پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 3:25PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت خلائی ملبے کو ہٹانے کے شعبے میں دنیا کے ابتدائی سرکردہ ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔ ایک بھارتی اسٹارٹ اَپ بیرونی خلا کو مزید محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہا ہے۔
سال2030 تک خلا کو ملبے سے پاک بنانے کے وژن کا اعلان کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ خلائی ملبے کو فعال طور پر ہٹانے کے شعبے میں بھارت کی ابھرتی ہوئی صلاحیتیں خلائی ٹیکنالوجی میں ملک کی بڑھتی ہوئی عالمی قیادت اور پوری انسانیت کے لیے محفوظ خلائی ماحول کو یقینی بنانے کے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی کے کرتویہ بھون سے حیدرآباد میں کوسموسَرو اسپیس کی بیس-1 سہولت کے افتتاح کے موقع پر ورچوئل طور پر خطاب کر رہے تھے۔
حیدرآباد کے گچی باؤلی میں واقع وی ایس ڈی ٹیک پارک میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں تلنگانہ حکومت کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور صنعتوں کے وزیر جناب ڈی۔ سری دھر بابو نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی، جبکہ کوسموسَرو اسپیس کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر چرنجیوی پھنیندرا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس پروگرام میں ورچوئل طور پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
کوسموسَرو اسپیس کو اس کی نئی سہولت کے افتتاح پر مبارک باد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بیس-1 تقریباً 14,800 مربع فٹ رقبے پر پھیلی ایک جامع اور جدید ترین سہولت ہے، جہاں خلائی روبوٹس کو تیار کرنے، ان کی تیاری کے بعد خلائی حالات میں جانچنے اور مشن کنٹرول کے ذریعے انہیں چلانے کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ اس سہولت میں مدار میں مداری ملاپ اور کیپچر لیبز، خلائی روبوٹکس کی اختراع سے متعلق تجربہ گاہیں، خرد ثقلی ماحول کی نقل تیار کرنے والے پلیٹ فارم اور مصنوعی سیاروں کو یکجا کرنے کے لیے صاف ستھرے کمرے جیسی خصوصی سہولتیں موجود ہیں۔ یہ بھارت کی نجی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزیر موصوف نے فعال طور پر خلائی ملبہ ہٹانے (اے ڈی آر) اور مدار میں خدمات فراہم کرنے کے شعبوں میں نمایاں کام کے لیے ڈاکٹر چرنجیوی پھنیندرا اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی۔ مشن ایمبریس، جس کے تحت کمپنی کے قیام کے ایک سال کے اندر جولائی 2026 میں خلا میں نرم روبوٹک پنکھڑیوں کا تجربہ کیا گیا، بھارت کے نجی خلائی اسٹارٹ اَپس کی تیز رفتار پیش رفت اور بڑھتی ہوئی تکنیکی پختگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ اس ٹیم نے اسرو اور گگن یان پروگرام میں حاصل کیے گئے اپنے تجربے کو نجی شعبے میں باہمی تعاون کے ایک نئے نمونے کی شکل دی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سیٹلائٹ نظام کے لیے کوسموسَرو اسپیس کی پِکسل کے ساتھ، پروپلشن نظام کے لیے ڈھرو ایرو اسپیس نیدرلینڈز کے ساتھ اور لانچ خدمات کے لیے اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ شراکت داریاں خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں جامع باہمی تعاون کے ایک نئے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ پہل ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح بھارتی اسٹارٹ اَپس مقامی طور پر تیار کردہ پے لوڈز، بیٹری ٹیکنالوجیز، سیٹلائٹ نظام اور نجی شعبے کی لانچ صلاحیتوں کو یکجا کرکے مربوط خلائی مشن تیار کر رہے ہیں اور عالمی معیار قائم کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور رس خلائی اصلاحات کو بھارت کی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تقریباً پانچ سے چھ سال قبل شروع ہونے والے اس سفر اور اس کے بعد نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ اور اِن اسپیس کے قیام نے ملک کے خلائی نظام کو بنیادی طور پر نئی شکل دی ہے۔ بھارت کی خلائی معیشت بڑھ کر تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ دہائی میں اس کے 40 سے 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ ملک میں خلائی اسٹارٹ اَپس کی تعداد ایک ہندسے سے بڑھ کر تقریباً 450 اداروں تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت میں کبھی بھی سائنسی صلاحیتوں یا تکنیکی استعداد کی کمی نہیں رہی، بلکہ ضرورت ایک ایسے سازگار نظام کی تھی جو نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرے۔ انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے خلائی شعبے میں زیادہ سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے کی اپیل کی اور اختراع کو تیز کرنے، باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی معاونت کے لیے سائنس اور تحقیق کے شعبے میں فلاحی مالی معاونت بڑھانے پر زور دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ بھارت کا حتمی مقصد تکنیکی خود انحصاری اور خود مختار صلاحیتوں کا حصول ہے۔ چندریان اور گگن یان پروگرام میں بھارت کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نمایاں طور پر کم لاگت پر پیچیدہ اور جدید ترین مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی خلائی صلاحیتیں، گتی شکتی، اسمارٹ سٹیز، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور دیگر کئی شعبوں میں اپنی ایپلی کیشنز کے ذریعے زمین پر انسانی زندگی کو بہتر بنا رہی ہیں اور شہریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہی ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ کوسموسَرو اسپیس کا یہ اقدام ’وشو بندھو بھارت‘ کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جو خلائی پائیداری کے تئیں بھارت کے عزم کو قومی سرحدوں سے آگے بڑھاتے ہوئے پوری انسانیت کے فائدے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے صاف ستھرے اور محفوظ خلائی ماحول کے قیام میں تعاون کے لیے ٹیم کو مبارک باد دی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی عالمی قیادت کو مزید مضبوط بنانے اور اس کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جلد از جلد اس سہولت کا بذات خود دورہ کرنے اور کوسموسَرو اسپیس کی ٹیم کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔


******
) ش ح –ک ح -ت ع)
U.No. 7271