پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 5:32PM by PIB Delhi
ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کی وزارت ( ایم ایس ڈی ای ) ، حکومتِ ہند نے آج گواہاٹی میں بین الاقوامی سطح کے روزگار کے لیے ہنرمندی اور پی ایم-سیتو کے موضوع پر ایک پروگرام منعقد کیا، جس میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اس پروگرام میں مرکزی حکومت اور حکومتِ آسام کے سینئر نمائندوں، صنعتی شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں اور ہنرمندی کے فروغ کے نظام سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس دوران ، شمال مشرقی خطے میں ہنر مندی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے اور پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز ( پی ایم-سیتو ) کے تحت صنعتی تربیتی اداروں ( آئی ٹی آئیز ) کو صنعتوں کی قیادت میں تبدیل کرنے کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروگرام میں شمال مشرقی خطے میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں کے بالخصوص اندونِ ملک اور بین الاقوامی بازار میں ہنرمند پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کے تناظر میں وسیع امکانات کو اجاگر کیا گیا ۔ اس دوران ، ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں کو صنعت کی ابھرتی ہوئی ضروریات، بین الاقوامی معیارات اور عالمی سطح پر افرادی قوت کی نقل و حرکت کے مواقع سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
حکومتِ ہند کے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کے وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) اور تعلیم کے وزیر مملکت جناب جینت چودھری نے پروگرام میں کلیدی خطاب کے دوران ،صنعت اور عالمی معیشت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ، بھارت کے ہنرمندی کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایم-سیتو جیسے اقدامات کا مقصد ، ہنرمندی کی ترقی اور تربیت کے عمل میں صنعتوں کی شمولیت کو بڑھانا ہے، تاکہ صنعتی تربیتی ادارے ( آئی ٹی آئیز ) جدید اور مانگ پر مبنی اداروں کی شکل اختیار کرسکیں اور نوجوانوں کو روزگار کے ابھرتے ہوئے مواقع کے لیے تیار کرسکیں۔
’’ بھارت کی اصل قوت ، اس کے نوجوانوں کی امنگوں اور صلاحیتوں میں پوشیدہ ہے۔ پی ایم-سیتو کے ذریعے ہم اپنے صنعتی تربیتی اداروں کو جدید اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ اداروں میں تبدیل کرنے کی سمت کام کر رہے ہیں، تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے روزگار کے تقاضوں کے مطابق ہنر سے آراستہ کیا جاسکے۔ شمال مشرقی خطے میں بالخصوص سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اس خطے کے نوجوان نہ صرف ملک کے اندر دستیاب مواقع کے لیے تیار ہوں بلکہ عالمی سطح پر افرادی قوت کا حصہ بننے کے لیے بھی پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ‘‘
آسام حکومت کے ہنرمندی، روزگار اور صنعت ، کھیل کود اور نوجوانوں کی بہبود، دست کاری، ٹیکسٹائل اور ریشم بافی اور مقامی و قبائلی عقائد و ثقافت کے وزیر جناب بسوا جیت ڈیماری نے اپنے خصوصی خطاب میں آسام کے نوجوانوں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر سے آراستہ کرنے اور بھارت کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع تک رسائی کے راستے پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
’’ آسام اور پورے شمال مشرقی خطے میں ، سیاحت اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ہماری اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ خطے کے نوجوان ابھرتی ہوئی عالمی معیشت میں حصہ لینے کے لیے مناسب ہنر، تجربے اور مواقع سے آراستہ ہوں۔ مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور صنعتوں کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے ہم ہنرمندی کا ایک مضبوط نظام تشکیل دے سکتے ہیں، جو نوجوانوں کی امنگوں کو روزگار اور کاروبار کے بامعنی مواقع میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘‘
محترمہ مانسی سہائے ٹھاکر، آئی اے ایس، جوائنٹ سکریٹری، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کی وزارت ( ایم ایس ڈی ای ) نے پروگرام کا پس منظر بیان کیا اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کرنے کے لیے اداروں اور صنعتوں کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے مانگ پر مبنی ہنر مندی کی تربیت اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنا کر خطے کے نوجوانوں کو روزگار کے ابھرتے ہوئے مواقع سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیاحت و مہمان نوازی کی ہنرمندی کونسل ( ٹی ایچ ایس سی ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے شمال مشرقی خطے میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں ہنرمندی کے فروغ کے امکانات اور اس شعبے کی ترقی سے پیدا ہونے والے مواقع پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور انہیں عالمی سطح پر مہمان نوازی کے شعبے میں دستیاب مواقع کے لیے تیار کرنے کی غرض سے صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فروغ دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
پروگرام میں پی ایم- سیتو پر ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں صنعت کی ضروریات کے مطابق صنعتی تربیتی اداروں ( آئی ٹی آئیز ) کو جدید خطوط پر استوار کرکے شمال مشرقی خطے میں ہنر مندی کے نظام کو مضبوط بنانے کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔
پروگرام کے دوران ، اعلان کردہ کلیدی شراکت داریوں کے تحت، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کی وزارت اور حکومتِ آسام کے درمیان ریاستی صنعت کاری و اختراعی مرکز ( ایس آئی آئی سی ) قائم کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامے کا تبادلہ کیا گیا۔
پی ایم-سیتو اسکیم کے تحت دو صنعتی تربیتی اداروں کے کلسٹرز، یعنی جورہاٹ اور تن سکھیا کے لیے اقرار نامے کے خطوط ( ایل او آئیز ) پر دستخط کیے گئے۔ ان کلسٹرز کو بالترتیب نمالی گڑھ ریفائنری لمیٹیڈ ( این آر ایل ) اور آئل انڈیا لمیٹیڈ ( او آئی ایل ) کی معاونت حاصل ہوگی۔ یہ خطے میں صنعتوں کی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو صنعت کی قیادت میں تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔
پروگرام میں بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع تک رسائی اور ورلڈ اسکلز کے ذریعے شمال مشرقی خطے کے نوجوانوں کے لیے مواقع کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
حکومتِ آسام نے اپنی سی ایم فلائٹ اسکیم اور عالمی ہنرمندی مرکز کے قیام سے متعلق اپنا تصور بھی پیش کیا، جس میں ہنرمندی کی ترقی کو مضبوط بنانے اور اپنی افرادی قوت کو روزگار کے ابھرتے ہوئے مواقع سے جوڑنے کے لیے ریاست کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔






***
( ش ح ۔ ض ر ۔ ع ا )
U.No. 7109