بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 NOV 2026 10:14PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’ہر گھر سودیشی‘، ’مقامی مصنوعات کو ترجیح دیں‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے تصورات کو عوام تک پہنچانے کے مقصد سے کھادی اور دیہی صنعتوں کی کمیشن (کے وی آئی سی) نے نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع این ڈی ایم سی پالیكا پارک (ریگل سنیما کے بالمقابل) میں ’کھادی دیوالی فیسٹ-2026‘ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ خصوصی تبادلۂ خیال اور ’دیوالی ملن‘ (دیوالی کے موقع پر ملاقات) کا بھی اہتمام کیا گیا۔ کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ ’کھادی والی دیوالی‘ کے موضوع پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد شہریوں کو دیوالی اور دیگر تہواروں کے موقع پر کھادی اور سودیشی مصنوعات اپنانے کی ترغیب دینا، بھارتی دست کاروں اور دیہی کاروباری افراد کی تخلیقات کو زیادہ سے زیادہ شناخت دلانا اور بالخصوص نوجوانوں کو سودیشی تحریک سے جوڑنا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کھادی کو محض ایک کپڑے کے طور پر نہیں، بلکہ خود انحصاری، خودداری اور معاشی آزادی کی علامت کے طور پر دیکھا تھا۔ آج وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کھادی اور سودیشی تحریک کو ایک نئی رفتار ملی ہے اور اس میں عوام کی وسیع پیمانے پر شمولیت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ وزیر اعظم کا ’ہر گھر سودیشی، گھر گھر سودیشی‘ کا پیغام محض دیسی مصنوعات کی خریداری تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جامع مہم ہے، جس کا مقصد بھارتی مصنوعات کے تئیں فخر و افتخار کا جذبہ پیدا کرنا، مقامی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ملک کی معاشی خود انحصاری کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ تہواروں کا موسم بھارتی معیشت، مقامی بازاروں اور دست کاروں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہر خاندان تہواروں کے موسم میں کھادی اور دیگر سودیشی مصنوعات کو ترجیح دے تو اس کا براہِ راست فائدہ ملک بھر کے لاکھوں دست کاروں، بنکروں، دیہی کاروباری افراد اور ان کے اہل خانہ تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سودیشی مصنوعات کی خریداری محض صارفین کا ایک انتخاب نہیں، بلکہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع کو فروغ دینے میں شہریوں کی جانب سے ادا کیا جانے والا ایک اہم کردار بھی ہے۔
کے وی آئی سی کے چیئرمین نے خصوصی طور پر نوجوانوں، بشمول نئی نسل (جین زی) سے اپیل کی کہ وہ سودیشی تحریک کا حصہ بنیں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج کے نوجوان فیشن، ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور اختراعی خیالات کے تئیں خاصی دلچسپی اور شعور رکھتے ہیں۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کو جدید ڈیزائن، دلکش پیش کش، معیاری تشہیر اور عصری طرز زندگی سے ہم آہنگ کرکے نوجوانوں میں انہیں مزید مقبول بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان سودیشی مصنوعات کے محض صارفین ہی نہیں، بلکہ ان کے برانڈ سفیر، ڈیزائنر، ڈیجیٹل تشہیر کار اور کاروباری افراد بھی بن سکتے ہیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’مقامی سے عالمی‘ کے تصور کو حقیقت میں بدلنے میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور نئے کاروباری اداروں کے ذریعے نوجوان کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی ان کی ایک نئی شناخت قائم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’2047 تک ترقی یافتہ بھارت‘ کے تصور اور ’مقامی مصنوعات کو ترجیح دیں‘ کی پہل کو نوجوان نسل تک پہنچانے کے لیے کے وی آئی سی نے ’بات کھادی کی‘ کے عنوان سے ایک پوڈکاسٹ شروع کیا ہے۔ اس کے ذریعے کھادی کی وراثت، جدید فیشن، اختراع اور نوجوانوں کی کاروباری صلاحیت جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے نئی نسل (جین زی) کو کھادی اور سودیشی تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پہل نئی نسل میں کھادی کو مقبول بنانے اور آتم نربھر بھارت (خود کفیل ہندوستان) کے عزم کو مزید مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش سوچ اور پالیسیوں کے نتیجے میں کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ مالی سال 26 -2025کے دوران کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے کا کاروبار 1.87 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے نے 2.04 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مستقبل قریب میں یہ شعبہ 2.51 لاکھ کروڑ روپے کے کاروباری ہدف کو بھی حاصل کر لے گا۔
’کھادی دیوالی فیسٹ-2026‘ کا آغاز 31 اکتوبر سے ہوا ہے، جس کے تحت کھادی کی مصنوعات پر 20 فیصد اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات پر 10 فیصد کی خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔ یہ تہوار اس پیغام کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اس دیوالی پر ہمیں نہ صرف اپنے گھروں میں دیے روشن کرنے چاہئیں، بلکہ کھادی اور سودیشی مصنوعات اپنا کر ملک بھر کے لاکھوں دست کاروں اور دیہی خاندانوں کی زندگیوں میں بھی خوشیوں کی روشنی پھیلانی چاہیے۔
***
ش ح۔م م ع۔ص ج
UN-7073