امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے دہرادون میں اتراکھنڈ پولیس کو صدر جمہوریہ کا نشان عطا کیا


صدر جمہوریہ کا  نشان حاصل کرنے پر اتراکھنڈ پولیس کو مبارک باد؛ اتراکھنڈ ملک کی 16ویں ریاست بن گئی ہے جس کی پولیس فورس کو یہ اعلیٰ ترین اعزاز حاصل ہوا ہے

یہ اتراکھنڈ پولیس کے ہر جوان اور افسر کے لیے فخر کا لمحہ ہے، جنہوں نے ’’کرم ستیَم شوریَم‘‘ کو اپنی زندگی کی بنیاد بنایا ہے

جوانوں کی لگن، نظم و ضبط اور قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والا یہ اعزاز ان 206 بہادر جوانوں کے نام وقف ہے، جنہوں نے ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک کو نکسل ازم سے نجات دلائی گئی ہے؛ اب منشیات سے پاک ہندوستان بنانے کا عزم ہے

تین سال کے اندر ہم دیو بھومی کو بھی منشیات سے پاک بنانے کا عزم پورا کریں گے

جنگلات میں آتش زدگی اور زمین کھسکنے کے واقعات سے لے کر سرنگوں میں پھنسے مزدوروں کے ریسکیو تک، اتراکھنڈ پولیس کے جوانوں نے ہر طرح کی اچانک آنے والی آفات کا عزم و حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا ہے

اتراکھنڈ پولیس نے بڑھتی ہوئی آبادی اور ہر ماہ لاکھوں یاتریوں کی مسلسل آمد و رفت کے دباؤ کو بڑی مستعدی سے سنبھالا ہے

کسی بھی دور دراز علاقے میں پھنسے ہوئے شخص تک سب سے پہلے یا تو آئی ٹی بی پی کا جوان پہنچتا ہے یا اتراکھنڈ پولیس کا جوان

سلکیارا سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے اور دھارالی و تھرالی سمیت کئی آفات کے دوران اتراکھنڈ پولیس نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا

سیاحت کے فروغ، صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور شہریوں کو فوری انصاف فراہم کرنے میں اتراکھنڈ پولیس کی اہم ذمہ داری ہے

نئی نیائے سنہتاؤں پر سخت محنت کرنے والی اتراکھنڈ پولیس مئی 2027 کے بعد درج ہونے والی ہر ایف آئی آر میں تین سال کے اندر سزا دلانے کو یقینی بنائے گی

کمبھ میلہ، چاردھام یاترا، ہیم کنڈ صاحب اور کینچی دھام آنے والے لاکھوں یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اتراکھنڈ پولیس پر ہے

وزیر اعظم مودی نے وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے ذریعے پہاڑی دیہات سے نقل مکانی کے مسئلے پر توجہ دی ہے؛ سی اے پی ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے والی اتراکھنڈ پولیس کی کوششوں سے سرحدی دیہات میں دوبارہ آبادی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے

اتراکھنڈ پولیس ملک کی پہلی پولیس فورس ہے جس نے کامیابی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا ہے

ہماری حکومت کے تحت اتراکھنڈ تیزی سے ترقی کر رہا ہے؛ سی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 NOV 2026 7:16PM by PIB Delhi

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج دہرادون میں اتراکھنڈ پولیس کو صدرِ جمہوریہ کا  نشان(پریزینڈنٹس  کلر) عطا کیا۔ اس موقع پر اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی سمیت کئی دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261106191916_e6b85e.jpg

صدرِ جمہوریہ کا  نشان عطا کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے صدرِ جمہوریہ کا  نشان  حاصل کرنے پر اتراکھنڈ پولیس کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اتراکھنڈ پولیس یہ اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے والی ملک کی 16ویں پولیس فورس بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان تمام جوانوں اور افسران کے لیے بے حد فخر کا لمحہ ہے، جنہوں نے ریاست کے قیام کے بعد گزشتہ 25 برسوں کے دوران اتراکھنڈ پولیس میں خدمات انجام دی ہیں، جو اس وقت اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور جو سبک دوش ہوچکے ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اتراکھنڈ پولیس کے جوانوں اور افسران نے نہ صرف ’’کرم ستیَم شوریَم‘‘ کے تین رہنما اصولوں کو اپنا نصب العین بنایا ہے بلکہ انہیں اپنی زندگی اور فرائض کی بنیاد بھی بنایا ہے۔ انہی اقدار کی بدولت اتراکھنڈ پولیس نے اتنے کم عرصے میں صدرِ جمہوریہ کا پرچم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ دیو بھومی اتراکھنڈ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس کی برف پوش چوٹیاں، خوب صورت جھیلیں، گھنے جنگلات، ہاتھیوں کی سفاری اور ماں گنگا و جمنا کے سرچشمے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھگوان بدری ناتھ خود یہاں سکونت پذیر ہیں، بابا کیدارناتھ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور گنگوتری و یمونوتری سے نکلنے والی دونوں ماں  دیویاں نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں خوش حالی لاتی ہیں بلکہ انہیں روحانی بلندی بھی عطا کرتی ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ دسویں سکھ گرو کی بیان کردہ ہیم کنڈ صاحب کی مقدس عبادت گاہ نہ صرف سکھ عقیدت مندوں بلکہ تمام یاتریوں کے لیے بھی کشش کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اتنے سارے مذہبی مقامات کے ساتھ ساتھ، باوقار کمبھ میلے، سالانہ چاردھام یاترا، ہیم کنڈ صاحب اور کینچی دھام آنے والے لاکھوں یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اتراکھنڈ پولیس کے جوانوں پر عائد ہوتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261106191926_f803c5.jpg

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ایسی ریاست سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سے سب سے زیادہ تعداد میں یاتری دیو بھومی آتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی ریاست کے کسی بھی یاتری سے اتراکھنڈ پولیس کے بارے میں کبھی کوئی شکایت نہیں سنی۔ یہ ریاست کی پولیس اور ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ صدرِ جمہوریہ کا نشان  حاصل کرنا کسی بھی فورس کے لیے بڑے فخر کا لمحہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم سب نے اس لمحے کو بہت سی امیدوں اور توقعات کے ساتھ محسوس کیا ہے اور ہمارے اندر یہ احساس بھی ہے کہ اتراکھنڈ کے شہریوں اور ملک بھر سے یہاں آنے والے لوگوں کے دلوں میں تحفظ کا اعتماد پیدا کرنے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، اس لمحے کے آنے سے پہلے اتراکھنڈ پولیس کے 206 بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ نم آنکھوں کے ساتھ ہم نہ صرف ان جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ ان کے تئیں اظہارِ تشکر بھی کرتے ہیں۔ ان کی لگن، نظم و ضبط اور بہادری کے ساتھ ساتھ، موجودہ اہلکاروں کی خدمات، قربانیوں، غیر متزلزل عزم، فرائض کے تئیں مسلسل لگن، غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط ہی کی بدولت آج اتراکھنڈ پولیس صدرِ جمہوریہ کا  نشان  حاصل کرنے والی ملک کی 16ویں پولیس فورس بن گئی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ 13,000 جوانوں سے بڑھ کر 26,000 سے زائد اہلکاروں تک پہنچنے والی اتراکھنڈ پولیس کا سفر کافی چیلنجوں سے بھرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کو ہمیشہ مختلف قسم کی قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بڑی قدرتی آفات بار بار ریاست کو مشکلات سے دوچار کرتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود، اتراکھنڈ پولیس کے جوانوں نے، خواہ وہ ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس (ایس ڈی آر ایف) کے حصے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہوں یا عام پولیس کے اہلکار ہوں، جنگلات میں آتش زدگی اور زمین کھسکنے کے واقعات سے لے کر سرنگوں میں پھنسے مزدوروں کو بچانے تک، ہر طرح کی اچانک آنے والی آفات کا عزم و حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ پولیس نے بڑھتی ہوئی آبادی اور ہر ماہ لاکھوں یاتریوں کی مسلسل آمد و رفت کے دباؤ کو بڑی مستعدی سے سنبھالا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ اگر کسی دور دراز علاقے میں پھنسے ہوئے شخص تک سب سے پہلے کوئی پہنچتا ہے تو وہ یا تو آئی ٹی بی پی کا جوان ہوتا ہے یا اتراکھنڈ پولیس کا اہلکار۔ اسی اعتماد اور بھروسے کی وجہ سے کروڑوں عقیدت مند یہاں آنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلکیارا سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے دوران اور دھارالی، تھرالی، سیان چٹی اور مال دیوتا سمیت کئی دیگر آفات کے موقع پر اتراکھنڈ پولیس نے ناقابلِ تسخیر بہادری کا مظاہرہ کیا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اتراکھنڈ کے بڑے مسائل میں سے ایک پہاڑی چوٹیوں اور سرحدی علاقوں میں واقع دیہات سے لوگوں کی نقل مکانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وائبرنٹ ولیجز پروگرام شروع کیا ہے۔ مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اتراکھنڈ پولیس بھی اس پروگرام کے تمام معیارات کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح وقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں کم از کم 50 ایسے گاؤں ہیں جہاں نقل مکانی کے بجائے لوگوں نے دوبارہ آباد ہونا شروع کردیا ہے، جو ہمارے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ملک میں نئی نیائے سنہتاؤں (نئے فوجداری قوانین) کے نفاذ کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اگر کہیں کی گئی ہیں تو وہ اتراکھنڈ ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے ریاست کے عوام کو یقین دلایا کہ مئی 2027 کے بعد درج ہونے والی کسی بھی ایف آئی آر میں ملزموں کو سزا دلانے کا عمل اتراکھنڈ پولیس تین سال کے اندر مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب دیو بھومی کے باشندوں کو تاریخ پر تاریخ کے لامتناہی سلسلے سے نجات مل جائے گی۔ اس مقصد کے لیے اتراکھنڈ پولیس نے نہ صرف اپنے انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کی ہے بلکہ کئی نوٹیفکیشن بھی جاری کیے ہیں۔ پولیس نے فارنسک سائنس کی لیبارٹریوں اور فارنسک سائنس کو اپنے کام میں پوری طرح شامل کرلیا ہے۔ زمینی سطح پر کمپیوٹرائزیشن نافذ کردی گئی ہے۔ سی سی ٹی این ایس/آئی سی جے ایس 2.0 ڈیش بورڈ پر 93.46 کے غیر معمولی اسکور کے ساتھ اتراکھنڈ پولیس نے قومی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جیلوں، عدالتوں، فارنسک سائنس لیبارٹریوں (ایف ایس ایل)، استغاثہ اور پولیس کو الیکٹرانک نظام کے ذریعے آپس میں مربوط کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں اتراکھنڈ کے عوام کو فوری انصاف کے حصول میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261106191935_ec6826.jpg

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک کو نکسل ازم سے نجات دلائی گئی ہے۔ کئی ریاستوں کی پولیس نے سی آر پی ایف، آئی ٹی بی پی، بی ایس ایف اور ایس ایس بی کے ساتھ مل کر پانچ دہائیوں سے جاری اس لعنت کا خاتمہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ انہوں نے کہا کہ 30 مارچ 2026 کو انہوں نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ ملک اب نکسل ازم سے پاک ہوچکا ہے، جو ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے۔ تاہم، ہمیں مطمئن ہوکر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رک نہیں سکتے، کیونکہ ملک کو ایک اور سنگین مسئلے، یعنی منشیات کی لعنت کا سامنا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہندوستان کو منشیات سے پاک بنانا ہمارا عزم ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 دسمبر 2029 تک ہندوستان کو مکمل طور پر منشیات سے پاک کردیا جائے گا اور منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سے پاک ہندوستان کے عزم کو پورا کرنے کی سمت اتراکھنڈ پولیس نے بھی بہترین کام کیا ہے۔ جس طرح سی سی ٹی این ایس، آئی سی جے ایس 2.0 اور این سی آر بی ڈیش بورڈ پر 93.46 فیصد اسکور حاصل کرکے اتراکھنڈ پولیس نے ملک کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پولیس فورسز میں اپنا مقام بنایا ہے، اسی طرح اس نے منشیات سے پاک ہندوستان اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں بھی غیر معمولی کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سے پاک ہندوستان کا عزم تین سالہ منصوبہ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ تین سال کے اندر ہم دیو بھومی کو بھی منشیات سے پاک بنانے کا عزم پورا کرلیں گے۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ اتراکھنڈ پولیس نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی کے ساتھ سر کرنے والی ملک کی پہلی ریاستی پولیس فورس بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔ اتراکھنڈ پولیس نے عالمی پولیس  اور  فائر گیمز میں 37 تمغے جیت کر قابلِ ستائش کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ پولیس سے اپیل کی کہ وہ گجرات کے گاندھی نگر میں منعقد ہونے والے آئندہ عالمی پولیس ا ور فائر گیمز میں تمغوں کی فہرست میں سرفہرست رہے اور اپنے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں اتراکھنڈ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ہماری ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر اور ملک کے مختلف حصوں سے سیاح اتراکھنڈ آئیں اور بڑی تعداد میں سیاح یہاں پہنچ بھی رہے ہیں۔ اس لیے ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صنعتی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنا چاہتے ہیں، تاکہ اتراکھنڈ کے نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں ریاست سے باہر نقل مکانی نہ کرنی پڑے۔ اس سے سلامتی کے حوالے سے ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کا عزم ہے کہ ہر شہری کو تین سال کے اندر انصاف فراہم کیا جائے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اتراکھنڈ پولیس کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اتراکھنڈ پولیس کو عطا کیا گیا صدرِ جمہوریہ کا  نشان فورس کے حوصلے بلند کرے گا اور اس کے عزم میں نئی توانائی پیدا کرے گا۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے دھن تیرس اور دیوالی کے مبارک مواقع پر ملک کے عوام، بالخصوص اتراکھنڈ کے باشندوں کو دلی مبارک باد بھی پیش کی۔

***

ش ح۔ ف ا ۔ م ر

U-NO. 7364


(ریلیز آئی ڈی: 2333801) وزیٹر کاؤنٹر : 10