پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 NOV 2026 3:37PM by PIB Delhi
عزت مآب مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 2 نومبر ، 2026 ء کو سکم کے ضلع منگن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی ) کے تحت ماہی پروری کی ترقی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ یہ دورہ شمال مشرقی خطے میں مرکزی وزراء کے وقتاً فوقتاً دوروں کے لیے وضع کیے گئے منظم نظام کے تحت کیا گیا۔ اس نظام کا قیام ، وزیر اعظم کی رہنمائی میں عمل میں آیا ہے، جس کا مقصد شمال مشرقی خطے میں ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ میں تعاون کرنا اور زمینی سطح پر ، ان کے بارے میں معلومات و آرا حاصل کرنا ہے۔ اس دورے میں سکم حکومت کے ماہی پروری، حیوانات و ماہی پروری اور ڈیری، زراعت و باغبانی کے محکموں کے عزت مآب وزیر جناب پورن کمار گرونگ؛ حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلاش لیکھی؛ سکم حکومت کے اعلیٰ حکام، قومی ماہی پروری ترقیاتی بورڈ ( این ایف بی ڈی ) ، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل ( آئی سی اے آر ) کے اداروں کے نمائندوں، ماہی کسانوں، ماہی پروری سے وابستہ امدادی انجمنوں اور اس شعبے کے دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔

مرکزی وزیر نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت قائم کردہ زندہ مچھلیوں کی فروخت کے مرکز کا دورہ کیا اور ماہی پروری سے وابستہ امدادی انجمنوں کے ارکان سے بات چیت کرکے زمینی سطح پر ، انہیں درپیش مسائل اور چیلنجوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مچھلی کی پیداوار اور کسانوں پر مبنی اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے دو ماہی پروری امدادی انجمنوں سے وابستہ 15 ماہی پروری سے وابستہ کسانوں میں مچھلی کی خوراک تقسیم کی گئی۔ وزیر موصوف نے مچھلیوں، آرائشی مچھلیوں اور مچھلی سے تیار کردہ قدر افزا مصنوعات کے علاوہ دودھ اور مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات نیز مقامی طور پر اگائی جانے والی نامیاتی سبزیوں کے نمائش اسٹالوں کا بھی معائنہ کیا۔ اس سے خطے میں روزگار کے ذرائع اور منڈی کے مواقع کے تنوع کو اجاگر کیا گیا۔
اس پروگرام کے دوران ، مرکزی وزیر نے شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کے لیے نامیاتی سرٹیفکیشن کے معیاری طریقۂ کار ( ایس او پی) کا آغاز کیا اور پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی ) کے تحت 375 لاکھ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں میں ماہی پروری کے اہم بنیادی ڈھانچے، جیسے مچھلیوں کی افزائش کے مراکز، مچھلی کی خوراک تیار کرنے والی ملیں اور سرد خانوں کے علاوہ پیداوار سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز، مثلاً بایوفلاک اور باز گردشی آبی پروری نظام ( آر اے ایس ) شامل ہیں۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت شروع کیے گئے یہ منصوبے ماہی پروری کی پوری ویلیو چین کے اہم مراحل کو مضبوط بنائیں گے۔ ادارہ جاتی قرضوں تک رسائی آسان بنانے کے لیے مچھلی کسانوں میں کسان کریڈٹ کارڈ تقسیم کیے گئے، جب کہ مکھیہ منتری متسیہ اُتپادن یوجنا ( ایم ایم ایم یو وائی ) کے تحت پانچ مچھلی کسانوں کو چیک بھی فراہم کیے گئے، جس سے مچھلی کسانوں اور ماہی پروری پر مبنی روزگار کے ذرائع کو مزید مالی مدد ملے گی۔

حکومت نے ماہی پروری کی پوری ویلیو چین کی مربوط ترقی کے لیے کلسٹر پر مبنی طریقۂ کار اپنایا ہے، جس کے تحت مخصوص جغرافیائی علاقوں میں پیداوار، پروسیسنگ، قدر میں اضافے اور مارکیٹنگ کی سرگرمیوں کو ایک ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی ) کے تحت ، ملک بھر میں ماہی پروری کی پیداوار اور پروسیسنگ سے متعلق 34 کلسٹروں کو نوٹیفائی کیا گیا ہے، جن میں سکم اور میگھالیہ کے نامیاتی ماہی پروری کلسٹر بھی شامل ہیں۔
سکم کا ضلع سورینگ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی ) کے تحت قائم کیا گیا بھارت کا پہلا نامیاتی ماہی پروری کلسٹر ہے۔ اس کلسٹر کا مقصد ، نقصان دہ کیمیکلز، اینٹی بایوٹکس اور جراثیم کش ادویات کے استعمال کے بغیر ماحول دوست طریقے سے مچھلیوں کی پرورش کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں امور کورپ، بھارتی بڑی اقسام کی کورپ مچھلیوں ( آئی ایم سی ) اور ٹراؤٹ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے سکم میں پہلے سے قائم نامیاتی نظام سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے ماہی پروری کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے، مچھلی کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور نامیاتی مچھلیوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر پریمیم بازاروں کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کے لیے نامیاتی سرٹیفکیشن کا معیاری طریقۂ کار ( ایس او پی ) نامیاتی پیداوار کے لیے ایک منظم ڈھانچہ فراہم کرکے اور پوری ویلیو چین میں مصنوعات کی شناخت و سراغ رسانی کو یقینی بنانے میں مدد دے کر ، اس نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔ نامیاتی ماہی پروری کے ایک زیادہ قابل اعتماد اور بازار کی ضروریات سے ہم آہنگ نظام کو فروغ دینے سے نامیاتی مچھلیوں کی مصنوعات کی شناخت اور ان کی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور انہیں ملکی و بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ قدر والی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
سکم نے مقامی طور پر پیدا کی جانے والی رینبو ٹراؤٹ کی ادارہ جاتی خریداری کے لیے بھارت-تبت سرحدی پولیس ( آئی ٹی بی پی ) کے ساتھ مفاہمت نامے ( ایم او یو ) پر دستخط کرکے منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے کی سمت ایک پیش قدمی کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ، ٹراؤٹ مچھلی پالنے والے کسانوں کے لیے ایک مستحکم منڈی فراہم کرنا اور ٹھنڈے پانی میں پائی جانے والی اس بیش قیمت مچھلی کی ویلیو چین کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مجوزہ انتظام کے تحت آئی ٹی بی پی کے مراکز کو باقاعدگی سے ٹراؤٹ مچھلی فراہم کی جائے گی، جس میں معیار کے مقررہ پیمانوں، رسد کی صلاحیت، قیمتوں، معائنے اور فراہمی کے نظام الاوقات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
سکم کا یہ دورہ شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کی نتیجہ خیز ترقی کے لیے حکومت کی توجہ کو اجاگر کرتا ہے، جس میں مرکزی اور ریاستی اقدامات کے درمیان تال میل کے ساتھ ماہی پروری سے وابستہ کسانوں اور متعلقہ اداروں کی فعال شمولیت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے خطے میں ماہی پروری کی صلاحیت کو کسانوں کی زیادہ آمدنی، مقامی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور پائیدار اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح خطے میں جامع ترقی کے وسیع تر مقصد کے حصول میں بھی تعاون ملے گا۔
***
( ش ح ۔ ض ر ۔ ع ا )
U.No. 7095