پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 5:50PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ اور ٹیکس مِن (TEXMiN) جو حکومت ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا ایک آغاز ہے اور آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) دھنباد میں قائم ہے، نے اہم اور اسٹریٹجک معدنیات کے شعبہ میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اعلامیۂ ارادہ (جوائنٹ اسٹیٹمنٹ آف انٹنٹ- ایس او آئی) پر دستخط کیے۔
اس اشتراک کا مقصد مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینا، تحقیق و اختراع کو آگے بڑھانا اور ہندوستان میں کلیدی معدنیات کی مضبوط، پائیدار اور مستحکم سپلائی ویلیو چینز کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ یہ تعاون قومی کلیدی معدنیات مشن(این سی ایم ایم) کے مقاصد اور خود کفیل و ترقی یافتہ ہندوستان (آتم نربھر اور وکست بھارت) کے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔

اس مشترکہ اعلامیۂ ارادہ (ایس او آئی) پر دستخط پروفیسر گوبردھن داس، رکن نیتی آیوگ کے آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) دھنباد کے دورے کے دوران کیے گئے۔ اس موقع پر انہوں نے 31 اکتوبر 2026 کو کلیدی معدنیات اور نایاب زمینی عناصر (سی ایم آر ای-2026) کے قومی سمپوزیم کا افتتاح بھی کیا۔ یہ سمپوزیم انڈین کونسل آف کیمسٹس کی 45ویں سالانہ قومی کانفرنس کے ایک حصے کے طور پر منعقد کیا گیا تھا۔
سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر داس نے قومی سلامتی، تکنیکی خود انحصاری اور وکست بھارت - 2047 کے ویژن کی تکمیل میں اہم معدنیات کے کلیدی کردار اور اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ ہندوستان کے مال دھات کاری (میٹالرجی) کے عظیم ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تحقیق، اختراع اور صنعت کے ساتھ اشتراک کے ذریعے ملک کی اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معدنیات کے شعبے میں صرف کان کنی تک محدود نقطۂ نظر سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مربوط ویلیو چین قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس میں معدنیات کی تلاش، پروسیسنگ، ریفائننگ، جدید مواد کی تیاری اور ری سائیکلنگ شامل ہوں۔ انہوں نے کوئلے کی راکھ (فلائی ایش)، ریڈ مڈ، کان کنی سے حاصل ہونے والے فضلے اور الیکٹرانک کچرے جیسے ثانوی وسائل سے اہم معدنیات کی بازیافت کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تحقیق کو تجارتی طور پر قابل عمل ٹیکنالوجیز میں تبدیل کرنے اور وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
نیتی آیوگ اور ‘ٹیکس مِن’ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اعلامیۂ ارادہ (ایس او آئی) میں چار اہم شعبوں میں تعاون کا تصور پیش کیا گیا ہے:
مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی۔
تکنیکی اور اسٹریٹجک مطالعات۔
پالیسی اور ادارہ جاتی معاونت۔
صلاحیت سازی اور علم کا تبادلہ۔
اس تعاون کا مقصد ملک کی مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، ٹیکنالوجی کو عملی اور تجارتی استعمال کے قابل بنانے کے عمل کو فروغ دینا اور حکومت، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ہے۔
اس سمپوزیم میں پالیسی سازوں، محققین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور صنعتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی اور ہندوستان میں اہم معدنیات اور نایاب زمینی عناصر کے نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
توقع ہے کہ یہ اقدام کلیدی معدنیات کی مستحکم اور قابل اعتماد سپلائی چینز قائم کرنے اور تکنیکی خود انحصاری کو آگے بڑھانے کی ہندوستان کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔

***************
ش ح -ظ الف-ت ع
UR. No- 7167