ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات کے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو نے آرمینیا کے شہر یریوان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس (سی بی ڈی کوپ-17) کے موقع پر ’بھارت کے دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات (آئی-او ای سی ایم) کے تعین سے متعلق رہنما خطوط 2026‘ جاری کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 7:15PM by PIB Delhi

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/L1P1(1)_20261104191905_e644a4.png

ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے 3 نومبر 2026 کو آرمینیا کے شہر یریوان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی) کی فریقین کی 17ویں کانفرنس (سی بی ڈی کوپ-17) کے موقع پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ’بھارت کے دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات (آئی-او ای سی ایم) کے تعین سے متعلق رہنما خطوط 2026‘ جاری کیے۔’پالیسی سے عملی اقدامات تک: جدت، مالی وسائل، جینیاتی وسائل تک رسائی اور ان کے فوائد کی منصفانہ تقسیم (اے بی ایس) اور دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات کے ذریعے بھارت کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق عہد کو آگے بڑھانا’ کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب کا اہتمام ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت  اور قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) نیز اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اس موقع پر آرمینیا کے وزیر ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے ایگزیکٹو سکریٹری بھی رہنما خطوط کے اجرا کی تقریب میں شریک ہوئے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ‘‘دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات (او ای سی ایمس) تحفظ کے ایک نئے دور کی شروعات ہیں، جن کے ذریعے جنگلات اور محفوظ علاقوں سے باہر واقع خطوں کے مؤثر انتظام کے ذریعے حیاتیاتی تنوع کا قدرتی مسکن میں تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔‘‘

 

مذکورہ رہنما خطوط ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت نے قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) کے اشتراک سے تیار کیے ہیں۔ ان میں ایسے علاقوں کی شناخت اور ان کی تفصیلات درج کرنے کے لیے ایک  ایساطریقہ کار وضع کیا گیا ہے جو قانونی طور پر محفوظ اور تحفظ کے لیے مخصوص علاقوں سے باہر واقع ہیں، لیکن وہاں حیاتیاتی تنوع کو اس کے قدرتی مسکن میں محفوظ رکھنے کے لیے مثبت اور دیرپا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ یہ پہل کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے لائحہ عمل (کے ایم-جی بی ایف) کے ہدف 3 (3030 x )اور قومی حیاتیاتی تنوع کی حکمت عملی اور عملی منصوبہ (این بی ایس اے پی، 2024-2030) کے نظرثانی شدہ ہدف 3 پر عمل درآمد میں بھارت کی مدد کرے گی۔

متعلقہ رہنما خطوط میں زمینی، اندرونِ ملک آبی، ساحلی اور سمندری ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔ ان کے تحت جن علاقوں کو مثال کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، ان میں حیاتیاتی تنوع کے پارک، جنگلات، مقامی برادریوں کے زیر انتظام آب پاشی کے تالاب، سمندری گھاس اور سمندری کائی والے علاقے اور ماہی گیری پر موسم کے لحاظ سے عائد پابندی والے علاقے شامل ہیں۔کسی علاقے کو ان اقدامات کے تحت تسلیم کرنے کے لیے چار شرائط پوری کرنا لازمی ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ علاقہ قانونی طور پر محفوظ یا تحفظ کے لیے مخصوص علاقہ نہ ہو۔ دوسری یہ کہ اس کا انتظام مرکزی یا ریاستی حکومت کے طے کردہ ضابطوں کے تحت یا حکومت سے تسلیم شدہ مقامی اداروں، مثلاً پنچایتوں اور حیاتیاتی تنوع کے انتظام سے متعلق کمیٹیوں کے ذریعے کیا جاتا ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اس علاقے کی حدود واضح طور پر متعین ہوں اور وہ کسی ایسے علاقے میں شامل نہ ہو جس کی تفصیلات پہلے ہی عالمی ڈیٹا بیس برائے محفوظ علاقوں میں درج کی جا چکی ہوں۔ چوتھی او ر آخری شرط یہ ہے کہ اس علاقے کو تسلیم کرنے سے وہاں پہلے سے جاری سرگرمیوں، انتظامی طریقہ کار یا ضابطوں میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔اس کے علاوہ، ایسے علاقوں کو ان کی حیاتیاتی اہمیت، ماحولیاتی نظام سے حاصل ہونے والے فوائد اور ثقافتی اقدار کی بنیاد پر بھی ان اقدامات کے تحت تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے محکمے، ادارے اور ایجنسیاں، مقامی خود مختار ادارے اور حیاتیاتی تنوع کے انتظام سے متعلق کمیٹیاں ان رہنما خطوط کے تحت قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) کو درخواستیں دے سکتی ہیں۔ این بی اے ابتدائی جانچ کے بعد ہر درخواست 30 دن کے اندر متعلقہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیاتیاتی تنوع کونسل کو بھیجے گی۔ متعلقہ بورڈ یا کونسل فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کرے گی اور 30 دن کے اندر اندر اپنی سفارشات این بی اے کو بھیج دے گی۔ بین محکمہ جاتی آئی-او ای سی ایم کمیٹی کی مدد سے این بی اے، ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے حتمی فیصلہ کرے گی، جس کے بعدمتعلقہ وزارت اس علاقے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی منظوری دے گی۔ تسلیم کیے گئے ہر علاقے کے لیے نگرانی کا ایک ایسا نظام ہونا ضروری ہوگا جس میں نتائج کو جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اشاریے شامل ہوں۔ اس نظام کے تحت ہر پانچ سال میں کم از کم ایک مرتبہ جائزہ لیا جائے گا۔ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع سے متعلق کونسلیں اپنے اپنے علاقوں میں تسلیم شدہ مقامات کا ریکارڈ رکھیں گی۔ ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت اور این بی اے، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے عالمی تحفظاتی نگرانی مرکز (یو این ای پی-ڈبلیو سی ایم سی) کے ساتھ رابطہ قائم کریں گے، تاکہ تسلیم شدہ علاقوں کی تفصیلات عالمی ڈیٹا بیس برائے محفوظ اور تحفظ شدہ علاقوں میں شائع کی جا سکیں۔

مذکورہ رہنما خطوط میں این بی اے، ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلز اور متعلقہ محکموں کے ذریعے تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے کاموں کے لیے غیر مالی اعزاز دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ آئی-او ای سی ایم کے تحت کسی علاقے کو تسلیم کیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اسے محفوظ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے یا اس کی ملکیت اور قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔

حکومت ہند نے ان رہنما خطوط پر عمل درآمد کے لیے جی ای ایف-8 کے تحت ایک پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے، جسے چھ منتخب زمینی اور سمندری علاقوں میں بطور نمونہ نافذ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا عنوان ہے: ’’2030 تک کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے لائحہ عمل کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا‘‘۔یہ پروجیکٹ قومی نفاذ کے طریقہ کار کے تحت قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی اور وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے ذریعے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اسے 29 دسمبر 2025 کو مقامی منصوبہ جاتی جائزہ کمیٹی نے منظوری دی تھی۔ یہ پروجیکٹ 72 ماہ پر محیط ہے اور 15 مئی 2026 سے 15 مئی 2032 تک جاری رہے گا۔ اس پر مجموعی طور پر 60.79 ملین امریکی ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جس میں عالمی ماحولیات سہولت (جی ای ایف) کے ٹرسٹ فنڈ سے ملنے والی 6.65 ملین امریکی ڈالر کی امداد اور 54.14 ملین امریکی ڈالر کی تصدیق شدہ مشترکہ مالی معاونت شامل ہے۔

اس پروجیکٹ کا مقصد دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات (او ای سی ایم) اور تحفظ سے متعلق دیگر سرگرمیوں، جن میں مقامی برادریوں اور نجی اداروں کے زیر انتظام تحفظ کے علاقے بھی شامل ہیں، کے ذریعے بھارت کے موجودہ محفوظ زمینی اور سمندری علاقوں کے دائرے میں مزید 3 فیصد رقبہ شامل کرنا ہے۔ اس طرح ملک کے موجودہ 27 فیصد محفوظ رقبے کے علاوہ مزید رقبے کو تحفظ کے دائرے میں لایا جائے گا۔اس پروجیکٹ کو پانچ اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں تحفظ کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور مضبوط بنانے کے لیے سازگار ماحول تیار کرنا، دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مالی وسائل، مراعات اور صلاحیتوں کو فروغ دینا، تحفظ کے نیٹ ورک کے دائرے اور انتظامی صلاحیت میں اضافہ کرنا، معلومات کا بہتر انتظام اور نگرانی و جائزے کا نظام قائم کرنا شامل ہیں۔اس پروجیکٹ کے تحت چھ علاقوں کو بطور نمونہ منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں اتراکھنڈ کی گوری وادی، راجستھان کا کمبھل گڑھ-ماؤنٹ ابو-جیسلمیر خطہ، اڈیشہ میں ست کوشیا-کالاہانڈی منظرنامہ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کا سری سیلم-کمبم خطہ، مہاراشٹر اور گوا کا سہیا دری-کونکن خطہ اور لکشدیپ جزائر کا سمندری علاقہ شامل ہیں۔

اس پروجیکٹ کے تحت 50 ہزار ہیکٹر رقبے پر نئے زمینی تحفظ کے علاقے قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم 5 ہزار ہیکٹر بنجر اور تباہ شدہ زمین کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے بحال کیا جائے گا۔ اس پروجیکٹ سے کم از کم 50 ہزار افراد براہِ راست مستفید ہوں گے، جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوگی۔ اس کے ساتھ ریاستی سطح پر دیگر مؤثر علاقہ جاتی تحفظ کے اقدامات کے لیے تال میل کا نظام اور نگرانی، رپورٹنگ اور تصدیق کا طریقہ کار بھی قائم کیا جائے گا۔مجموعی طور پر یہ رہنما خطوط اور منصوبہ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے لائحہ عمل (کے ایم-جی بی ایف) کے تحت بھارت کے عزم کو عملی شکل دینے اور ملک میں تحفظ کے لیے منتخب علاقوں کو باضابطہ شناخت دلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

***

 

ش ح۔ ش م۔ ج

uno -7249


(ریلیز آئی ڈی: 2332853) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil