پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 9:38PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے شمال مشرقی خطے (این ای آر) کی سکم ریاست میں مویشی پروری اور ڈیری کے محکمے (ڈی اے ایچ ڈی) کے مختلف اقدامات اور ترقیاتی پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے 2 سے 3 نومبر 2026 تک مذکورہ ریاست کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد ڈیری کے شعبے کے فروغ کو مستحکم بنانا، دیسی مویشی نسلوں کو فروغ دینا، مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں بہتری لانا، ڈیری کوآپریٹیو کے نیٹ ورک کو وسعت دینا اور کسانوں و مویشی پالنے والوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔
مرکزی وزیر نے 2 نومبر کو ٹنگڈا سرکاری پرائمری اسکول کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے بات چیت کی اور انہیں تعلیم اور علم کے حصول کوجاری رکھنے کی ترغیب دی۔ وزیر موصوف نے رام تھانگ پرائمری ہیلتھ سب سینٹر (پی ایچ ایس سی) اور ویلنیس سینٹر کا بھی دورہ کیا اور وہاں دستیاب طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
عزت مآب مرکزی وزیر نے اس طرح ایک نمائش کا بھی دورہ کیا جس میں سیری نسل کے سانڈ، گائیں اور ان سے تیار کردہ قدر افزا مصنوعات پیش کی گئی تھیں۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے کسانوں سے بات چیت کی اور دیسی نسلوں کے تحفظ نیز مویشیوں پر مبنی ذرائع معاش کے مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ڈیری اور مویشی پروری سے متعلق مصنوعات اور مقامی طور پر کاشت کی جانے والی نامیاتی سبزیوں کی نمائش کرنے والے اسٹالس کا بھی معائنہ کیا۔
عزت مآب مرکزی وزیر نے مانگن میں ڈیجیٹل طریقے سے شمالی ضلع کوآپریٹو دودھ پروڈیوسرز یونین لمیٹڈ (این ڈی ایم یو) کا آغاز کیا۔ یہ اقدام ’سفید انقلاب 2.0‘ کے تحت کیا گیا، جو ڈیری کوآپریٹو نیٹ ورک کو مستحکم بنانے اور شمالی سکم میں منظم ڈیری سرگرمیوں کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس پہل سے ڈیری کسانوں کی کوآپریٹو نیٹ ورک میں شمولیت بڑھے گی اور ڈیری کے شعبے کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی تعاون مضبوط ہوگا۔
عزت ماب مرکزی وزیر نے ’’خنزیروں میں منی کی پیداوار کے لیے کم از کم معیاری ضابطہ اور مائع منی کے ذریعے مصنوعی نسل کشی کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار‘‘ کا بھی آغاز کیا ۔ اس اشاعت م خنزیروں میں منی کی پیداوار اور مائع منی کے ذریعے مصنوعی نسل کشی (اے آئی) کے لیے ایک معیاری نظام وضع کیا گیا ہے۔ مذکورہ ضوابط کا مقصد سائنسی طریقوں سے افزائش نسل کو فروغ دینا، جینیاتی معیار بہتر بنانا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا، حیاتیاتی تحفظ کو مستحکم بنانا اور خنزیر پالنے کے شعبے میں مصنوعی نسل کشی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔

توقع ہے کہ مذکورہ اقدام سے تولیدی صلاحیت میں بہتری آئے گی، بیماریوں کی منتقلی کے خطرات کم ہوں گے اور خاص طور پر شمال مشرقی خطے میں کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، جہاں خنزیر پالنا دیہی ذرائع معاش میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
معزز مرکزی وزیر نے سیری نسل کے مویشیوں کے تحفظ کے پروگرام کا بھی ڈیجیٹل طریقے سے آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد دیسی سیری نسل کے مویشیوں کا تحفظ اور فروغ، قیمتی جینیاتی وسائل کو محفوظ رکھنا اور سائنسی طریقوں سے افزائش نسل کے عمل کو مستحکم بنانا ہے۔
اس کے علاوہ، ا وزیر موصوف نے پاکیونگ ضلع کے چوچچین میں سیری سانڈوں کے افزائشی مرکز (مدر فارم) کا ڈیجیٹل طریقے سے سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ مجوزہ مرکز کا مقصد دیسی سیری نسل کے تحفظ کو مستحکم بنانا، جینیاتی بہتری میں معاونت فراہم کرنا اور اعلیٰ معیار کے جرثومی مواد کی افزائش اور تعداد میں اضافے کے لیے سائنسی طریقوں کو فروغ دینا ہے۔
اس دورے کا اختتام ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ کے خطاب کے ساتھ ہوا۔ جنہوں نے ڈیری اور مویشی پروری کے شعبوں کو مستحکم بنانے، دیسی نسلوں کو فروغ دینے، افزائش نسل کی جدید ٹیکنالوجیز اپنانے اور کسانوں و مویشی پالنے والوں کے لیے پائیدار ذرائع معاش کے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔

مرکزی وزیر نے اپنے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ بھارتی حکومت کا مویشی پروری اور ڈیری کا محکمہ، سکم میں دیسی سیری نسل کے مویشیوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک امتیازی مرکز قائم کرے گا۔ مرکزی وزیر نے سیری نسل کے مویشیوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کرنے کی بھی ہدایت دی، جس میں نسل کی بہتری، جینیاتی وسائل کے تحفظ اور سائنسی طریقوں سے افزائش نسل پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے جینیاتی بہتری کے عمل کو تیز کرنے اور اعلیٰ معیار کے جرثومی مواد کی افزائش و تعداد میں اضافے کے لیے ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے متعلق ایک عملی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عزت ماب مرکزی وزیر نے شمالی ضلع کوآپریٹو دودھ پروڈیوسرز یونین لمیٹڈ کو، سفید انقلاب 2.0 میں شامل کیے جانے پر مبارک باد دی۔ اس اقدام کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وزیر موصوف نے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) کو ڈیری پلانٹ کی جدید کاری، ڈیری کوآپریٹو نیٹ ورک کی توسیع اور ریاست میں ڈیری کے شعبے کی پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک مربوط ‘سکم ملک ’برانڈ تیار کرنے کا جامع منصوبہ وضع کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
مرکزی وزیر نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کسانوں و مویشی پالنے والوں کے لیے پائیدار ذرائع معاش کے مواقع پیدا کرنے کے لیے دیسی نسلوں کے تحفظ، افزائش نسل کی جدید ٹیکنالوجیز، ڈیری کے بنیادی ڈھانچے کے فروغ اور کوآپریٹو اداروں کی قیادت میں ترقی کے ذریعے ڈیری اور مویشی پروری کے شعبوں کو مستحکم بنانا انتہائی اہم ہے۔
***
ش ح۔ ش م ۔رض
7133:U-No