قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قانون ساز محکمے نے باہمی تبادلۂ خیال کی نشستوں کا سلسلہ شروع کیا؛ پہلی نشست میں قیادت میں اقدار اور ذاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 NOV 2026 11:45AM by PIB Delhi

وزارتِ قانون و انصاف کے قانون ساز محکمے نے باہمی تبادلۂ خیال کی نشستوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد محکمے کے افسران اور اہلکاروں کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں سینئر افسران قیادت، انتظامیہ اور ذاتی صلاحیتوں کی بہتری کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تجربات، پیشہ ورانہ بصیرت اور نقطۂ نظر کا تبادلہ کر سکیں۔

اس سلسلے کی پہلی نشست 5 نومبر 2026 کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون 2 میں واقع  ودھائی پرشکشن  سبھاگار میں منعقد ہوئی۔ اس نشست کی صدارت قانون ساز محکمے کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر منوج کمار نے کی۔ قانون ساز محکمے کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ اکالی وی کونگھائے نے ’’قیادت میں اقدار اور ذاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا‘‘ کے موضوع پر ایک بصیرت افروز خطاب کیا، جس میں انہوں نے مؤثر قیادت کے اصولوں کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات اور نقطۂ نظر پیش کیے۔

اس نشست کے دوران محترمہ کونگھائے نے اس بات پر زور دیا کہ قیادت محض اختیارات کے عہدوں یا رسمی مناصب تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اظہار ہر فرد کی اس صلاحیت سے ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ذاتی طرزِ عمل، اقدار اور اعمال کے ذریعے دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیادت کا آغاز اپنی ذات میں تبدیلی سے ہوتا ہے اور اس کے لیے وژن، مقصد، مؤثر ابلاغ، جواب دہی، باہمی تعاون اور دوسروں کو بااختیار بنانے اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قیادت کی بنیاد بنیادی طور پر اختیار کے بجائے خدمت پر استوار ہوتی ہے۔

انہوں نے قیادت میں اقدار اور مقصد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ’’بامقصد قیادت کے پانچ سی‘‘ (فائیو سی) کا تصور پیش کیا، جن میں تسلسل (کنسسٹنسی)، ثقافت (کلچر)، تعاون و خدمات (کنٹری بیوشن)، برادری (کمیونٹی) اور تجسس (کیوریوسٹی) شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اصول افراد کو دیانت داری، انکساری، سچائی، ہمدردی اور جواب دہی جیسی اقدار کو شعوری طور پر اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں؛ ایک مثبت اور حوصلہ افزا تنظیمی ماحول کو فروغ دیتے ہیں؛ بامعنی خدمات انجام دینے کے لیے اپنی منفرد خوبیوں، دلچسپیوں، صلاحیتوں، قابلیتوں اور وسائل کو پہچاننے اور بروئے کار لانے میں مدد دیتے ہیں؛ وسیع تر سماج کے تئیں احساسِ ذمہ داری پیدا کرتے ہیں؛ اور متجسس رہنے، دوسروں کی رائے قبول کرنے اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کو برقرار رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ ذاتی صلاحیتوں کی بہتری محض کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک بہتر انسان بننا بھی شامل ہے، جو دوسروں کی زندگیوں میں بامعنی کردار ادا کرے۔ خود احتسابی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے شرکا کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے طرزِ عمل، دوسروں پر اپنے اثرات اور سماج کے لیے اپنی خدمات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کا حقیقی پیمانہ دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے اور مستقبل کے قائدین کو ترغیب دینے اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی قابلیت میں مضمر ہے۔

اس نشست میں قانون ساز محکمے کے 80 سے زائد افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس باہمی تبادلۂ خیال کے ذریعے شرکا کو پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں اخلاقی اقدار، بامقصد قیادت، ذاتی نشوونما اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر غور و فکر کرنے کا موقع ملا۔

باہمی تبادلۂ خیال کی نشستوں کے اس سلسلے کو قانون ساز محکمے کے ایک مسلسل جاری رہنے والے اقدام کے طور پر شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد علم کے تبادلے کو فروغ دینا، بامعنی گفتگو کی حوصلہ افزائی کرنا اور محکمے کے افسران و اہلکاروں کے درمیان تجربات اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے کو آسان بنانا ہے۔

 

******

 

ش ح۔ ف ا ۔ م ر

U-NO. 7370

 


(ریلیز آئی ڈی: 2333909) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati