پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 7:36PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی قانون و انصاف کی وزارت کے محکمۂ انصاف نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون کے ہال نمبر 5 میں ’’ای فائلنگ 3.0: طریقۂ کار سے عملی نفاذ تک‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ای کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت منعقدہ اس ورکشاپ میں حکومتِ ہند کی مختلف وزارتوں اور محکموں کے افسران اور نمائندوں، سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای کمیٹی کے رکن (سسٹمز) اور نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس کا مقصد سرکاری افسران کو ای فائلنگ 3.0 پلیٹ فارم اور اس کے عملی استعمال کے بار ے میں معلومات فراہم کرانا تھا۔
قانون و انصاف کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ پروگرام کا آغاز معزز مہمانوں کے ہاتھوں چراغ روشن کرنے کے ساتھ ہوا، جس کے بعد قومی گیت اور قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں سکریٹری (انصاف) نے قانون و انصاف کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال کا مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ای فائلنگ کو ای کورٹس کے تیسرے مرحلے کا ایک اہم جزو قرار دیا، جس کے ذریعے مقدمہ دائر کرنے والے ملک کے کسی بھی حصے سے الیکٹرانک طور پر مقدمات درج کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی نظام میں سب سے زیادہ مقدمات دائر کرنے والوں میں سے ایک اور اہم فریق ہونے کے ناطے بڑی تعداد میں مقدمات سے متعلق امور نمٹاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے مقدمات سے متعلق طریقۂ کار کو عدالتوں کے اختیار کردہ ڈیجیٹل نظام کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے، تاکہ مقدمات کی بلا رکاوٹ الیکٹرانک طور پر دائر کرنے کے طریقے اور مقدمات سے متعلق معلومات تک بہتر رسائی اور عدالتی دستاویزات کے انتظام کو آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ای فائلنگ کے ذریعے سرکاری افسران جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر الیکٹرانک طور پر مقدمات دائر کر سکیں گے، جس سے روایتی طور پر کاغذکے ذریعے مقدمات دائر کرنے سے متعلق اُمو ر سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
سکریٹری نے سرکاری محکموں کے لیے دستیاب مقدمات کے انتظام سے متعلق سہولیات کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ ای آفس کے لیے استعمال ہونے والی صارف اسناد کو ای کورٹس کے سنگل سائن آن (ایس ایس او) نظام میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے سرکاری افسران اپنے مقدمات کی پیش رفت پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دفاتر سے ہی ای پے کے ذریعے آن لائن فیس بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر ای کورٹس پروجیکٹ سے متعلق ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
سکریٹری نے اس بات کو اجاگر کیا کہ حکومت سب سے زیادہ مقدمات دائر کرنے والوں میں شامل ہونے کے باوجود، مختلف سرکاری وزارتوں اور محکموں میں ای فائلنگ کا استعمال یکساں نہیں ہے۔ اس لئے قانون و انصاف کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ارجن رام میگھوال کی رہنمائی اور تعاون سے اس ورکشاپ کا منصوبہ بنایا گیا، تاکہ افسران کو اس نظام سے واقف کرایا جا سکے اور ای فائلنگ کے وسیع تر اور باقاعدہ استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے معاملے میں اکثر ابتدا میں ہچکچاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاک خانے سے ٹیلی فون اور پھر موبائل فون تک کے ارتقائی سفر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی کو قبول کرنے کے لیے ذہنوں میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای فائلنگ اس تکنیکی تبدیلی کا ایک لازمی حصہ ہے اور اب یہ نظام مستقل طور پر ہمارے ساتھ رہے گا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ تکنیکی اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کے مفادات کا تحفظ اور عوامی خدمات کو زیادہ قابل رسائی اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے آغاز سے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے میں نمایاں سہولت ملی ہے اور وقت و اخراجات کی بھی خاطر خواہ بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل اقدامات کے نتیجے میں سرکاری افسران، وکلا اور مقدمات کے فریقین کو عدالتوں تک کاسفر کرنے کی ضرورت کم ہوئی ہے، جس سے انصاف کی فراہمی کا عمل زیادہ قابلِ رسائی اور مؤثر بنا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے وسیع تر استعمال سے زیر التوا مقدمات کے چیلنج سے نمٹنے اور مقدمات کے جلد تصفیے میں مزید مدد مل سکتی ہے۔ کام کاج کے موجودہ طریقوں پر ٹیکنالوجی کے اثرات سے متعلق خدشات کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو ایک ایسے معاون وسیلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو انسانی محنت کو کم کرے، کام کو آسان بنائے اور کارکردگی میں بہتری لائے۔
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اس راہ میں چیلنجز سامنے آئیں گے، وزیر موصوف نے آسان طرزِ زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی وضاحت کرنے اور متعلقہ فریقوں میں اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر محکمۂ انصاف کے جوائنٹ سکریٹری (ای کورٹس) نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور وزیر مملکت، سکریٹری (انصاف)، ای کمیٹی، این آئی سی اور شرکت کرنے والی وزارتوں اور محکموں کا شکریہ ادا کیا۔ جوائنٹ سکریٹری نے شریک وزارتوں اور محکموں پر زور دیا کہ وہ اپنے متعلقہ عملے کو اس نظام سے واقف کرائیں اور مقدمات سے متعلق امور میں ای فائلنگ 3.0 کے وسیع تر اور باقاعدہ استعمال کو یقینی بنائیں۔
این آئی سی کی جانب سے عملی مظاہروں کے ساتھ تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں درج ذیل موضوعات کا احاطہ کیا گیا:
- ای کورٹس کا طریقۂ کار: ای کورٹس پروجیکٹ کے تحت دستیاب ایپلی کیشنز اور خدمات کا جائزہ؛
- ای کورٹس سنگل سائن آن (ایس ایس او) اور ای کورٹس سروسز موبائل ایپ؛
- ای فائلنگ 3.0: اس کی خصوصیات اور افعال، جن میں سرکاری وکلا اور سرکاری محکموں کے لیے دستیاب سہولیات بھی شامل ہیں؛ اور
- شرکت کرنے والے افسران کے ساتھ کھلی بات چیت کا اجلاس۔
اس ورکشاپ کے ذریعے محکمۂ انصاف نے ای کورٹس کے تیسرے مرحلے کے تحت مکمل طور پر ڈیجیٹل اور کاغذ سے پاک عدالتی نظام اور شہریوں پر مرکوز عدالتی برقی خدمات کے فروغ کے لیے اپنی مسلسل کوششوں کے عزم کا اعادہ کیاہے۔ ان کوششوں میں تمام عدالتوں میں ای فائلنگ کے نظام کو عالمگیر سطح پر رائج کرنا بھی شامل ہے۔





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م م ع۔ع ن)
U. No. 7252