پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 5:23PM by PIB Delhi
امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے آج دہرہ دون میں اتراکھنڈ کے یومِ تاسیس کی تقریبات سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی اور دیگر کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ آج کا دن ہمارے قابلِ احترام آنجہانی رہنما اٹل بہاری واجپائی کو یاد کرنے اور ان کے تئیں اظہارِ تشکر کا دن ہے۔ اس خطے کے عوام کئی برسوں سے الگ ریاست اتراکھنڈ کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، لیکن اپوزیشن جماعتوں کی قیادت والی حکومتوں نے ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے 9 نومبر 2000 کو اتراکھنڈ ریاست قائم کرکے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا کیا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی نے اتراکھنڈ ریاست قائم کی، جبکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کیا ہے۔ ایک ترقی یافتہ اتراکھنڈ، ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کا پہلا سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اتراکھنڈ کے یومِ تاسیس کو فخر، کامیابیوں اور نئے عزم کے اظہار کے موقع کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں اتراکھنڈ کی اس مقدس سرزمین اور ہمارے قابلِ احترام اٹل بہاری واجپائی کے ریاست کے قیام کے فیصلے پر فخر ہے۔ اسی طرح ہمیں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں ایک ترقی یافتہ اتراکھنڈ کی تعمیر کے لیے ہونے والی پیش رفت پر بھی فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عزم کرتے ہیں کہ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں دیو بھومی اتراکھنڈ کو ملک کی پہلی ترقی یافتہ ریاست بنائیں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کا دن اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ دیو بھومی کے ان عوام اور نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کیا جائے، جنہوں نے مادرِ وطن بھارت کی خدمت اور حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اتراکھنڈ کو ایک ترقی یافتہ ریاست بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے ثقافتی ورثے اور قدرتی ماحول کا تحفظ بھی یقینی بنائیں گے۔ اس کے علاوہ نوجوان نسل کو حب الوطنی اور شجاعت کے راستے پر چلنے کی ترغیب دینے کا عزم بھی کرنا چاہیے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اتراکھنڈ میں وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں ریاست کی ترقی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہماری حکومت نے گزشتہ 10 برسوں سے اتراکھنڈ کی ترقی کا سفر بلا تعطل جاری رکھنے کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس نسبتاً چھوٹی ریاست میں 1,508 کروڑ روپے کے مجموعی قدر کے 63 ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج 15 شخصیات کو ’’اتراکھنڈ گورو سمان‘‘، چھ افراد کو ’’ریاستی بہادری ایوارڈ‘‘ اور دو شخصیات کو ’’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ سے نوازا جائے گا۔ یہ اعزازات اس بات کی علامت ہیں کہ ہماری حکومت اتراکھنڈ کو ایک عظیم ریاست بنانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی خدمات کو تسلیم کرنے اور انہیں اعزاز سے نوازنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔
امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرنے کہا کہ 2022 سے اب تک اتراکھنڈ کی مجموعی ریاستی داخلی پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جی ایس ڈی پی کسی ریاست کی معیشت کی ترقی کا ایک اہم اشاریہ ہے، لیکن ریاست کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے شہریوں کی خوشحالی میں بھی اضافہ ہونا ضروری ہے۔ ہماری حکومت نے اتراکھنڈ میں فی کس آمدنی 40 فیصد بڑھانے کے لیے کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاری سربراہی اجلاس کے نتیجے میں اتراکھنڈ میں 3.56 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئیں۔ ان میں سے ایک لاکھ کروڑ روپے کے صنعتی منصوبے اب عملی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ان میں کام شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود وقت، ریاست کے نسبتاً چھوٹے رقبے اور صنعتی ترقی سے وابستہ متعدد چیلنجز کے باوجود دھامی حکومت ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو عملی طور پر نافذ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نفاذ کے بعد اب اتراکھنڈ میں کوئی شخص ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی خاتون کو تین طلاق کے ذریعے تذلیل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتراکھنڈ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے ملک کی 15 ریاستیں اب یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی سمت میں آگے بڑھ چکی ہیں۔ ہماری حکومت اپنی پارٹی کے زیرِ اقتدار تمام ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں نقل اور امتحانی بدعنوانی کے خلاف اتنا سخت قانون متعارف کرایا گیا ہے کہ اب امتحانات میں نقل کرنے، نقل کرانے یا پرچہ لیک کرنے میں ملوث افراد کو عدالتیں بلا تاخیر سزا دے سکیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں بغیر کسی سفارش یا اقربا پروری کے 35 ہزار افراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتراکھنڈ میں تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قانون نافذ کیا گیا ہے، جس کے باعث ریاست میں مذہب کی تبدیلی ناممکن ہو گئی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ہماری حکومت نے اتراکھنڈ میں ترقی کے متعدد بڑے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان میں دہلی-دہرہ دون اقتصادی راہداری، چار دھام ہمہ موسمی سڑک منصوبہ، رشی کیش-کرن پریاگ ریلوے لائن، ٹنک پور-باگیشور ریلوے لائن اور کیدارناتھ و ہیم کنڈ صاحب میں روپ وے منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے کئی دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں سونگ، جمرانی اور کِشاؤ کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے، پینے کے پانی، آب پاشی اور توانائی کے متعدد منصوبے، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے 30 فیصد ریزرویشن، کوآپریٹو سوسائٹیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن، تین لاکھ سے زیادہ خواتین کو ’’لکھ پتی دیدی‘‘ بنانا، ہوم اسٹے اسکیم، ریاست کے قیام کی تحریک میں حصہ لینے والوں کے لیے 10 فیصد ریزرویشن اور شہیدوں کے اہلِ خانہ کو دی جانے والی مالی امداد کو 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنا شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے کیچھا میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کا سیٹلائٹ مرکز قائم کیا ہے اور ایک صنعتی اسمارٹ سٹی بھی تیار کیا ہے۔ وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے تحت سرحدی علاقوں کے 51 دیہات میں 270 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کیے گئے ہیں۔ ’’ہاؤس آف ہمالیاز‘‘ اور ’’ملیٹ مشن‘‘ جیسے اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں، تاکہ ہمالیائی خطے اور پہاڑی علاقوں کی روایتی و مقامی مصنوعات کو ملک کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سابقہ حکومتوں نے صرف ایک ہی کام کیا تھا اور وہ تھا اتراکھنڈ کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اتراکھنڈ کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ترقیاتی کام کرنے والی ہماری جماعت کی حکومت چاہتے ہیں یا بدعنوانی میں ملوث اپوزیشن جماعت کی حکومت۔ انہوں نے کہا کہ برسوں تک اہم اپوزیشن جماعت نے اتراکھنڈ کو منی آرڈر معیشت اور نقل مکانی پر انحصار کرنے والی ریاست بنائے رکھا۔ اس نے ایسی پالیسیاں بنائیں جن کے تحت پہاڑوں کا پانی بھی وہاں کے عوام کے کام نہ آ سکا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے نقل مکانی پر قابو پانے اور منی آرڈر معیشت کی جگہ ایسی صنعتی معیشت قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے جو ریاست کے اندر دولت پیدا کرے اور معاشی مواقع فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتراکھنڈ میں سیاحت کے شعبے میں 380 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرنے کہا کہ اپوزیشن کی سابقہ حکومت نے یہ دلیل دے کر اتراکھنڈ میں سڑکیں تعمیر نہیں کیں کہ سڑکیں بننے سے دشمن ملک میں داخل ہو جائیں گے۔ ہماری حکومت نے سڑکیں تعمیر کی ہیں اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کو اس قدر مضبوط بنا دیا ہے کہ اب کوئی بھی ہندوستان کی سرحدوں کو چیلنج کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی نے ہندوستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، مودی حکومت نے سرجیکل اسٹرائیک، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کے ذریعے دشمن کی سرزمین میں داخل ہوکر خطرے کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سابقہ حکومتوں نے دشمن کے خوف سے اتراکھنڈ کو بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولتوں سے محروم رکھا۔ سابقہ حکومتیں سرحدی دیہات کو ملک کے آخری دیہات سمجھتی تھیں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ان سرحدی دیہات کو ملک کے پہلے دیہات میں تبدیل کیا اور وائبرنٹ ولیجز پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کے تحت 270 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے سرحدی علاقوں کے 51 دیہات میں ترقیاتی اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے نوجوانوں کو ان دیہات میں واپس آنے کی ترغیب ملی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اس وقت ایس آئی آر (ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی) کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی مہم ’’ووٹ بچاؤ‘‘ مہم نہیں بلکہ ’’گھس پیٹھیوں کو بچاؤ‘‘ مہم ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ کے عوام سے سوال کیا کہ کیا انتخابی فہرستوں کو دراندازوں سے پاک نہیں کیا جانا چاہیے اور کیا ہر درانداز کو دیو بھومی اتراکھنڈ اور ہندوستان سے باہر نہیں نکال دینا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے پھیلایا جانے والا گمراہ کن بیانیہ ہندوستان کے عوام قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں خوشامدانہ سیاست ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، یہ جماعتیں رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کر رہی تھیں، دراندازی کی اجازت دے رہی تھیں اور آبادیاتی تبدیلیوں کو فروغ دینے والی پالیسیاں اختیار کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کی حکومت نے ان تمام سرگرمیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ہماری جماعت کی حکومت نے اتراکھنڈ میں بدعنوانی سے پاک حکمرانی فراہم کی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی سابقہ حکومت پر متعدد مبینہ گھپلوں اور بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، جن میں سابق وزیر اعلیٰ سے متعلق اسٹنگ آپریشن کا تنازعہ، سکریٹریٹ کو کمیشن ایجنٹوں کا مرکز بنا دینے کے الزامات، ایس سی-ایس ٹی اسکالرشپ گھپلہ، شراب پالیسی سے متعلق اسٹنگ آپریشن اور کماؤں میں غذائی اجناس کا گھپلہ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے کہ دیو بھومی اتراکھنڈ کے عوام تک سرکاری رقم کا ایک ایک پیسہ پہنچے۔
امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرنے کہا کہ ہماری پارٹی نے آسام، گجرات، ہریانہ اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں مسلسل تیسری مرتبہ انتخابی کامیابی حاصل کرکے ہیٹ ٹرک بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دیو بھومی اتراکھنڈ کی باری ہے، جہاں ہماری پارٹی مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ہماری پارٹی نے 46 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے اور 57 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ 2022 میں پارٹی کو 44 فیصد ووٹ ملے اور اس نے 47 نشستیں جیتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2027 میں اتراکھنڈ کے عوام 50 فیصد سے زیادہ ووٹ اور 60 سے زائد نشستیں دے کر ریاست میں ہماری ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کی واپسی یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی اس سرحدی ریاست کو محفوظ، خوشحال اور ملک کا ثقافتی دارالحکومت بنانا چاہتی ہے۔ ان تینوں مقاصد کے حصول کے لیے ہم مسلسل تیسری مرتبہ حکومت بنانے کی خاطر عوام کا مینڈیٹ اور آشیرواد چاہتے ہیں۔
***
ش ح۔ م م ۔م ذ
U.No: 7352