وزارت ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن نے وزارت ثقافت اور حکومت اروناچل پردیش کے اشتراک سے آج اروناچل پردیش کی توانگ میں ’’بدھ مت: ہمالیائی خطے اور اس سے آگے اس کی اشاعت‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 NOV 2026 10:06PM by PIB Delhi

نئی دہلی کی بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن نے حکومت ہند کی وزارت ثقافت اور حکومت اروناچل پردیش کے اشتراک سے آج اروناچل پردیش کے توانگ میں واقع کلاونگپو کنونشن سینٹر میں ’’بدھ مت: ہمالیائی خطے اور اس سے آگے اس کی اشاعت‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس توانگ میں مقدس نشانیوں کی نمائش کے موقع پر منعقد کی گئی۔

اس کانفرنس میں بھارت، نیپال، سری لنکا، میانمار، ملیشیا، انڈونیشیا اور جرمنی کے بدھ بھکشوؤں، دانشوروں اور مندوبین نے شرکت کی۔

افتتاحی اجلاس کا آغاز سنگھ کے معززاراکین کے ذریعہ منگلاچرن (مقدس منتر جاپ)سے ہوا، جس کے بعد بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن کے سکریٹری جنرل شارٹسے کھینسور جنگچپ چوڈین رنپوچھے نے استقبالیہ خطاب کیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن کے سکریٹری جنرل نے کانفرنس کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بدھ مت کی پیدائش بھارت کے میدانی علاقوں میں ہوئی اور وہاں سے یہ پورے برصغیر اور اس سے آگے کے علاقوں تک پھیلا۔ انہوں نے اروناچل پردیش کے معزز وزیر اعلیٰ کا بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ سکریٹری جنرل نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون فراہم کرنے پر اروناچل پردیش انتظامیہ اور حکومت ہند کی وزارت ثقافت کے تئیں بھی اظہارِ تشکر کیا۔

بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن (آئی بی سی)کے سکریٹری جنرل نے بتایا کہ یہ موقع خصوصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسی موقع پر کنفیڈریشن کا 14 واں یومِ تاسیس بھی منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران کنفیڈریشن بدھ دھمّ  کی خدمت کے لیے مسلسل سرگرم عمل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن دنیا بھر کی خانقاہی اور عام بدھسٹ تنظیموں کو متحد کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بدھ دھمّ کی خدمت کے مقصد سے نو تشکیل شدہ اروناچل بدھسٹ کنفیڈریشن (اے بی سی) کے ساتھ مستقبل میں اشتراک و تعاون کی امید بھی ظاہر کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ اور تقریب کے مہمان خصوصی جناب پیما کھانڈو نے بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن کو اس کے 14 ویں یوم تاسیس پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ توانگ میں بدھ مت پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن کی خدمات کے شاندار 14 سال مکمل ہونے کے موقع سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے بدھ مت کے تئیں لگن اور عہد بستگی کے ساتھ خدمات انجام دینے پر کنفیڈریشن کے موجودہ اور سابق رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن، حکومت ہند کی وزارت ثقافت اور حکومت اروناچل پردیش کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والی یہ کانفرنس مقدس نشانیوں کی موجودگی کے باعث توانگ میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی کانفرنس میں ہونے والے مباحثوں کے موضوعات اور ذیلی موضوعات کا ذکر کیا اور یاد دلایا کہ بھارت میں جنم لینے والا بدھ مت تیسری صدی قبل مسیح میں سب سے پہلے بادشاہ اشوک کی کوششوں سے دیگر علاقوں تک پہنچا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی سے بدھ مت بھارت کے ہمالیائی خطے، بالخصوص اروناچل پردیش سے پھیل کر تبت اور دیگر علاقوں تک پہنچا، جس میں گرو پدم سمبھو اور شانترکشت کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے چھٹے دلائی لامہ کی جائے پیدائش ہونے کے ناطے توانگ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بدھ مت کے وسیع تر ورثے میں اروناچل پردیش کے خصوصی مقام کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں کے مٹھ  محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ روحانی اور ثقافتی ورثے کی امین بھی ہیں۔ انہوں نے ثقافتی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ترقی اور جدیدیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر غور کرنے کی اہمیت اجاگر کی کہ بدھ کے پیغام کو آئندہ نسلوں تک کس طرح پہنچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام مقدس نشانیوں کی نمائش اور بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے لیے حکومت ہند کی وزارت ثقافت، قومی عجائب گھر، بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن اور اروناچل پردیش انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام مندوبین، بالخصوص مختلف ممالک سے آنے والے بین الاقوامی مقررین کا بھی شکریہ ادا کیا، جو اس کانفرنس میں شرکت کے لیے توانگ پہنچے ہیں۔

ایک روزہ اس کانفرنس میں تین موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ہمالیائی خطے اور اس سے آگے بدھ مت کے فروغ، ارتقا اور عصرحاضر میں اس کی معنویت کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

پہلا اجلاس

کانفرنس کے پہلے اجلاس کا موضوع ’’ مہاپری نِروان کے بعد بدھ کی وراثت کو آگے بڑھانا‘‘ تھا۔ اس اجلاس میں سری لنکا، میانمار اور بھارت کے مقررین پر مشتمل پینل نے مادی ورثے کے تحفظ، مذہبی رسومات اور ادارہ جاتی تجدید کے ذریعے بدھ کے مہاپری نِروان کے بعد ان کی لازوال وراثت کو برقرار رکھنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ مباحثے میں چار عظیم حقائق کو ایک زندہ ورثے کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ بدھ مت کس طرح ایک ایسی ہمہ گیر ثقافتی روایت کے طور پر ارتقا پذیر ہوا، جس کی تشکیل مختلف ثقافتوں کے باہمی تبادلے، بین الاقوامی تعاون اور نسل در نسل اور مختلف معاشروں میں دھمّ کے پیغام کی ترسیل سے ہوئی۔

دوسرا اجلاس

کانفرنس کے دوسرے اجلاس کا موضوع ’’بدھ مت کا تاریخی اور نظریاتی تسلسل‘‘ تھا۔ اس اجلاس میں نیپال، جرمنی اور بھارت کے مقررین نے مختلف تاریخی ادوار میں بدھ مت کے گرنتھوں اورمٹھوں  کی روایات کی منتقلی کا جائزہ لیا، جس میں بالخصوص اروناچل پردیش پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس اجلاس میں بدھ مت کے مختلف فکری  تنوع اور ان کی مشترکہ نظریاتی بنیادوں پر غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بدھ مت کی تعلیمات کے تحفظ اور ان کی ترسیل میں زبان، تشریح، تدریسی طریقوں اور فنکارانہ اظہار کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔

تیسرا اجلاس

دن کے آخری اور تیسرے اجلاس کا موضوع ’’بدھ مت اور جائز ذریعۂ معاش‘‘ تھا۔ اس اجلاس میں انڈونیشیا، ملیشیا اور بھارت کے مقررین پر مشتمل پینل نے عصر حاضر کے تعلیمی، اقتصادی اور سماجی تناظر میں جائز ذریعۂ معاش سے متعلق بدھ مت کے اصولوں کی معنویت کا جائزہ لیا۔ اس دوران نالندہ کی علمی وراثت اور جدید تعلیمی نظام کے درمیان ربط قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سیاحت، تیرتھ یاترا، پائیدار خوشحالی، ہنرمندی کی ترقی، جغرافیائی باہمی روابط اور عالمگیریت و صارفیت کے اثرات پر بدھ مت کے نقطۂ نظر سے غور و خوض کیا گیا۔

کانفرنس کا اختتام حکومت اروناچل پردیش کے محکمۂ کرمک اورادھیاتمک امور (ڈی او کے اے اے) کے ڈائریکٹر جناب تھوپٹن کالڈن کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ تقریب کا اختتام مونپا گروپ کی جانب سے آتیشا دیپنکر شری گیان کی مقدس دیپ پرارتھنا کے ساتھ ہوا، جس سے کانفرنس کا اختتام نہایت پُروقار اور روحانی رہا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح –م ش-ع ن)

U. No. 7132

 


(ریلیز آئی ڈی: 2331931) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Assamese