ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 4:54PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں ہوا کے معیار کے بندوبست سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) کے نئے تیار کردہ مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز (آئی 3 سی) کا دورہ کیا، جسے نئی دلی میں’پون‘(این سی آر کے لئے ہوا کے معیار کی نگرانی اور تجزیے کا پلیٹ فارم) کا نام دیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے اس کے تکنیکی ڈھانچے اور عملی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ ایک واحد ڈیجیٹل مرکز کے طور پر تیار کیا گیا ’پون-آئی 3 سی‘، 30 سے زائد ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) اور معلوماتی ذرائع کو یکجا کرتا ہے۔ ان میں فضائی معیار، اخراج، موسمیاتی معلومات، سیٹلائٹ، کیمروں، آمد و رفت، شکایات اور مختلف اداروں سے حاصل ہونے والے ضابطوں کی تعمیل سے متعلق اعداد و شمار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دہلی-این سی آر میں کام کرنے والے فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کے 111 مراکز، 2,300 سے زائد صنعتوں، 3,200 سے زیادہ فعال تعمیراتی مقامات اور ٹریفک کے دباؤ والے مقامات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو بھی یکجا کرتا ہے۔

جائزہ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی سطح پر فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلی ترجیح درست اور مقامی سطح کے تفصیلی اعداد و شمار کی دستیابی اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پون-آئی 3 سی‘ کا آغاز ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے اقدامات کرنےمیں ہونے والی تاخیر ختم ہوگی، معلومات کے الگ الگ نظام کے درمیان حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز (ایس پی سی بیز) کو معلومات کے ایک ہی مستند ذریعے کے تحت کام کرنے میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں آلودگی پھیلانے والوں کو چند ہی منٹوں میں جواب دہ ٹھہرایا جا سکے گا۔ اس کوشش کو سراہتے ہوئے جناب یادو نے کہا، ’’صاف ہوا کو کسی ایک ادارے یا کسی ایک ریاست کی تنہا کوششوں سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ آئی 3 سی ہر اہم معلوماتی ذریعے کو ایک ہی اسکرین پر لے آتا ہے تاکہ کھیتوں میں فصل کی باقیات جلانے، آلودگی پھیلانے والی صنعتی چمنی یا ڈھکے بغیر چھوڑے گئے تعمیراتی مقام کی نشاندہی ہو سکے، اس کی اطلاع دی جا سکے اور حقیقی وقت میں اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ یہ آلودگی کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اس کی پیشگی نشاندہی اور روک تھام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی ہے، اور اب ہر متعلقہ ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اطلاعات پر بغیر کسی تاخیر کے حقیقی وقت میں کارروائی کرے۔‘‘
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ’پون-آئی 3 سی‘ پلیٹ فارم کی مدد سے مقررہ ضوابط پر عمل نہ کرنے والی صنعتوں، آلودگی پھیلانے والے غیر تعمیل کنندہ ذرائع اور ٹریفک کے دباؤ والے مقامات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ اس تناظر میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں کے تحت قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں 5 سے 20 نومبر تک تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیاں بند رکھی جائیں گی۔

جناب یادو نے بتایا کہ ‘نشاندہی کرو، صورتحال کا پتہ لگاؤ اور فوری اقدام کرو ‘ کے اصول پر کام کرنے والا ’پون-آئی 3 سی‘ متعدد اداروں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے آلودگی کی سطح کا حقیقی وقت میں اور سابقہ اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ، آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی، رجحانات اور کیے گئے اقدامات کی افادیت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مقررہ معیارات اور عملی منصوبوں کے مطابق زمینی سطح پر ضابطوں کی تعمیل کی نگرانی بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ فضائی معیار کی جامع اور حقیقی وقت میں نگرانی اور سرحد پار ضابطوں کے نفاذ کے لیے اعداد و شمار پر مبنی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
’پون-آئی 3 سی‘ کی ایک نمایاں خصوصیت انتباہات پر مبنی ضابطوں کی تعمیل کا انتظام ہے۔ جناب یادو نے بتایا کہ مقررہ معیارات، قانونی ہدایات یا طے شدہ تعمیلی تقاضوں سے انحراف کی صورت میں انتباہ جاری ہوتا ہے اور ضروری کارروائی کے لیے متعلقہ ادارے کو معاملہ بھیجا جاتا ہے۔ اس سے سی اے کیو ایم کا نظام دستی طور پر اور اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر نگرانی کرنے کے طریقے سے آگے بڑھ کر فعال، ڈیجیٹل اور اعداد و شمار پر مبنی ضابطوں کی تعمیل کے انتظام میں تبدیل ہو رہا ہے، جس سے بروقت مداخلت اور ضابطہ جاتی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعدد اداروں کے فضائی معیار سے متعلق اعداد و شمار کو یکجا کرنے سے آئی 3 سی مختلف اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط کرے گا، ضابطوں کے نفاذ کی رفتار تیز کرے گا، عوامی شکایات کے فوری ازالے میں مدد دے گا اور آلودگی کے شدید موسمی ادوار میں کسی مخصوص علاقے میں آلودگی کی سطح اچانک بڑھنے پر فوری کارروائی کو ممکن بنائے گا۔ اس طرح شہریوں کو مرکز میں رکھ کر اقدامات کیے جا سکیں گے۔

دورے کے دوران جناب یادو نے نگرانی کے اہم نظام کا جائزہ لیا۔ ان میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ، ہندوستانی محکمہ موسمیات اور ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کی جانب سے نصب کردہ فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کے مراکز سے حاصل ہونے والے فضائی معیار اور آلودہ مادّوں کے ارتکاز سے متعلق اعداد و شمار، آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام کے ذریعے صنعتوں سے خارج ہونے والے ذراتی مادّوں (پی ایم)، سلفر ڈائی آکسائیڈ (ایس او₂)، نائٹروجن کے آکسائیڈز (این او ایکس) اور کاربن مونو آکسائیڈ (سی او) کے اعداد و شمار، ہندوستانی زرعی تحقیقاتی ادارے، ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم اور فائر انفارمیشن فار ریسورس مینجمنٹ سسٹم کی جانب سے فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق سیٹلائٹ پر مبنی اعداد و شمار، جن میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران آگ لگنے کے واقعات سے موازنہ بھی شامل ہے، تعمیراتی اور انہدامی مقامات پر نصب کیمروں کی براہِ راست تصویری ترسیل اور پی ایم سینسر، موسم، بارش، ہوا کی رفتار اور سمت اور نمی سے متعلق اعداد و شمار، اوکھلا، بھلسوا، غازی آباد، گریٹر نوئیڈا اور بھنڈواری سمیت بڑے کوڑا تلف کرنے کے مقامات سے براہِ راست موصول ہونے والی معلومات، وی اے ایچ اے این (واہن) نظام کے ذریعے گاڑیوں سے متعلق اعداد و شمار اور ٹریفک کے دباؤ والے مقامات، گرین دہلی ایپ اور سمیر ایپ کے ذریعے شہریوں کی شکایات،مشینی طریقے سے سڑکوں کی صفائی کرنے والی گاڑیوں (ایم آر ایس ایم) کی براہِ راست نگرانی اور ہریانہ و پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں کی جانب سے مقررہ بایوماس ایندھن کے استعمال سے متعلق ضوابط کی تعمیل شامل ہے۔
ریاستی عملی منصوبے کی نگرانی کا نظام دہلی، ہریانہ، پنجاب، راجستھان اور اتر پردیش کے لئے ریاستی، شعبہ جاتی اور انفرادی اقدامات کی سطح پر زیر التوا کاموں کی مجموعی صورتِ حال پیش کرتا ہے۔ اس میں فضائی معیار کی نگرانی، فصلوں کی باقیات کا انتظام، گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی، تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیاں، سڑکوں کی گرد و غبار کا انتظام، بلدیاتی ٹھوس فضلے کا انتظام، صنعتی آلودگی، ڈیزل جنریٹر سیٹ اور ماحول دوست شمشان گھاٹ شامل ہیں۔

اس موقع پر موجود اہم شخصیات میں فضائی معیار کے بندوبست کے کمیشن (سی اے کیو ایم) کے چیئرپرسن جناب راجیش ورما، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے چیئرپرسن اور وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر امن دیپ گرگ کے علاوہ وزارت، سی اے کیو ایم اور سی پی سی بی کے دیگر سینئر افسران شامل تھے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ م ذ
U.NO.6961