بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سربانند سونووال نے 2047 تک ساحلی اور آبی گزرگاہوں کے ذریعے مال برداری کا حصہ دوگنا کرکے 12 فیصد تک پہنچانے کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا


پارادیپ بندرگاہ اور حکومت اوڈیشہ 1,500 کروڑ روپے کی لاگت سے پوری انٹرنیشنل کروز ٹرمینل کی تعمیر کرنے کے لیے اشتراک کر رہے ہیں: سربانند سونووال

ساحلی کارگو کے فروغ کی اسکیم اور کروز بھارت مشن سے 5,60,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 1.6 کروڑ ٹن کی بچت متوقع

ہندوستان کا بحری شعبہ وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے: پوری میں مشاورتی کمیٹی کے اجلاس سے سربانند سونووال کا خطاب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 8:04PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اوڈیشہ کے پوری میں منعقدہ مشاورتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دو مجوزہ اقدامات، یعنی ساحلی کارگو کے فروغ کی اسکیم اور کروز بھارت مشن کے ذریعے 2047 تک ہندوستان کی مال برداری میں ساحلی اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے نقل و حمل کا حصہ 6 فیصد سے دوگنا کر کے 12 فیصد تک پہنچانے اور 2029 تک سمندری کروز کے 10 لاکھ مسافروں کو راغب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر سربانند سونووال نے یہ بھی اعلان کیا کہ پوری انٹرنیشنل کروز ٹرمینل کو پارادیپ پورٹ اتھارٹی (پی پی اے) اور حکومت اوڈیشہ کے اشتراک سے تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے پر تقریباً 1,500 کروڑ روپے لاگت آنے کا امکان ہے۔

سونووال نے ساحلی اور کروز جہاز رانی کو مستحکم بنانے کے موضوع پر وزارت کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر مملکت شانتا نو ٹھاکر اور پارلیمنٹ کے آٹھ اراکین نے شرکت کی۔ وزارت کے سکریٹری نے ساحلی اور کروز جہاز رانی کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے موضوع کا تعارف کرایا۔

سونووال نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستان کے بحری شعبے میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں آئی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس 11,000 کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی ہے، جو طویل فاصلے تک مال برداری کو زیادہ صاف ستھرے طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک قدرتی فائدہ فراہم کرتی ہے۔ سونووال کے مطابق، گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستانی بندرگاہوں پر ساحلی کارگو کی مقدار 7.4 کروڑ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 17.7 کروڑ میٹرک ٹن ہو گئی ہے، جو تقریباً 140 فیصد اضافہ ہے۔

سربانند سونووال نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی متحرک قیادت میں ہماری ساحلی پٹی اور ہمارے دریاؤں کو ترقی کے محرکات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ساحلی کارگو کے فروغ کی اسکیم اور کروز بھارت مشن کے ذریعے سمندر کے راستے زیادہ سامان کی نقل و حمل اور ہماری ساحلی پٹی پر زیادہ سیاحوں کو لانے میں مدد ملے گی، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ماحولیات کا تحفظ بھی ہوگا۔‘‘

مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اعلان کردہ ساحلی کارگو کے فروغ کی اسکیم کے تحت کارگو مالکان، ساحلی جہازوں کے آپریٹروں اور کثیر ذرائع نقل و حمل کے آپریٹروں کو مراعات فراہم کی جائیں گی۔ کثیر ذرائع نقل و حمل سے مراد جہاز، ریل اور سڑک جیسے ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرکے سامان کی ترسیل کرنا ہے۔

سونووال نے کہا کہ سمندری کروز سیاحت کے شعبے میں بھی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں سمندری کروز کے 4,62,661 مسافر ریکارڈ کیے گئے اور 212 کروز جہازوں نے بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کے لیے آمد درج کرائی۔ مالی سال 2013-14 کے مقابلے میں مسافروں کی تعداد میں 5.5 گنا اور جہازوں کی آمد میں 2.1 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر 2024 میں شروع کیے گئے کروز بھارت مشن کا ہدف مارچ 2029 تک سمندری کروز کے 10 لاکھ مسافروں اور 4 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

اس وقت 16 قومی آبی گزرگاہوں پر دریا کے ذریعے کروز سیاحت کے 20 راستے فعال ہیں، جبکہ مزید 51 راستوں کی مرحلہ وار ترقی کے لیے نشاندہی کی گئی ہے۔ سونووال نے بتایا کہ دریا کے کروز ٹرمینلوں اور مسافروں کے اترنے چڑھنے کے مقامات میں سے 143 فعال ہیں۔ سونووال کے مطابق، دونوں اقدامات سے مجموعی طور پر 5,60,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 1.6 کروڑ میٹرک ٹن کی کمی آنے کی توقع ہے۔

سونووال نے اوڈیشہ میں قومی آبی گزرگاہ نمبر 5 کی ترقی کا بھی ذکر کیا، جس پر 13,000 کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس آبی گزرگاہ کا مقصد ریاست کے صنعتی اور کان کنی کے مراکز، بشمول تالچر اور کلنگا نگر، کو مشرقی ساحل کی بندرگاہوں سے جوڑنا ہے۔

پارلیمنٹ کے اراکین نے بحری شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کی تعریف کی اور ملک کے مختلف حصوں میں بحری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کیں۔

سونووال نے کہا، ’’میں پارلیمنٹ کے اراکین کی قیمتی بصیرت اور تجاویز کے لیے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جو اس سفر کی سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ وزیر اعظم مودی کے وژن کی رہنمائی میں ہم وکست بھارت کے لیے ایک مسابقتی، پائیدار اور خوشحال بحری نظام کی تشکیل کی جانب مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔‘‘

 

 

*********

 

ش ح۔ ف ش ع

  U: 7178


(ریلیز آئی ڈی: 2332295) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: Odia , English , हिन्दी