پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 10:17PM by PIB Delhi
آرتھو ٹکس اینڈ پروستھیٹکس ایسوسی ایشن آف انڈیا (او پی اے آئی) نے نئی دہلی کے چانکیہ پوری میں واقع نیشنل ریل میوزیم میں مصنوعی اعضا و آلات میں معاونت کابین الاقوامی دن (آئی پی او ڈی) 2026 منایا۔ اس تقریب میں حکومت کے سینئر عہدیداروں، پالیسی سازوں، صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ ماہرین، ماہرینِ تعلیم، نئے کاروباری اداروں اور قائم شدہ تنظیموں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بحالیِ صحت، معاون ٹیکنالوجی اور معذور افراد کی شمولیت کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس پروگرام میں اے ایل آئی ایم سی او کی ادارہ جاتی تبدیلی، محکمہ کی ’پرپل ڈاٹ پہل‘، انجینئرنگ کے شعبے میں اختراعات کے لیے آئی آئی ٹی کی خدمات، سرکاری اسکیموں، پیشہ ورانہ شناخت اور بھارت و بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اے ایل آئی ایم سی او کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر جناب پروین کمار نے بھارت کے بحالیِ صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون اور سرکاری اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مقامی سطح پر تیاری اور کم قیمت معاون ٹیکنالوجی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا، ’’بحالیِ صحت کا مستقبل تکنیکی اختراع کو کم قیمت اور آسان رسائی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مضمر ہے، تاکہ جدید معاون سہولیات ان افراد تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘
آر سی آئی کے رکن سکریٹری جناب آشیش ٹھاکرے، آئی اے ایس نے ’پرپل ڈاٹ پہل‘ کو اجاگر کیا اور بحالیِ صحت کی خدمات میں پیشہ ورانہ شناخت، معیاری تعلیم، تربیت اور مقررہ معیار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ او پی اے آئی کے قومی صدر ڈاکٹر ایم سی داس نے اس بات پر زور دیا کہ معذور افراد کو مختلف سرکاری اسکیموں اور فلاحی پروگراموں سے مستفید ہونے کے قابل بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنا اور ان تک ان اسکیموں کی رسائی یقینی بنانا ضروری ہے۔
او پی اے آئی کے دہلی شاخ کے صدر جناب راجیش داس نے قابلِ رسائی اور سب کو شامل کرنے والی آمدورفت کے فروغ میں ریلوے کے شعبے کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مستند مصنوعی اعضا اور آلاتِ معاونت کے ماہرین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھرتی کی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
او پی اے آئی کے دہلی شاخ کے نائب صدر جناب شمبھو کمار یادو نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کم قیمت اور آسانی سے دستیاب سہولیات کے ذریعے انہیں بنیادی سطح پر معذور افراد تک پہنچایا جانا چاہیے۔
آئی پی او ڈی 2026 کے منتظم سکریٹری اور او پی اے آئی کے دہلی شاخ کے سکریٹری ڈاکٹر اگیندرا کمار نے ماہرین، حکومت، صحت کے اداروں اور استفادہ کنندگان کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہمارا مقصد محض مصنوعی اعضا اور معاون آلات فراہم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد نقل و حرکت کی صلاحیت بحال کرنا، اعتماد بحال کرنا، خود انحصاری کو فروغ دینا اور ہر فرد کو وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہونا چاہیے۔’’
ایگزو بوٹ ڈائنامکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب منیش کمار نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارتی بایونکس معاون ٹیکنالوجی کے عالمی شعبے میں کس طرح بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسی کمپنی نے کفالت کے پروگراموں کے تحت 10 مستفیدین کو ’گرِپ ایکس مایو ہینڈز‘ فراہم کیے۔ اس پروگرام کے دوران انسٹالمب نے سہ جہتی اسکیننگ کے لیے ایک موبائل ایپ بھی متعارف کرائی۔
اس تقریب میں کئی نئے کاروباری اداروں اور قائم شدہ کمپنیوں نے بھی شرکت کی اور معاون ٹیکنالوجی و بحالیِ صحت کے شعبے میں اپنی اختراعات پیش کیں۔ اس موقع پر روزگار میلوں اور براہِ راست انٹرویوز، کاروبار کے قیام اور فروغ کے لیے معاون مراکز، بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع، حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون اور جدید ٹیکنالوجیز، بشمول بایونک مصنوعی اعضا، مائیکرو پروسیسر کے ذریعے کنٹرول ہونے والے نظام، سہ جہتی طباعت، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور بحالیِ صحت کے اسمارٹ حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
آئی پی او ڈی 2026 نے اس بات کو تقویت دی کہ مصنوعی اعضا اور معاون آلات کا شعبہ بھارت کے صحت اور بحالیِ صحت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس تقریب میں اختراع، صلاحیت سازی، پیشہ ورانہ ترقی، کم قیمت اور قابلِ رسائی ٹیکنالوجیز اور سب کو یکساں روزگار کے مواقع فراہم کرکے اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ اس تبادلۂ خیال سے ابھرنے والا اہم پیغام یہ تھا کہ نقل و حرکت ایک حق ہے، بحالیِ صحت ایک ضرورت ہے اور شمولیت ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
****
ش ح۔ع و۔ ش ا
اُردو ریلیزنمبر:-7320