زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مکئ کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس 2026 میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ،پیدوار بڑھانے کے جدید طریقے اور کسانوں پر مرکوز تحقیق پر زور


تحقیق اور توسیعی خدمات کے نتیجے میں کسانوں کے منافع میں اضافہ اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آنی چاہیے: ڈاکٹر ایم ایل جٹ، سکریٹری ڈی اے آر ای

ڈاکٹر جٹ نے پیداوار کے فرق کو کم کرنے اور تلہن و دالوں کی فصلوں کو متاثر کیے بغیر مختلف موسموں میں مکئی کی کاشت کو حکمت عملی کے تحت فروغ دینے کے لیےسائنسی نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 NOV 2026 4:50PM by PIB Delhi

پہلی بین الاقوامی مکئی کانفرنس جس کا موضوع ’’بدلتی ہوئی دنیا میں خوراک، مویشیوں کی خوراک، چارے، ایندھن اور پائیداری کے لیے مکئی کا انقلاب(ایم 4 ایف ایس)‘‘ ہے، آج حیدرآباد کے جے ڈی کنونشن سینٹر میں شروع ہوئی۔ اس کانفرنس میں سائنس دانوں، پالیسی سازوں، زرعی اداروں اور صنعت سے وابستہ متعلقہ فریقوں نے شرکت کی، جہاں مکئی کی تحقیق، پیداوار میں اضافے اور اس کی مکمل قدر پر مبنی زنجیر کی ترقی کے لیے حکمتِ عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261102165126_b7e1fd.jpg

کانفرنس میں زیادہ پیداوار دینے والی اقسام اور ہائبرڈ بیجوں، بہتر غذائی معیار، وسائل کے مؤثر استعمال، میکانائزیشن، بیجوں کی مضبوط فراہمی کے نظام اور خوراک، مویشیوں کی خوراک، چارے اور توانائی کے تحفظ میں مکئی کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای)کے سکریٹری اور ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جٹ نے مکئی کی تحقیق سے وابستہ برادری کو مبارک باد دی کہ ہندوستان میں مکئی کی پیداوار گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیداواریت میں نمایاں اضافے کے ساتھ تقریباً 5.5 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی اختراعات، فصلوں کے بہتر انتظام اور وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے آئندہ ایک دہائی میں مکئی کی پیداوار بڑھا کر 7.5کروڑ ٹن کی جائے اور اس کے ساتھ پیداواریت میں مزید ڈیڑھ گنا اضافہ کیا جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261102165134_b14cd2.jpg

روایتی چار نکاتی تصور، یعنی خوراک، مویشیوں کی خوراک، چارے اور ایندھن (4ایف)کو وسعت دیتے ہوئے کسانوں کو مرکز میں رکھ کر اسے پانچ نکاتی تصور(5ایف)بنانے پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جٹ نے کہا کہ تحقیق اور توسیعی سرگرمیوں کے نتیجے میں کھیتی باڑی کی منافع بخشی میں اضافہ اور کسانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آنی چاہیے۔ انہوں نے پیداوار کے فرق کو کم کرنے کے لیے نظامی سائنس پر مبنی طریقۂ کار اپنانے کی وکالت کی، خاص طور پر ان فرقوں کو دور کرنے پر زور دیا جو فصلوں کے انتظام سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر اہم فصلوں، بالخصوص تیل دار بیجوں اور دالوں کی فصلوں کو متاثر کیے بغیر مختلف موسموں اور زرعی و ماحولیاتی خطوں میں مکئی کی کاشت کو حکمتِ عملی کے تحت فروغ دیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معیاری اور کم قیمت بیجوں، بالخصوص سرکاری شعبے کے ہائبرڈ بیجوں کی فراہمی اور اس کے لیے بیجوں کے ایک مضبوط نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل(آئی سی اے آر)کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل(فصل سائنس)ڈاکٹر ڈی کے یادو نے مکئی کو غذائی تحفظ، بہتر تغذیہ اور توانائی کے تحفظ کے لیے ایک مثالی فصل قرار دیا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مکئی کی تحقیق اور توسیعی سرگرمیوں میں ہونے والی پیش رفت جس میں مکئی کی 329 ہائبرڈ اقسام کی تیاری بھی شامل ہے، کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے مکئی سے متعلق کل ہند مربوط تحقیقی منصوبے(اے آئی سی آر پی)کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے زیادہ پیداوار، بہتر غذائی معیار اور حیاتیاتی و غیر حیاتیاتی دباؤ کے خلاف مزاحمت کے لیے افزائشِ نسل کے عمل کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ زرعی مداخل کے مؤثر استعمال، میکانائزیشن، صلاحیت سازی اور سرکاری شعبے میں ہائبرڈ بیجوں کی پیداوار کو مستحکم بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مکئی کو ایتھنول کی تیاری کے خام مال کے طور پر اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تحقیقی اداروں، جامعات اور صنعت کے درمیان اشتراک کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

پدم شری ڈاکٹر ایس واسل، مکئی کے ممتاز سائنس داں اور عالمی ادارے سیمیٹ(سی آئی ایم ایم وائی ٹی)سے وابستہ عالمی انعام یافتہ شخصیت، نے کسانوں کی ضروریات کے مطابق بہتر اقسام اور ہائبرڈ بیجوں کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے افزائشِ نسل کے آسان اور کم خرچ طریقے اپنانے کی وکالت کی۔

پدم بھوشن ڈاکٹر آر ایس پروڈا، سابق سکریٹری، محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای)اور ڈائریکٹر جنرل، ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل(آئی سی اے آر)نے، جو اس موقع پر مہمانِ خصوصی بھی تھے، تحقیق کی ترجیحات کو زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نےپیداوار بڑھانےکی جدید تکنیکوں کے زیادہ استعمال، جراثیمِ وراثت کے منظم تحفظ اور استعمال، مکئی کی قدر پر مبنی زنجیروں کو مضبوط بنانے اور افلاٹوکسِن کے مؤثر انتظام پر زور دیا۔ تاکہ خوراک اور مویشیوں کی خوراک کے طور پر استعمال ہونے والی مکئی کے تحفظ اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261102165140_a875d8.jpg

اس سے قبل ہندوستان کی مکئی کے ماہرین کی تنظیم(ایم ٹی اے آئی)کے صدر ڈاکٹر ایچ ایس جٹ نے معزز شخصیات کا خیرمقدم کیا اور ہندوستان کی زرعی ترقی میں مکئی کی اسٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تحقیقی اداروں، زرعی جامعات، پالیسی سازوں اور صنعت کے درمیان مزید مضبوط اشتراک پر زور دیا۔

پروگرام کے دوران کئی سائنسی مطبوعات کا اجرا ء بھی عمل میں آیا اور مکئی کی تحقیق و ترقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ممتاز سائنس دانوں اور محققین کو اعزازات سے نوازا گیا۔

کانفرنس میں پیداوار کے فرق کو کم کرنے، بیجوں تک رسائی بہتر بنانے، افزائشِ نسل کے پروگراموں کو مضبوط کرنے، غذائی معیار میں بہتری لانے اور مکئی کی پائیدار قدر پر مبنی زنجیروں کو فروغ دینے کے لیے باہمی اشتراک پر مبنی کسانوں کی ضروریات کے مطابق تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ حیدرآباد میں 2سے 4نومبر 2026تک منعقد ہونے والی یہ کانفرنس قومی اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جہاں وہ ہندوستان میں مکئی کے ایک زیادہ پیداواری، منافع بخش اور پائیدار شعبے کے لیے مستقبل کا لائحۂ عمل وضع کر سکیں۔

***

) ش ح -م ح-  ع د)

U-No. 7105


(ریلیز آئی ڈی: 2331710) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu