پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 NOV 2026 1:44PM by PIB Delhi
وزیرِ دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے مسلح افواج پر زور دیا ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے عملی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح برقرار رکھیں اور مختلف شعبوں سے متعلق آگاہی، سائبر لچک اور معلومات کی صداقت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔
7 نومبر 2026 کو مغربی بنگال کے ایئر فورس اسٹیشن، بگڈوگرا میں دیوالی کے موقع پر بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کا منظرنامہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ جنگ کا دائرہ سرحدوں پر روایتی محاذ آرائی سے آگے بڑھ کر غیر متناسب جنگ، بالواسطہ جنگوں، سائبر حملوں، ڈرونز کے جھنڈ کے ذریعے حملوں، معلوماتی کارروائیوں اور بیانیے کو کنٹرول کرنے کی حکمتِ عملی تک پھیل گیا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا: ’’اکثر دشمن براہِ راست تصادم سے گریز کرتا ہے اور اس کے بجائے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دشمن گمراہ کن معلومات پھیلا کر مقامی آبادی اور ہمارے فوجیوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں آپ کا کردار ایک عام سپاہی کے کردار سے کہیں بڑھ کر ہو جاتا ہے۔‘‘
بگڈوگرا کو ایک تزویراتی لحاظ سے اہم خطہ اور بالخصوص شمال مشرقی علاقے کے لیے بھارت کے سلامتی کے نظام کا ایک اہم رابطہ قرار دیتے ہوئے جناب راجناتھ سنگھ نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلح افواج کے اہلکاروں کی بہادری اور لگن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں تعینات فضائی جنگجو مشرقی خطے کی سلامتی کے لیے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال کا کام انجام دے رہے ہیں اور ان کی مستعدی خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
وزیرِ دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی ترقی کے باوجود نظم و ضبط اور بہادری کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے اہلکاروں کا طرزِ عمل، رکھ رکھاؤ، زبان اور ضبط و تحمل مقامی برادریوں کے درمیان فوج کی شبیہہ تشکیل دیتے ہیں۔ ان خوبیوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے والے فوجیوں کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ مقامی آبادی، بالخصوص بگڈوگرا اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط کریں اور عوام و مسلح افواج کے درمیان اعتماد اور اپنائیت کے گہرے رشتے کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا، ’’آپ مقامی برادری کے ساتھ جتنا زیادہ رابطہ رکھیں گے، دشمن کی سازشیں اتنی ہی کمزور ہوتی جائیں گی۔‘‘
’آتم نربھر بھارت‘ کے حصول کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جناب راجناتھ سنگھ نے ڈرونز، ڈرون مخالف نظام اور جدید فوجی سازوسامان کی تیاری میں بھارتی اسٹارٹ اَپس اور صنعتوں کے بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دفاعی افواج کی جانب سے مقامی ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور ڈرون آپریشنز نیز سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں نئی مہارتیں حاصل کرنے کی ستائش کی۔ انہوں نے مستقبل کے سلامتی سے متعلق چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے فوج کو زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
اگنی ویروں کے لیے ’ڈیوٹی کی دوسری مدت‘ کی کابینہ سے منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے رکشا منتری نے کہا کہ اس فیصلے سے اگنی ویروں کو ملک کی خدمت کا ایک اور موقع ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سالہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد تمام اگنی ویروں کو، ان کی رضامندی اور انتخاب کے مقررہ معیار پر پورا اترنے کی شرط کے ساتھ، باقاعدہ سپاہی کے طور پر بھرتی ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کو اگنی ویروں کے لیے دیوالی کا ایک اہم تحفہ قرار دیتے ہوئے، دفاعی افواج کے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے تئیں حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے دیوالی کے موقع پر فضائیہ کے جوانوں کو مبارک باد پیش کی اور ان کے اہل خانہ کے لیے اچھی صحت، خوشی اور خوش حالی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ تہوار کے موقع پر اپنے اہل خانہ سے دور رہنے کے باوجود فضائیہ کے جوان اپنے ہم وطنوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پوری مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے جوانوں کے اہل خانہ کی قربانیوں اور خدمات کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں فوجی جوان سرحدوں کی حفاظت کے لیے پابند عہد ہیں، وہیں ملک ہمیشہ ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گا۔
اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اشوتوش دیکشت، ایئر فورس اسٹیشن باگڈوگرا کے ایئر آفیسر کمانڈنگ، ایئر کموڈور منیش شرما اور فضائیہ کے دیگر سینئر افسران موجود تھے۔

****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-7374