پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 6:30PM by PIB Delhi
وزارت کوئلہ نے آج گوا کے پنجی میں ’مائننگ فار فیوچر‘ کے موضوع پر شراکت داروں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ ایک روزہ اس اجلاس میں کیپٹو اور کمرشل کوئلہ بلاکس کے تمام الاٹیز، ریاستی حکومتوں کے نمائندوں، سی جی ڈبلیو اے، ڈی جی ایچ، ایم او ای ایف سی سی اور وزارت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں الاٹ کیے گئے کوئلہ بلاکس کو تیزی سے فعال کرنے، پالیسی اصلاحات کے اگلے مرحلے اور ذمہ دارانہ کان کنی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت کوئلہ کے سکریٹری جناب وکرم دیو دت اجلاس کے مہمان خصوصی تھے۔ ایڈیشنل سکریٹری اور نامزد اتھارٹی محترمہ روپندر برار اور وزارت کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مشاورتی اجلاس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ کوئلہ کی پیداوار میں ہندوستان کی آئندہ پیش رفت صرف نئے بلاکس الاٹ کرنے سے نہیں بلکہ پہلے سے الاٹ کیے گئے بلاکس کو پیداوار میں لانے سے بھی حاصل ہوگی۔ الاٹیز سے خطاب کرتے ہوئے سکریٹری نے کہا، ’’جو بلاک الاٹ ہوچکا ہے لیکن پیداوار نہیں کر رہا، وہ ایسی صلاحیت ہے جسے ملک نے اپنے لیے مختص کر رکھا ہے لیکن استعمال نہیں کر پا رہا ہے۔‘‘
سکریٹری نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ نے اس شعبے کا امتحان لیا ہے۔ فروری کے اواخر سے مغربی ایشیا میں تنازع کے باعث ایل این جی اور ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے کے وقت کانوں اور بجلی گھروں میں موجود کوئلے کے ذخیرے نے حکومت کو ملک میں بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں مدد دی اور انہوں نے اس کے لیے صنعت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دباؤ ابھی کم نہیں ہوا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2027 تک گیس کی منڈیوں میں سخت صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔ دوسری سہ ماہی میں ایشیائی اسپاٹ ایل این جی کی اوسط قیمت 17.5 امریکی ڈالر فی ایم بی ٹی یو رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے، جبکہ 2026 میں عالمی کوئلہ طلب کے ریکارڈ 8.94 ارب ٹن تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ سکریٹری نے کہا، ’’ہم ملک میں جتنا زیادہ کوئلہ پیدا کرتے ہیں، اتنا ہی معیشت کو ان اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو مانگ بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہے۔ نیتی آیوگ کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے تحت کوئلے کی مانگ 2025 میں تقریباً 1.25 ارب ٹن سے بڑھ کر 2050 تک 2.6 ارب ٹن سے زیادہ ہوسکتی ہے، جبکہ نیٹ زیرو کے راستے پر بھی یہ مانگ 1.8 ارب ٹن سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اسٹیل، سیمنٹ اور بجلی، جو کوئلے کے تین سب سے بڑے صارفین ہیں، ان شعبوں میں کئی گنا توسیع متوقع ہے۔ ہندوستان نے مالی سال 2025-26 میں 1041 ملین ٹن کوئلہ پیدا کیا اور اب بھی اس کی 70 فیصد سے زیادہ بجلی کی ضروریات کوئلے سے پوری ہوتی ہیں۔
جناب دت نے مزید کہا کہ وزارت کے عزم کے دائرے میں پائیداری، کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور تکنیکی ترقی سمیت متعدد پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے سائنسی طریقے سے کانوں کو بند کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کان کنی سے خالی ہونے والے علاقوں کو ایسے متحرک اور ماحول دوست مسکن میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو باہمی تعاون سے تیار کیے جائیں اور ہم آہنگ ماحولیاتی نظام کو فروغ دیں۔ اس سے ماحولیاتی بحالی کے ساتھ کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور طویل مدتی سماجی استحکام بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے اقدامات نے کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی برادریاں خود کو ترقیاتی اقدامات کا حصہ محسوس کریں اور ان سے مستفید ہوں۔

ایڈیشنل سکریٹری محترمہ روپندر برار نے شرکا کو اب تک کی گئی اصلاحات سے آگاہ کیا۔ 2020 کے فریم ورک کے تحت کوئلہ بلاکس کے آخری استعمال سے متعلق پابندیاں ختم کی گئیں، بولی کے عمل کو نیشنل کول انڈیکس سے منسلک ریونیو شیئر کی بنیاد پر کیا گیا، تکنیکی اور مالی اہلیت کی شرائط ختم کی گئیں اور خودکار راستے کے تحت 100 فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دی گئی۔ زیر زمین کانوں کو پیشگی رقم سے چھوٹ کے ساتھ کم از کم قیمت اور کم پرفارمنس سکیورٹی کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ اس کے بعد مکمل طور پر دریافت شدہ بلاکس کو آپریشنل کرنے کی مقررہ مدت 51 ماہ سے کم کرکے 40 ماہ اور جزوی طور پر دریافت شدہ بلاکس کے لیے 66 ماہ سے کم کرکے 52 ماہ کردی گئی ہے۔ کان کنی کے منصوبوں کی منظوری کا اوسط وقت پہلے کے نو ماہ کے مقابلے میں اب 4.5 ماہ رہ گیا ہے، مائن اوپننگ پرمیشن اب کمپنی کے بورڈ کی جانب سے دی جاتی ہے اور 44 منظور شدہ ایکسپلوریشن ایجنسیوں کو اب پروسپیکٹنگ لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کوئلہ بلاکس کو تیزی سے فعال بنانے کے لیے کی گئی اصلاحات میں مختلف وزارتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے ماحولیات کے تحفظ اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے کوئلہ کی پیداوار میں تیزی لانے پر زور دیا اور کہا کہ پائیداری کو پیداوار کے پیمانے میں اضافے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ کوئلہ شعبے میں اصلاحات کے تبدیلی لانے والے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے شفافیت، پالیسی میں استحکام اور کاروبار کرنے میں آسانی کو سرمایہ کاری راغب کرنے، مسابقت کو فروغ دینے اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے اہم عوامل قرار دیا۔

وزارت نے الاٹیز سے کہا کہ وہ نظرثانی شدہ مقررہ مدت سے پہلے کانیں کھولیں، زیادہ سے زیادہ مقررہ پیداواری صلاحیت تک جلد پہنچیں، زمین، جنگلات اور ریاستی سطح سے متعلق مسائل کو ابتدائی مرحلے میں اٹھائیں اور ذمہ دارانہ کان کنی کو یقینی بنائیں۔ وزارت نے ان سے ایسی پالیسی تبدیلیوں کے بارے میں تجاویز بھی طلب کیں جن سے کانوں کو تیزی سے فعال بنانے میں مدد مل سکے، کوئلہ کان معاہدوں کی ان شقوں کی نشاندہی کی جو نظرثانی کی متقاضی ہیں، اور متعلقہ ضوابط و قواعد میں درکار ترامیم کے بارے میں بھی تجاویز مانگیں۔ ذمہ دارانہ کان کنی کے حوالے سے سکریٹری نے کہا کہ کان کے لیے زمین درکار ہوتی ہے، پانی استعمال ہوتا ہے اور لوگوں کے ذریعہ معاش میں تبدیلی آتی ہے۔ جو خاندان اپنی زمین چھوڑتے ہیں، انہیں پہلے ہی دن سے معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں کیا ملے گا، انہیں کہاں منتقل کیا جائے گا اور ان کی آمدنی کس طرح بحال کی جائے گی، جبکہ کمپنیوں کو اپنے ہر وعدے کو پورا کرنا چاہیے۔
شراکت دار مشاورتی اجلاس میں کوئلہ شعبے میں تبدیلی کے اہم پہلوؤں سے متعلق مختلف اجلاسوں میں مفید تبادلہ خیال ہوا۔ کان کنی کے مستقبل کے حوالے سے زیر زمین کوئلہ گیسفیکیشن، ٹیکنالوجی کو اپنانے، کارکردگی اور قدر میں اضافے کے لیے جدت طرازی جیسے موضوعات پر بات ہوئی۔ بحالی، بازآبادکاری، زمین کے دوبارہ استعمال، کارکنوں کی فلاح و بہبود، سی ایس آر اور منصفانہ منتقلی کے ذریعے جامع ترقی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں کمیونٹیز اور تمام شراکت داروں کو مرکز میں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ ماحول دوست کان کنی کے طریقوں اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے والے پائیداری کے اقدامات پر بھی توجہ دی گئی۔ مجموعی طور پر ان اجلاسوں میں جدید، ذمہ دار، مستقبل کے لیے تیار اور خود کفیل کوئلہ شعبے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے صنعت کے نمائندوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، روبوٹکس اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبے میں پیش رفت سے آگاہ کیا، جن میں کان پر ہی کوئلے میں راکھ کی مقدار کم کرنا، زیر زمین کوئلہ گیسفیکیشن، جدید ایکسپلوریشن تکنیک اور پیسٹ فلنگ کے ساتھ ساتھ عالمی بہترین طریقہ کار شامل تھے۔ ڈی جی ایچ، ڈی جی ایم ایس، ایم او ای ایف اینڈ سی سی اور سی جی ڈبلیو اے کے افسران نے سی بی ایم فریم ورک، کانوں کی حفاظت، ماحولیاتی پالیسی اصلاحات اور زیر زمین پانی کی منظوری سے متعلق امور پر اظہار خیال کیا۔ اس کے بعد پالیسی کو فعال بنانے اور اصلاحات کی اگلی نسل پر اوپن ہاؤس سیشن منعقد کیا گیا۔ شرکا نے کانوں کی بندش، سی ایس آر اور کان کنی والے علاقوں میں کمیونٹی کی فلاح و بہبود، شجرکاری اور ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ پالیسی اصلاحات کے اثرات، فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی اور کوکنگ کوئلہ کی پیداوار بڑھانے کے طریقوں سے متعلق اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔
تبادلہ خیال کے بعد اجلاس کو شراکت داروں کے ساتھ انٹرایکٹو سوال و جواب کے سیشن کے لیے کھول دیا گیا، جس نے باہمی تبادلے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم فراہم کیا۔
وزارت کوئلہ شعبے کو مستقبل کے لیے تیار، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی کوئلہ ماحولیاتی نظام کی جانب لے جا رہی ہے۔ گوا میں منعقدہ مشاورت وزارت کی جانب سے منعقد کی جانے والی مسلسل مشاورتوں کا ایک حصہ ہے، جو مسلسل رابطے، جدت طرازی اور پائیدار طریقہ کار کے لیے وزارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئلہ شعبہ عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی صورتحال اور قومی ترجیحات کے مطابق ترقی کرے۔ وزارت موصولہ تجاویز کو یکجا کرکے متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ اٹھائے گی اور ذمہ دارانہ کان کنی کے ذریعے ملک کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 6972 )