پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 5:45PM by PIB Delhi
گجرات کے راجکوٹ ضلع کے اقدام پر گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، گاندھی نگر کے جوائنٹ منیجنگ ڈائریکٹر جناب پربھو جوشی نے، اس اقدام کو پائیدار بنانے کے بارے میں راجکوٹ کے کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر اوم پرکاش نے جبکہ اس کی نقل اور توسیع کے حوالے سے نوساری کے کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹ جناب منیش گوروانی نے ملک بھر کے شرکاء کے سامنے پریزینٹیشن دی
نیشنل گڈ گورننس ویبنار سلسلے کا 41واں ویبنار30 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا، جس میں’پی ایم اے کے تحت ایوارڈیافتہ اقدامات کی پائیداری اور ان کی نقل و توسیع‘ کے موضوع کے تحت راجکوٹ ضلع کے اس اقدام کو پیش کیا گیا، جسے عوامی انتظامیہ میں نمایاں کارکردگی کے لیے2024 کا وزیر اعظم کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس موقع پر درج ذیل پیشکشیں کی گئیں:
(i) گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن(جی آئی ڈی سی)، گاندھی نگر کے جوائنٹ منیجنگ ڈائریکٹر جناب پربھو جوشی نے ایوارڈیافتہ اقدام پیش کیا؛
(ii) راجکوٹ کے کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر اوم پرکاش نے اس اقدام کو پائیدار بنانے کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی؛
(iii) گجرات کے نوساری کے کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹ جناب منیش گوروانی نے اس اقدام کے اہم پہلوؤں پر عمل درآمد اور اسے مزید وسعت دینے کے بارے میں بتایا۔
اس ویبنار کی صدارت محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات(ڈی اے آر پی جی)کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پنیت یادو نے کی اور محکمے کے سینئر افسران نے اس میں شرکت کی۔ ملک بھر کے 330 سے زیادہ مقامات سے اس ویبنار میں شرکت کی گئی، جن میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتظامی اصلاحات کے محکموں کے سینئر افسران، ضلع کلکٹرز، ریاستی اور ضلعی سطح کے فیلڈ افسران اور مرکزی و ریاستی انتظامی تربیتی اداروں کے افسران شامل تھے۔
وزیر اعظم نے اپریل2022میں محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) کو ہدایت دی تھی کہ وہ ضلع کلکٹروں اور دیگر افسران کے ساتھ ورچوئل کانفرنسوں اور ویبناروں کا انعقاد کرے، جن میں عوامی انتظامیہ میں نمایاں کارکردگی کے لیے وزیر اعظم کے ایوارڈز(پی ایم اے) کے سابقہ فاتحین کو اپنے تجربات پیش کرنے کے لیے مدعو کیا جائے، تاکہ ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر عام کرنے اور دوسری جگہوں پر بھی نافذ کرنے کی حوصلہ افزائی ہو۔
اس کے بعد سے اب تک 40 ویبنار منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ہر ویبنار میں متعلقہ محکموں، ریاستی حکومتوں، ضلع کلکٹروں، ریاستی انتظامی تربیتی اداروں اور مرکزی تربیتی اداروں کے تقریباً 1000 افسران شرکت کرتے ہیں۔

***
ش ح۔م م ۔ ن ع
U. No- 6968