پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 6:18PM by PIB Delhi
ہند-بحرالکاہل علاقائی مکالمہ 2026 (آئی پی آر ڈی-2026)، جو بھارتی بحریہ کا سالانہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اسٹریٹجک مکالمہ ہے، 03 نومبر 2026 کو نئی دہلی میں شروع ہوا۔ نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن (این ایم ایف)، جو بحریہ کا علمی شراکت دار ہے، کے اشتراک سے منعقدہ یہ تین روزہ کانفرنس ’ہند-بحرالکاہل میں سائنس، ٹکنالوجی اور تعلیمی تعاون‘ کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں سائنسی ترقی اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کو عملی علاقائی تعاون میں تبدیل کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔
آئی پی آر ڈی-2026 کے افتتاحی دن مکالمے کا مرکزی سوال قائم کیا گیا: ’ہند-بحرالکاہل سائنسی علم اور تکنیکی جدت طرازی کو پائیدار ادارہ جاتی تعاون، مضبوط سمندری صلاحیتوں اور مشترکہ علاقائی لچک میں کیسے بدل سکتا ہے۔‘
کارروائی کا آغاز ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی (ریٹائرڈ)، چیئرمین این ایم ایف، اور سابق چیف آف دی نیول اسٹاف کے افتتاحی خطاب سے ہوا۔ اس کے بعد وائس ایڈمرل بسواجیت داس گپتا (ریٹائرڈ)، قومی سمندری سلامتی کوآرڈینیٹر، بھارت سرکار کا خصوصی خطاب ہوا۔
آئی پی آر ڈی-2026 کا پہلا سیشن ’تعلیمی نیٹ ورکس، تحقیق، اور انسانی وسائل کی ترقی‘ کے موضوع پر مرکوز تھا۔ اس سیشن کی نظامت وائس ایڈمرل سنجے مہندرو (ریٹائرڈ)، سابق ڈپٹی چیف آف دی نیول اسٹاف نے کی، اور اس میں فرانس، انڈونیشیا، جاپان اور مالدیپ کے نقطہ نظر پیش کیے گئے۔ اس میں ایک وسیع تر بحر ہند تعلیمی نیٹ ورک کے امکانات کو تلاش کیا گیا، جس میں ہند-بحرالکاہل کے ساحلی شہروں کی یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون بھی شامل ہے، اور بحر ہند میں سماجی-سائنسی تحقیقی نیٹ ورکس کا جائزہ لیا گیا۔ اس سیشن میں تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور حکومتوں کے درمیان قریبی روابط کو بھی تلاش کیا گیا۔ ’بھارت میں سمندری نابینائی اور سمندری ورثہ‘ کے عنوان سے ایک مونوگراف بھی اس سیشن کے اختتام پر جاری کیا گیا۔
دن کا دوسرا پیشہ ورانہ سیشن، ’سمندری صورت حال سے آگاہی اور اہم سمندری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ‘، نے سمندری تجارت اور اہم زیر آب بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے وابستہ عصری سمندری-آگاہی کے چیلنجوں کی وسعت کو اجاگر کیا۔ وائس ایڈمرل ترون سوبتی (ریٹائرڈ)، سابق ڈپٹی چیف آف دی نیول اسٹاف کی نظامت میں، اس نے ہند-بحرالکاہل شراکت داری برائے سمندری ڈومین آگاہی (آئی پی ایم ڈی اے) سے وابستہ مواقع اور چیلنجوں کا جائزہ لیا، خاص طور پر معلومات کے تبادلے کی عملی ضروریات، اور زیر آب ڈومین آگاہی کے لیے ایک تعاونی ہند-بحرالکاہل فن تعمیر کی ترقی کو تلاش کیا۔ اس سیشن میں اہم سمندری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تعاونی طریقوں پر بحر ہند کمیشن (آئی او سی) کے خیالات بھی شامل تھے۔
دونوں پیشہ ورانہ سیشنوں نے مل کر جائزہ لیا کہ تکنیکی نظام اور سائنسی شراکت داریوں کو سمندری معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنا کر، اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کر کے، سمندری علم تک رسائی کو بہتر بنا کر، اور آب و ہوا سے متعلق خطرات کے لیے زیادہ مربوط ردعمل کو ممکن بنا کر عملی طور پر کیسے مفید بنایا جا سکتا ہے۔
دن کے پروگرام میں ’سہیوگ کا سمواد‘ بھی شامل تھا، جو عزت مآب محترمہ ماہیشینی کولون، سری لنکا کی ہائی کمشنر؛ عزت مآب جناب جوسیل ایف اگناسیو، سفیر فوق العادہ و مختار کل، فلپائن کے سفارت خانے؛ اور عزت مآب محترمہ مے-ایلن اسٹینر، مملکت ناروے کی سفیر کے ساتھ ایک خصوصی سفارتی تبادلہ خیال تھا۔ اس تبادلہ خیال کی میزبانی اور نظامت وائس ایڈمرل پردیپ چوہان (ریٹائرڈ)، ڈائریکٹر جنرل، این ایم ایف نے کی۔
آئی پی آر ڈی-2026 کا پہلا دن انتہائی پر امید نوٹ پر اختتام پذیر ہوا، جس میں سامعین کی پرجوش شرکت تھی، جنھوں نے سائنس اور ٹکنالوجی میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے، اور تعلیمی تعاون کے ذریعے علم کے تبادلے پر کئی قابل عمل پالیسی سفارشات پیش کیں۔
(2)_20261103181850_ed773e.jpeg)
(2)_20261103181902_511710.jpeg)
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 7180