پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 3:38PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرڈ پیمانے کے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی ترقی کے لیے عمل درآمد کے فرق کی مالی مدد (وی جی ایف) کی اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک کے عرصے کے لیے مجموعی طور پر 14,500 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم کا مقصد پورے ملک میں توانائی ذخیرہ کرنے کی 92 گیگا واٹ آور کی ایسی صلاحیت کو فروغ دینا ہے، جسے ابھی شروع کیا جانا باقی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ملک میں موجودہ گرڈ پیمانے کے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی صلاحیت کے مقابلے میں 170 فیصد کے مساوی نئی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور 2031-32 تک گرڈ پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی 411 گیگا واٹ آور کی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے میں تعاون ملے گا۔
یہ اسکیم ملک کے بجلی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کو بجلی کے نظام سے مربوط کرنے اور چوبیس گھنٹے قابلِ اعتماد، سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اس سے بیٹری کے ذریعے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی ملکی پیداوار کو بھی فروغ ملے گا، درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور ملک کی طویل مدتی توانائی کی یقینی فراہمی مضبوط ہوگی۔
اس اسکیم کے تحت 60 گیگا واٹ آور کی ہائیڈرو پمپڈ اسٹوریج پلانٹ (پی ایس پی) صلاحیت، 30 گیگا واٹ آور کی بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) کی صلاحیت اور توانائی ذخیرہ کرنے کی متبادل ٹیکنالوجیز کے ذریعے 2 گیگا واٹ آور کی صلاحیت تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس پر مجموعی طور پر تقریباً 97,600 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ عمل درآمد کے فرق کی مالی معاونت سے ان منصوبوں کی مالی افادیت بہتر بنانے اور ملک میں بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیب کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔
توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مختص کرنے کے لیے محصولات کی بنیاد پر مسابقتی بولی کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ سرکاری اور نجی شعبے کی بجلی تقسیم کار کمپنیاں بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ہائیڈرو پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے اس مالی معاونت کی اہل ہوں گی، جبکہ توانائی ذخیرہ کرنے کی متبادل ٹیکنالوجیز پر مبنی منصوبوں کو سرکاری اور نجی شعبے کے ادارے نافذ کریں گے۔
اس اسکیم کا ایک اہم مقصد مانگ کی جانب سے مالی معاونت فراہم کرکے ملک میں توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت کے لیے ایک مضبوط ملکی نظام کو فروغ دینا اور درآمد شدہ اجزا پر انحصار کم کرنا ہے۔ ملکی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے منصوبوں میں کم از کم 40 فیصد مقامی اجزا کے استعمال کی شرط (ڈی سی آر) لازمی ہوگی۔ اس شرط سے ملک میں پیداوار کو فروغ ملے گا، بھارتی صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بیٹریوں کی تیاری کے لیے پہلے سے موجود ترغیباتی اقدامات کو مزید تقویت ملے گی۔
یہ اسکیم ایک لچکدار، مستحکم اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بجلی کے نظام کی تعمیر کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ گرڈ پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی تنصیب میں تیزی لانے سے قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو ممکن بنایا جا سکے گا، اس کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور چوبیس گھنٹے بجلی کی متوازن فراہمی برقرار رکھنے کے لیے روایتی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر انحصار کم ہوگا۔ یہ اقدام بجلی کے گرڈ کے استحکام کو مضبوط بنانے، قابلِ تجدید توانائی کو بجلی کے نظام سے مربوط کرنے، ملکی پیداوار کو فروغ دینے اور ملک کی توانائی کی یقینی فراہمی کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس طرح آتم نربھربھارت اور وکست بھارت کے وژن کو بھی آگے بڑھایا جا سکے گا۔
******
( ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا )
UR No-7212