سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کے زیرِ اہتمام روایتی علم کے ابلاغ اور فروغ سے متعلق تیسری بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 NOV 2026 9:19PM by PIB Delhi

سی ایس آئی آر کے قومی ادارے برائے سائنسی ابلاغ و پالیسی تحقیق (این آئی ایس سی پی آر) کے زیرِ اہتمام روایتی علم کے ابلاغ اور فروغ سے متعلق تیسری بین الاقوامی کانفرنس (سی ڈی ٹی کے-2026) کا انعقاد 2 اور 3 نومبر 2026 کو نئی دہلی میں واقع سی ایس آئی آر-این پی ایل میں کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس  کا افتتاح 2 نومبر 2026 کو کیا گیا۔

معزز شخصیات یادگاری مجلہ،سووینیر ، مجموعہ کتاب اور سوَاستِک کے تیسرے شمارے کی رونمائی کرتے ہوئے

نیتی آیوگ کی معزز رکن ڈاکٹر جورام انیا اس تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں۔ انہوں نے اروناچل پردیش کے مقامی روایتی طریقوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقے ایک مضبوط اور پائیدار نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان ذہنوں پر زور دیا کہ وہ اس علم کو دنیا کے ساتھ بانٹیں اور پالیسی سازوں کو ایسی پالیسیاں وضع کرنے میں مدد دیں جو معاشرے اور روایتی علم کے حامل افراد کے لیے مفید ہوں۔ یہ کوشش بالآخر ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ انہوں نے سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کے ’سوَاستِک‘ (سائنسی طور پر توثیق شدہ سماجی روایتی علم) اقدام، بالخصوص مختلف زبانوں میں روایتی علم پر مرکوز اس کی مطبوعات کو ایک قابلِ ذکر کامیابی قرار دیتے ہوئے سراہا۔

اس پروگرام کے مہمانِ اعزازی پروفیسر بھوشن پٹوردھن نے زور دیا کہ روایتی علم کو تجسس اور سائنسی باریک بینی کے ساتھ سمجھنے اور اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ’ریورس فارماکولوجی‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس طریقۂ کار میں روایتی علم سے حاصل ہونے والے تحقیقی تصورات کو مفروضوں کی شکل دی جاتی ہے اور پھر تجربہ گاہوں اور طبی مطالعات کے ذریعے ان کی توثیق کی جاتی ہے۔ انہوں نے آیورو جینومکس، دوشاؤں کی جینیات، رسائن اور طویل العمری کے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ بھارتی وژڈم کے تمام شعبوں سے متعلق علم کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔

سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گیتھا وانی ریاسام نے روایتی علم کے تحفظ اور فروغ کے لیے سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے انسائیکلوپیڈیا پر مشتمل سلسلۂ اشاعت ’دی ویلتھ آف انڈیا‘ کا ذکر کیا، جس میں بھارت کے نباتات، حیوانات اور معدنی وسائل کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے ’انڈین جرنل آف ٹریڈیشنل نالج‘ کا بھی ذکر کیا، جو ماہرین کی جانچ کے بعد شائع ہونے والا ایک مفت اور کھلی رسائی کا تحقیقی جریدہ ہے اور اپنی اشاعت کے 25 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ انہوں نے روایتی علم کے ڈیجیٹل کتب خانے کی اہمیت اور ’سوَاستِک‘ اقدام پر بھی روشنی ڈالی۔

سی ایس آئی آر کی ممتاز سائنس داں اور ’سوَاستِک‘ کی سرپرست پروفیسر رنجنا اگروال نے ’سوَاستِک‘ کے قومی اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت آٹھ وسیع شعبوں میں مستند روایتی علم اور طریقوں کو سماجی ذرائع ابلاغ اور ویب پورٹل کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

کانفرنس کے دوران یادگاری مجلے اور مجموعہ کتاب، ’سوَاستِک اسٹوریز: سائنس کی نظر سے بھارتی روایتی علم‘ (جلد سوم) اور آسامی و میتھلی زبانوں میں ’ٹریژر آف انڈین ٹریڈیشنز‘ نامی ورق گردانی پر مبنی برقی کتاب کا بھی اجرا کیا گیا۔ کانفرنس کی منتظم سکریٹری اور سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کی پرنسپل سائنس داں ڈاکٹر چارو لتا نے اظہارِ تشکر کیا۔

اس کے بعد ’وژڈم اور شواہد کے درمیان ربط: روایتی علم کی دستاویز بندی، توثیق اور ذمہ دارانہ ابلاغ‘ کے عنوان سے پہلے سائنسی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر بی این جگتاپ اور ’سوَاستِک‘ کی رہبر کمیٹی کے چیئرمین نے کی۔ جام نگر میں واقع آئی ٹی آر اے کی ڈائریکٹر پروفیسر تنوجا منوج نیساری نے شواہد کی ذمہ دارانہ درجہ بندی اور ’نمستے‘ اور ’آئی سی ڈی-11 ٹی ایم 2‘ کے ذریعے مشترکہ اصطلاحات کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ معاشرے میں روایتی علم کی مؤثر تشہیر کے لیے ’سوَاستِک‘ کو عالمی ادارۂ صحت کے روایتی طب کے عالمی کتب خانے (ٹی ایم جی ایل) تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کے لیے یونیسکو کی علاقائی مشیر برائے ابلاغ و اطلاعات اور شعبۂ ثقافت کی سربراہ محترمہ معالی ہزاز نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی علم برادریوں کی ملکیت ہے، اس لیے اس کی تشہیر سے پہلے اخلاقی اصولوں، رضامندی، مناسب طور پر ماخذ اور علم کے حاملین کو تسلیم کرنے اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ فرید آباد میں واقع امریتا وشو ودیا پیٹھم کے ڈاکٹر مرتیونجے گوہا مجمدار نے شعور اور قابلِ شمار ہونے کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔

’روایتی وژڈم میں ماحولیاتی شعور اور جدید موسمیاتی حکمتِ عملیوں کے لیے اس کی اہمیت‘ کے موضوع پر دوسرے سائنسی اجلاس کی صدارت ناگپور کی ایل آئی ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اتل نارائن ویدیا نے کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں انہوں نے بھارتی علمی نظام کا ایک جامع تصور پیش کیا اور اس کے مربوط نقطۂ نظر کو اجاگر کیا، جس میں سائنس اور فلسفہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے ’ایشاواسیئم اِدم سروَم‘کے تصور کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جدید ماحولیاتی طریقۂ کار کے لیے ایک قابلِ عمل اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اجلاس کے شریک صدر ڈاکٹر سبرنا رائے نے عالمی واحدیومِ صحت کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کیا اور روایتی علم کو سائنس، حکمرانی اور پالیسی سے مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مغربی گھاٹ کے خطے میں قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق بھارت کی روایتی مثالیں پیش کیں، جن میں دیوراکاڈو کے مقدس جنگلات، گاؤں کی سطح پر جنگلات کا انتظام، روایتی تالاب، پتوں کی تہہ سے زمین کو ڈھانپنے کا طریقہ اور مقامی بیجوں کا تنوع شامل ہیں۔ انہوں نے دو طرفہ اشتراک کی وکالت کی، جس کے تحت سائنس روایتی طریقوں کی توثیق کرے اور مقامی علم ان طریقوں کو اپنانے کے عمل کو فروغ دے۔ بھوپال کے اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کیلاش راؤ نے اضافے اور تخفیف کے ذریعے تعمیر کے تصور کے حوالے سے روایتی فنِ تعمیر کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے نیل کنٹھ مہادیو مندر کا حوالہ دیتے ہوئے دراوڑی اور کلیانی چالوکیہ طرزِ تعمیر کے مطالعے میں تخلیقی نقشہ سازی کو شامل کرنے سے متعلق اپنی مہارت بھی بیان کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر انیل پی جوشی کے ویڈیو پیغام میں پہاڑی علاقوں کی آب و ہوا کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کو اجاگر کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے روایتی ماحولیاتی وژڈم کا احترام کرنا ضروری ہے۔

’روایتی علم کی دستاویز بندی، رقمی شکل میں محفوظ کرنے اور اس سے متعلق اخلاقی امور، بشمول مصنوعی ذہانت کے استعمال‘ کے موضوع پر پینل مباحثے کی صدارت وزارتِ تعلیم کے تحت بھارتی علمی نظام (آئی کے ایس) کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر پروفیسر رگھو راما بھٹّا یو نے کی۔ انہوں نے علم کی دستاویز بندی کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ سفر ویدک زبانی روایات اور قدیم مخطوطات سے شروع ہو کر جدید رقمی ذرائع تک پہنچا ہے۔ انہوں نے علم کی دستاویز بندی اور اس کی تشہیر میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ سی ایس آئی آر کے روایتی علم کے ڈیجیٹل کتب خانے کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر وشوجنانی ستیگیری نے روایتی علم کی منظم درجہ بندی میں اس کتب خانے کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے تحت اب تک 5,19,978 روایتی طریقوں اور فارمولوں کو دستاویزی شکل دی جا چکی ہے اور اس نے پیٹنٹ کی درخواستوں سے متعلق 375 معاملات میں موافق نتائج حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ عالمی ادارۂ تخلیقی و اختراعی حقوق (وائپو) کے شعبۂ روایتی علم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر این ایڈیلیون نے وائپو کے معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے لازمی انکشاف، پیٹنٹ کی جانچ اور برادریوں سے مشاورت کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ جینیاتی وسائل اور ان سے وابستہ روایتی علم کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔ انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سدھا گوپال کرشنن نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے علم کے تحفظ کے ارتقا کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ علم کے تحفظ کا سفر زبانی روایات سے مخطوطات تک پہنچا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے زبانی روایات کو محفوظ رکھنے، انہیں رقمی شکل دینے اور ان تک رسائی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے صدر دفتر کی سینئر مشیر ڈاکٹر راجیشوری سنگھ نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق عالمی اقدامات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اختراع کو فروغ دینے کے لیے وائپو کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ امریکہ کی کمپنی آئرن کلیڈ کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر سنیتا ورما نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی علم کو رقمی شکل دینے سے پہلے اس کے تحفظ کے لیے حکمتِ عملی اور مدون ضابطۂ کار وضع کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کا اخلاقی استعمال اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کانفرنس کے پہلے روز مختلف اہم موضوعات پر ملکی اور بین الاقوامی محققین کی جانب سے مجموعی طور پر 22 زبانی اور 40 پوسٹر پر مبنی تحقیقی مقالے بھی پیش کیے گئے۔ کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت نمائش کا پُررونق پویلین تھا، جہاں ’سوَاستِک‘ اور سی ایس آئی آر کی سات تجربہ گاہوں نے اپنی علمی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کی نمائش کی۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔رک)

U. No.7134

 


(ریلیز آئی ڈی: 2331932) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी