پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 OCT 2026 9:47PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں ’’انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ‘‘ کے پیشگی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی بڑھتی ہوئی تجارتی شراکت داریوں، پالیسیوں کے استحکام اور سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ اس چوٹی کانفرنس کے انعقاد پر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ جناب اے۔ ریونت ریڈی کو مبارک باد دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ 2047 تک ریاست کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کے موجودہ تجارتی معاہدوں کے ذریعے عالمی جی ڈی پی کے 70 ٹریلین ڈالر پر مشتمل منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہوئی ہے۔ اس میں ایک دہائی سے بھی پہلے طے پانے والے معاہدوں کے ذریعے 10 ٹریلین ڈالر اور حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے نو معاہدوں کے ذریعے مزید 60 ٹریلین ڈالر کی منڈیوں تک رسائی شامل ہے۔ مزید آٹھ دوطرفہ یا کثیر فریقی معاہدوں کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن سے مزید 15 ٹریلین ڈالر کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس طرح بھارت کو 115 ٹریلین ڈالر کی عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)کا تقریباً 76 فیصد احاطہ کرنے والی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہو جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی چیلنجوں کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے عالمی تجارت کی شرح نمو محض 1.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس کے باوجود بھارت نے برآمدات کے لیے ایک ٹریلین ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے، جس میں رواں سال 15 فیصد اضافے کا نشانہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدف برآمد کنندگان، صنعتی ایسوسی ایشنز اور کاروباری اداروں کے اس اجتماعی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت وہ روایتی اندازوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت کی اقتصادی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ایک دہائی قبل پانچ کمزور معیشتوں میں شمار ہونے والا بھارت اب دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت اور بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن چکا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال 7.7 فیصد اور رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی شرح نمو کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں بھی اقتصادی ترقی کی شرح 7 فیصد سے زیادہ برقرار رہے گی۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے حالیہ جائزے کا بھی ذکر کیا، جس میں بھارت کی اقتصادی کارکردگی توقعات سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کا یہ بھی اندازہ ہے کہ بھارت رواں سال اور آئندہ سال بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بنا رہے گا۔
وزیر موصوف نے مغربی ایشیا اور یوکرین میں جاری تنازعات اور آبنائے ہرمز کے آس پاس پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجوں کے باوجود بھارت مسلسل اپنی مضبوطی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کئی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا بھی ذکر کیا، جن میں جاپانی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (جے سی آر) بھی شامل ہے۔ اس ایجنسی نے 35 سال سے زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ بھارت کی ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت سرمایہ کاروں کو مستحکم پالیسیاں، کھلی سرحدیں، مضبوط سپلائی چین اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے ان کے مفادات کے تحفظ کا یقین فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں کے دوران بھارت نے نو آزاد تجارتی معاہدوں یا دوطرفہ تجارتی معاہدوں پر مذاکرات مکمل کرکے انہیں حتمی شکل دی ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں 38 ترقی یافتہ ممالک میں بھارتی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے پاس ایسی صلاحیتیں اور وسائل موجود ہیں جو ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ان میں جدید آلات، جدید ترین ٹیکنالوجی، ہائی ٹیک ڈیوائسز اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس(جی پی یو)شامل ہیں، جن کی بھارتی صنعت کو ضرورت ہے۔
تلنگانہ کی تاریخی تجارتی روایات کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کاکتیہ حکمراں گنپتی دیو کی جانب سے 1244 میں جاری کیے گئے بحری تجارتی فرمان ’’موٹوپلی ابھیا شاسنا ‘‘ کا حوالہ دیا، جس نے تجارت میں استحکام اور پیش بینی کو فروغ دیا تھا۔ انہوں نے اس کا موجودہ صورت حال سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی سرمایہ کار پالیسیوں میں یقین، استحکام اور تسلسل کے خواہاں ہیں۔
’’وکست بھارت 2047‘‘ کے تئیں اجتماعی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ مشترکہ خوشحالی کی جانب ملک کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے 1.4 ارب بھارتیوں کی اجتماعی کوششوں اور توانائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ہنرمند، اہل اور نوجوان آبادی کا عزم اور صلاحیتیں ریاست کو ترقی اور پیش رفت کے نئے معیار قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تلنگانہ کے 2047 تک اپنی معیشت کو تقریباً 200 ارب ڈالر سے بڑھا کر 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے عزائم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اس ہدف کا خیرمقدم کیا۔
جناب گوئل نے کہا کہ ان کی لغت میں ’’ناممکن‘‘ جیسا کوئی لفظ نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اجتماعی طور پر بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں، کسانوں، ماہی گیروں، تکنیکی افرادی قوت، سائنس دانوں، اختراع کاروں، اسٹارٹ اپس، خواتین کاروباریوں اور افسران، سبھی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جناب گوئل نے کہا کہ تلنگانہ اپنی ادویہ سازی کی صنعت، ایرو اسپیس اور دفاعی شعبے کی صلاحیتوں، زرعی پیداوار میں قابل قدر اضافہ، فوڈ پروسیسنگ، تحقیق و ترقی، اختراعات اور خدمات کے شعبے کے ذریعے وکست بھارت کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز، ڈیزائن اور اختراع نیز مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ریاست کے باصلاحیت افراد کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اقتصادی ترقی میں ہر چھوٹی بڑی شراکت اہمیت رکھتی ہے، وزیر موصوف نے بھارت-آسٹریلیا آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدرآباد سے آسٹریلیا کو جی آئی ٹیگ شدہ 2.5 میٹرک ٹن تندور لال چنا (ارہر)برآمد کیے جانے کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی برآمدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی معاہدے نہ صرف بڑی صنعتوں بلکہ کسانوں اور چھوٹے پیداواری اداروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے ترقیاتی سفر میں ہر طرح کی شراکت، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کو اجتماعی طور پر آگے بڑھانے میں کسانوں، صنعت کاروں، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)اور دیگر متعلقہ فریقوں کے رول کو اجاگر کیا۔
وزیر موصوف نے تلنگانہ کی ترقی کے لیے مرکزی حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ریاست میں شروع کیے گئے یا حکومت کی جانب سے تعاون یافتہ منصوبوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے ظہیرآباد انڈسٹریل اسمارٹ سٹی کا سنگ بنیاد رکھے جانے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسمارٹ سٹی آٹوموبائل، فوڈ پروسیسنگ، مشینری اور برقی آلات کی صنعتوں کے لیے فوری طور پر استعمال کے قابل صنعتی اراضی فراہم کرے گا۔ انہوں نے ورنگل میں واقع کاکتیہ میگا ٹیکسٹائل پارک کا بھی ذکر کیا اور اسے مکمل طور پر فعال ہونے والا پہلا پی ایم مترا پارک قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پارک ’’کھیت سے ریشے تک، ریشے سے کارخانے تک، کارخانے سے فیشن تک اور فیشن سے بیرون ملک تک‘‘ کے پانچ ایف وژن سے ہم آہنگ ہے۔
مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ 2047 کے لیے تلنگانہ کا ترقیاتی وژن، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیش کردہ ’’وکست بھارت‘‘ کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے چھ تجاویز پیش کرتے ہوئے جناب گوئل نے تجویز دی کہ تلنگانہ اشیا اور خدمات کے شعبوں میں اپنی 50 اہم برآمدی مصنوعات کی شناخت کرے اور ان منڈیوں کی فہرست تیار کرے جہاں موجودہ آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت خصوصی رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ہر ضلع میں ایف ٹی اے ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں تاکہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، کسانوں اور اسٹارٹ اپس کو ان معاہدوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد مل سکے۔
انہوں نے تندور لال چنا (ارہر)، چٹپٹی مرچ اور نظام آباد ہلدی جیسی جغرافیائی شناخت (جی آئی) کا ٹیگ رکھنے والی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہتر قیمت دلانے میں مدد کے لیے مصنوعات کی قابلِ سراغ شناخت، معیاری پیکیجنگ اور برانڈنگ انتہائی اہم ہیں۔
جناب گوئل نے تلنگانہ کی ادویہ سازی کی صنعت کو ویلیو چین میں مزید آگے لے جانے کی تجویز پیش کی۔ اس کے لیے انہوں نے تحقیق و اختراع میں سرمایہ کاری، بنیادی خام مال اور فعال دواسازی اجزا (اے پی آئی)کی گھریلو پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور جنیرک مصنوعات سے آگے بڑھ کر زیادہ قدر والی برانڈڈ اور اختراعی ادویاتی مصنوعات، بایوسیمیلرز اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیش رفت کرنے پر زور دیا۔
خلائی تحقیق، ایرو اسپیس، ہوائی جہاز کے پرزوں، دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال (ایم آر او)، دفاع، الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور مشین لرننگ کے شعبوں میں دستیاب مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے پریسیژن انجینئرنگ اور ٹولنگ کی صلاحیتیں فروغ دینے، جدید ترین ٹیسٹنگ سہولیات قائم کرنے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں دنیا کے ممتاز اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے تحقیق و ترقی اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاکہ افرادی قوت کو مستقبل کی صنعتی اور تکنیکی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
آخر میں، جناب گوئل نے چھوٹے جرائم کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے، ضابطوں کی تعمیل سے متعلق بوجھ کم کرنے، آسان طریقۂ کار اور مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری کے ذریعے کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق اصلاحات کو تیز کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تلنگانہ کو بھی ایسے ہی اقدامات اپنانے پر غور کرنے کی ترغیب دی، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زندگیوں کو بھی آسان بنایا جا سکے اور ریاست بھر میں معیارِ زندگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب گوئل نے دیوالی کی علامت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روشنی ایک ایک دیا جلانے سے پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سرمایہ کاری، ہر برآمد، ہر نئی ملازمت اور ہر اسٹارٹ اپ، تلنگانہ اور پورے ملک کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنانے کے مشترکہ ہدف کے مزید قریب لے جائے گا۔ انہوں نے بھارت اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو تلنگانہ میں موجود مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ ساتھ ہی ایسی طویل مدتی شراکت داریوں پر زور دیا جن کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور جو تلنگانہ اور بھارت کے عوام کی خوشحالی میں اپنا رول ادا کریں۔
*******
) ش ح – ع ح-ع ن)
U.No.6936