زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت 12 سے 17 اپریل تک نئی دہلی میں آئی سی اے آر- سی جی آئی اے آر سائنس اینڈ پارٹنرشپ ویک 2027 کی میزبانی کرے گا، جس میں 5,000 سے زیادہ مندوبین شرکت  کریں گے


سی جی آئی اے آر سائنس اینڈ پارٹنرشپ ویک 2027 میں بھارت کے زرعی شعبے میں تبدیلی اور عالمی تحقیقی شراکت داریوں کو نمایاں کیا جائے گا

سی جی آئی اے آر اور آئی سی اے آر بھارت میں اپنی سرگرمیوں کو قومی ترجیحات سے مزید قریب تر کریں گے: ڈاکٹر ایم ایل جاٹ

بھارت جنوب-جنوب تعاون کو فروغ دے گا اور عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ زرعی اختراعات کا تبادلہ کرے گا: ڈاکٹر ایم ایل جاٹ

بھارت اور سی جی آئی اے آر کی شراکت داری سائنس اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی لانے والی قوت کا مظاہرہ کرتی ہے: ڈاکٹر اسمہانے الوعافی

سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داریوں نے بھارت کے زرعی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے: ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 OCT 2026 2:29PM by PIB Delhi

سی جی آئی اے آر اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) نے آج اعلان کیا کہ نئی دہلی میں 12 سے 17 اپریل 2027 تک سی جی آئی اے آر سائنس اینڈ پارٹنرشپ ویک کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس تقریب کا اہتمام حکومتِ ہند کی وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کے محکمہ برائے زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے تحت آئی سی اے آر اور سی جی آئی اے آر مشترکہ طور پر کریں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261030143133_a7911e.jpg

اس ہفتے بھر جاری رہنے والی تقریب میں دنیا بھر سے محققین، کسان، حکومتوں کے نمائندے، نئے کاروباری ادارے اور تجارتی شعبے سے وابستہ افراد نئی دہلی میں جمع ہوں گے۔ اس دوران وہ ان اختراعات کا جائزہ لیں گے جو پہلے ہی کسانوں تک پہنچ رہی ہیں اور اس بات پر بھی غور کریں گے کہ مزید کسانوں تک ان کے فوائد پہنچانے کے لئے کن شعبوں میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت اس تقریب کی میزبانی کے لئے ایک موزوں ترین انتخاب ہے۔ آئی سی اے آر دنیا کے سب سے بڑے قومی زرعی تحقیقی نظام میں سے ایک کی قیادت کرتا ہے اور اس کے سائنس داں 50 سال سے زیادہ عرصے سے سی جی آئی اے آر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس وقت سی جی آئی اے آر کے دس تحقیقی مراکز بھارت میں فصلوں، پانی، مویشیوں، مچھلیوں، غذائیت اور پالیسی کے شعبوں میں سرگرم عمل ہیں۔

بھارت کی زرعی سائنس کا دائرہ اس کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ بھارت سے حاصل کردہ مونگ پھلی کا ایک نمونہ، جسے آئی سی آر آئی ایس اے ٹی نے محفوظ کرکے دیگر ممالک کے ساتھ مشترک کیا، ایسی اقسام کی تیاری میں معاون ثابت ہوا جو اب ملاوی، یوگنڈا، موزامبیق اور زیمبیا میں کاشت کی جا رہی ہیں۔ حیدرآباد میں قائم زراعت میں جنوب-جنوب تعاون کا مرکزِ امتیاز ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں آزمودہ زرعی اختراعات کو فروغ دے رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261030143148_917959.jpg

محکمہ برائے زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور بھارتی زرعی تحقیق کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے ہندوستان اور سی جی آئی اے آر کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کیا، جس نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں زرعی تحقیق اور ترقی کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261030143201_0c0d81.jpg

انہوں نے کہا کہ سی جی آئی اے آر ایک بین الاقوامی زرعی تحقیقی شراکت داری ہے، جس کے تحت 15 تحقیقی مراکز 100 سے زائد ممالک میں کام کر رہے ہیں اور اس نے عالمی سطح پر زراعت کی ترقی میں نمایاں تعاون کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ، بالخصوص آئی سی اے آر کے ذریعے اس کا اشتراک، فصلوں کی بہتری، قدرتی وسائل کے انتظام، غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے اہم پیش رفت کا ذریعہ بنا ہے۔

سبز انقلاب کے بعد سے بھارت میں زرعی شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جاٹ نے بتایا کہ سی آئی ایم ایم وائی ٹی، آئی آر آر آئی اور آئی سی آر آئی ایس اے ٹی سمیت بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون نے بھارت کی غذائی اجناس کی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے غذائی قلت کے شکار ملک سے بھارت اب غذائی اجناس پیدا کرنے اور برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی جی آئی اے آر سائنس اینڈ پارٹنرشپ ویک 2027 بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور سائنسی معلومات، ٹیکنالوجی اور بہترین طور طریقوں کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر جاٹ نے کہا کہ بھارت کی ترجیح جنوب-جنوب تعاون کو فروغ دینا اور اپنی کامیاب زرعی اختراعات کو عالمی جنوب کے ممالک، بالخصوص افریقی ممالک کے ساتھ مشترک کرنا ہوگی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل زراعت، ڈیجیٹل زراعت اور ایگری اسٹیک، زرعی میکانائزیشن، موٹے اناج، قدرتی کاشت کاری اور پائیدار زرعی طریقوں کے شعبوں میں بھارت کی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس تقریب میں زرعی و غذائی قدر کی پوری زنجیر سے متعلق ابھرتی ہوئی ترجیحات پر غور و خوض کیا جائے گا، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، آبی وسائل کا انتظام، مٹی کی صحت، سرکاری و نجی شراکت داری، نئے کاروباری اداروں، نوجوانوں اور خواتین کی شرکت کے ساتھ ساتھ زرعی سائنس اور اختراعات کو عوام تک پہنچانے میں ذرائع ابلاغ کا کردار بھی شامل ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261030143216_1aa08c.jpg

سی جی آئی اے آر کی ایگزیکٹو مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر اسمہانے الوعافی نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ منعقد ہونے والی یہ تقریب بھارت اور سی جی آئی اے آر کے درمیان دیرینہ شراکت داری کی کامیابیوں کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ زرعی تعاون کے آئندہ 50 برسوں کے لیے مستقبل پر مبنی لائحہ عمل تیار کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یہ ثابت کیا ہے کہ مضبوط قومی سائنسی نظام بڑے پیمانے پر کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت کے بیج اور اس کا علمی سرمایہ پہلے ہی افریقہ اور ایشیا کے کسانوں کے لیے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپریل میں ہم اس باہمی تبادلے کو آگے بڑھانا اور مل کر یہ غور کرنا چاہتے ہیں کہ سائنس مزید کیا کچھ کر سکتی ہے۔

انہوں نے انسانی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے اور غذائی نظام کو مضبوط کرنے میں سائنس اور سائنس دانوں کے کردار کو تسلیم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اپریل 2025 میں کینیا کے شہر نیروبی میں منعقدہ اس تقریب کے پہلے کامیاب ایڈیشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت میں ہونے والا یہ ایڈیشن عالمی شراکت داریوں کو مزید مستحکم کرے گا اور ابھرتے ہوئے زرعی چیلنجوں کے حل تلاش کرنے کے لیے مختلف متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261030143231_e709d8.jpg

آئی سی آر آئی ایس اے ٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک نے کہا، ’’غذائی قلت کا شکار ملک سے غذائی اجناس پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ایک بڑے ملک تک بھارت کا زرعی سفر سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کی تبدیلی لانے والی قوت کا عکاس ہے۔ سی جی آئی اے آر سائنس اینڈ پارٹنرشپ ویک 2027 کے ذریعے ہمارا مقصد بھارت کی زرعی کامیابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا، اپنی اختراعات کا عالمی سطح پر تبادلہ کرنا اور زرعی شعبے اور غذائی نظام کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے مشترکہ حل تیار کرنے کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے سیکھنا ہے۔‘‘

سی جی آئی اے آر سائنس ویک کا پہلا انعقاد اپریل 2025 میں کینیا کے شہر نیروبی میں ہوا تھا، جہاں سی جی آئی اے آر نے اپنے موجودہ تحقیقی پروگراموں کا آغاز کیا تھا۔ نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اس ایڈیشن میں اس بات پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ سائنسی تحقیق کو عملی نتائج میں کیسے بدلا جائے اور شراکت داری کے ذریعے جنوب-جنوب تعاون کو کس طرح آگے بڑھایا جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ زرعی تحقیق اور اختراعات بھارت کے 2047 کے وژن کی تکمیل میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس تقریب کے پروگرام اور مقررین کے ناموں کا اعلان آئندہ چند ماہ میں کیا جائے گا۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.6949

 


(ریلیز آئی ڈی: 2330420) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati