پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 5:36PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کی سرحدوں سے متصل کئی اضلاع میں کم عمر لڑکیوں کو ان کے والدین کی جانب سے 3 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک میں بچولیوں کے ہاتھوں فروخت کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یہ بچولئے جعلی دستاویزات کی مدد سے ان لڑکیوں کو اپنی گود لی ہوئی اولاد ظاہر کرکے دوسرے مقامات پر لے جاتے ہیں اور ان کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔ بالغ ہونے پر ان کی شناخت چھپانے کے لیے ذاتی تفصیلات تبدیل کرکے انہیں مہاراشٹر کے مختلف شہروں میں جنسی کاروبار کے لیے 35 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں دی گئی اطلاعات درست ہیں تو یہ معاملہ متاثرہ کم عمر لڑکیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔ اسی لیے کمیشن نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر کے چیف سکریٹریوں اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرلوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
30 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق غربت اور دیگر وجوہات کے باعث والدین اپنی بچیوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں اسمگلنگ کا شکار ہونے والی ایسی چار لڑکیوں کے مخصوص واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
*****
ش ح-ظ الف- ت ع
UR No. 7166