مشن اور ہر گھر جل جیسی اسکیموں نے روزمرہ کی زندگی کی کئی بنیادی پریشانیوں کو دور کر دیا۔ اس کے نتیجے میں آج کروڑوں لوگ غربت سے باہر آ چکے ہیں۔ جن خاندانوں کو کبھی غربت وراثت میں ملی تھی، اب انہیں ایک بہتر مستقبل کی بنیاد وراثت میں مل رہی ہے۔ جن خاندانوں کی پوری زندگی فکر اور پریشانی میں گزرتی تھی، اب ان کے پاس وہ اعتماد ہے جو حکومت پر بھروسے اور خود اعتمادی کے ایک نئے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔
دوستو،
غربت کے خلاف اس فتح کی ایک بڑی بنیاد ملک کی نکسل واد اور علیحدگی پسندی کے خلاف نبردآزمائی سے بھی وابستہ ہے۔ بستر کے لوگ اور آپ سب جانتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی نکسلیوں کا اثر و رسوخ تھا، ان کا پہلا ایجنڈا ترقی کو روکنا اور عام لوگوں کی زندگیوں کو نقصان پہنچانا تھا۔ بچوں کے اسکولوں کو چلنے نہیں دیا جاتا تھا اور اکثر انہیں آگ لگا دی جاتی تھی۔ بیماروں کے لیے اسپتال نہیں بننے دیے جاتے تھے اور ڈاکٹروں کو داخل ہونے سے روکا جاتا تھا۔ میڈیکل اسٹورز جیسی سہولیات، جو جان بچانے میں مدد کرتی ہیں، ان کی اجازت نہیں تھی۔ ان نکسلیوں نے بچوں کو پولیو کی دوا کے قطرے پلانے سے بھی روکا۔ انہوں نے موبائل ٹاور نہیں لگنے دیے۔ آپ نے برسوں تک دیکھا ہے کہ کس طرح ریل پٹریوں کو بموں سے اڑایا گیا اور کس طرح صنعتوں اور کاروباری اداروں کو کام کرنے سے روکا گیا۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں غریب اور بے گناہ شہری، میرے بھائی اور بہنیں، اور میرے نوجوان بھائی اور بہنیں، مواقع سے محروم رہے۔ ان کی زندگیاں کبھی غربت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکیں۔ اس لیے، جب ہم نے نکسل واد کے خلاف لڑائی شروع کی، تو ہم نے بیک وقت نکسل متاثرہ علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائیں۔ ہم نے مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں 15,000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر کیں۔ ان علاقوں میں 9,500 سے زیادہ موبائل ٹاور لگائے گئے۔ قبائلی بچوں کی تعلیم کے لیے تقریباً 175 ایکلویہ اسکول کھولے گئے۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے لیے تقریباً 50 انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) قائم کیے گئے۔ تقریباً 50 اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز بنائے گئے۔ ہزاروں ڈاک خانے، بینک شاخیں اور اے ٹی ایم کھولے گئے۔ انتہائی پسماندہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے پی ایم جن من یوجنا شروع کی گئی۔ اس کے ذریعے پہلی مرتبہ ہزاروں دور دراز دیہاتوں تک پانی، بجلی اور سڑکوں جیسی سہولیات پہنچیں۔ صرف یہی نہیں، ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں کو بھی ایک موقع دیا گیا۔ ان کی بازآبادکاری کے لیے خصوصی اسکیمیں بنائی گئیں۔
دوستو،
'سب کا ساتھ، سب کا وکاس' کی اس مہم نے غربت کے خلاف ملک کی لڑائی کو ایک نئی توانائی اور نیا اعتماد دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب 50 کروڑ لوگ انتہائی غربت سے باہر نکل آئے ہیں، تو دوسری جانب ملک میں نکسلی تشدد کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے۔ ذرا خود بستر ہی کو دیکھ لیجیے۔ آج بستر میں 'بستر اولمپکس' کا انعقاد ہو رہا ہے۔ بچے اب بندوقیں نہیں اٹھا رہے، بلکہ کھیلوں میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں۔
دوستو،
ان کامیابیوں کے درمیان ہمیں ایک اور بات یاد رکھنی ہوگی۔ نکسلیوں کا خاتمہ تو ہو گیا ہے، لیکن خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہے۔ مسلح نکسلی جنگلات سے غائب ہو چکے ہیں، لیکن دماغی نکسلیوں نے کئی تنظیموں پر قبضہ کر لیا ہے۔ آج بھی وہ لوگوں کو ملک کے آئین اور جمہوریت کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ یہ دماغی نکسلی کئی سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں میں بھی گھس چکے ہیں۔ ہمیں ان کی شناخت کرنی ہوگی، انہیں شکست دینی ہوگی اور ملک کو محفوظ بنانا ہوگا۔
دوستو،
آج کی کامیابیاں ہمیں حوصلہ دیتی ہیں، لیکن یہاں رکنا نہیں ہے۔ میں پھر کہتا ہوں، یہاں رکنا نہیں ہے۔ یہ فتوحات، یہ کامیابیاں، ایک نئی اُڑان کے لیے پلیٹ فارم ہیں۔ یہ اُڑان ملک کے ان خوابوں کو لے کر اُڑے گی جنہیں ہماری نسلوں نے صدیوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔ یہ ان مجاہدینِ آزادی کے خواب ہوں گے جنہوں نے آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ یہ ان بہادر سپاہیوں کے خواب ہوں گے جنہوں نے ملک کی سرحدوں پر ماں بھارتی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ یہ ان دلیر اہلکاروں کے خواب ہوں گے جنہوں نے نکسل واد اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنی جانوں کی قربانی دی۔ ہر روز آپ اسی جذبے کے ساتھ جیتے ہیں: 'تیرا گورَو امر رہے ماں، تیرا گورَو امر رہے ماں، ہم دن چار رہیں نہ رہیں، تیرا گورَو امر رہے ماں۔' اب وقت آ گیا ہے کہ آپ کا یہ جذبہ ایک نئے اعتماد میں تبدیل ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کے لیے جیا جائے اور ملک کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا جائے۔
دوستو،
ہماری قوم جو بھی عزم کرتی ہے، اسے پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائیں گے، اور ہم نے وہ وعدہ پورا کیا۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم ہر گھر میں بیت الخلا بنائیں گے، اور ہم نے وہ وعدہ پورا کیا۔ ہم نے ٹیکہ کاری کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور ہم نے وہ وعدہ پورا کیا۔ اس لیے، آج جب ہم غربت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، جب ہم نشہ مکت بھارت کی بات کرتے ہیں، جب ہم ترقی یافتہ بھارت کی بات کرتے ہیں، جب ہم آتم نربھر بھارت کی بات کرتے ہیں، تو یہ اہداف بھی یقینی طور پر حاصل ہوں گے۔ ہمیں اپنی آنکھوں کے سامنے ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھنا ہے۔ مجھے آپ پر بھروسہ ہے۔ مجھے اپنے ملک کی نوجوان طاقت پر بھروسہ ہے۔ مجھے اپنے ملک کے عوام پر بھروسہ ہے۔ ملک یقینی طور پر ان اہداف تک پہنچے گا۔ آپ کی قربانی اور سخت محنت ترقی یافتہ بھارت کی شاندار عمارت کی مضبوط بنیاد بنے گی۔ اسی یقین کے ساتھ، میں ایک مرتبہ پھر دیوالی کے موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
وندے ماترم !
وندے ماترم !
وندے ماترم !
وندے ماترم !
وندے ماترم !
وندے ماترم !
وندے ماترم !
بہت بہت شکریہ۔
اعلان برأت: یہ وزیر اعظم کے خطاب کا قریب قریب ترجمہ ہے۔ اصل خطاب ہندی میں کیا گیا تھا۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:7396