وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

گجرات کے کیوڑیا میں راشٹریہ ایکتا دیوس پروگرام میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 OCT 2026 9:34PM by PIB Delhi

میں کہوں گا ’’سردار پٹیل‘‘ اور آپ سب جواب دیں گے ’’امر رہیں، امر رہیں۔‘‘

سردار پٹیل – امر رہیں، امر رہیں۔

سردار پٹیل – امر رہیں، امر رہیں۔

سردار پٹیل – امر رہیں، امر رہیں۔

میرے عزیز ہم وطنو!

آج کا یہ پروگرام کچھ مختلف ہے۔ اب تک ہم ہر سال یومِ اتحاد کی یہ تقریب صبح کے وقت منعقد کرتے رہے ہیں، لیکن اس بار اس میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔ ہم سب آج شام کے وقت یہاں جمع ہوئے ہیں۔ صبح کے وقت لاکھوں شہریوں نے قومی اتحاد کے عہد کے ساتھ ’رن فار یونٹی‘ (اتحاد کے لیے دوڑ) میں حصہ لیا۔ ہم نے اس دوڑ کے دوران لوگوں کے جوش و خروش کا مشاہدہ کیا۔ کل شام مجھے ’بھارت پرو‘ پویلین میں شاندار پیشکشیں دیکھنے کا موقع ملا۔ اور اب اس قومی موقع پر ہم سب سردار پٹیل کے قدموں میں موجود ہیں۔

دوستو!

یہ دنیا کا سب سے بلند مجسمہ، ’مجسمۂ اتحاد‘ ہے۔ اس کی تعمیر میں پورے ملک کی شرکت، اس مقام کی منفرد شان و عظمت اور یومِ اتحاد کی غیر معمولی توانائی اور تحریک، یہاں آنے والے ہر شخص کے دل کو فخر اور تشکر کے جذبات سے بھر دیتی ہے۔ اس عظیم ملک کا شہری ہونے پر فخر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تئیں تشکر، جنہوں نے آزادی کے بعد 550 سے زیادہ  رجواڑہ ریاستوں کو متحد کیا۔ انہوں نے اپنے فولادی عزم و ارادے کے ذریعے اس ملک کو اتحاد کے رشتے میں پرو دیا۔

دوستو!

کسی بھی ملک کے لیے آزادی ناگزیر ہے۔ جب کوئی ملک آزاد ہوتا ہے تو وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتا ہے۔ لیکن آزادی کو جمہوریت سے صحیح سمت ملتی ہے۔ جمہوریت ہمیں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ آئین ہمیں عوام کے تئیں جواب دہ بناتا ہے۔ اور اتحاد ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنے کی طاقت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں یومِ آزادی، یومِ جمہوریہ اور یومِ اتحاد، تینوں کو قومی تہواروں کے طور پر بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

دوستو!

آج ایک بار پھر ایکتا نگر میں ہم نے ہندوستان کے اتحاد کی عظیم الشان تصویر دیکھی ہے۔ اس سال کی قومی یومِ اتحاد پریڈ بھی غیر معمولی رہی ہے۔ یہ پریڈ ہماری پولیس اور سلامتی دستوں کی جرأت و بہادری کے نام ہے۔ جھانکیوں کے ذریعے ملک کے ورثے اور امنگوں کو قوم کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یومِ اتحاد اب محض سرکاری تقریبات تک محدود نہیں رہا، بلکہ عوامی شرکت کے ذریعے یہ قومی فخر کا جشن بن گیا ہے۔ اس موقع پر میں تمام ہم وطنوں کو قومی یومِ اتحاد کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے قدموں میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ اپنا سر جھکاتا ہوں۔

دوستو!

سردار پٹیل ہندوستان کی تاریخ کی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے بغیر آج کے ہندوستان کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ آج ہم جس ہندوستان کو دیکھتے ہیں، اس کی تشکیل سردار پٹیل ہی نے کی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد ہمالیہ سے لے کر بحرِ ہند تک ہندوستان کو محفوظ رکھنے والے بھی سردار پٹیل ہی تھے۔

دوستو!

سردار پٹیل یہ سب کچھ اس لیے کر سکے، کیونکہ وہ ہندوستان کی فطرت اور اس کے شعور کو بخوبی سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کا تنوع اس کی کمزوری نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی تنوع اس کے اتحاد کی اصل بنیاد ہے۔ ہم ہزاروں برسوں سے اسی انداز میں زندگی گزارتے آئے ہیں۔ اسی قوت کے بل پر ہم نے ترقی اور خوش حالی کی بلندیوں کو چھوا ہے۔

دوستو!

سردار پٹیل نے ایک بار پھر اسی ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے محض ملک کے جغرافیے کو تشکیل نہیں دیا، بلکہ جذباتی اتحاد کے ذریعے بھی پورے ملک کو ایک رشتے میں باندھ دیا۔ گجرات میں سومناتھ مندر کی تعمیرِ نو کے ذریعے انہوں نے ملک میں ثقافتی احیا کی تحریک کا بھی آغاز کیا۔

دوستو!

اس سال اس عظیم کارنامے کی 75ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ جس طرح حملہ آوروں کی جانب سے بار بار تباہ کرنے کی کوششوں کے باوجود سومناتھ مندر کا پرچم ایک ہزار برس سے سربلندی کے ساتھ لہراتا رہا ہے، اسی خودداری کے جذبے نے ہمیں ’سومناتھ سوابھیمان پرو‘ منانے کی تحریک دی۔ اور اس سال بھی ملک پورے جوش و خروش کے ساتھ یہ جشن منا رہا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!

آج قومی اتحاد کی یہ عظیم الشان تقریبات، عالمی سطح پر ہندوستان کا بڑھتا ہوا وقار، ہماری اقتصادی ترقی کی تیز رفتار اور کاشی وشوناتھ سے لے کر رام مندر تک ہمارے مقدس مذہبی مراکز کا احیا، یہ سب اس سمت کی نشاندہی کرتے ہیں جس کی طرف ہندوستان آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کی رہنمائی ہمیں سردار پٹیل نے کی تھی۔ اور اس کے لیے قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔

دوستو!

گزشتہ سال ہم نے سردار پٹیل کا 150واں یومِ پیدائش منایا تھا۔ دو سال تک ملک بھر میں مختلف پروگراموں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ہم نے ملک کے لیے کئی اہم عہد کیے اور انہیں پورا کرنے کا عزم کیا۔ اور آج جب ہم ان کا 151واں یومِ پیدائش منا رہے ہیں تو اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قوم نے بہت ہی کم عرصے میں ان عہدوں کو پورا کر دکھایا ہے۔ ان دو برسوں میں ملک نے کئی ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئیں۔

دوستو!

سردار پٹیل کے 150ویں یومِ پیدائش کے موقع پر، یہاں ان کے قدموں میں کھڑے ہوکر میں نے کہا تھا، ’’جب تک ملک نکسل ازم اور ماؤ نواز دہشت گردی سے پوری طرح آزاد نہیں ہوجاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘ اور ٹھیک ایک سال بعد، آج جب ہم یہاں کھڑے ہیں تو قوم کا وہ عزم پورا ہوچکا ہے۔ آج ملک میں نکسل ازم کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ 2015 میں ملک کے 126 اضلاع بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثر تھے۔ مارچ 2026 تک ملک کا ایک بھی ضلع ایسا نہیں رہا جو نکسل ازم سے متاثر ہو۔ یہ وہ اضلاع ہیں جو کئی دہائیوں تک تشدد اور خونریزی کا شکار رہے، لیکن اب ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ آج ان علاقوں میں سڑکوں کا جال پھیل رہا ہے۔ موبائل نیٹ ورک لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو نوجوان کبھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار تھے، آج ان کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

دوستو!

اس بار یومِ اتحاد کی تقریب میں نکسل ازم سے متاثرہ علاقوں کے خاندان خصوصی مہمانوں کی حیثیت سے ہمارے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ میں ان سب کا خیرمقدم کرتا ہوں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ آج میں ان تمام بہادر سکیورٹی اہلکاروں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے ملک کے ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی جانوں کا عظیم ترین نذرانہ پیش کیا۔

دوستو!

آج ہندوستان پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔ آج ہندوستان پہلے سے زیادہ پُرعزم ہے۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے شہریوں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ اعتماد کامیابیوں سے پیدا ہوتا ہے۔ اعتماد حکومت اور نظام کی حساسیت سے پیدا ہوتا ہے۔ آج میں یقیناً ملک کی ایسی ہی ایک بڑی کامیابی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

دوستو!

ہندوستان میں غربت کے خاتمے کی باتیں آزادی کے بعد سے ہوتی رہی ہیں۔ غربت مٹانے کے نام پر ووٹ مانگے گئے، لیکن ملک میں غربت کی اصل صورتِ حال کیا تھی، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ غربت مٹانے کے نعرے لگانے والے خود ہی امیر ہوتے چلے گئے۔ حالات میں تبدیلی کا آغاز گزشتہ چند برسوں میں ہوا۔ ابھی چند روز قبل ہی عالمی بینک کی ایک رپورٹ جاری ہوئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 سے پہلے کے دس سے بارہ برسوں کے دوران 50 کروڑ ہندوستانیوں نے غربت کو شکست دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر 100 میں سے 27 افراد، یعنی آبادی کا ایک چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ، انتہائی غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور تھا، جب کہ آج یہ تعداد گھٹ کر ہر 100 میں سے 3 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

دوستو!

پوری دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہوا؟ ایسا اس لیے ہوا، کیونکہ گزشتہ 12 برسوں سے ملک نے غریبوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کو ترجیح دی ہے۔ ان 12 برسوں کے دوران ملک میں ایک ایسا نظام قائم ہوا جس میں سرکاری امداد کی رقم میں کسی قسم کی خرد برد کی گنجائش نہیں رہی۔ براہِ راست فوائد کی منتقلی کے ذریعے دہلی سے بھیجا جانے والا ایک ایک روپیہ غریبوں تک پہنچا۔ مفت راشن اور مفت علاج کی سہولتوں نے غریب خاندانوں کی بچت میں مدد کی۔ کروڑوں پکے مکانات، کروڑوں بیت الخلا اور دھوئیں سے پاک باورچی خانوں نے غریبوں کی زندگی آسان بنائی۔ کروڑوں لوگوں کو بیمہ تحفظ حاصل ہوا، جو بحران کے وقت ان کے لیے سہارے کا ذریعہ بنا۔ 2014 سے پہلے ملک کے 25 کروڑ لوگوں کو بھی سماجی تحفظ کی کوئی سہولت حاصل نہیں تھی، جب کہ آج ملک کے تقریباً 100 کروڑ لوگوں کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لایا جا چکا ہے۔

دوستو!

آج جب پوری قوم سردار صاحب کو یاد کر رہی ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے تو یقیناً ان کی روح ہمیں دعائیں دے رہی ہوگی۔ ایسی ہی کوششوں کے ذریعے ہم ملک سے غربت کا خاتمہ کریں گے اور ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کریں گے۔

دوستو!

قومی اتحاد کسی بھی ملک کے استحکام اور کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اور آج عالمی سطح پر عدم استحکام کے ایسے حالات میں اتحاد کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ آج دنیا بدامنی کی آگ میں جل رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے مشکل ترین ادوار میں سے یہ ایک ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کے درمیان جنگیں جاری ہیں۔ بڑی معیشتیں مختلف چیلنجوں سے نبرد آزما ہیں۔ وسائل کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عالمی رسدی سلسلے بکھر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ہندوستان کا اتحاد، تمام ہندوستانیوں کا اتحاد، ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، کیونکہ یہی اتحاد ہمیں ہر طوفان سے نکلنے میں مدد دے گا۔

بھائیو اور بہنو!

گزشتہ چند مہینوں کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ بعض ممالک میں تو پٹرول اور ڈیزل کی خریداری پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان کو اس بحران کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور ملک میں پٹرولیم کی پیداوار بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ ان خدشات کے درمیان ملک دشمن عناصر بھی سرگرم ہوگئے تھے۔

لیکن دوستو!

یہی ہندوستان کی طاقت ہے۔ ہم نے عالمی توانائی بحران کے اثرات اپنے شہریوں پر نہیں پڑنے دیے۔ بلاشبہ یہ ملک کی سفارتی اور اسٹریٹجک کامیابی ہے، لیکن اس میں ہمارے عوام کے اتحاد اور یکجہتی نے بھی اتنا ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف ملک بیرونی چیلنجوں کا حل تلاش کر رہا تھا تو دوسری طرف ملک کے اندر کچھ عناصر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش میں جھوٹی باتیں اور افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے۔ لیکن ہندوستان کے عوام ملک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے۔ یہی اس ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے اور ہمارے اعتماد کی سب سے مضبوط بنیاد بھی۔

دوستو!

جب سردار پٹیل اور بابا صاحب امبیڈکر جیسی عظیم شخصیات نے ہندوستان کا آئین تشکیل دیا تو انہوں نے حکمراں جماعت اور حزبِ اختلاف کے نظام کی بنیاد رکھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس نظام کی اہمیت بھی واضح کی۔ جمہوریت میں حزبِ اختلاف کی ذمہ داری حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج کے ہندوستان میں حزبِ اختلاف نے اپنی ذمہ داری ترک کر دی ہے اور وہ حزبِ اختلاف سے رکاوٹ ڈالنے والی قوت بن گئی ہے۔ اپنی مایوسی اور بے چینی میں اس نے ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ مخالفت نہیں، بلکہ رکاوٹ ہے۔ انہوں نے اسے اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیا ہے۔ وہ آئین کے وقار اور اس کی روح کو مجروح کرنے میں مصروف ہیں۔

دوستو!

یہ عناصر مسلسل ملک کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ مادرِ وطن کے  سپوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے اور ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی مایوسی اور ناکامی کے باعث یہ لوگ اب کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ ہمیں یہ پہچاننا ہوگا کہ بیرونِ ملک کون خاموشی سے کس سے ملاقات کر رہا ہے، کون سی ملک دشمن قوتیں کس کی حمایت کر رہی ہیں اور کون ہندوستان کے دشمنوں کی زبان بول رہا ہے۔ ہمیں ان رجحانات کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں متحد ہوکر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ خاص طور پر جس طرح سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس طرح افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تمام شہریوں کو متحد ہونا ہوگا۔ ہم نے دور دراز کے علاقوں سے نکسل ازم کا خاتمہ کر دیا ہے، لیکن ملک سے فکری نکسل ازم کا خطرہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ قوم کو ان فکری نکسل ازم کے حامل عناصر سے ہمیشہ چوکس رہنا ہوگا۔

دوستو!

حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہمیں قومی اتحاد کے اس عظیم مشن اور ایک مضبوط و باصلاحیت ہندوستان کی تعمیر کے سفر کو رکنے نہیں دینا ہے۔ اب ہمیں اگلے بڑے اہداف کے حصول کے لیے کام کرنا ہے۔ ہمیں ملک کی سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ہے۔ ہمیں دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کو روکنا ہے۔ ہمیں ایک سیکولر سول کوڈ کی سمت میں بھی آگے بڑھنا ہے۔

دوستو!

جب بھی کوئی قوم بڑے عزم کرتی ہے، جب بھی وہ بڑے فیصلے کرتی ہے تو راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں، مشکلات پیش آتی ہیں اور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اب ہندوستان رکنے والا نہیں ہے۔ ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کا منتر اور ترقی یافتہ ہندوستان کا ہدف اب ہندوستان کا غیر متزلزل عزم بن چکا ہے۔ ہم اپنی محنت کی انتہا کردیں گے۔ ہر طوفان کا عزم و حوصلے کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ لیکن ہماری نگاہیں صرف ایک ہی مقصد پر مرکوز رہیں گی، اور وہ ہے 2047 تک ایک مضبوط، باصلاحیت اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر، جب ملک اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا۔ ہمارا ہر عمل اور ہماری ہر سانس اسی جذبے سے سرشار ہونی چاہیے۔ یہ خیال ہمارے دل کی ہر دھڑکن میں رچا بسا ہونا چاہیے۔ اسی عزم کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ سب کو قومی یومِ اتحاد کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

 

وضاحت: وزیر اعظم کے خطاب کا یہ ترجمہ اصل خطاب کا تقریباً ترجمہ ہے۔ اصل خطاب ہندی زبان میں کیا گیا تھا۔

 

******

ش ح۔ ف ا ۔ م ر

U-NO. 7030

 


(ریلیز آئی ڈی: 2331094) وزیٹر کاؤنٹر : 7