سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دیہی کسان گھرانے سے عالمی تعلیم تک کا سفر


نیشنل اوورسیز اسکالرشپ نے ایک نوجوان اے آئی گریجویٹ کو آسٹریلیا کی معروف موناش یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرکے اس کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 2:25PM by PIB Delhi

درج فہرست ذات کے ایک نوجوان طالب علم، آرو مانے (نام تبدیل کیا گیا ہے)، کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بروقت تعلیمی معاونت کس طرح باصلاحیت طلبہ کو مالی اور جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پانے، عالمی سطح پر تعلیمی مواقع تک رسائی حاصل کرنے اور اپنے پیشہ ورانہ عزائم کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔

نیشنل اوورسیز اسکالرشپ نے نہ صرف انہیں ایک اہم تعلیمی سنگِ میل حاصل کرنے کے قابل بنایا بلکہ ان کے خاندان اور دیہی برادری کے لیے فخر اور نئے امکانات کے دروازے بھی کھولے۔ یہ اسکیم ان کے تعلیمی سفر میں معاونت کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوئی۔

ایک دیہی کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ آراو مانے کے لیے، جہاں مالی وسائل محدود تھے، بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ایک دور کا خواب تھا۔ مالی مشکلات اور بین الاقوامی تعلیمی مواقع تک محدود رسائی کے باوجود، وہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانے اور تکنیکی جدت طرازی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم رہے۔

کسان برادری سے تعلق رکھنے کے باعث آرو کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کے والدین نے ان کے تعلیمی خوابوں کو پورا کرنے کے لیے بھرپور محنت کی، لیکن بیرونِ ملک ڈگری حاصل کرنے کے اخراجات ایک بڑا چیلنج تھے۔

بیرونِ ملک تعلیم کے حوالے سے رہنمائی اور معلومات تک محدود رسائی نے بھی ان کے تعلیمی سفر کو مزید مشکل بنا دیا۔ آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران، بعد کے سمسٹروں میں یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافے نے مالی بوجھ کو مزید بڑھا دیا۔ رہائش، روزمرہ اخراجات، تعلیمی وسائل اور تعلیمی ذمہ داریوں کو بیک وقت پورا کرنا ان کے خاندان کے لیے دن بہ دن مشکل ہوتا چلا گیا۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود آرو مصنوعی ذہانت کے انجینئر بننے کے اپنے مقصد کے حصول کے لیے پُرعزم رہے۔

نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے ذریعے انہیں 2024 سے 2026 تک کی مدت کے لیے ٹیوشن فیس، رہائشی اخراجات اور تعلیم سے متعلق دیگر اخراجات کی مد میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اس معاونت نے انہیں آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، اور اس طرح ان کے خاندان پر ناقابلِ برداشت مالی بوجھ پڑنے سے بچ گیا۔

نیشنل اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت 2024 سے 2026 تک کی مدت کے لیے ٹیوشن فیس، رہائشی اخراجات اور تعلیم سے متعلق دیگر اخراجات کی مد میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔

اس اسکیم نے انہیں آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی میں معیاری بین الاقوامی تعلیم حاصل کرنے، عالمی سطح پر تعلیمی تجربات سے روشناس ہونے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدید تکنیکی مہارتیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/Screenshot2026-11-03142541_20261103142644_5f62ab.png

مالی اور جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے، آرو نے موناش یونیورسٹی، آسٹریلیا سے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) میں ماسٹرز کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے اور اب ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنا پیشہ ورانہ کیریئر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ بھارت میں بطور مصنوعی ذہانت کے انجینئر کام کریں، مصنوعی ذہانت پر مبنی مؤثر اور مفید حل تیار کریں اور مصنوعی ذہانت اور تکنیکی جدت طرازی کے شعبوں میں ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس اسکالرشپ نے انہیں معیاری بین الاقوامی تعلیم تک رسائی حاصل کرنے، عالمی سطح پر تعلیمی تجربات سے روشناس ہونے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدید تکنیکی مہارتیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے علاوہ، اس معاونت نے ان کے پیشہ ورانہ اعتماد کو مضبوط بنایا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ان کے ممکنہ استعمال کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ کو مزید وسعت دی۔

 

*************

ش ح ۔ض ر۔ق ر

UR. No- 7147


(ریلیز آئی ڈی: 2332049) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Nepali