پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 NOV 2026 1:18PM by PIB Delhi
وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے حکومتِ کرناٹک کے محکمہ خوراک، شہری رسد، صارفین کے امور اور قانونی پیمائش کی جانب سے جاری کردہ اس پریس ریلیز کا نوٹس لیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست کے بعض خردہ فروشی کے مراکز پر فروخت ہونے والے پیٹرول میں ایتھنول کی مقدار 26 فیصد سے 31 فیصد کے درمیان ہے۔
اس سلسلے میں سرکاری شعبے کی تین تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل)، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) نے وضاحت کی ہے کہ سامنے آنے والی اطلاعات میں کیے گئے دعووں کی تائید مقررہ قانونی اور تکنیکی طریقۂ کار کے مطابق کی گئی جانچ سے نہیں ہوتی۔ تینوں کمپنیوں کی جانب سے کرناٹک سمیت ملک بھر میں فراہم کیا جانے والا ای 20 پیٹرول، بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے مقرر کردہ ایتھنول آمیز موٹر پٹرول کے معیار آئی ایس 17021 کے مطابق ہے۔
کمپنیوں نے اکتوبر 2026 میں کی گئی جانچ کے دوران اختیار کیے گئے نمونے لینے کے طریقۂ کار اور جانچ کے طریقۂ کار پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
نمونے لینے اور جانچ کے طریقۂ کار پر تشویش
ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کے تحت جاری کردہ موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (رسد، تقسیم اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے ضابطے) آرڈر، 2005 کے ساتھ مارکیٹنگ ڈسپلن گائیڈلائنز (ایم ڈی جی) 2024 میں نمونے لینے، انہیں محفوظ رکھنے، جانچ کرنے اور نتائج سے متعلق اطلاع دینے کے لیے ایک متعین طریقۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔
مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ایک ایک لیٹر کے 6 نمونے لیے جانے ضروری ہیں، جن میں سے 2 نمونے رسید کے ساتھ ڈیلر کے حوالے کیے جائیں، 2 نمونے تیل کمپنی یا محکمہ اپنے پاس محفوظ رکھے اور 2 نمونے کنٹرول آرڈر کے شیڈول III میں متعین یا سرکاری گزٹ میں نوٹیفائی کردہ لیبارٹری کو بھیجے جائیں۔ نمونوں کے لیبل پر مشترکہ طور پر دستخط ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، مقررہ مدت کے اندر جانچ کے نتائج سے ڈیلر اور تیل کمپنی کو مطلع کرنا لازمی ہے۔
ستمبر 2026 میں لیے گئے نمونوں کو اسٹیٹ لیول کوآرڈینیٹر کے ذریعے مقررہ او ایم سی لیبارٹریوں میں بھیجا گیا تھا اور ایم ڈی جی 2024 کے تحت مطلوبہ معیار کے پیمانوں کی جانچ کی گئی تھی، لیکن اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں کی گئی بعد کی کارروائی کے دوران او ایم سی کے نمائندوں کی شرکت کے بغیر نمونے لیے گئے۔ تیل کمپنیوں نے اسٹیٹ لیول کوآرڈینیٹر کے ذریعے متعلقہ محفوظ نمونے، ہر فروخت مرکز کی مکمل تفصیلات اور لیبارٹری کی رپورٹیں حاصل کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن انہیں یہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔
تیل کمپنیوں نے مزید کہا ہے کہ رپورٹ میں پیش کیے گئے نتائج کنٹرول آرڈر کے تحت متعین لیبارٹری میں کی گئی جانچ کے بجائے ایک تیسرے فریق کی لیبارٹری کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس پر مبنی ہیں۔ ان سرٹیفکیٹس میں وہ مکمل تکنیکی تفصیلات موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ایتھنول کی بتائی گئی مقدار کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکے۔ متعلقہ متبادل نمونوں اور مقررہ دستاویزات کی عدم دستیابی کے باعث تیل کمپنیوں اور متعلقہ ڈیلروں کو بھی تصدیق یا دوبارہ جانچ کی درخواست کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔
جانچ کا طریقۂ کار آئی ایس 17021 کے مطابق ہونا ضروری ہے
تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے کی گئی ابتدائی تکنیکی جانچ میں سرٹیفکیٹس میں درج ایتھنول کی جانچ کے طریقۂ کار کے حوالے سے بھی کئی خدشات سامنے آئے ہیں۔
آئی ایس 17021:2018 (ترمیم نمبر 3، اگست 2025) کے تحت ای 20 ایندھن میں ایتھنول کی مقدار کا تعین مقررہ طریقوں کے ذریعے کرنا ضروری ہے۔ ان میں اے ایس ٹی ایم D5845 کے تحت فورئیر ٹرانسفارم اِنفراریڈ اسپیکٹروسکوپی (ایف ٹی آئی آر)، ضمیمہ سی کے تحت پانی کے ذریعے استخراج، یا اے ایس ٹی ایم D4815/D6839 کے تحت گیس کرومیٹوگرافی شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ جب اے ایس ٹی ایم D4815/D6839 کے تحت گیس کرومیٹوگرافی کا طریقہ اختیار کیا جائے تو نمونے کو سب سے پہلے آکسیجنیٹ سے پاک پیٹرول کے ساتھ 1:1 کے تناسب سے پتلا کرنا ضروری ہے، اور اس کے بعد ای 10 کے مصدقہ معیاری نمونے کی بنیاد پر حاصل شدہ نتیجے کی اصلاح کی جانی چاہیے۔
تاہم، کرناٹک کی پریس ریلیز میں جن سرٹیفکیٹس کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں صرف ’’گیس کرومیٹوگرافی کے ذریعے ایتھنول کی فیصد مقدار‘‘ درج ہے، جبکہ اس میں قابلِ اطلاق معیاری جانچ کے طریقے، مقررہ تناسب سے نمونے کو پتلا کرنے کے عمل یا نتیجے کی اصلاح کے لیے استعمال کیے گئے معیاری نمونے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ ان بنیادی تفصیلات کی عدم موجودگی میں ایتھنول کی 26 فیصد سے 31 فیصد تک بتائی گئی مقدار کی آئی ایس17021 کے تحت مقررہ طریقۂ کار کے مطابق آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
رپورٹ میں درج کثافت کی پیمائش بھی جانچ طلب ہے۔ سرٹیفکیٹس کے مطابق، 26 فیصد سے 31 فیصد تک ایتھنول کی مقدار رکھنے کا دعویٰ کیے گئے نمونوں کی کثافت 0.742 سے 0.749 g/cc کے درمیان ہے۔ یہ ان ای 20 نمونوں کی 0.752 سے 0.760 g/cc کثافت سے کم ہے، جن کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کیو سی سی- 1 اور کیو سی سی- 2 سروے کے تحت جانچ کی تھی۔ چونکہ ایتھنول کی کثافت پیٹرول سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اصولی طور پر آمیزے میں ایتھنول کا تناسب بڑھنے سے اس کی مجموعی کثافت میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ کثافت کے ان متضاد اعداد و شمار سے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت واضح ہوتی ہے کہ مقررہ طریقۂ کار کے مطابق جانچ کی جائے اور مناسب معیاری نمونوں کی مدد سے نتائج کی تصدیق کی جائے۔
او ایم سی اور سی ایچ ٹی کی جانب سے کوالٹی کی مسلسل نگرانی میں مقررہ معیارات کی پابندی کی تصدیق
وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کے تحت کام کرنے والا سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی (سی ایچ ٹی)، او ایم سی کے خردہ فروشی کے مراکز پر ایتھنول کی آمیزش اور ایندھن کے معیار کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
او ایم سی/سی ایچ ٹی کوالٹی کوآرڈینیشن سیل (کیو سی سی) کی کارروائی کے تحت، 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) کے ڈپوز اور خوردہ فروشی کے مراکز سے 330، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) سے 280 اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) سے 283، اس طرح مجموعی طور پر ای 20 کے 893 نمونے حاصل کیے گئے۔ ان نمونوں میں ایتھنول کی مقدار کی جانچ آئی ایس 17021 کے ضمیمہ سی کے مطابق ریفائنری اور او ایم سی کی کوالٹی کنٹرول لیبارٹریوں میں کی گئی۔ جانچ میں تمام 893 نمونے ایتھنول کی مقررہ مقدار کی حد 19–21 فیصد کے اندر پائے گئے۔
خاص طور پر کرناٹک میں جانچ کیے گئے تمام 56 نمونے، جن میں مختلف مقامات اور تینوں او ایم سیز کے نمونے شامل تھے، بھی مقررہ معیارات کے مطابق پائے گئے۔ ان میں ایتھنول کی مقدار 19 فیصد سے 20 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی اوسط مقدار 19.30 فیصد رہی۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ او ایم سی کے خوردہ فروشی کے مراکز پر ایتھنول کی آمیزش کی نگرانی کی جاتی ہے اور اسے مقررہ معیارات کے مطابق کنٹرول میں رکھا جاتا ہے۔ یہ نتائج کرناٹک کی پریس ریلیز میں ایتھنول کی نمایاں طور پر زیادہ بتائی گئی مقدار سے مطابقت نہیں رکھتے اور اس بات کی ضرورت کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ جانچ کا عمل شفاف، تکنیکی اعتبار سے مستند اور مشترکہ طور پر قابلِ تصدیق ہونا چاہیے۔
ایتھنول کی آمیزش ایک منضبط اور خودکار عمل ہے
او ایم سی کی ریفائنریوں اور ڈپوز میں ایتھنول کی آمیزش باقاعدہ طور پر قائم، معیاری پیمانوں کے مطابق کیلیبریٹڈ اور کنٹرول شدہ نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس عمل میں ریفائنری اور ڈپو کی سطح پر خودکار کیلیبریشن اور مقررہ تناسب سے آمیزش کے انتظامات شامل ہوتے ہیں، جبکہ ایتھنول کی آمیزش مقررہ وضاحتوں اور معیار کی جانچ کے ضابطوں کے مطابق کی جاتی ہے۔ یہ پیٹرول میں ایتھنول ملانے کا کوئی دستی یا من مانا عمل نہیں ہے۔
او ایم سیز اپنے رسد اور تقسیم کے پورے نیٹ ورک میں معیار کی یقین دہانی کے لیے باقاعدہ نظام برقرار رکھتی ہیں، تاکہ آمیزش کے بعد تیار ہونے والا ایندھن صارفین تک پہنچنے سے پہلے بی آئی ایس کے متعلقہ معیارات پر پورا اترے۔
صارفین پر پڑنے والے اثرات سے متعلق دعووں کا سائنسی جائزہ ضروری
صارفین کو سالانہ تقریباً 62,000 کروڑ روپے کے مائلیج نقصان اور گاڑیوں کی مرمت پر تقریباً 39,000 کروڑ روپے کے اخراجات کے تخمینے سے متعلق دعووں کا بھی مستند تکنیکی شواہد کی روشنی میں باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ ان دونوں کو ملا کر یہ رقم تقریباً 1.01 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔
تین کروڑ سے زیادہ دو پہیہ گاڑیاں اور 4 کروڑ چار پہیہ گاڑیاں گزشتہ 3 سال سے زائد عرصے سے ای 20 ایندھن استعمال کر رہی ہیں۔ روزانہ 6 کروڑ سے زیادہ افراد اپنی گاڑیوں میں ایندھن بھروانے کے لیے پیٹرول پمپوں کا رخ کرتے ہیں۔ اگر ای 20 ایندھن کے معیار میں کوئی وسیع پیمانے پر خرابی ہوتی تو توقع کی جاتی کہ گاڑیوں کی اتنی بڑی تعداد میں خرابی کے واقعات سامنے آتے۔ تاہم، اس طرح کے کسی بڑے پیمانے کے واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حقیقی حالات میں اتنے بڑے پیمانے پر ای 20 ایندھن کا استعمال، ایندھن کے معیار اور گاڑیوں کی کارکردگی سے متعلق دعووں کا جائزہ لینے میں ایک اہم پہلو ہے۔
ای 20 ایندھن کے استعمال سے گاڑیوں کی کارکردگی اور مائلیج پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ بین الوزارتی کمیٹی کے ذریعے اور انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل)، آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی) اور سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (سیام) کے اشتراک سے کیے گئے مطالعات میں بھی لیا گیا ہے۔
وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے 12 اگست 2025 کو پریس انفارمیشن بیورو کے ذریعے شائع کردہ ’’پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش اور اس سے آگے کے خدشات کا جواب‘‘ کے عنوان سے جاری وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ ای 20 ایندھن کے مطابق تیار اور کیلیبریٹ کی گئی گاڑیوں کے مائلیج میں تقریباً 1–2 فیصد کی کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر گاڑیوں میں گاڑی کے زمرے اور کیلیبریشن کے لحاظ سے یہ کمی تقریباً 3–6 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
لہٰذا، گاڑیوں کی پوری تعداد پر یکساں طور پر 10 فیصد مائلیج میں کمی کا مفروضہ لاگو کرنا اور اس کی بنیاد پر ملک بھر میں صارفین کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 62,000 کروڑ روپے تک پہنچانا سائنسی اعتبار سے مستند جائزہ نہیں ہے۔ اسی طرح، گاڑیوں کی مرمت پر 39,000 کروڑ روپے کے تخمینے کو بھی گاڑیوں کی حقیقی کارکردگی کے اعداد و شمار، مختلف مواد کی باہمی مطابقت سے متعلق مطالعات اور مرمت کے دستاویزی اخراجات کے شفاف جائزے کے ذریعے ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔
مواد کی باہمی مطابقت اور گاڑیوں کی کارکردگی سے متعلق خدشات کا جائزہ تکنیکی اداروں اور آٹوموبائل صنعت کے اشتراک سے پہلے ہی کیے گئے مطالعات میں لیا جا چکا ہے۔ لہٰذا، اس پروگرام کے اثرات کا کوئی بھی جائزہ لیتے وقت یکساں مفروضوں پر انحصار کرنے کے بجائے گاڑیوں کے زمرے، ان کی تیاری کے مقررہ معیارات، ایندھن کے ساتھ مطابقت اور ان تکنیکی مطالعات کے نتائج کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ایتھنول کی آمیزش کا پروگرام وسیع تر اقتصادی اور ماحولیاتی فوائد فراہم کرتا ہے
ہندوستان میں ایتھنول کی آمیزش کا سفر 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، جس کا آغاز 2001 میں ایک پائلٹ پروگرام سے ہوا تھا۔ اس کے بعد مختلف پالیسی اقدامات کے ذریعے اس میں پیش رفت ہوئی، جن میں قومی حیاتیاتی ایندھن پالیسی، 2018 اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا نیتی آیوگ کا ’’2025 تک ہندوستان میں ایتھنول کی آمیزش کا روڈ میپ‘‘ بھی شامل ہے۔
ایتھنول آمیز پیٹرول (ای بی پی) پروگرام، درآمد شدہ خام تیل پر انحصار کم کرنے، ملک کی زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور توانائی کے تحفظ کو آگے بڑھانے کی ہندوستان کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
ایتھنول کی آمیزش کے پروگرام کے نتیجے میں، ایتھنول سپلائی سال (ای ایس وائی) 2014-15 سے اب تک درج ذیل فوائد حاصل ہوئے ہیں:
- زرمبادلہ کی مد میں 1.97 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے۔
- تقریباً 316 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل کی جگہ ایتھنول نے لی ہے۔
- کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کے اخراج میں تقریباً 952 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی ہوئی ہے۔
- کسانوں کو 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی گئی ہے۔
یہ قابلِ پیمائش نتائج اس پروگرام کے وسیع تر اقتصادی، ماحولیاتی اور زرعی فوائد کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان فوائد کا جائزہ صرف او ایم سیز کے منافع اور صارفین کو مبینہ طور پر ہونے والے اخراجات کے منتخب تقابل کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔
31 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ایتھنول سپلائی سال (ای ایس وائی) 2025-26 کے دوران، سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 1,089 کروڑ لیٹر ایتھنول خریدا اور ملک میں 20 فیصد آمیزش کا قومی ہدف حاصل کرنے کی کوشش کے تحت، پیٹرول کی تقریباً 5,673 کروڑ لیٹر فروخت کے مقابلے میں 1,134 کروڑ لیٹر ایتھنول کی آمیزش کی۔ یہ پروگرام ایک متعین قومی فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے، جس میں رسد کے پورے سلسلے میں آمیزش کی شرح اور معیار کے پیمانوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔ کسی ایک مقام پر مقررہ مقدار سے نمایاں طور پر زیادہ یا کم آمیزش کے انفرادی اور غیر مصدقہ الزامات سے اس پروگرام کی مجموعی کارکردگی کا کوئی بامعنی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔
یہ تجویز بھی درست نہیں ہے کہ او ایم سیز کو مقررہ ہدف سے زیادہ ایتھنول کی آمیزش کرنے میں کوئی تجارتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ایتھنول کی خریداری پر خاصی لاگت آتی ہے اور مقررہ تناسب سے زیادہ آمیزش کیا جانے والا ہر اضافی لیٹر او ایم سیز کی خریداری کے اخراجات میں اضافہ کرے گا۔ او ایم سیز کے پاس من مانے طور پر یا مقررہ مقدار سے زیادہ ایتھنول کی آمیزش کرنے کی کوئی تجارتی معقول وجہ نہیں ہے۔
او ایم سیز نے شفافیت اور آزادانہ تصدیق کا مطالبہ کیا
سامنے آنے والے خدشات کے پیش نظر، تینوں تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے حکومتِ کرناٹک سے درخواست کی ہے کہ وہ نمونے لینے سے متعلق تمام دستاویزات، ہر فروخت مرکز کی الگ الگ لیبارٹری رپورٹیں اور رپورٹ میں پیش کیے گئے نتائج کے لیے اختیار کیے گئے جانچ کے طریقۂ کار کی تفصیلات فراہم کرے۔ کمپنیوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ انہیں متعلقہ متبادل نمونوں تک رسائی دی جائے، تاکہ ریاستی حکومت اور او ایم سیز کے نمائندوں کی موجودگی میں کسی مجاز لیبارٹری میں مقررہ حوالہ جاتی طریقۂ کار کے مطابق ان کی آزادانہ جانچ کرائی جا سکے۔
او ایم سیز نے کنٹرول آرڈر اور ایم ڈی جی 2024 کے مطابق مشترکہ طور پر نمونے لینے اور ان کی جانچ کرنے کے عمل میں ریاستی حکومت اور دیگر مجاز حکام کے ساتھ تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مقررہ طریقۂ کار کے تحت اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو اس سے متعلقہ نافذ العمل رہنما خطوط کے مطابق نمٹا جائے گا۔
وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صارفین کو فراہم کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے، ضابطوں کی پابندی اور صارفین کے تحفظ کے لیے پابندِ عہد ہے۔ اس مقصد کے لیے او ایم سیز کے ملک گیر رسد اور تقسیم کے نیٹ ورک میں معیار کی یقین دہانی اور نگرانی کے مستحکم نظام قائم ہیں۔
******
ش ح۔ ف ا ۔ م ر
U-NO. 7373