PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ماحول کے لئے ساز گار گرین ہائیڈروجن


ہندوستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی کا ایک ابھرتا ہوا ستون

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 NOV 2026 4:05PM by PIB Delhi

سبز ہائیڈروجن ہندوستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی میں ایک اہم ستون کے طور پر ابھر رہی ہے۔ اسے قابل تجدید بجلی کے استعمال سے پانی کے مرکب کو    علیحدہ علیحدہ کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کھاد کی تیاری، پٹرولیم کی ریفائننگ، لوہا اور اسٹیل کی تیاری، بھاری مال بردار سڑک نقل و حمل اور بحری جہاز را نی جیسے شعبوں میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قومی سبز ہائیڈروجن مشن (این جی ایچ ایم) مقامی مینوفیکچرنگ، پیداوار، یقینی فراہمی کے قابل اعتماد سرٹیفکیشن کو فروغ دیتا ہے۔ سبز امونیا کی نیلامی سے لے کر ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین تک، ابتدائی منصوبے اس شعبے کے لیے ایک امید افزا مستقبل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سبز ہائڈ روجن کی ضرورت کیوں ؟

ہائیڈروجن توانائی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو توانائی کو ذخیرہ کرنے اور مختلف مقاصد کے لیے فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔ ایندھن کے خلیے میں یہ آکسیجن کے ساتھ تعامل کرکے بجلی پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں صرف پانی اور حرارت ضمنی پیداوار کے طور پر حاصل ہوتے ہیں اور کوئی آلودگی پھیلانے والے مرکبات یا گرین ہاؤس گیسیں خارج نہیں ہوتیں۔ اگرچہ قدرت میں خالص ہائیڈروجن بڑی مقدار میں دستیاب نہیں ہوتی، تاہم اسے پانی یا قدرتی گیس جیسے مرکبات سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس کے ماحولیاتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے کس طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔ روایتی طریقوں میں معدنی ایندھن استعمال کیے جاتے ہیں، جن سے کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔

شمسی اور ہوائی توانائی سے حاصل ہونے والی قابل تجدید بجلی کے ذریعے ہائیڈروجن کی تیاری سے اس کے ماحولیاتی اثرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے استعمال سے پانی کے مرکب کو علیحدہ کرکے تیار کی جانے والی ہائیڈروجن کو سبز ہائیڈروجن کہا جاتا ہے۔ معدنی ایندھن پر مبنی طریقوں کے برعکس، اس عمل میں کاربن کا اخراج بہت کم ہوتا ہے۔ ہندوستان میں شمسی اور ہوائی توانائی کے وافر وسائل کی موجودگی سے مقامی سطح پر اس کی پیداوار ممکن ہے۔ اس سے ملک کے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا ہوتا ہے اور توانائی کی یقینی فراہمی  کو تقویت ملتی ہے۔

اس کے علاوہ، یہ 2070 تک خالص صفر اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے ہندوستان کے عزم کی تکمیل میں بھی معاون ہے۔ سبز ہائیڈروجن ان شعبوں کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے جہاں کاربن کے اخراج میں کمی لانا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی وجوہاتﷻ میں بہت زیادہ درجۂ حرارت پر حرارت کی ضرورت، کیمیائی عمل اور معدنی ایندھن کے متبادل ذرائع کی محدود دستیابی شامل ہیں۔ ان شعبوں میں اخراج کو کم کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ ان میں کھاد کی تیاری، پٹرولیم کی ریفائننگ، لوہے اور اسٹیل کی تیاری، بھاری مال بردار سڑک نقل و حمل اور بحری جہاز رانی شامل ہیں۔ کھاد اور پٹرولیم صاف کرنے والے کارخانوں میں پہلے ہی ہائیڈروجن استعمال کی جاتی ہے، اس لیے وہاں معدنی ایندھن سے تیار کردہ ہائیڈروجن کی جگہ سبز ہائیڈروجن استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ کم اخراج کے ساتھ اسٹیل کی تیاری، نقل و حمل کے بعض شعبوں اور توانائی کے ذخیرے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ان شعبوں میں اس کا استعمال مفید ہے جہاں بجلی کے براہ راست استعمال کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنا مشکل یا  عملی طور پر اس کا امکان کم ہے۔

ہائیڈروجن کو‘‘ ماحول کے لئے ساز گار’’ کیا چیز بناتی ہے؟

استعمال کے دوران ہائیڈروجن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج نہیں ہوتی، اس لیے اس کے ماحولیاتی اثرات کا انحصار اس کی تیاری کے طریقے پر ہوتا ہے۔ اگست 2023 میں نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) نے ہندوستان کا سبز ہائیڈروجن معیار کونوٹیفائی کیا ۔ اس معیار کے مطابق، ہائیڈروجن کو سبز اسی صورت میں تسلیم کیا جائے گا جب اس کی تیاری کے دوران فی کلوگرام ہائیڈروجن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج 2 کلوگرام سے زیادہ نہ ہو۔ اس کا تعین کنویں سے لے کر پیداواری مقام کے دروازے تک (ویل ٹو گیٹ) کے تمام مراحل میں ہونے والے اخراج کی بنیاد پر، 12 ماہ کی اوسط کے مطابق کیا جائے گا۔ اس طرح ہندوستان ان اولین چند ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے سبز ہائیڈروجن کی باضابطہ تعریف متعین کی ہے۔

ہندوستان کے لیے سبز ہائیڈروجن کا وسیع پیمانے پر اﷻستعمال درآمد شدہ معدنی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات بھی کم ہوں گے۔ یہ شعبہ مینوفیکچرنگ کے میدان میں نئے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کی پوری  ویلیو چین  میں صلاحیتوں کو فروغ دینے سے ملکی سپلائی چین مضبوط ہوگی اور صنعتی اختراعات کو بھی تحریک ملے گی۔ اس طرح سبز ہائیڈروجن خود انحصاری، پائیدار صنعتی ترقی اور کم کاربن والے مستقبل کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت قابل تجدید توانائی سربراہ کانفرنس اور نمائش (بھارت آر ای) 2026 کا انعقاد 2 سے 5 نومبر 2026 تک بھارت منڈپم، نئی دہلی میں کیا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا موضوع ہے: ’’سرمایہ کاری کریں، اختراع کریں، ترغیب دیں‘‘۔ چار روزہ اس کانفرنس میں 130 سے زائد ممالک کے شرکا شرکت کر رہے ہیں، جن میں 40 سے زیادہ وزرا، پالیسی ساز، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے اور صنعت کے سرکردہ نمائندے شامل ہیں۔ نو ممالک، یعنی آسٹریلیا، ڈنمارک، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ شراکت دار ممالک کی حیثیت سے اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ بھارت کی 13 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں اور قابل تجدید توانائی کے امکانات، سرمایہ کاری کے مواقع اور صاف ستھری مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو پیش کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے اہم موضوعات میں شمسی اور ہوائی توانائی، سبز ہائیڈروجن، توانائی کا ذخیرہ، بجلی کے ترسیلی نظام کے ساتھ انضمام، ملک میں مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہیں۔ یہ کانفرنس صاف توانائی میں عالمی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری اور صنعتی تعاون کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس میں وزارتی سطح کے مباحثے، اعلیٰ انتظامی افسران کے گول میز اجلاس، سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں اور 400 سے زائد نمائش کنندگان پر مشتمل نمائش شامل ہے۔ اس تقریب کا انعقاد بین الاقوامی شمسی اتحاد کی نویں اسمبلی اور سبز ہائیڈروجن سے متعلق چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جس سے صاف توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔

مزید پڑھنے کے لیے: بھارت قابل تجدید توانائی سربراہ کانفرنس اور نمائش 2026 پر کلک کریں

سبز ہائیڈروجن کیسے تیار کی جاتی ہے؟


سبز ہائیڈروجن بنیادی طور پر پانی (H₂O) کی برقی تحلیل کے ذریعے تیار کی جاتی ہے۔ برقی تحلیل ایک ایسا عمل ہے جس میں بجلی کے ذریعے کسی مرکب کو سادہ مادّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی پانی کو ہائیڈروجن (H₂) اور آکسیجن (O₂) میں تقسیم کرتی ہے اور اس دوران اخراج نہایت کم ہوتا ہے۔

2H2O → 2H2 + O2

اس عمل میں استعمال ہونے والا اہم آلہ الیکٹرولائزر کہلاتا ہے۔ اس میں دو الیکٹروڈ ہوتے ہیں، جنہیں کیتھوڈ اور اینوڈ کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں بجلی فراہم کرنے والے ذریعے سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسے محلول میں کام کرتے ہیں جسے الیکٹرولائٹ کہا جاتا ہے اور جو خلیے کے اندر آئنوں کی نقل و حرکت میں مدد دیتا ہے۔ ایک ڈایافرام دونوں گیسوں کو الگ رکھتا ہے، تاہم آئنوں کو اس میں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب برقی رو گزرتی ہے تو کیتھوڈ پر ہائیڈروجن اور اینوڈ پر آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ ان دونوں گیسوں کو مزید استعمال کے لیے الگ الگ جمع کیا جاتا ہے۔ اس طرح الیکٹرولائزر قابل تجدید بجلی اور پانی کو کم اخراج والے ایندھن میں تبدیل کرتا ہے، جسے صنعت، نقل و حمل اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

برقی تحلیل سے پہلے پانی کو صاف کیا جاتا ہے، کیونکہ اس میں موجود غیر ضروری مادّے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ان کی عمر کم کر سکتے ہیں۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) کے مطابق، ایک کلوگرام ہائیڈروجن کی تیاری کے لیے تقریباً نو لیٹر معدنیات سے پاک پانی درکار ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہائیڈروجن کو دباؤ کے تحت ذخیرہ کرنے سے پہلے خشک اور صاف کیا جاتا ہے۔ بھارت کے سبز ہائیڈروجن معیار میں ان تمام مراحل کے دوران ہونے والے اخراج کو شمار کیا جاتا ہے۔

 

سبز ہائیڈروجن کیسے تیار کی جاتی ہے؟

 

سبز ہائیڈروجن کے استعمال

- کھاد کی تیاری: ہائیڈروجن اور نائٹروجن سے تیار ہونے والی امونیا، یوریا جیسی نائٹروجن پر مبنی کھادوں کی تیاری کا بنیادی جزو ہے۔ فی الحال اس مقصد کے لیے زیادہ تر ہائیڈروجن قدرتی گیس سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کی جگہ سبز ہائیڈروجن استعمال کرکے بہت کم اخراج کے ساتھ سبز امونیا تیار کی جا سکتی ہے۔

 

- پٹرولیم ریفائنریز: پٹرول اور ڈیزل سے سلفر نکالنے کے لیے ریفائنریز میں ہائیڈروجن استعمال کی جاتی ہے، تاکہ یہ ایندھن زیادہ صاف طریقے سے جل سکیں۔ اس کے علاوہ بھاری تیل کو ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور نیفتھا جیسے ہلکے ایندھن میں تبدیل کرنے کے لیے بھی ہائیڈروجن استعمال ہوتی ہے۔ یہ ایندھن سڑکوں پر نقل و حمل، ہوابازی اور صنعتوں میں کام آتے ہیں۔ ریفائنریز میں استعمال ہونے والی زیادہ تر ہائیڈروجن معدنی ایندھن سے حاصل کی جاتی ہے، اس لیے اس کی جگہ سبز ہائیڈروجن استعمال کرنے سے ریفائننگ کے عمل میں کاربن کے اخراج کو کم کیا جا سکتا ہے۔

- اسٹیل کی تیاری: روایتی طریقے سے اسٹیل تیار کرنے میں لوہے کی کچ دھات سے آکسیجن الگ کرنے کے لیے کوئلہ استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ لوہے کو براہ راست مختزل کرنے کے طریقوں میں اس عمل کے لیے سبز ہائیڈروجن استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس طرح آکسیجن الگ کرنے کے عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے آبی بخارات خارج ہوتے ہیں۔

- شہری گیس کا ترسیلی نظام: حفاظتی معیارات اور بنیادی ڈھانچے کی مطابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، قدرتی گیس میں محدود مقدار میں سبز ہائیڈروجن ملائی جا سکتی ہے۔ اس طرح موجودہ گیس ترسیلی نظام کے ذریعے گھروں، کاروباری اداروں اور صنعتوں کو ہائیڈروجن اور قدرتی گیس کا آمیزہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے موجودہ تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو بروئے کار لاتے ہوئے معدنی ایندھن کے استعمال اور اس سے وابستہ اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

- سڑک اور ریل کے ذریعے نقل و حمل: ایندھن کے خلیوں سے چلنے والی گاڑیاں ہائیڈروجن کو بجلی میں تبدیل کرتی ہیں، جو  الیکٹرک  گاڑیوں  کو چلاتی ہے۔ استعمال کے مقام پر ان سے صرف آبی بخارات خارج ہوتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان بسوں، ٹرکوں اور ریل گاڑیوں کے لیے موزوں ہے جنہیں طویل فاصلے طے کرنے اور کم وقت میں دوبارہ ایندھن بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

ہندوستان کی پہلی  ملکی کی طور پر تیار کردہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑی کا افتتاح 17 جولائی 2026 کو جند–سونی پت سیکشن پر کیا گیا۔ دس ڈبوں پر مشتمل یہ ریل گاڑی تقریباً 2,600 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جند میں قائم ایک مرکز میں تقریباً 3,000 کلوگرام ہائیڈروجن ذخیرہ کی جاتی ہے۔ اس ریل گاڑی سے صرف آبی بخارات اور حرارت خارج ہوتے ہیں۔

 مزید پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔

- جہاز رانی: سبز ہائیڈروجن کو سبز امونیا اور سبز میتھانول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جنہیں بحری جہازوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ طویل بحری سفر کے دوران روایتی بحری ایندھن کی جگہ لے سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا استعمال انجنوں کے ساتھ مطابقت، حفاظتی تقاضوں اور بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے پر منحصر ہے۔

- برآمدات: ہندوستان سبز ہائیڈروجن اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات، مثلاً سبز امونیا اور سبز میتھانول، ان ممالک کو فراہم کر سکتا ہے جو کم اخراج والے ایندھن کی تلاش میں ہیں۔ ہندوستان کے قابل تجدید توانائی کے وسائل اس فراہمی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان مصنوعات کی برآمدات سے صنعتی مواقع پیدا ہوں گے اور کم اخراج والے ایندھن کے شعبے میں ہندوستان کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔

مزید پڑھنےکے لئے کلک کریں: ہندوستان میں سبز ہائیڈروجن کی پیداواری صلاحیت

حکومتی سطح پر مربوط حکمت عملی

حکومت نے مختلف شعبوں میں سبز ہائیڈروجن کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس مقصد کے تحت مرکزی اور ریاستی وزارتوں، محکموں، ایجنسیوں اور اداروں کے ساتھ تال میل قائم کیا گیا ہے تاکہ اس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ ہر وزارت کا کردار متعین کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس ریفائنریز اور شہری گیس کی تقسیم کے نظام میں سبز ہائیڈروجن کے استعمال کو فروغ دیتی ہے؛ وزارت کیمیکلز اور کھاد مقامی سطح پر سبز امونیا پر مبنی کھادوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے؛ وزارت سڑک نقل و حمل اور شاہراہیں ضوابط، معیارات اور ضابطہ جاتی اصولوں کے ذریعے نقل و حمل کے شعبے میں اس کے استعمال کو ممکن بناتی ہے؛ وزارت اسٹیل اسٹیل کی تیاری میں اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہے؛ جبکہ وزارت خارجہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو آسان بناتی ہے۔

ہندوستان میں سبز ہائیڈروجن سے متعلق پالیسی کا ڈھانچہ

قومی سبز ہائیڈروجن مشن: پورے نظام کے لیے ایک مشن

نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) قومی سبز ہائیڈروجن مشن (این جی ایچ ایم) پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو سبز ہائیڈروجن اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ مرکزی کابینہ نے جنوری 2023 میں اس مشن کو 19,744 کروڑ روپے کے مالیاتی مختص کے ساتھ منظوری دی تھی۔ اس مشن کے تحت 2030 تک سالانہ کم از کم 50 لاکھ میٹرک ٹن سبز ہائیڈروجن کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ برآمدات کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ صلاحیت بڑھ کر سالانہ ایک کروڑ میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ اس مشن کے درج ذیل اہم اجزا ہیں۔

سائٹ (ایس آئی جی ایچ ٹی): منڈی کے دونوں پہلوؤں کے لیے معاونت

سبز ہائیڈروجن کی جانب منتقلی کے لیے اسٹریٹجک اقدامات (سائٹ) پروگرام قومی سبز ہائیڈروجن مشن کا ایک اہم جزو ہے۔ اس پروگرام کے لیے 2029–30 تک 17,490 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت دو مقاصد کے لیے ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں: ملک میں الیکٹرولائزر کی تیاری اور سبز ہائیڈروجن کی پیداوار۔ یہ دونوں اقدامات مل کر ملک کی مقامی صلاحیتوں کو مستحکم کرتے ہیں اور پیداوار میں تیزی لاتے ہیں۔

ہم پیش رفت

- الیکٹرولائزرز کی سالانہ 3,000 میگاواٹ پیداواری صلاحیت قائم کرنے کے لیے 15 کمپنیوں کو مالی مراعات دی گئی ہیں۔ اس سے درآمدی سپلائی چین پر انحصار کم کرنے میں دد ملے گی۔

- فروری 2026 تک سالانہ تقریباً 8,000 ٹن سبز ہائیڈروجن کی پیداواری صلاحیت کے حامل منصوبے شروع کیے جا چکے تھے۔

- سبز ہائیڈروجن کی سالانہ 8,62,000 ٹن پیداواری صلاحیت کے قیام کے لیے مالی مراعات دی گئی ہیں۔

- اکتوبر 2026 تک ہندوستانی کمپنیوں نے سبز ہائیڈروجن کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر سالانہ 5.5 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ کے معاہدے کیے ہیں، جو دنیا میں اس نوعیت کے سب سے بڑے معاہدے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سبز ہائیڈروجن کی فراہمی سے متعلق وعدوں کے معاملے میں ہندوستان عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔

آزمائشی منصوبے

قومی سبز ہائیڈروجن مشن ان شعبوں میں معدنی ایندھن اور خام مال کی جگہ سبز ہائیڈروجن کے استعمال سے متعلق آزمائشی منصوبوں کی معاونت کرتا ہے، جہاں کاربن کے اخراج میں کمی لانا مشکل ہے۔ ان شعبوں میں فولاد سازی، بھاری گاڑیوں کے ذریعے نقل و حمل اور جہاز رانی شامل ہیں۔ ان آزمائشی منصوبوں کا مقصد تکنیکی، ضابطہ جاتی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ ان کے ذریعے سپلائی چین  اور ٹیکنالوجی کے انضمام کو بھی آزمایا جائے گا۔ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والے نتائج تجارتی پیمانے پر ان کے نفاذ اور اس کے لیے درکار پالیسی معاونت کی راہ متعین کریں گے۔ مشن کے تحت 2029–30 تک کم کاربن والی فولاد سازی کے لیے 455 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، 2025–26 تک نقل و حمل کے شعبے کے لیے 496 کروڑ روپے اور جہاز رانی کے لیے 115 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اہم پیش رفت

- فولاد سازی کے شعبے میں پانچ آزمائشی منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ 100 فیصد ہائیڈروجن کے استعمال کی آزمائش کے لیے 84 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

- بارہ منصوبوں کے تحت ہائیڈروجن سے چلنے والی 70 گاڑیاں چلائی جائیں گی، جن میں 27 بسیں اور 43 ٹرک شامل ہیں۔ ان میں ایندھن کے خلیوں سے چلنے والی الیکٹرک  گاڑیاں (ایف سی ای وی) اور ہائیڈروجن کے اندرونی احتراقی انجن والی گاڑیاں (ایچ₂-آئی سی ای) شامل ہیں۔

- ان منصوبوں میں 21 راستوں پر ہائیڈروجن بھرنے کے 16 مراکز کا قیام بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے 41.58 کروڑ روپے کی مالی امداد جاری کی گئی ہے۔

- وی او چدمبرنار بندرگاہ اتھارٹی نے سبز میتھانول کی جہازوں میں بھرائی اور ایندھن بھرنے کی سہولتیں تیار کرنے کے لیے ایک آزمائشی منصوبہ تفویض کیا ہے۔ اس منصوبے پر 38.12 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جس میں نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت کی جانب سے 35 کروڑ روپے کی مالی امداد شامل ہے۔

سبز ہائیڈروجن کے مراکز اور ہائیڈروجن ویلی اختراعی کلسٹرز (ایچ وی آئی سی)

ہائیڈروجن کی نقل و حمل مشکل ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشن کے تحت مراکز اور ہائیڈروجن ویلی اختراعی کلسٹرز کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کلسٹر پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے پیداوار، کھپت اور بنیادی ڈھانچے کو ایک جگہ یکجا کیا جاتا ہے۔ اس سے منصوبوں کی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ نامزد کردہ مراکز میں قائم منصوبے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اسکیموں کے فوائد سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ مشن کے تحت 2025–26 تک ان مراکز اور متعلقہ منصوبوں کے لیے 400 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سبز سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور اختراع کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

اہم پیش رفت

- نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت نے دین دیال بندرگاہ (کاندلا، گجرات)، وی او چدمبرنار بندرگاہ (توتی کورین، تمل ناڈو) اور پارادیپ بندرگاہ (اوڈیشہ) کو ہائیڈروجن مراکز کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

- جولائی 2025 میں کاندلا بندرگاہ پر اندرونِ ملک تیار کردہ ایک میگاواٹ صلاحیت کا سبز ہائیڈروجن پلانٹ شروع کیا گیا۔

- جودھپور، اوڈیشہ، پونے اور کیرالہ میں چار ہائیڈروجن ویلی اختراعی کلسٹرز کے قیام کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

معاون پالیسی فریم ورک

مشن کے تحت سبز ہائیڈروجن کو کم لاگت پر دستیاب بنانے کے لیے حکومت کی تمام وزارتوں اور محکموں کو شامل کرتے ہوئے مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت اس سلسلے میں مرکزی اور ریاستی محکموں کے ساتھ تال میل قائم کرتی ہے، تاکہ مختلف سہولتوں اور منصوبوں کے نفاذ میں مدد فراہم کی جا سکے۔ اہم اقدامات میں بین ریاستی ترسیل کے محصولات سے چھوٹ اور قابل تجدید توانائی کی بینکاری کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، مقررہ مدت کے اندر کھلی رسائی اور بجلی کے نظام سے رابطے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت، ترسیل، بینکاری اور ذخیرہ کرنے کے نظام کی منصوبہ بندی کے لیے باہمی تال میل قائم کرے گی۔ شمسی توانائی کے پارکوں، مینوفیکچرنگ زونز اور خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) کی سہولتیں ہائیڈروجن سے متعلق تنصیبات تک بھی توسیع دی جا سکتی ہیں۔ مشن کے تحت بین الاقوامی سبز مالیات، سبز بانڈز اور اختراعی مالیاتی طریقوں کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے۔

اہم پیش رفت

- 31 دسمبر 2030 تک شروع کیے جانے والے سبز ہائیڈروجن اور سبز امونیا کے کارخانوں کو 25 سال کے لیے بین ریاستی بجلی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی ایس) کے محصولات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ آئی ایس ٹی ایس کے محصولات سے مراد ریاستوں کی سرحدوں کے پار بجلی کی ترسیل کے لیے وصول کی جانے والی فیس ہے۔ اس چھوٹ سے بجلی کی لاگت کم ہوگی۔

- گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت ایسی ترسیلی لائنوں اور سب اسٹیشنوں کی معاونت کی جاتی ہے، جو قابل تجدید توانائی کو بجلی کے نظام تک پہنچاتے ہیں۔ قومی ترسیلی منصوبہ توانائی کی پیداوار اور کھپت کے مراکز کے درمیان رابطوں کو بہتر بناتا ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

- خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ 2005 کی دفعہ 26 کے تحت محصولات میں رعایت کا دائرہ ان اہل صنعتی اکائیوں تک بڑھا دیا گیا ہے، جو صرف اپنی ضرورت کے لیے قابل تجدید توانائی کے آلات نصب کرتی اور چلاتی ہیں۔ اس سے خصوصی اقتصادی زونز میں اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی کی تنصیبات قائم کرنے کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔

- قابل تجدید توانائی کے ذریعے پانی کی برقی تحلیل کے عمل سے سبز ہائیڈروجن یا سبز امونیا تیار کرنے والے علیحدہ کارخانوں کو ماحولیاتی اثرات کے جائزے سے متعلق 2006 کے نوٹیفکیشن کے تحت پیشگی ماحولیاتی منظوری سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے اہل منصوبوں کے لیے منظوری کا عمل آسان ہو سکتا ہے۔

- خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) یا برآمدات پر مبنی صنعتی اکائی (ای او یو) میں قائم قابل تجدید توانائی کے کارخانوں کو اس وقت ماڈلز اور مینوفیکچررز کی منظور شدہ فہرست (اے ایل ایم ایم) اور ماڈلز اور مینوفیکچررز کی نظرثانی شدہ فہرست (آر ایل ایم ایم) کی شرائط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جب وہ اپنی بجلی صرف سبز ہائیڈروجن تیار کرنے والے کارخانوں یا اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کو فراہم کرتے ہیں۔ اس سے اہل منصوبوں کو قابل تجدید توانائی کے آلات کے حصول میں زیادہ پائیداری ملتی ہے، تاہم اس کے لیے مقررہ استثنائی شرائط کا اطلاق ہوگا۔

- سبز ہائیڈروجن اور سبز امونیا پالیسی کے تحت متعلقہ ضوابط کے تابع 15 دن کے اندر کھلی رسائی اور اضافی قابل تجدید بجلی کو 30 دن تک محفوظ رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ کھلی رسائی کے ذریعے پیداوار کرنے والے ادارے اپنے مقامی بجلی تقسیم کار ادارے کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی قابل تجدید بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ بجلی محفوظ رکھنے کی سہولت کے تحت اضافی بجلی کو کھاتے میں جمع شدہ بجلی کے طور پر درج کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ ضوابط کے مطابق بعد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہائیڈروجن کا ذخیرہ اور تحفظ

ہائیڈروجن سب سے ہلکا عنصر ہے اور آسانی سے آگ پکڑ لیتا ہے، اس لیے اس کے ذخیرے، استعمال اور رساؤ کا پتا لگانے کے لیے سخت معیارات کی ضرورت ہے۔ بھارت نے صنعت میں محفوظ طریقۂ کار کی رہنمائی کے لیے سبز ہائیڈروجن، سبز امونیا اور سبز میتھانول سے متعلق معیارات وضع کیے ہیں۔

ضوابط اور معیارات

مشن کے تحت صنعت کی ضروریات کے مطابق ضوابط اور معیارات وضع کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد اس شعبے کی ترقی کو ممکن بنانا اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

ہم پیش رفت

- بھارت کے سبز ہائیڈروجن سے متعلق معیارات کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔ ان کے تحت ہائیڈروجن کی فی کلوگرام پیداوار پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج کی زیادہ سے زیادہ حد 2 کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ اس کا حساب خام مال سے لے کر کارخانے کے دروازے تک کے تمام مراحل کے 12 ماہ کے اوسط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک مشترکہ معیار قائم ہوا ہے۔

- معیارات کے مطابق جانچ کی سہولتیں، بنیادی ڈھانچہ اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کے لیے مالی اعانت سے متعلق اسکیم کے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔

- سبز امونیا اور سبز میتھانول کے معیارات کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ ان میں اخراج کی مقررہ حدیں اور اہلیت کی شرائط طے کی گئی ہیں، جس سے ان کی پیداوار اور تجارت کو فروغ ملے گا۔

- نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت نے اپریل 2025 میں بھارت کی سبز ہائیڈروجن سرٹیفکیشن اسکیم شروع کی۔ توانائی کی کارکردگی کے بیورو (بی ای ای) نے نگرانی، تصدیق اور سرٹیفکیشن کے لیے اداروں کو منظوری دینے کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

- جون 2026 میں شفاف سرٹیفکیشن اور ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مخصوص پورٹل شروع کیا گیا۔ مستند سرٹیفکیشن سے بھارتی پیداوار کنندگان کو عالمی منڈی میں اعتماد کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

تحقیق و ترقی

مشن کے تحت سبز ہائیڈروجن کو زیادہ سستا، مؤثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی معاونت کی جا رہی ہے۔ اسٹریٹجک ہائیڈروجن انوویشن پارٹنرشپ (ایس ایچ آئی پی) ایک سرکاری و نجی شراکت داری کا نظام ہے، جس کے تحت صنعت اور حکومت کی جانب سے تحقیق و ترقی کے لیے مخصوص فنڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ تحقیق و ترقی سے متعلق اسکیم کے رہنما خطوط مارچ 2024 میں جاری کیے گئے تھے، جس کے لیے 400 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جون 2026 تک، 113 کروڑ روپے کے ابتدائی تحقیقی لائحہ عمل کے تحت ہائیڈروجن کی پیداوار، ذخیرے اور تحفظ کی ٹیکنالوجیز سے متعلق منظور شدہ منصوبوں کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

ہنرمندی کی ترقی

ہنرمندی کی ترقی کے لیے مربوط پہل جاری ہے۔ مشن کا مقصد 2030 تک اس شعبے کی  پوری  ویلیو چین  میں 6 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اب تک 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہائیڈروجن سے متعلق مختلف شعبوں میں 8,149 امیدواروں کو تربیت دی جا چکی ہے اور 7,248 امیدواروں کو سند فراہم کی گئی ہے۔ تربیت کے دائرے میں الیکٹرولائزرز کے لیے قابل تجدید بجلی، برقی تحلیل، ذخیرہ، نقل و حمل، حفاظتی معیارات اور فولاد سازی، نقل و حمل اور تیل صاف کرنے جیسے شعبوں میں اس کے استعمال شامل ہیں۔ اختراع کو فروغ دینے کے لیے سبز ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز پر کام کرنے والے نئے کاروباری اداروں کے لیے 100 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک پہلے نو نئے کاروباری اداروں کو منظوری دی جا چکی ہے، جن کے لیے مجموعی طور پر 22 کروڑ روپے کی مالی اعانت مختص کی گئی ہے۔

بین الاقوامی تعاون

مشن کے تحت ٹیکنالوجی کی ترقی، سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، برآمدی منڈیوں کے قیام اور معیارات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اہم پیش رفت

- نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت نے براہِ راست یا قومی شمسی توانائی ادارے کے ذریعے آسٹریلیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں، ارادے کے خطوط یا مشترکہ اعلاناتِ ارادہ پر دستخط کیے ہیں۔

- نیدرلینڈز کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

- اسٹریٹجک کلین انرجی پارٹنرشپ کے تحت بھارت-امریکہ ہائیڈروجن ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔

- بھارت-امریکہ کے نئے اور ابھرتے ہوئے قابل تجدید توانائی کے ٹیکنالوجی ایکشن پلیٹ فارم (آر ای ٹی اے پی) میں سبز ہائیڈروجن کو ایک اہم شعبے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

 ریاستی  سطح پر اقدامات

چھ ریاستوں نے قومی سبز ہائیڈروجن مشن کی تکمیل میں معاونت کے لیے سبز ہائیڈروجن سے متعلق مخصوص پالیسیاں وضع کرکے ان کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ ان ریاستوں میں گجرات، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش، راجستھان اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

مزید چار ریاستیں اپنی مخصوص سبز ہائیڈروجن پالیسیوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ ہریانہ، پنجاب، بہار اور کیرالہ میں ان پالیسیوں کے مسودوں پر کام جاری ہے۔

سات ریاستوں نے اپنی موجودہ صنعتی اور قابل تجدید توانائی سے متعلق پالیسیوں میں ہائیڈروجن کو بھی شامل کیا ہے۔ ان میں ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، تلنگانہ اور چھتیس گڑھ شامل ہیں۔

آگے کا لائحہ عمل

قومی سبز ہائیڈروجن مشن ایک صاف ستھری، زیادہ خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی توانائی معیشت کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ 2030 تک بھارت کا مقصد سالانہ 50 لاکھ میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) سبز ہائیڈروجن کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ اس تبدیلی سے درآمد شدہ معدنی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو مستحکم بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ توقع ہے کہ اس مشن کے نتیجے میں 2030 تک معدنی ایندھن کی مجموعی درآمدات میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی کمی آئے گی۔

توانائی کی یقینی فراہمی  کے علاوہ، اس مشن کا مقصد صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ توقع ہے کہ اس کے ذریعے 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری متحرک ہوگی اور مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، تحقیق اور منصوبوں کی ترقی کے شعبوں میں 6 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مقررہ مقدار میں سبز ہائیڈروجن کی پیداوار اور استعمال سے ہر سال تقریباً 5 کروڑ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ان کوششوں کے ذریعے حکومت کا مقصد صنعتوں سے کاربن کے اخراج میں کمی کے عمل کو تیز کرنا، ملک میں مینوفیکچرنگ کو مستحکم بنانا اور سبز ہائیڈروجن کی پیداوار، استعمال اور برآمدات کے لیے بھارت کو عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ اس سے 2047 تک وکست بھارت کے وسیع تر تصور اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے عزم کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔


حوالہ جات

کابینہ

- https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1888547

وزارتِ نئی اور قابل تجدید توانائی

https://nghm.mnre.gov.in/admin/uploads/resources/167465243440278NationalGreenH2Mission.pdf

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3716e1b8c6cd17b771da77391355749f3/uploads/2023/10/202310131572744879.pdf

https://mnre.gov.in/en/hydrogen-schemes-guidelines/

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1950421

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2125231

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200436

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204464

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244663

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2274212

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2280506

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2274212&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2291541&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200436&reg=3&lang=2

https://mnre.gov.in/en/national-green-hydrogen-mission/

https://mnre.gov.in/en/document/nghm-testing-scheme/

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3716e1b8c6cd17b771da77391355749f3/uploads/2023/01/2023012338.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200444&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236255&lang=1&reg=3

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3716e1b8c6cd17b771da77391355749f3/uploads/2026/03/20260324162653259.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2329940&reg=48&lang=1

وزارتِ کیمیکلز اور کھاد

- https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247329

وزارتِ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2150882

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177591

وزارتِ ریلوے

- https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201556

وزارتِ بجلی

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2068135

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1799067&lang=1&reg=3

وزارتِ پٹرولیم اور قدرتی گیس (ایچ پی سی ایل)

- https://www.hindustanpetroleum.com/NewsroomDetails/419

وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی (سی ایس آئی آر)

- https://estic2026.in/index.html

پارلیمنٹ آف انڈیا

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU1648_XD1qA0.pdf

https://eparlib.sansad.in/bitstream/123456789/2991932/1/18_Energy_9.pdf

https://sansad.in/getFile/annex/271/AU2696_RGQoix.pdf?source=pqars

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/183/AS24_j7y4VC.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU2987_27NWXF.pdf

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU478_tpzCwV.pdf

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2024/may/doc2024510336301.pdf

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/nov/doc20251112690301.pdf

دیگر ذرائع

***

ش ح۔ ش  ب ۔رض

7195:U-No


(ریلیز آئی ڈی: 2332493) وزیٹر کاؤنٹر : 8