ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کی کانفرنس آف پارٹیز (کوپ-31) میں ہندوستان حل پر مبنی اور منصفانہ موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھائے گا: مرکزی وزیر ماحولیات


موسمیاتی مالیات کی یقینی فراہمی، تخفیفِ موسمیاتی تبدیلی اور موافقت کے عمل میں فریقین کی قیادت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور منصفانہ منتقلی ہندوستان کی اہم ترجیحات ہوں گی: جناب بھوپیندریادو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 2:54PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کے انطالیہ میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کی کانفرنس آف پارٹیز (کوپ 31) کے لیے ہندوستان کی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی) کی کوپ-17 اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی عمل (یو این سی سی ڈی) کی کوپ-17 میں ہندوستان کی شرکت کے اہم نتائج کو بھی اجاگر کیا۔ آج نئی دلی میں ذرائع ابلاغ کو تفصیل بتاتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کوپ 31 میں حل پر مبنی وژن کے ساتھ شرکت کرے گا اور عالمی جنوب کے ممالک کے لیے عملی حل پیش کرے گا۔ اس سلسلے میں صلاحیت سازی، علم کے تبادلے اور مخصوص جغرافیائی خطوں کے مطابق حل کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان جی-77 اور چین، ایل ایم ڈی سی اور بیسک گروپ کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔

وزیر موصوف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہندوستان موسمیاتی کنونشن کے مقاصد اور پیرس معاہدے کے اہداف کے حصول کے لیے عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مالیات ہندوستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہوگی اور اس سلسلے میں ہندوستان کوپ 31 میں موسمیاتی مالیات کے عملی پروگرام کے آغاز سے متعلق فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ جناب یادو نے زور دیا کہ آرٹیکل 9.1 کے تحت مالی وسائل فراہم کرنا ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری ہے اور یہ وسائل قابلِ پیش گوئی ہونے چاہئیں، ان کی فراہمی زیادہ تر سرکاری ذرائع سے اور رعایتی شرائط پر ہونی چاہیے، نیز ان سے قرضوں کا بوجھ نہیں بڑھنا چاہیے۔ہندوستان این ڈی سی کی قومی سطح پر طے شدہ نوعیت کا احترام کرتے ہوئے اور اوپر سے نیچے کے نئے اہداف کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی پر مبنی ، سہولت بخش اور کسی جرمانے سے بچنے کے لئے تخفیف اور عالمی اسٹاک ٹیک کے لیے بھی دباؤ ڈالے گا۔

مزید برآں، وزیر موصوف نے بتایا کہ موافقت ہندوستان کی ترجیحات میں شامل رہے گی۔ اس سلسلے میں موافقت کے عالمی ہدف کے اشاریے رضاکارانہ ہونے چاہئیں اور انہیں مالی وسائل تک رسائی کی شرط نہیں بنایا جانا چاہیے، جبکہ موافقت کے لیے مالی وسائل میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ہندوستان فریقین کی قیادت میں وضع کردہ طریقۂ کار کے ذریعے منصفانہ منتقلی کے عملی پروگرام کو جاری رکھنے کی حمایت کرے گا۔ ہندوستان منصفانہ منتقلی کو موسمیاتی انصاف، ترقی کے حق اور سستی توانائی تک رسائی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہندوستان اس بات پر زور دے گا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں لاگت، تخلیقی و اختراعی حقوق (آئی پی آر) اور تجارت سے متعلق رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہیے۔ کاربن منڈیوں میں شرکت رضاکارانہ رہنی چاہیے۔ ہندوستان اس بات کو بھی اجاگر کرے گا کہ صدارت کے عملی ایجنڈے کے تحت رضاکارانہ اقدامات مذاکراتی عمل سے الگ رہنے چاہئیں اور یکساں عالمی اہداف میں قومی حالات و ضروریات کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔

ہندوستان زراعت میں موافقت کی ضرورت، غذائی تحفظ اور چھوٹے و حاشیایہ پر مبنی کسانوں کے ذریعۂ معاش کے درمیان باہمی تعلق کو بھی اجاگر کرے گا۔ کوپ 31 میں ہندوستان کی سرگرمیوں میں سویڈن کے ساتھ لیڈ آئی ٹی 3.0 کے علاوہ ساحلی علاقوں کی موسمیاتی لچک سے متعلق اعلیٰ سطحی ضمنی تقریبات اور آئی بی سی اے اور جنگلات پر مبنی مذاکرے بھی شامل ہوں گے۔ جناب یادو نے کہا کہ ہندوستان انطالیہ میں تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے مختلف فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ کانفرنس کے نتائج محض وعدوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان پر عمل درآمد اور ضروری تعاون کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

جناب یادو نے بتایا کہ یریوان (آرمینیا) میں منعقدہ حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی) کی کوپ-17 کے دوران ہندوستان نے کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (کے ایم جی بی ایف) پر مؤثر اور منصفانہ عمل درآمد کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر قومی ترجیحات، حالات اور قانون سازی کے ڈھانچوں، برادریوں کی شمولیت، فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم، نیز مالی وسائل کی مناسب اور قابلِ پیش گوئی فراہمی، صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ہندوستان نے کنونشن کے آرٹیکل 20(2) کے تحت ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھرپور وکالت کی، مالی وسائل فراہم کرنے والے ممالک کی بنیاد کو لازمی طور پر وسعت دینے یا موجودہ مالی ذمہ داریوں کو ترقی پذیر ممالک پر منتقل کرنے کی مخالفت کی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے قابلِ رسائی، مناسب اور منصفانہ مالی وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ڈیجیٹل سیکوئنس انفارمیشن (ڈی ایس آئی) کے معاملے پر جناب یادو نے بتایا کہ ہندوستان نے کثیر فریقی طریقۂ کار، بشمول کالی فنڈ، کے ذریعے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی قومی سطح پر رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) کے نظام اور خودمختار حقوق کے احترام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے کے ایم جی بی ایف پر عمل درآمد کے عالمی جائزے کے لیے فریقین کی قیادت میں سہولت کارانہ، غیر مداخلتی اور غیر تعزیری طریقۂ کار کی بھی وکالت کی، جس کی رہنمائی قومی حالات اور ترجیحات کے مطابق ہو، نیز حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس پر عمل درآمد کے لیے پوری حکومت اور پورے معاشرے کی شمولیت پر مبنی نقطۂ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔

منگولیا کے شہر اولان باتر میں منعقدہ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی عمل (یو این سی سی ڈی) کی کوپ-17 کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے اس بات کو اجاگر کیا کہ زمین کی بحالی خوارک اور پانی کی یقینی فراہمی، حیاتیاتی تنوع، ذریعۂ معاش اور دیہی معیشتوں کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیا-بحرالکاہل علاقائی گروپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہندوستان نے 2030 تک 2 کروڑ 60 لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ اراضی کی بحالی کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے لیے متنوع، مناسب، قابلِ پیش گوئی اور مسلسل بین الاقوامی مالی وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ جناب یادو نے کہا کہ ہندوستان نے خشک سالی سے نمٹنے کے محض ردعمل پر مبنی طریقۂ کار کے بجائے اس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی جانب پیش رفت کی وکالت کی، چراگاہوں کی سائنسی بنیادوں پر اور مقامی برادریوں کی قیادت میں بحالی کی حمایت کی اور خانہ بدوش مویشی پالنے والوں کو ان علاقوں کا محافظ اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ ہندوستان نے اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہندوستان کے گھاس کے میدانوں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظاموں کے لیے رہنما کتاب بھی جاری کی، جو زمین کی بحالی کے لیے اس کے سائنسی بنیادوں پر مبنی اور مخصوص جغرافیائی خطوں کے مطابق اختیار کردہ نقطۂ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ ان تینوں عالمی عمل میں ہندوستان کی شرکت مساوات، قومی حالات، سائنس پر مبنی حل اور عمل درآمد کے لیے مناسب وسائل کی فراہمی، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ کوپ 31 میں ہندوستان ایسے متوازن اور عملی نتائج کے حصول کے لیے کام کرے گا، جو عمل درآمد، تعاون اور بین الاقوامی اشتراک کو مزید مستحکم کریں۔ اس موقع پر موجود دیگر معزز شخصیات میں سکریٹری (وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی) جناب نریندر بھوشن، ایڈیشنل سکریٹریز ڈاکٹر امن دیپ گرگ اور جناب آشوتوش اگنی ہوتری، جوائنٹ سکریٹریز جناب رجت اگروال اور جناب ادے چودھری، انسپکٹر جنرل (جنگلات) ڈاکٹر کلیمنٹ بین کے علاوہ وزارت کے دیگر سینئر افسران شامل تھے۔

******

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا )

UR.No-7148


(ریلیز آئی ڈی: 2332068) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Nepali