پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 4:44PM by PIB Delhi
’’محض قواعد وضع کرنے، ان پر عمل درآمد کرانے یا ایک کتابچہ تیار کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جب تک کہ معذوری کا شکار مسافر سے براہِ راست معاملہ کرنے والا آخری فرد بھی اس میں درج باتوں کو سمجھ کر ان پر عمل درآمد نہ کرے۔‘‘ قابلِ رسائی سہولتوں سے متعلق عہد و پیمان کو عملی سطح پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، معذور افراد کو بااختیار بنانے کے محکمے (ڈی ای پی ڈبلیو ڈی) کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ منمیت کور نندا نے کہا کہ معذور افراد کے لیے محفوظ، باوقار اور خودمختار فضائی سفر کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل حساسیت پیدا کرنے اور تربیت دینے کے عمل کو بھارت کے ہوابازی کے نظام کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔

فضائی سفر میں قابلِ رسائی سہولتوں کے فقدان کے انسانی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، محترمہ نندا نے ایک پیرا ایتھلیٹ کا واقعہ بیان کیا، جسے مصر میں ایک بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کے لیے ٹوٹی ہوئی وہیل چیئر کے ساتھ سفر کرنا پڑا، کیونکہ فضائی کمپنی نے اس کی اصل وہیل چیئر کو نقصان پہنچا دیا تھا۔ اس دشوار گزار تجربے کے باوجود اس کھلاڑی نے تمغہ جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔ ایسے واقعات کو ایسی رکاوٹیں قرار دیتے ہوئے جنہیں ہوابازی کے پورے نظام کو اجتماعی طور پر ختم کرنا چاہیے، انہوں نے زور دیا کہ فضائی کمپنیوں، ہوائی اڈوں کے منتظمین، زمینی خدمات انجام دینے والے عملے، سلامتی کے اداروں اور کسٹمز و امیگریشن کے افسران کو باقاعدگی سے ابتدائی اور تجدیدی تربیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کتابچے میں پوشیدہ معذوریوں سمیت تمام 21 مخصوص اقسام کی معذوریوں کا احاطہ کیے جانے سے صفِ اوّل کے عملے میں زیادہ حساسیت اور بہتر تیاری پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ جواب دہی کو قابلِ پیمائش بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے قابلِ رسائی سہولتوں سے متعلق کارکردگی کے اشاریے، شکایات کے ازالے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی نظام اور فضائی کمپنیوں و ہوائی اڈوں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے مخصوص ڈیش بورڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ ‘‘ ہمارے بارے میں کوئی فیصلہ ہماری شمولیت کے بغیر نہیں ’’ کے اصول کو دہراتے ہوئے، انہوں نے فضائی خدمات کی تشکیل اور جانچ کے عمل میں معذور افراد کو تربیت کاروں اور شراکت داروں کے طور پر فعال طور پر شامل کرنے پر زور دیا۔
محترمہ ستّی ککڑ، سابق سکریٹری، ڈی ای پی ڈبلیو ڈی اور مشیر، ایشیا پیسیفک نیٹ ورک فار ایکسیسبلٹی (اے پی این اے) نے بھارت میں قابلِ رسائی سہولتوں کی تحریک کو آگے بڑھانے میں سماجی تنظیموں، معذور افراد کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں، ذرائع ابلاغ اور عدلیہ کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے علم برداروں کی نمایاں کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ قابلِ رسائی سہولتیں بنیادی حق ہیں، نہ کہ خیرات یا احسان کا کوئی عمل۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقار، خودمختاری اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے آفاقی طرزِ تعمیر، جامع نقل و حرکت اور مسلسل اشتراک و تعاون ناگزیر ہیں۔

معذور افراد کے لیے طیارے سے اترتے وقت بھی ترجیحی بنیاد پر مدد فراہم کی جانی چاہیے، جیسا کہ طیارے میں سوار ہوتے وقت کی جاتی ہے، تاکہ ان کے سفر کو بلارکاوٹ اور باوقار بنایا جا سکے۔ معذور افراد کے لیے چیف کمشنر کے دفتر کے کمشنر جناب ایس گووند راج نے اس ضرورت کو اجاگر کیا۔ انڈیگو کے جناب پرتیک سین نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ رسائی طبعی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مناسب طور پر تربیت یافتہ عملے کی موجودگی بھی ضروری ہے، جو درست معلومات، مثبت رویے اور مکالمہ اندازی کی بہتر صلاحیتوں سے لیس ہو۔ فضائی کمپنی کے ‘‘ صارفین ہماری اولین ترجیح ہیں ’’ کے فلسفے کو دہراتے ہوئے، انہوں نے ہوابازی کی خدمات کے تمام شعبوں میں جامع طور پر حساسیت پیدا کرنے اور تربیت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
’’ حساسیت پیدا کرنے اور تربیت سے متعلق کتابچہ: بھارت میں ہوابازی کی خدمات کو مزید قابلِ رسائی بنانے کی جانب ایک قدم ’’ کا باضابطہ اجرا 4 نومبر ، 2026 ء کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دلّی میں کیا گیا۔ معذور افراد کو بااختیار بنانے کے محکمے (ڈی ای پی ڈبلیو ڈی)، سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی وزارت کے زیرِ سرپرستی، سمرتھیم سینٹر فار یونیورسل ایکسیسبلٹی نے وزارتِ شہری ہوابازی کے اشتراک سے یہ کتابچہ تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور ایک جامع، محفوظ اور مسافروں کے لیے سازگار ہوابازی نظام کو فروغ دینا ہے۔
اس کتابچے میں فضائی کمپنیوں کے عملے، ہوائی اڈوں کے منتظمین، سلامتی کے عملے اور ہوابازی کے شعبے سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے معذور افراد کے حقوق اور ضروریات سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون، 2016 کے تحت متعین 21 اقسام کی معذوریوں، شہری ہوابازی کے متعلقہ تقاضوں (سی اے آر)، مسافروں کو سفر کے آغاز سے اختتام تک مدد فراہم کرنے، حفاظتی ضابطوں، قابلِ رسائی ابلاغ اور فضائی سفر کے تمام مراحل میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ پینل مباحثے میں وزارتِ شہری ہوابازی، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، انڈین ایوی ایشن اکیڈمی، معذور افراد کے لیے چیف کمشنر کے دفتر اور انڈیگو ایئرلائنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف نوعیت کی معذوریوں کے حامل مسافروں نے بھی اپنے ذاتی تجربات اور خیالات پیش کیے، جس سے مباحثے میں خود مسافروں کی آواز کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔
استقبالیہ خطاب میں سمرتھیم سینٹر فار یونیورسل ایکسیسبلٹی کی بانی ٹرسٹی اور ایشیا پیسیفک نیٹ ورک فار ایکسیسبلٹی (اے پی این اے) کی شریک بانی ڈاکٹر انجلی اگروال نے قابلِ رسائی سہولتوں اور معذور افراد کی شمولیت کے حوالے سے بھارت کی پیش رفت میں سماجی تنظیموں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بیداری پیدا کرنے، صلاحیت سازی اور متعلقہ فریقوں کی مسلسل شمولیت کے ذریعے حقوق کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ادارہ جاتی اقدامات میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ سمرتھیم ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، جو گزشتہ 36 برسوں سے حقوق کے لیے جدوجہد، صلاحیت سازی اور قابلِ رسائی سہولتوں کے جائزوں کے ذریعے آفاقی رسائی، جامع نقل و حرکت اور معذور افراد کے حقوق کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ پہل قابلِ رسائی سہولتوں سے متعلق وعدوں کو روزمرہ کے عملی طور طریقوں میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاکہ ہر مسافر اعتماد، وقار، خودمختاری اور مساوی مواقع کے ساتھ سفر کر سکے۔
........................................................................................................
) ش ح –ض ر - ع ا )
U.No. 7223