پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 2:29PM by PIB Delhi
مہاراشٹر کے گورنر جناب جشنو دیو ورما جی، وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب منوہر لال جی، مہاراشٹر کے نائب وزرائے اعلیٰ جناب ایکناتھ شندے جی، محترمہ سنیترا اجیت پوار جی، تمام وزراء، اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی، دیگر عوامی نمائندگان اور پونے کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
دوالی اگدی جَول آلی آہے، سروَپرتھم تمھا سَروَنا، دِوالیچیا کھوپ کھوپ شُبھَیچھا!(دیوالی بالکل قریب آچکی ہے۔ سب سے پہلے آپ سبھی کو دیوالی کی دلی مبارکباد!)
ساتھیو!
تہواروں کی خوشیاں اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہیں، جب زندگی میں کوئی نئی سہولت شامل ہوتی ہے۔ آج پونے کے لوگوں کے لیے بھی ایسا ہی ایک خوشگوار موقع ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج پونے میٹرو کی ایک اور لائن کا افتتاح ہو رہا ہے۔ 10 برس قبل مجھے پونے میں پہلے مرحلے کے کام کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ اب ہنجواڑی سے شیواجی نگر کے درمیان میٹرو شروع ہونے سے پونے کے ایک بڑے آئی ٹی مرکز کو بہتر رابطہ کاری کی سہولت حاصل ہوگی۔ آج جس نئی لائن پر کام شروع ہوا ہے، اس سے پونے کے قدیم اور نئے علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ میں پونے اور مہاراشٹر کے تمام لوگوں کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
پونے شہر ہمیشہ سے ایسے افکار و نظریات کا مرکز رہا ہے، جنہوں نے ملک اور معاشرے کو نئی سمت عطا کی ہے۔ آج پونے’وکست بھارت‘ کی نئی توانائی کو بھی سمت دے رہا ہے۔ آئی ٹی، آٹوموبائل، فارما، اسٹارٹ اَپس، اختراع سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، پونے ملک کے نوجوانوں کے لیے خوابوں اور عزم و ارادے کی سرزمین ہے۔ ایسے میں یہاں میٹرو رابطہ کاری کا مسلسل مضبوط ہونا، پونے شہر کی ترقی کو نئی رفتار دینے جا رہا ہے۔
ساتھیو!
پونے میٹرو کا افتتاح اور اس کی توسیع یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہم کس طرح کے شہروں کی تعمیر کر رہے ہیں۔ پہلے کسی شہر کی شناخت اس کی صنعتوں یا وہاں کے مشہور کھانوں، پھلوں اور فصلوں سے ہوتی تھی، لیکن آج شہروں کی شناخت کے ساتھ دو اور پیمانے بھی جڑ گئے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شہر کتنا مسابقتی ہے اور دوسرا یہ کہ وہاں معیارِ زندگی (ایز آف لیونگ) کی سطح کیا ہے؟ میٹرو پروجیکٹ ان دونوں پیمانوں پر کسی بھی شہر کو مزید بہتر بناتا ہے۔ پونے میٹرو کی جتنی توسیع ہو رہی ہے، اس سے وقت کی بچت بھی ہو رہی ہے اور پونے کے باشندوں کو زیادہ سہولت بھی مل رہی ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ جب شہر کا وقت بچتا ہے تو اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب شہر کی پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے تو ملک کی معیشت کو رفتار ملتی ہے اور جب معیشت ترقی کرتی ہے تو غریب اور متوسط طبقے، دونوں کو اس کا فائدہ ملتا ہے۔
ساتھیو!
آج کا یہ دن عوام دوست اور فعال و موثر طرز حکمرانی کی بھی ایک مثال ہے۔ ہمارے ملک میں پہلی میٹرو 1984 میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد کے 30 برسوں میں صرف 248 کلومیٹر طویل میٹرو لائن تعمیر کی گئی،Two Hundred and Forty Eight Kilometre۔ 2014 تک ملک کے صرف 5 شہروں میں میٹرو چل رہی تھی۔ اگر وہی پرانی سوچ برقرار رہتی، پرانی حکومت ہوتی اور کام کرنے کا وہی پرانا طریقہ رائج رہتا تو پونے میں میٹرو پہنچنے میں کئی دہائیاں اور لگ جاتیں، لیکن 2014 میں جب ملک نے این ڈی اے کو خدمت کا موقع دیا تو ہم ایک عزم لے کر آگے بڑھے۔ یہ عزم شہروں میں رہنے والے متوسط طبقے کے لیے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے، آمدورفت کو آسان بنانے اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کا تھا۔ اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔گزشتہ 12 برسوں میں ملک میں میٹرو ٹرانسپورٹ کا نقشہ ہی بدل چکا ہے۔ 2014 میں جہاں میٹرو کاروٹ 248 کلومیٹر تک محدود تھا، وہیں اب بڑھ کر تقریباً 1200 کلومیٹر ہو چکا ہے۔ 2014 میں جہاں صرف 5 شہروں میں میٹرو چل رہی تھی، وہیں اب ملک کے 26 شہروں میں میٹرو چلنے لگی ہے۔ اب ہر روز ایک کروڑ سے زیادہ لوگ میٹرو کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔ آج ہندوستان کا میٹرو نیٹ ورک دنیا کے تین سب سے بڑے میٹرو نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے۔
ساتھیو!
ملک کے باقی حصوں میں جو صورت حال تھی، وہی حالات مہاراشٹر کے بھی تھے۔ 2014 میں جب پہلی بار این ڈی اے کی ڈبل انجن حکومت بنی، اس وقت مہاراشٹر میں صرف 10 سے 11 ؍کلومیٹر میں ہی میٹرو لائن خدمات دستیاب تھیں۔ آج مہاراشٹر میں تقریباً 175 ؍کلومیٹر طویل میٹرو لائن خدمات انجام دے رہی ہے۔ 680 کلومیٹر سے زیادہ طویل میٹرو لائنوں پر کام جاری ہے۔ آج صرف میٹرو بنیادی ڈھانچے پر ہی مہاراشٹر میں ڈھائی لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ یہ پیسہ مزدوروں کی جیب میں جا رہا ہے، یہ پیسہ انجینئروں کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ یہ پیسہ دکانوں اور کارخانوں میں روزگار پیدا کر رہا ہے۔
ساتھیو!
یہ میٹرو پروجیکٹ ایک اور وجہ سے بھی خاص ہے۔ اس میٹرو لائن کی تعمیر پی پی پی ماڈل کے تحت کی گئی ہے۔ یعنی یہ حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے تیار ہوئی ہے۔ یہ ترقی کا ایک ایسا ماڈل ہے، جس کی کامیابی سے ملک کی ترقی کو مزید رفتار ملے گی۔
ساتھیو!
آج وکست بھارت کی تعمیر کے لیے ہندوستان کا ایک ایک شہری، ملک کا ہر نوجوان بیٹا اور بیٹی پوری طاقت کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ آج ہر کوئی پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ ہم یہ کر کے دکھائیں گے، ہم یہ کر کے دکھائیں گے(We Will Do It. We Will Do It)۔ یہی جذبہ پورے ملک میں پایا جاتا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی توانائی دیہات کی سڑکوں، شاہراہوں اور ایکسپریس ویز، نئی ریلوے لائنوں کی برقی کاری، طویل سرنگوں اور بلند و بالا پلوں کی تعمیر میں صرف ہو رہی ہے۔ مختلف قسم کی اسکیموں کے ذریعے نئے نئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ اب آنے والے برسوں میں ملک اپنی توانائیاں اپنے شہروں کو دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کرنے کے لیے بھی صرف کرنے والا ہے۔
ساتھیو!
ہمارے شہر صرف رہنے کی جگہیں نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کے بڑے مراکز بھی ہیں۔ ہمیں ملک کے سیکڑوں چھوٹے شہروں کو بھی ترقی کے مراکز بنانے ہیں۔ اسی وژن کے تحت رواں برس فروری میں اربن چیلنج فنڈ کو منظوری دی گئی تھی۔ اس فنڈ کے لیے مرکزی حکومت ایک لاکھ کروڑ روپے کی مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے آنے والے برسوں میں ملک کے شہروں میں لاکھوں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ میں مقامی بلدیاتی اداروں، نجی شعبے سے وابستہ ساتھیوں اور تمام متعلقہ فریقوں سے آگے آنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ہم سب کو مشن موڈ میں مل کر کام کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مہاراشٹر اس میں اپنا کردار کو مزید وسعت دےگا۔
ساتھیو!
آج دو اور وجوہات کی بنا پر دنیا بھر میں ہندوستان کی بات ہو رہی ہے۔ پہلی یہ کہ ہندوستان نے مشکل عالمی حالات کے باوجود دنیا میں سب سے تیز رفتار ترقی کا سلسلہ برقرار رکھا ہے۔ دوسری یہ کہ ہندوستان میں صرف 10 سے 12 برسوں کے اندر ہی 50 کروڑ لوگوں نے شدید غربت کو شکست دی ہے۔ یہ بات ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ ملک کی کئی نسلیں غربت کے خاتمے کے وعدوں اور دعوؤں کے درمیان ہی پروان چڑھتی رہی ہیں۔ پہلے غربت کے خلاف لڑائی صرف نعروں تک محدود تھی، لیکن آج ہندوستان عملی طور پر غربت کو شکست دے رہا ہے۔
ساتھیو!
آج ہندوستان وہ ملک ہے جو تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت بھی ہے اور غربت میں تیزی سے کمی لانے والا ملک بھی ہے۔ یہ دونوں کامیابیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ملک کا بجٹ بڑھ رہا ہے اور ملک کے عوام پر زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پہلے جو پیسہ گھوٹالوں اور اقربا پروری کی وجہ سے راستے میں ہی ضائع ہو جاتا تھا، اب وہ براہِ راست مستحقین تک پہنچ رہا ہے۔ جب ملک کے خزانے کا پیسہ سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں اور میٹرو پر خرچ ہوتا ہے، جب حکومت بجلی، پانی اور گیس پائپ لائنوں پر سرمایہ کاری بڑھاتی ہے، تو اس سے لوگوں کی زندگی بھی بہتر ہوتی ہے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔
ساتھیو!
غریبوں کے لیے گھر، بیت الخلا، ہر گھر تک پینے کا صاف پانی اور گیس کنکشن جیسی سہولتوں سے لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے اور ان کا وقت بھی بچ رہا ہے۔ اس وقت کو وہ اپنے خاندان کے لیے اضافی آمدنی حاصل کرنے میں استعمال کر رہے ہیں۔
ساتھیو!
گزشتہ ماہ ہی آپ سب کے آشیرواد سے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے میرے 25 سال مکمل ہوئے ہیں۔ ہماری حکومت کا ہمیشہ سے یہ منتر رہا ہے کہ غریبوں کو بااختیار بناؤ، تو ان میں اپنی غربت سے باہر نکلنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا، تو اسی سوچ کے ساتھ میں نے غریب کلیان میلوں کی روایت شروع کی تھی۔ ان میلوں میں غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کے فوائد ان تک پہنچانے پر توجہ دی جاتی تھی۔ غریبوں کو اسٹیج پر مدعو کیا جاتا تھا۔ وہ غربت کو شکست دینے کا عزم لے کر وہاں سے لوٹتے تھے اور ان کے اندر ایک نیا اعتماد پیدا ہوتا تھا۔
ساتھیو!
جو کام میں نے 25 سال پہلے شروع کیا تھا، وہ آج بھی مسلسل جاری ہے۔ اسی کو میں ’’بااختیار بنانے کے لیے اختیارات کی فراہمی‘‘ (Power to Empower )کہتا ہوں۔ یہی اچھی حکمرانی ہے۔ یعنی یہ تبدیلی یکایک نہیں آئی ہے۔ ماضی میں حکومتیں صرف نعرے لگاتے لگاتے تھک چکی تھیں۔ ہم نے ایک ایک کڑی کو جوڑا ہے اور ایک ایک زندگی کے خوابوں کو پروان چڑھایا ہے۔ یہ برسوں کی سوچی سمجھی اور منصوبہ بندکوششوں کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے 50 کروڑ ہندوستانیوں نے غربت کو شکست دی ہے۔
ساتھیو!
جب غربت کم ہوتی ہے تو اس کا فائدہ صرف ان خاندانوں کو نہیں ہوتا جو اس چکر (دلدل)سے باہر نکلتے ہیں، بلکہ اس سے ملک کی معیشت میں ایک نئی جان پڑتی ہے۔ یہ ایک نئے متوسط طبقے کو جنم دیتا ہے۔ نیا متوسط طبقہ نئے خواب لے کر آتا ہے، جس کی قوت خرید بازار کو نئی رفتار عطا کرتی ہے۔ دکانوں سے لے کر کارخانوں تک، نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہندوستان میں غربت میں کمی، ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے۔
ساتھیو!
وکست بھارت کے اس سفر میں ہمارے کسان بھائیوں اور بہنوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت کسان بھائیوں اور بہنوں کو مسلسل بااختیار بنا رہی ہے۔ اگرچہ مہاراشٹر میں موسم کی بے رخی کے باعث اس وقت کسانوں کے بہت سے خاندان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں دیویندر فڑنویس جی کی قیادت میں آبی تحفظ کے لیے بہت سے کام کیے گئے ہیں، لیکن اس قدرتی آفت نے بڑی پریشانی پیدا کر دی ہے۔ میں مہاراشٹر کے ہر کسان بھائی اور بہن کو یقین دلاتا ہوں کہ بحران کی اس گھڑی میں این ڈی اے حکومت پوری حساسیت کے ساتھ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔مہاراشٹرَت دُشکالچی مالا ماہیَتی آہے۔ راجیہ سرکارنے آگاؤ مدد سُدھا دِلی آہے۔ می پی ایم کسانچا ندھی جمع کیلا۔ اَجِبات کَڑجی، کرو ناکا، آمی سارے شیتکڑیاں سوبت آہوت۔( مجھے مہاراشٹر میں خشک سالی کی صورتِ حال کا علم ہے۔ ریاستی حکومت نے پیشگی امداد بھی فراہم کی ہے۔ میں نے پی ایم کسان کی رقم بھی منتقل کر دی ہے۔ آپ بالکل فکر نہ کریں، ہم سب کسانوں کے ساتھ ہیں۔)
ساتھیو!
میں ملک کے عوام سے بھی کہنا چاہوں گا کہ یہ تہواروں کا موسم ہے۔ ہمیں اپنے کسان بھائیوں اور بہنوں کو یاد رکھنا ہے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ ان کے گھروں میں بھی دیوالی کی خوشیاں برقرار رہیں۔ یہ ہماری سماجی ذمہ داری بھی ہے کہ جو شہری خشک سالی سے متاثر ہیں، جو کسان بھائی اور بہنیں ہیں اور جو دیگر لوگ دیہات میں رہتے ہیں، ان کی تکالیف کو بھی ہم فراموش نہ کریں۔ ہم سب مل کر ہی اس آفت کا مقابلہ کریں گے۔
ساتھیو!
سب کا ساتھ اور متحدہ کوشش ہی وکست بھارت کی قوت حیات ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہمیں ملک کی ترقی کے لیے مسلسل کام کرتے رہنا ہے۔ ایک بار پھر آپ سب کو میٹرو پروجیکٹوں کے لیے دلی مبارکباد۔ آنے والے تہواروں کے لیے بھی بہت بہت نیک خواہشات۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ!
پونے کے لوگو! میرے ساتھ بولیے، بلند آواز میں، پوری طاقت کے ساتھ، دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر بولیے-
بھارت ماتا کی جے!
بھارت ماتا کی جے!
بھارت ماتا کی جے!
********
ش ح۔ م ع ن۔ ن ع
U-NO-7146