پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 11:51AM by PIB Delhi
آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اورصحت وخاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرتاپراؤ جادھو نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دھن تیرس کی تقریبات میں صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کو بھی خصوصی اہمیت دیں۔وزیر موصوف نےاس بات پر زور دیا کہ حقیقی خوشحالی اچھی صحت اور تندرستی میں مضمر ہے۔ تہوار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نےکنبوں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی کہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، بیماریوں سے بچاؤ کو ترجیح دیں اور اپنی طویل مدتی صحت کے تحفظ کے لیے شعوری طور پر اقدامات کریں۔
دھن تیرس کو دھنونتری جینتی کے نام سے بھی منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار سمندر منتھن کے دوران بھگوان دھنونتری کے امرت کلش کے ساتھ ظہور کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بھگوان دھنونتری کو دیوتاؤں کا طبیب مانا جاتا ہے اور ان کا گہرا تعلق آیوروید سے ہے، جو بھارت کا قدیم روایتی علمِ طب اور صحت ہے۔ یہ موقع ہمیں اس حقیقت پر غور کرنے کابھی پیغام دیتا ہے کہ اچھی صحت ہی فرد اورکنبے کی خوشحالی کی اصل بنیاد ہے۔
جناب جادھو نے کہا کہ اگرچہ روایتی طور پر دھن تیرس کے موقع پر سونے، چاندی اور گھریلو استعمال کی اشیاءکی خریداری کو خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ تہوار اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مادی دولت کی اہمیت اسی وقت مزید بڑھتی ہے جب اس کے ساتھ اچھی صحت بھی میسر ہو۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ کنبوں کو اپنی صحت کی حفاظت کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی وہ اپنے مستقبل کو خوشحال اور محفوظ بنانے کے لیے دیتے ہیں۔
بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ عموماً صحت اور علاج معالجے سے متعلق گفتگو کسی بیماری کے لاحق ہونے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے، جب کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر بیماریوں سے بچاؤ کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے آیوروید کے اصول ‘‘سْواستھیہ َ سْوستھ رکشنَم’’ (Swasthasya Swasthya Rakshanam) کا حوالہ دیا، جس کا مفہوم ہے کہ صحت مند افراد کی صحت کو برقرار رکھا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ غیر متعدی امراض، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور ذہنی دباؤ جیسے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے یہ اصول آج بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ روزمرہ زندگی کی عادات، مثلاً متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی ورزش، مناسب نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانا، مجموعی صحت اور تندرستی برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔جناب جادھو نے کنبوں پراس بات کے لیے بھی زور دیا کہ وہ گھر میں تیار کردہ متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانے کو ترجیح دیں، جنک فوڈ کے ضرورت سے زیادہ استعمال میں کمی لائیں، روزانہ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنائیں اور گھر کے بزرگ افراد کی مناسب دیکھ بھال اور ضروریات کابھی خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے باقاعدگی سے یوگ کرنے اور بروقت طبی معائنے کو بھی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات قرار دیا۔
صحت کے تحفظ اور بیماریوں سے بچاؤ کے فروغ میں آیوش نظامِ علاج کےرول کو اجاگر کرتے ہوئے جناب جادھو نے کہا کہ آیوشمان آروگیہ مندر جیسے اقدامات کے ذریعے مقامی سطح پر لوگوں کو آیوش پر مبنی طبی سہولتوں تک رسائی فراہم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے روایتی نظام ہائے طب کو ملک کے مجموعی نظامِ صحت میں ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں شامل کرنے کے لیے سائنسی تحقیق، معیاری ضابطوں اور مستند شواہد پر مبنی طریقۂ علاج کو فروغ دینا ضروری ہے۔
وزیر موصوف نے وزیرِاعظم جناب نریندر مودی کے ‘فٹ انڈیا’ کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کو یاد دلایا کہ وزیرِاعظم روزمرہ زندگی میں چھوٹی مگر بامعنی تبدیلیاں لانے پر زور دیتے رہے ہیں، تاکہ طرزِ زندگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی فٹنس محض کسی فرد کی ذاتی کوشش نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ بھارت جب 2047 تک ‘وکست بھارت’ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی جانب گامزن ہے، تو اس ترقی کے سفر میں صحت مند اور اپنی صحت کے بارے میں زیادہ باشعور شہریوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
جناب جادھو نے دھن تیرس کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بیماریوں سے بچاؤ اور صحت کے تحفظ کو اپنی ذاتی اور خاندانی ذمہ داری بنائیں۔ انہوں نے ہر شخص کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے روزمرہ کےمعمولات میں صحت سے متعلق کم از کم ایک اچھی عادت شامل کرے اور خاندان کے کسی دوسرے فرد کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دے۔ انہوں نے لوگوں پر یہ بھی زور دیا کہ وہ خاندان کے بزرگوں، خواتین اور بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دیں، بروقت طبی مشورہ حاصل کریں اور صحت مند طرزِ زندگی کو خاندان کی مشترکہ ذمہ داری بنائیں۔
وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ اس دھن تیرس پر شہریوں کو خوشحالی کی روایتی علامتوں سے آگے بڑھ کر صحت مند عادات اپنانی چاہئیں، اپنے عزیز واقارب کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور بیماریوں سے بچاؤ کو اپنے خاندان کے روشن مستقبل کی بنیاد بنانا چاہیے۔ اس طرح اس لازوال حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کیا جا سکتا ہے کہ ‘‘صحت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔’’
********
ش ح ۔ش م ۔ج ا
U.No. 7201