PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان میں ناریل کا شعبہ


درخت حیات سے عالمی سطح پر نمایاں مقام تک

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 AUG 2026 11:51AM by PIB Delhi

 ہندوستان میں ناریل کا شعبہ دیہی روزگار، زرعی ترقی اور ثقافتی روایات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبہ سے تقریباً 3 کروڑ افراد وابستہ ہیں، جن میں لگ بھگ  ایک کروڑ کسان شامل ہیں۔ ناریل کی عالمی پیداوار میں  ہندوستان پہلے مقام پر ہے۔ ناریل کی کاشت کے رقبے کے لحاظ سے کیرالہ، پیداوار کے لحاظ سے تمل ناڈو اور فی ہیکٹر پیداوار کے لحاظ سے آندھرا پردیش سرفہرست ہے۔  ہندوستان کی برآمدات میں روایتی مصنوعات کے ساتھ ساتھ اضافی قدر والی مصنوعات، مثلاً ورجن ناریل کا تیل، ناریل کا دودھ اور فعال کاربن بھی شامل ہو گئی ہیں۔ حکومت ہند، بنیادی طور پر ناریل ترقیاتی بورڈ کے ذریعے ناریل کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 2,175 ہیکٹیئر رقبہ کو ناریل کی کاشت کے تحت لایا گیا، جبکہ 1,672 ہیکٹیئر رقبہ میں ناریل کے باغات کی بحالی کا کام انجام دیا گیا۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں ناریل کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ناریل کے فروغ کی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی، جس کا مقصد پائیداری، برآمدات اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ پالیسی سطح پر مسلسل تعاون کے نتیجے میں بھارت کا ناریل کا شعبہ پیداوار، اضافی قدر والی مصنوعات کی تیاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع کے اعتبار سے مسلسل ترقی کر رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ناریل: ذریعۂ معاش اور ثقافتی اثاثہ

زندگی کی تمام ضروریات فراہم کرنے والے درخت یعنی ‘کلپ وَرکش’ کے طور پر قابل احترام ناریل کا درخت  ہندوستان کے ورثے، ثقافت اور زرعی معیشت میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ مختلف تہذیبوں میں اسے ‘‘ہزار فوائد کا حامل درخت’’ قرار دے کر سراہا گیا ہے۔ ناریل کی یہ دیرینہ علامتی اہمیت اس کی غیر معمولی ہمہ گیریت کی وجہ سے ہے۔ اس سے خوراک، مشروبات، ادویات، ریشہ، لکڑی، ایندھن اور مختلف اقسام کا خام مال حاصل ہوتا ہے۔ یہ وسائل نہ صرف گھریلو ضروریات اور روایتی طریقوں کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ اضافی قدر والی مصنوعات کی تیاری سے وابستہ صنعتوں کے بڑھتے ہوئے نظام کو بھی سہارا فراہم کرتے ہیں۔

ہندوستان میں ناریل کی کاشت کی تاریخ تقریباً تین ہزار سال پر محیط ہے اور یہ آج بھی دیہی روزگار اور معاشی استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ناریل کے شعبہ سے تقریباً3 کروڑ افراد، جن میں ایک کروڑ کسان شامل ہیں، وابستہ ہیں، جس کے باعث یہ دیہی ذرائع معاش کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر چھوٹے اور معمولی درجے کے کسان ناریل کی کاشت کرتے ہیں، اس لیے یہ شمولیتی ترقی اور زراعت پر مبنی معیشتوں کو مستحکم بنانے کے مقصد سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی ایک مثال چھتیس گڑھ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں کسانوں نے ذریعۂ معاش کے ایک قابل عمل متبادل کے طور پر ناریل کی کاشت اپنانا شروع کر دی ہے۔

 

چھتیس گڑھ کے بستر سطح مرتفع کے علاقے میں کسان روایتی طور پر دھان، موٹے اناج، مکئی اور معمولی اقسام کی پھول دار پیداوار پر انحصار کرتے تھے۔ ناریل ترقیاتی بورڈ کے ڈی ایس پی فارم، کونڈاگاؤں کی کوششوں کے نتیجے میں ناریل کی کاشت بتدریج ذریعۂ معاش کے ایک امید افزا متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ کسانوں کو تربیت دی گئی کہ وہ ناریل کے کم عمر درختوں کے درمیان موجود خالی جگہوں میں موزوں بین الفصلی فصلیں اُگائیں۔ اس طریقۂ کاشت سے انہیں اس وقت تک آمدنی حاصل ہوتی رہی، جب تک ناریل کے درختوں سے پیداوار شروع نہیں ہو گئی۔

چھتیس گڑھ میں ناریل پر مبنی کثیر سطحی کاشت کاری

ان کسانوں میں بکاوانڈ بلاک کے 36 سالہ ایم بی اے گریجویٹ جناب ایشانش سنگھ راٹھور ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئے۔ ایک کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے جناب راٹھور کارپوریٹ شعبہ میں بھی کام کر چکے ہیں۔ بورڈ سے تکنیکی رہنمائی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے منظم انداز میں ناریل کی کاشت شروع کی۔ انہوں نے ناریل کے 2,500 پودے لگائے، جن میں زیادہ تر بونے قد والی اقسام شامل تھیں۔ ان میں سے تقریباً500 پودوں سے پیداوار شروع ہو چکی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004HYCB.png

 

جناب راٹھور نے کثیر سطحی مخلوط کاشت کاری کا طریقہ اپنایا، جس کے تحت زیادہ قدر والی پھلوں اور سبزیوں کی فصلوں کو یکجا کیا گیا۔ انہوں نے اپنے ناریل کے باغات کے اندر 4,000 انناس کے پودے، 800 ڈریگن فروٹ کے پودے، آم کے 1,000 درخت اور ترشاوہ پھلوں کے 600 درخت لگائے۔ اس کے علاوہ کیلے، امرود، پپیتے، لیچی، کافی، اسٹرابیری اور موسمی سبزیاں بھی اُگائیں۔ اس متنوع طریقۂ کاشت سے ان کی زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا اور آمدنی کا مسلسل ذریعہ یقینی بنا۔ ان کے فارم سے ناریل کی کاشت کے ذریعے سالانہ 5 سے 6 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔ بین الفصلی فصلوں سے تقریباً 10 لاکھ روپے کی اضافی آمدنی ہوئی، جس سے ناریل کی کاشت انتہائی منافع بخش ثابت ہوئی۔ ان کی کامیابی نے بستر کے بہت سے کسانوں کو ناریل پر مبنی اس طریقۂ کاشت کو ایک پائیدار اور قابلِ تقلید نمونے کے طور پر اپنانے کی ترغیب دی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عالمی ناریل کی معیشت میں  ہندوستان کا مقام

عالمی ناریل کی معیشت میں  ہندوستان کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ ملک ناریل کی پیداوار میں پہلے اور کاشت کے رقبے کے لحاظ سے تیسرے مقام پر ہے۔ عالمی مجموعی پیداوار اور کاشت کے رقبے میں  ہندوستان کا حصہ بالترتیب 31.24 فیصد اور 17.90 فیصد ہے۔ زراعت و کسانوں کی بہبود کے محکمے (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے 2024-25 کے دوران 2.19 ملین ہیکٹیئر رقبہ سے تقریباً بیس ہزار تین سو ایک اعشاریہ دودو(20,301.22 )ملین ناریل پیدا کیے۔ اس دوران فی ہیکٹیئر اوسط پیداوار 9,249 ناریل رہی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006J71U.jpg

 

ملک کے اندر کیرالہ میں ناریل کی کاشت کا سب سے زیادہ رقبہ ہے جو تقریباً 7.54 لاکھ ہیکٹیئر پر محیط ہے اور یہاں ناریل کی پیداوار تقریباً پانچ ہزار ایک سو اننچاس اعشاریہ آٹھ سات(5,149.87 ) ملین رہی۔ ناریل کی پیداوار میں تمل ناڈو سرفہرست ہے، جبکہ فی ہیکٹیئر پیداوار کے لحاظ سے آندھرا پردیش پہلے مقام پر ہے، جس کے بعد مغربی بنگال اور تمل ناڈو کا نمبر آتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007J5IL.jpg

 

بنیادی پیداوار کے علاوہ ناریل کا شعبہ زرعی برآمدات میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ  ہندوستان کے برآمداتی عزائم کو بھی تقویت فراہم کر رہا ہے۔ حکومت کا مقصد 2030 تک 2 ٹریلین امریکی ڈالر اور 2047 تک 21 ٹریلین امریکی ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہے۔

 

ان برآمداتی عزائم کو تقویت دیتے ہوئے، حالیہ برسوں میں بھارت کی ناریل کی مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ناریل کی مصنوعات کی برآمدات بڑھ کر 7,038.35 کروڑ روپے (794.70 ملین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں۔ یہ گزشتہ سال درج کی گئی 4,349.03 کروڑ روپے کی برآمدات کے مقابلے میں62 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار عالمی منڈی میں  ہندوستان کی ناریل کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس ترقی سے2001-02 کے بعد ہونے والی نمایاں پیش رفت بھی ظاہر ہوتی ہے، جب برآمدات محض 25.3 کروڑ روپے تھیں۔ اس دور میں برآمدات زیادہ تر روایتی مصنوعات، مثلاً ناریل کے چھلکے سے تیار کردہ چارکول، ناریل کا تیل، ناریل اور خشک ناریل وغیرہ تک محدود تھیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0081Q3X.jpg

 

وقت گزرنے کے ساتھ  ہندوستان کی ناریل کی برآمدات کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے اور روایتی اجناس سے آگے بڑھ کر اب اس میں اضافی قدر والی متنوع مصنوعات شامل ہو گئی ہیں۔ اب یہ شعبہ ورجن ناریل کے تیل، ناریل کے دودھ اور ناریل کے پانی کی عالمی طلب پوری کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف استعمالات کے لیے تیار کی جانے والی دیگر مصنوعات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں  ہندوستان کی مسابقتی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے۔ برآمدات کی منڈیوں کا دائرہ بھی مشرق وسطیٰ سے آگے بڑھ گیا ہے، جو پہلے برآمدات کی بنیادی منزل ہوا کرتا تھا۔ اب  ہندوستان کی مصنوعات یوروپ، براعظم امریکہ اور آسٹریلیا کی منڈیوں تک بھی پہنچ رہی ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ، متحدہ عرب امارات، سری لنکا، جرمنی، روس، ترکی، بیلجیم، برطانیہ اور نیدرلینڈز اہم تجارتی شراکت داروں کے طور پر ابھرے ہیں۔ اہم برآمداتی مصنوعات میں فعال کاربن، ناریل کا تیل، تازہ، منجمد اور کدوکش کیا ہوا ناریل، کھوپرا اور خشک ناریل شامل ہیں۔ ان مصنوعات میں فعال کاربن برآمدات کے حجم کے لحاظ سے مسلسل سرفہرست رہا ہے۔

ادارہ جاتی بنیاد: ناریل ترقیاتی بورڈ کا کردار

ناریل ترقیاتی بورڈ (سی ڈی بی) کا قیام12 جنوری1981 کو عمل میں آیا تھا اور یہ وزارت زراعت و کسانوں کی بہبود کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ بورڈ  ہندوستان میں ناریل کی کاشت اور اس سے وابستہ صنعت کی مربوط ترقی کی نگرانی کرتا ہے۔ کوچی میں واقع صدر دفتر کے ساتھ یہ بورڈ 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ناریل کے شعبہ کی ترقی اور تبدیلی میں پیش پیش رہا ہے۔ اس کے اہم ترجیحی شعبوں میں معیاری پودے لگانے کے مواد کی پیداوار میں اضافہ، ناریل کی کاشت کے رقبے کو وسعت دینا، پہلے سے موجود ناریل کے باغات کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانا، اہم کیڑوں اور بیماریوں کی روک تھام و انتظام اور مصنوعات میں تنوع کو فروغ دینے کے ساتھ ضمنی مصنوعات کے استعمال کو بڑھانا شامل ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے دوران ناریل ترقیاتی بورڈ کے تحت مختلف سرگرمیوں کے نفاذ کے لیے 147.21 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

ناریل کے شعبہ کے لیے حکومت کے امدادی اقدامات

حکومت نے ناریل کے شعبہ کی ترقی کے لیے کثیر الجہتی پالیسی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کھوپرا کے لیے کم از کم امدادی قیمت، ہدف پر مبنی ترقیاتی اسکیموں اور پوری پیداواری زنجیر میں ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مخصوص اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے۔

2025-26 کے لیے کھوپرا کی کم از کم امدادی قیمت: منافع بخش معاوضے کو یقینی بنانا

کھوپرا یعنی ناریل کی خشک گِری ان 22 لازمی زرعی فصلوں میں شامل ہے جنہیں کم از کم امدادی قیمت کے نظام کے تحت تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔  ہندوستان میں بنیادی طور پر کھوپرا کی دو اقسام پیدا ہوتی ہیں: ملنگ کھوپرا اور بال کھوپرا۔ ملنگ کھوپرا بنیادی طور پر تیل نکالنے کے کام آتا ہے اور اسے ناریل کے خول سے گِری نکالنے کے بعد خشک کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ بال کھوپرا (خوردنی کھوپرا) کو خشک میوے کے طور پر اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے مکمل پختہ ناریل کو اس وقت تک خشک کرکے تیار کیا جاتا ہے جب تک اس کے خول کے اندر موجود گِری سخت نہ ہو جائے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0094KFY.jpg

 

 ہندوستان کی قومی زرعی کوآپریٹیو مارکیٹنگ فیڈریشن لمیٹڈ (نیفیڈ) اور قومی کوآپریٹیو صارفین فیڈریشن(این سی سی ایف) کو کھوپرا کی خریداری کے لیے مرکزی نوڈل ایجنسیوں کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خریداری کے عمل میں تعاون کے لیے ریاستی سطح کی ایجنسیوں کو بھی مناسب طور پر شامل کیا گیا ہے۔

سن 2026 کے سیزن کے لیے مرکزی کابینہ نے ناریل کے کاشت کاروں کو منافع بخش قیمتیں یقینی بنانے کی غرض سے کھوپرا کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافے کی منظوری دی ہے۔ ملنگ کھوپرا کے لیے کم از کم امدادی قیمت12,027 روپے فی کوئنٹل جبکہ بال کھوپرا کے لیے12,500 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی ہے۔ یہ2025 کی کم از کم امدادی قیمت کے مقابلے میں ملنگ کھوپرا کے لیے445 روپے فی کوئنٹل اور بال کھوپرا کے لیے400 روپے فی کوئنٹل کا اضافہ ہے۔

کم از کم امدادی قیمت میں اضافے سے ناریل کے کاشت کاروں کو بہتر معاوضہ ملنا یقینی ہوتا ہے۔ اس سے کسانوں کو کھوپرا کی پیداوار بڑھانے کی ترغیب ملتی ہے تاکہ ناریل کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی ملکی اور عالمی طلب پوری کی جا سکے۔

ناریل کی کاشت اور پیداواری صلاحیت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات

حکومت، بنیادی طور پر ناریل ترقیاتی بورڈ کے ذریعے، ناریل کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ ان اسکیموں کے تحت معیاری پودے لگانے کے مواد تک رسائی بہتر بنانے، کاشت کے رقبے میں توسیع، پیداواری صلاحیت میں اضافے، نئی ٹیکنالوجی اپنانے اور منڈیوں کی ترقی میں معاونت فراہم کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image010C2HP.jpg

معیاری پودے لگانے کے مواد کی پیداوار

اس اسکیم کے ذریعہ ناریل کی پیداواری زنجیر کو ابتدائی مرحلے ہی سے مستحکم بنایا جاتا ہے، تاکہ معیاری پودے لگانے کے مواد کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت بیج کی پیداوار کے فارم، بیج کے باغات اور پودوں کی نرسریاں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ معیار کی تصدیق کا نظام بھی وضع کیا جاتا ہے۔

مظاہراتی و بیج پیداواری فارم (ڈی ایس پی)

اس اسکیم کے تحت ناریل ترقیاتی بورڈ (سی ڈی بی) مختلف ریاستوں میں نئے مظاہراتی و بیج پیداواری فارم (ڈی ایس پی ایف) قائم کرتا ہے۔ ان فارمز میں ناریل کی سائنسی طریقے سے کاشت کے طور طریقوں کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے اور تجارتی بنیاد پر ناریل کے معیاری پودے تیار کیے جاتے ہیں۔

اس اسکیم کے تحت مالی امداد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. نئے ڈی ایس پی ایف کا قیام: نئے قائم کیے جانے والے فارمز کے لیے پہلے دو برسوں کے دوران بجٹ سے 30 لاکھ روپے مختص کیے جاتے ہیں۔
  2. موجودہ ڈی ایس پی ایف کی دیکھ بھال: تیسرے سال سے فارم کی دیکھ بھال کے لیے ایک لاکھ روپے فی ہیکٹیئر سالانہ تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ امداد پیداوار مستحکم ہونے تک (15 سے 20 سال) جاری رہتی ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران بورڈ نے ملک بھر میں قائم 11 ڈی ایس پی ایف میں 2.41 لاکھ معیاری ناریل کے پودے تیار کیے۔

معیاری پودے لگانے کے مواد کی پیداوار میں معاونت کرنے والی دیگر اسکیمیں درج ذیل ہیں:

  1. ناریل کے بنیادی بیج باغات کا قیام: اس اسکیم کے تحت اعلیٰ معیار کے ناریل کے پودے اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے ناریل کے بیج باغات قائم کرنے میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس اسکیم کے لیے 24 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 20.29 لاکھ روپے استعمال کیے گئے۔
  2. ناریل کی چھوٹی نرسریوں کا قیام: اس اسکیم کا مقصد سرکاری اور نجی نرسریاں قائم کرکے ناریل کے معیاری پودوں کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 12 نئی نرسریاں قائم کرنے کے لیے امداد فراہم کی گئی، جن کی مجموعی سالانہ پیداواری صلاحیت 1.06 لاکھ پودے ہے۔ اس کے علاوہ 6 موجودہ نرسریوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی امداد فراہم کی گئی۔
  3. ناریل کی نرسریوں کی منظوری اور درجہ بندی: اس اسکیم کے تحت نرسریوں کی منظوری اور معیار کی جانچ کے ذریعے مستند اور اعلیٰ معیار کے پودے لگانے کے مواد کی دستیابی یقینی بنائی جاتی ہے۔
  4. سرکاری شعبے کی نرسریوں میں معیاری پودے لگانے کے مواد کی پیداوار کے لیے امداد: اس اسکیم کے تحت اہل سرکاری نرسریوں کو مالی معاونت فراہم کرکے ناریل کے پودوں کی پیداوار کو فروغ دیا جاتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران نرسریوں کو مستحکم بنانے کے لیے 239.35 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ اس سے مستفید ہونے والوں میں ریاستی محکمے، ریاستی زرعی  یونیورسیٹیاں (ایس اے یوز)، سرکاری شعبے کے ادارے (پی ایس یوز)، کرشی وگیان کیندرز (کے وی کے) اور ناریل ترقیاتی بورڈ کے مظاہراتی و بیج پیداواری فارم (ڈی ایس پی فارمز) شامل  ہیں۔ اس مالی امداد سے 11.97 لاکھ معیاری پودے تیار کرنے میں مدد ملی، جو اندازاً 6,850 سے 7,500 ہیکٹیئر رقبے پر ناریل کی نئی کاشت کے لیے کافی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ناریل کے زیر کاشت رقبہ میں توسیع

اس پروگرام کا مقصد موزوں نئے علاقوں میں سائنسی طریقے سے ناریل کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے مالی امداد اور ترغیبی سبسڈی کے ساتھ ساتھ تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ناریل کی موجودہ کاشت والے علاقوں میں پیداوار کو مستحکم رکھنے اور مجموعی طور پر ناریل کی پیداوار میں اضافہ کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔

اس اسکیم کے تحت نئے علاقوں میں ناریل کے پودے لگانےکیلئے فی ہیکٹر56,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ مالی امداد دو مساوی سالانہ قسطوں میں جاری کی جاتی ہے۔ ہر مستفید فرد کے لیے سبسڈی زیادہ سے زیادہ 2 ہیکٹر اور کم از کم 0.08 ہیکٹر (20 سینٹ)رقبہ تک دستیاب ہے۔

مالی سال 2024-25 کے دوران، ناریل کی نئی کاشت کے تحت 2,979 ہیکٹر اضافی رقبہ لانے کے لیے 209.24 لاکھ روپے استعمال کیے گئے۔ اس اقدام سے ملک کی مختلف ریاستوں کے 13,068 کسانوں کو فائدہ پہنچا۔

مالی سال 2025-26 کے دوران، ناریل کی کاشت کے رقبہ ہیں توسیع پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مختلف ریاستوں میں تقریباً 2,175 ہیکٹر نئے رقبہ کو کاشت کے تحت لایا گیا۔ ان ریاستوں میں کیرالہ، تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش، اوڈیشہ، مغربی بنگال، گجرات، آسام اور اروناچل پردیش شامل ہیں۔ باغات کے قیام اور دیکھ بھال کیلئے632.77 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی، جس سے طویل مدت میں پیداوار کی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image011C1YF.jpg

ناریل کے موجودہ باغات میں پائیدار پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کا جامع پروگرام

اس اسکیم کا مقصد مربوط کاشت کاری کے طریقوں، بشمول ناریل پر مبنی فصلوں کے نظام کے ذریعے ناریل کے موجودہ باغات کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

ناریل پر مبنی فصلوں کے نظام کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں بہتری (پی آئی سی سی ایس) اس جامع پروگرام کا ایک اہم جزو ہے۔ اسے متعلقہ ریاستی حکومتوں کے محکمۂ زراعت/باغبانی کے ذریعے کلسٹر کی بنیاد پر نافذ کیا جاتا ہے، نیز ناریل ترقیاتی بورڈ بھی اسے براہ راست نافذ کرتا ہے۔ اس کے تحت لاگت کا 100 فیصدیعنی42,000 روپے فی ہیکٹر سبسڈی کے طور پر فراہم کیا جاتا ہے، جو فی مستفید فرد زیادہ سے زیادہ 2 ہیکٹر رقبے تک محدود ہے۔ یہ امداد دو مساوی سالانہ قسطوں میں جاری کی جاتی ہے۔

مالی سال2025-26 کے دوران اس اسکیم کے تحت متعدد ریاستوں میں18,800 ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا۔ اس سے 266 کلسٹروں میں منظم 48,696 کسانوں کو فائدہ پہنچا اور اس پر 3,943 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ، ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے چار ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں مزید5,935 ہیکٹر رقبہ کا احاطہ کیا گیا، جس کے لیے1,246 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ ان میں تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ، آسام، گوا اور پڈوچیری شامل ہیں۔

پی آئی سی سی ایس کے تحت کیرالہ کا حصہ نمایاں رہا، جہاں مالی 2025-26 کے دوران 8,089 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ کا احاطہ کیا گیا اور 33,250 کسانوں کو فائدہ پہنچا۔

موجودہ سال کے دوران یہ اسکیم ملک بھر کی اہم ناریل پیدا کرنے والی ریاستوں میں 22,430 ہیکٹر رقبے پر نافذ کی جا رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پی آئی سی سی ایس کے علاوہ، اس اسکیم میں درج ذیل دیگر اجزا بھی شامل ہیں:

 

  1. آبی وسائل کی تخلیق: ناریل کے باغات میں آب پاشی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اجتماعی تالابوں، کھیتوں میں تالابوں اور آبی ذخائر کی تعمیر و ترقی میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
  2. نامیاتی کاشت کاری کا فروغ: پیداوار، توثیق، ڈبہ بندی اور مارکیٹنگ کے لیے معاونت فراہم کرکے کسانوں کو نامیاتی طریقے اپنانے میں مدد دی جاتی ہے۔
  3. زرعی مشین کاری:تربیت اور مظاہروں کے ذریعے زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جاتا ہے۔ آلات کی خریداری، فصل کی کٹائی کے بعد کے مراحل اور ڈبہ بندی کی ٹیکنالوجیز کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

ناریل کے باغات کی دوبارہ شجرکاری اور بحالی

اس اسکیم کا مقصد بیماری سے متاثرہ، غیر پیداواری، پرانے اور عمر رسیدہ ناریل کے درختوں کی جگہ معیاری پودے لگا کر ناریل کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مربوط طریق کار کے ذریعے باقی درختوں کی بحالی پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ یہ اسکیم ہر ریاست کے مخصوص مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، منصوبے کی بنیاد پر نافذ کی جاتی ہے۔ اس کے تحت دو سال کے دوران فی ہیکٹر54,000 روپے تک کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

ناریل کے باغات کی دوبارہ شجرکاری اور بحالی

اس اسکیم کا مقصد بیماری سے متاثرہ، غیر پیداواری، پرانے اور عمر رسیدہ ناریل کے درختوں کی جگہ معیاری پودے لگا کر ناریل کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، مربوط طریق کار کے تحت باقی درختوں کی بحالی پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ یہ اسکیم ریاستوں کے مخصوص مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہر منصوبے کی بنیاد پر نافذ کی جاتی ہے۔ اس کے تحت دو سال کے دوران فی ہیکٹر54,000 روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image012EGAT.jpg

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، اس اسکیم کے تحت 130.46 کروڑ روپے کی لاگت سے 25,517 ہیکٹر رقبہ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران باغات کی بحالی کے لیے اسکیم کے تحت 1,672 ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا۔ اس کے تحت بیماری سے متاثرہ درختوں کو ہٹانے، نئے پودے لگانے اور موجودہ باغات کی بحالی جیسی سرگرمیاں انجام دی گئیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ناریل کے پورے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے تکمیلی اقدامات

اہم اقدامات کے علاوہ، ناریل ترقیاتی بورڈ (سی ڈی بی) ناریل کی قدر پر مبنی پوری زنجیر کو مستحکم بنانے کے لیے کئی تکمیلی اسکیمیں بھی نافذ کرتا ہے:

  1. ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور معیار کی جانچ کی تجربہ گاہ: ناریل پر مبنی کاروباری اداروں اور اضافی قدر والی مصنوعات کے لیے ٹیکنالوجی کے مظاہرے، معیار کی جانچ، تربیت، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے۔
  2. بازار سے متعلق معلومات، تحقیق اور برآمدات کا فروغ:ناریل کی مصنوعات کے لیے بازار کی ترقی، مصنوعات کے فروغ، معیار میں بہتری اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں کی توسیع میں سہولت فراہم کرتی ہے۔
  3. ناریل ترقیاتی بورڈ، ناریل کی بھوسی اور ریشے سے تیار کردہ مصنوعات کے علاوہ، ناریل کی تمام مصنوعات کے لیے برآمدات کے فروغ کی کونسل ہے۔ بورڈ ناریل کی مصنوعات کے برآمد کنندگان کو رجسٹریشن فراہم کرتا ہے۔ 2025-26 تک 8,299 برآمد کنندگان اور 31 جولائی 2026 تک 8,700 برآمد کنندگان کو رجسٹریشن فراہم کی جا چکی ہے۔گزشتہ پانچ برسوں (2021-22 سے 2025-26) کے دوران ناریل پر مبنی مصنوعات کا برآمدی کاروبار 3,236.83 کروڑ روپے سے بڑھ کر 7,038.35 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
  4. بورڈ کاروباری افراد کو ملکی اور بین الاقوامی تجارتی میلوں میں شرکت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بورڈ نے 20 ملکی تجارتی میلوں میں72 کاروباری افراد اور بین الاقوامی تجارتی میلوں میں224 برآمد کنندگان کی شرکت میں سہولت فراہم کی ہے۔
  5. بورڈ صنعت کے بڑے اداروں کے اشتراک سے کاروباری افراد کو خریدار اور فروخت کنندہ کی ملاقاتوں (بی ایس ایم) میں شرکت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بورڈ نے 215 کاروباری افراد کے لیے 392 ملکی خریدار اور فروخت کنندہ ملاقاتوں کا اہتمام کیا۔ ان میں 26 سے 28 اپریل 2022 کے دوران منعقدہ ورچوئل تجارتی میلہ (وی ٹی ایف) بھی شامل ہے، جس میں ناریل کی مصنوعات تیار کرنے والے 53 اداروں اور 347 خریداروں نے شرکت کی۔ اس ورچوئل تجارتی میلے کے دوران ایمیزون، فلپ کارٹ، لولو انڈیا، لولو دبئی اور نیسٹو گروپ جیسے بڑے اداروں کے ساتھ 4 کاروبار تا کاروبار (بی 2 بی) نشستیں منعقد کی گئیں اور 371 انفرادی بی 2 بی ملاقاتوں کا اہتمام کیا گیا۔ بورڈ نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 6 کاروباری افراد کے لیے 3 بین الاقوامی خریدار اور فروخت کنندہ ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا ہے۔
  6. عالمی تجارت سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے مقصد سے27 اور 28 فروری 2023 کو حیدرآباد میں ‘‘ناریل کی عالمی صنعت:عروج کی جانب پیش قدمی’’ کے موضوع پر ناریل کی مصنوعات کی تجارت اور مارکیٹنگ سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں دنیا بھر کے متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ ناریل کی مصنوعات کی طبی اور صحت سے متعلق خصوصیات کو حتمی طور پر ثابت کرنے کے مقصد سے، انٹرنیشنل کوکونٹ کمیونٹی (آئی سی سی) کے اشتراک سے 19 سے 22 اگست 2025 تک کوئمبٹور میں بین الاقوامی کوکو ہیلتھ کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کے علاوہ، بورڈ نے 24 سے 26 ستمبر 2025 تک منیلا، فلپائن میں منعقدہ عالمی ناریل کانگریس 2025 (ڈبلیو سی سی) میں بھی نمائندگی کی۔
  7. بورڈ مختلف اداروں کے اشتراک سے برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے سمینار اور ورکشاپس منعقد کرتا ہے۔ ان میں ڈبہ بندی کی ٹیکنالوجی، پیکجنگ، برآمدات کے طریق کار، بیرونی تجارت کی پالیسیاں اور بازار کی ترقی جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔
  8. بورڈ مصنوعات کے معیار، پائیداری، کارکنوں کی صحت اور فلاح و بہبود، ماحولیاتی تحفظ وغیرہ کو یقینی بنانے کے مقصد سے معیاری توثیق کے لیے امداد فراہم کرنے کی اسکیمیں بھی نافذ کر رہا ہے۔
  9. بورڈ کاروباری افراد کو ناریل کی معیاری مصنوعات کے برانڈ کی شناخت قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے برانڈ کے فروغ کی خاطر بھی امداد فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 9 اکائیوں کو اس سلسلہ میں معاونت فراہم کی گئی ہے۔
  10. بورڈ ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے اور ناریل سے معیاری تیار شدہ مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کے مقصد سے ناریل کی ڈبہ بندی کرنے والی اکائیوں سے وابستہ بے روزگار نوجوانوں کو کام کے دوران، ادارے کے اندر ہی ہنر مندی کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں (2021-22 سے 2025-26) کے دوران 24 تربیتی گروپوں کے 240 شرکا کو ہنر مندی کی تربیت کے لیے معاونت فراہم کی گئی۔
  11. ناریل سے تیار شدہ مصنوعات کو فروغ دینے، ان کے بارے میں بازار میں آگاہی پیدا کرنے اور ان کی مانگ بڑھانے کے لیے ناریل کے کیوسک یا خوردہ فروخت کے مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 15 کیوسک کے قیام کے لیے امداد فراہم کی گئی۔
  12. بورڈ نے درج ذیل اسکیمیں بھی شروع کی ہیں:
  13. خریداری مراکز کا قیام: اس کا مقصد کسانوں کی اجتماعی تنظیموں کے ذریعے پیداوار کو یکجا کرنے اور اجتماعی طور پر اس کی مارکیٹنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس سے ان کی سودے بازی کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، درمیانی واسطوں کی تعداد کم ہوتی ہے اور کسانوں کو اپنی پیداوار کا بہتر معاوضہ حاصل ہوتا ہے۔ 2 کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی اوز) کو اس سلسلے میں امداد فراہم کی گئی ہے۔
  14. ابتدائی ڈبہ بندی کے مراکز کا قیام: ملنگ کھوپرا، بال کھوپرا اور کم سے کم ڈبہ بندی شدہ نرم ناریل کی تیاری کے لیے یہ مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد ناریل کے کسانوں، کاروباری افراد، کسان پیداواری تنظیموں اور امداد باہمی کی انجمنوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بااختیار بنانا ہے، تاکہ وہ معیاری پیداوار تیار کر سکیں اور بالآخر اس سے بہتر نتائج حاصل ہوں۔
  15. بورڈ قیمت امدادی اسکیم (پی ایس ایس) کے تحت خریداری کے لیے ملنگ اور بال کھوپرا کی کم از کم امدادی قیمت کے اعلان سے متعلق سفارشات بھی پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ناریل کی مصنوعات کی درآمد و برآمد سے متعلق دیگر پالیسی سفارشات بھی فراہم کرتا ہے۔
  16. عالمی منڈی میں مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے کے مقصد سے ناریل ترقیاتی بورڈ کو مربوط ضابطہ جاتی جائزہ فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے۔
  17. ناریل سے متعلق ٹیکنالوجی مشن (ٹی ایم او سی): یہ اسکیم کیڑوں اور بیماریوں کے انتظام، ڈبہ بندی، مصنوعات میں تنوع اور ٹیکنالوجی پر مبنی دیگر اقدامات کے لیے ٹیکنالوجیز کی تیاری اور انہیں اپنانے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔
  18. کیرا سرکشا بیمہ اسکیم: اس اسکیم کے تحت ناریل کے شعبے میں کام کرنے والے درختوں پر چڑھنے والے کارکنوں، نیرا تکنیکی ماہرین، پیوند کاری کے کارکنوں اور ناریل کے دیگر مزدوروں کو حادثاتی بیمے کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

ناریل کے فروغ کی اسکیم: شعبے کو نئی رفتار دینے کا اقدام

  1. معیاری ناریل کے پودوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار،
  2. ممکنہ علاقوں میں ناریل کی کاشت کے رقبے میں توسیع،
  3. پرانے اور غیر پیداواری ناریل کے باغات میں مرحلہ وار دوبارہ شجرکاری اور بحالی،
  4. فصلوں کی صحت کے انتظام کے جامع طریقوں کو اپنانا، اور
  5. اضافی قدر والی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ناریل کی مربوط ڈبہ بندی کی اکائیوں کا قیام۔

یہ اقدام اعلیٰ قدر والی زراعت کے لیے مختص 350 کروڑ روپے کی وسیع تر رقم کا حصہ ہے، جس میں کاجو اور کوکو کے شعبے بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے اس اسکیم کا مقصد ناریل کے شعبے میں پائیداری اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مستحکم بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، اس اسکیم میں سن  2030 کی دہائی تک ناریل اور کوئر کی برآمدات میں بھارت کو عالمی سطح پر قائدانہ مقام دلانے کے ساتھ ساتھ ناریل کے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image013X8XR.jpg

ہنر مندی کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کے قیام کے اقدامات

ناریل ترقیاتی بورڈ (سی ڈی بی) ناریل کے شعبے کے لیے نمایاں ہنر مندی کے فروغ کے پروگرام نافذ کرتا ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے ناریل کی کٹائی، ڈبہ بندی اور اضافی قدر والی مصنوعات کی تیاری کے مختلف مراحل کے لیے تربیت یافتہ، خود کفیل اور کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کے اہل افرادی قوت تیار کی جاتی ہے۔

بورڈ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فرینڈز آف کوکونٹ ٹری (ایف او سی ٹی) پروگرام نافذ کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو مشینی آلات کی مدد سے ناریل کے درختوں پر چڑھنے، پودوں کے تحفظ، کاروبار شروع کرنے اور ابلاغی مہارتوں کی تربیت دی جاتی ہے۔ 2024-25 کے دوران ملک کی مختلف ریاستوں میں منعقدہ پروگراموں کے تحت 378 افراد کو ناریل کے درختوں پر چڑھنے کی تربیت دی گئی۔

اس کے علاوہ، ناریل سے دست کاری کی تربیت کا پروگرام بے روزگار نوجوانوں کو ناریل کے پودے کے مختلف حصوں سے دست کاری کی اشیا تیار کرنے کے لیے فنکارانہ مہارتوں سے آراستہ کرتا ہے۔

سن 2025 میں سی ڈی بی نے انفرادی تربیتی پروگراموں سے آگے بڑھتے ہوئے نئی پہل کے ذریعے منظم کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی جانب قدم بڑھایا:

کوکومتر (ناریل کے درختوں پر چڑھنے والے کارکنوں کی ٹاسک فورس): اس پہل کے تحت تربیت یافتہ کارکنوں کو 6 سے 10 ارکان پر مشتمل رجسٹرڈ اکائیوں میں منظم کیا جاتا ہے۔ ان گروپوں کو جدید مشینی آلات، پودوں کے تحفظ کے اوزار اور آمدورفت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ کسانوں کو بروقت خدمات فراہم کر سکیں۔

کیرا کوشل کیندر: اس پہل کا مقصد پورے بھارت میں ناریل سے دست کاری کے مراکز کا ایک نیٹ ورک قائم کرنا ہے، جہاں ناریل کے خول، لکڑی اور ریشے سے تیار کردہ مصنوعات بنانے میں مہارت حاصل ہو۔ اس اقدام کے تحت دست کاری کی مصنوعات تیار کرنے والے 15 ارکان پر مشتمل گروپ قائم کیے جاتے ہیں، جنہیں قانونی اداروں کے طور پر رجسٹر کیا جاتا ہے۔

مالی سال 2026-27 سے ہر منظور شدہ کیرا کوشل کیندر 2.67 لاکھ روپے کی مالی امداد حاصل کرنے کا اہل ہوگا۔ یہ امداد مشترکہ سہولتیں قائم کرنے کے لیے فراہم کی جاتی ہے، جن میں اوزار اور آلات، فرنیچر اور دیگر سازوسامان، سامان رکھنے کے لیے الماریاں اور ریک، بنیادی سہولتیں اور ہنگامی اخراجات شامل ہیں۔ اس پہل کے تحت دست کاری کی مصنوعات کی مارکیٹنگ سے متعلق سرگرمیوں میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پروگرام ناریل پر مبنی چھوٹے کاروباروں، دیہی سطح پر کاروباری سرگرمیوں اور پائیدار ذرائع معاش کو فروغ دیتا ہے۔

نیرا نکالنے اور اس کی ڈبہ بندی کے تکنیکی ماہرین کی تربیت کا پروگرام: نیرا ایک غذائیت بخش، صفر فیصد الکحل پر مشتمل صحت بخش مشروب ہے، جو ناریل کے درخت کے پھولوں سے حاصل ہونے والا غیر خمیر شدہ رس ہے۔ اس پروگرام کے تحت محفوظ اور سائنسی طریقے سے نیرا نکالنے اور اس کی ڈبہ بندی کے لیے ہنر مند تکنیکی ماہرین تیار کرنے کی غرض سے 7 روزہ منظم میدانی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ تربیت نیرا کا لائسنس رکھنے والی کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی اوز) کے ذریعے دی جاتی ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران بورڈ نے 414 بیداری تربیتی پروگرام منعقد کیے۔ ان پروگراموں میں سی ڈی بی کی اسکیموں، سائنسی طریقے سے کاشت کاری کی ٹیکنالوجی اور ناریل سے اضافی قدر والی مصنوعات کی تیاری سے متعلق امور کا احاطہ کیا گیا۔

روایت اور عالمی ترقی کے دوراہے پر ناریل کا شعبہ

نسلوں سے ‘‘درخت حیات’’ کے طور پر ناریل، بھارت کے ثقافتی اور دیہی منظرنامے کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ شعبہ روایتی کاشت کاری کے طریقوں سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ مضبوط پالیسی حمایت، کسانوں کی اجتماعی تنظیم اور ہنر مندی کے فروغ کے اقدامات نے ناریل کی پوری قدر پر مبنی زنجیر کو مستحکم کیا ہے۔

پودے لگانے کے مواد کے معیار میں بہتری، کاشت کے رقبے میں توسیع اور پرانے باغات کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں سے کسانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی دوران، اضافی قدر والی ناریل کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ عالمی منڈیوں میں بھارت کی موجودگی کو وسعت دے رہی ہے۔ ادارہ جاتی مسلسل حمایت کے نتیجے میں، بھارت کا ناریل کا شعبہ روایتی ثقافتی علامت سے ترقی کرکے عالمی سطح پر ایک نمایاں شعبہ بن چکا ہے۔

 

حوالہ جات

  • Ministry of Agriculture & Farmers Welfare

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2023-02.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2025-11.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2026-03.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/farming-success-story.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2026-04.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/operational-guidelines.pdf

https://coconutboard.gov.in/About.aspx

https://coconutboard.gov.in/docs/FPO-concept-note.pdf

https://coconutboard.gov.in/ProducerSocieties.aspx

https://coconutboard.gov.in/docs/anreport2024-25english.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2203006&reg=3&lang=1

https://agriwelfare.gov.in/Documents/DAFW_AnnualReport_2025_26_En.pdf

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU2600_MjCQOQ.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/annex/270/AS89_vpvBlL.pdf?source=pqars

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2211783&reg=3&lang=2

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU4007_gp2V3z.pdf?source=pqals

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2241416&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2236048&reg=3&lang=1

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2024-01.pdf

https://sansad.in/getFile/annex/270/AS89_vpvBlL.pdf?source=pqars

https://coconutboard.gov.in/docs/Handicraft-Training.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2025-07.pdf

https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2026-02.pdf

  • Ministry of Finance

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221410&reg=3&lang=2

  • PIB Backgrounders

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253483&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177219&reg=3&lang=2

Click here for the pdf file.

*****

ش ح-ظ الف-ع ن

UR No. 7197


(ریلیز آئی ڈی: 2332415) وزیٹر کاؤنٹر : 6