وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت ہند نے ’وکست بھارت کے لیے بینکنگ سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی‘ تشکیل دی

سابق سینٹرل وجیلانس کمشنر جناب سریش این پٹیل اس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ تین ممتاز ماہرین – جناب شریش چندر (ڈپٹی گورنر، آر بی آئی)، محترمہ پدمجا چندورو (سابق منیجنگ ڈائرکٹر اور سی ای او، انڈین بینک)، جناب این ایس وشوناتھن (سابق ڈپٹی گورنر، آر بی آئی) اس کمیٹی کے رکن ہوں گے

’وکست بھارت کے لیے بینکنگ سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی‘ کا اعلان خزانہ و کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ بجٹ 2026-27 میں کیا گیا تھا

یہ کمیٹی بھارتی بینکنگ شعبے کا جائزہ لے گی اور اسے وکست بھارت 2047 کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات کی سفارش کرے گی


پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 OCT 2026 7:28PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے بھارت کے بینکنگ شعبے کا جائزہ لینے اور  ڈھانچہ جاتی، ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی قانونی اصلاحات کی سفارش کرنے کے مقصد سے وکست بھارت  کے لیے بینکنگ سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کا مقصد بینکنگ شعبے کو عالمی سطح پر مسابقتی، مالی طور پر مبنی بر شمولیت اور وکست بھارت 2047 کے لیے مضبوط بنانا ہے۔ خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ تقریر 2026-27 کے دوران اس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔

سابق مرکزی وجیلانس کمشنر جناب سریش این پٹیل اس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ ان کے علاوہ، تین ممتاز ماہرین – جناب شریش چندر مرمو (ڈپٹی گورنر، ریزرو بینک آف انڈیا) ، محترمہ پدمجا چندورو (سابق منیجنگ ڈائرکٹر اور سی ای او، انڈین بینک) اور جناب این ایس وشوناتھن (سابق ڈپٹی گورنر، ریزرو بینک انڈیا) اس کمیٹی کے اراکین ہوں گے۔ مالی خدمات کے محکمے کے جوائنٹ سکریٹری (بینکنگ)  اس کمیٹی کے رکن سکریٹری ہوں گے۔ اس کمیٹی کی مدت کار چھ مہینوں کی ہوگی۔

اس کمیٹی کے دائرہ کار و حدود مندرجہ ذیل ہیں:

  1. بینکنگ کے موجودہ طور طریقوں  اور احتیاطی ضوابط کا جائزہ لینا، دنیا بھر میں رائج بہترین طور طریقوں کی شناخت کرنا، اور انہیں مناسب طریقے سے بھارتی بینکنگ نظام کے لیے اپنانا، ساتھ ہی  عالمی سطح پر مسابقتی بینک تیار کرنے کے لیے لائحہ عمل فراہم کرنا ۔
  2. بینکوں کے لیے موجودہ ضابطہ جاتی اور قانونی فریم ورک کا جائزہ لینا، جس میں علاقائی دیہی بینک اور کوآپریٹیو بینک بھی شامل ہیں، اور اثرانگیزی لانے  اور وکست بھارت کے لیے بینکنگ کو آسان بنانے کی غرض سے اصلاحات کی سفارش کرنا۔
  3. مالی ذرائع پر سفارشات اور شرح قرض میں اضافے کے لیے سازگار طریقہ کار کے ساتھ بینکوں کے لیے طویل المدت مالی ضروریات کا جائزہ لینا، جس میں ترقیاتی مالی  ادارے اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
  4. کاروبار کے لیے پونجی کی لاگت میں فرق کا جائزہ لینا، اور پائیدار نمو کے لیے نجی سرمایہ کاری کو تقویت بہم پہنچانے کے لیے پالیسی متبادل پیش کرنا۔
  5. بینکنگ کے اداروں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل جدت طرازی کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا، ساتھ ہی سائبر خطرات سے تحفظ فراہم کرانا۔ علاوہ ازیں، بینکنگ شعبے کے لیے مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت کو یقینی بنانے کے مقصد سے ہنرمند افراد کے حصول اور صلاحیت سازی کے لیے ایک حکمت عملی پیش کرنا۔
  6. ترجیحی شعبہ جات کے قرضوں کے ڈھانچے کا جائزہ لینا اور مبنی بر شمولیت، متوازن اور جدید ڈیٹا پر مبنی قرض فراہمی  کو فروغ دینے میں ان کی اہمیت، اثرانگیزی اور باہمی تعاون کا جائزہ لینا، جو کہ بدلتی ہوئی اقتصاتی ترجیحات اور مالی شمولیت کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
  7. حکومت ہند کے ذریعہ  کمیٹی کو ارسال کیے گئے کسی دیگر معاملے پر سفارشات پیش کرنا۔

**********

 

 

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:6977


(ریلیز آئی ڈی: 2330644) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी