پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 7:17AM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے سکم کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران 2 نومبر 2026 کو ’’خنزیروں میں مادۂ تولید کی تیاری کے لیے کم از کم معیاری ضابطہ اور مائع مادۂ تولید کے ذریعے مصنوعی نسل کشی کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار‘‘ کے عنوان سے مطبوعہ دستاویز جاری کی۔ اس پہل کا مقصد خنزیروں کی سائنسی افزائشِ نسل کو فروغ دینا، ان کی جینیاتی خصوصیات میں بہتری لانا اور بالخصوص شمال مشرقی خطے میں خنزیر پالنے والے کسانوں کے لیے ذریعۂ معاش کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔
وزارت کی جانب سےجاری کردہ اس ضابطے میں خنزیروں کے مادۂ تولید کی سائنسی تیاری، معیار کی یقین دہانی، حیاتیاتی تحفظ، مادۂ تولید کو محفوظ رکھنے، اس کی نقل و حمل اور مصنوعی نسل کشی کے طریقۂ کار کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں خنزیروں کے مادۂ تولید کی تیاری کے تجربہ گاہوں کے قیام اور ان کے انتظام نیز ملک کی مختلف ریاستوں میں مؤثر مصنوعی نسل کشی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے یکساں معیاری طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔
بیسویں مویشی شماری (2019) کے مطابق، بھارت میں خنزیروں کی مجموعی تعداد 90.6 لاکھ ہے، جو ملک کی کل مویشی آبادی کا 1.7 فیصد ہے۔ اگرچہ ملک کے تمام زرعی آب و ہوا والے خطوں میں خنزیر پالے جاتے ہیں، تاہم شمال مشرقی خطہ بھارت میں خنزیر پروری کا اہم مرکز ہے، جہاں ملک کے مجموعی خنزیروں کی آبادی کا تقریباً 45 فیصد پایا جاتا ہے۔ مقامی اور غیر مخصوص نسل کے خنزیر مجموعی آبادی کا تقریباً 79 فیصد ہیں، جو سائنسی طریقوں سے افزائشِ نسل کے ذریعے ان کی جینیاتی خصوصیات میں بہتری کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے اعلیٰ معیار کے نسلی ذخیرے، جدید افزائشی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی نسل کشی کی خدمات تک رسائی کو مستحکم بنانا نہایت اہم ہے، تاکہ پیداوار میں اضافہ، خنزیر کے گوشت کی پیداوار کو فروغ اور بالخصوص شمال مشرقی ریاستوں میں چھوٹے پیمانے پر خنزیر پالنے والے کسانوں کے ذریعۂ معاش کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس ضابطے کی اہم خصوصیات اور متوقع نتائج درج ذیل ہیں:
- یہ ضابطہ ریاستوں، ماہرینِ حیوانات، افزائشِ نسل کے مراکز اور کسانوں کے لیے ایک عملی رہنما کے طور پر کام کرے گا۔ جس سے مصنوعی نسل کشی اور افزائشِ نسل کے جدید طریقوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں مدد ملے گی۔
- اس پہل سے تولیدی صلاحیت میں بہتری، جینیاتی خصوصیات میں تیز رفتار ترقی اور شمال مشرقی خطے میں پائی جانے والی مقامی نسل کے خنزیروں کے نسلی ذخیرے کے تحفظ اور اس کی بہتری میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
- اس مطبوعہ دستاویز میں خنزیروں کی مصنوعی نسل کشی سے متعلق تمام مراحل کا احاطہ کیا گیا ہے
- جن میں افزائشِ نسل کے لیے نر خنزیر کا انتخاب
- مادۂ تولید جمع کرنا، اس کی جانچ، تیاری، ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل
- تجربہ گاہوں میں معیار کا انتظام
- بیماریوں کی روک تھام اور حیاتیاتی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔
- اس قدم پر عمل درآمد سے اعلیٰ نسل کے افزائشی مواد کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور خنزیر پروری کے کاروبار کی پیداواری صلاحیت اور منافع میں بہتری آئے گی۔
- توقع ہے کہ اس پہل سے خطے میں خنزیر کے گوشت کی پیداوار بڑھانے، روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنے اور خنزیر پروری کے شعبے کی پائیدار ترقی میں نمایاں مدد ملے گی۔
مطبوعہ دستاویز کی دستیابی:اس مطبوعہ دستاویز کی پی ڈی ایف حکومتِ ہند کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے:
./ https://www.dahd.gov.in
***
ش ح۔ م ح۔رض
7313:U-No