پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 7:55AM by PIB Delhi
بھارت میں ماہی پروری کا شعبہ محض پیداوار پر مرکوز سرگرمی سے آگے بڑھ کر ایک متحرک، ٹیکنالوجی پر مبنی اور قدر افزائی کو اہمیت دینے والے قومی معیشت کے ایک اہم ستون کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہ شعبہ غذائی تحفظ اور غذائیت کی فراہمی کو مستحکم بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دیہی آبادی کے ذرائع معاش کو سہارا دینے اور برآمدات سے ہونے والی آمدنی میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہی پروری کے شعبے میں قدر افزائی، سرد خانوں اور ترسیل کے مربوط نظام کی ترقی، جدید طریقۂ کار سے مچھلیوں کی تیاری و عمل کاری، متحرک ذرائع سے مچھلیوں کی فروخت اور نئے کاروباری اداروں کی اختراعی کوششوں کے ذریعے نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کاروباری ادارے مچھلیوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے، پیداوار میں اضافے، معیار کو یقینی بنانے اور ماہی گیری کے بعد کی دیکھ بھال و انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت، اشیا کے باہمی رابطے کی ٹیکنالوجی، سلسلہ وار رقمی اندراج، ڈرون ٹیکنالوجی، سرد ترسیل کے جدید نظام اور آبی حیاتیات کی پرورش کے دقیق طریقے تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں نقصانات میں کمی آ رہی ہے، منافع میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماہی پروری سے وابستہ پوری قدر افزا زنجیر مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
قدر افزائی بھارت کے ماہی پروری کے شعبے کو محض بنیادی پیداوار کی سرگرمی سے ایک متنوع اور منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ کاروباری شعبے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھر رہی ہے۔ مچھلیوں اور ماہی گیری سے حاصل ہونے والی مصنوعات کو عمل کاری کے مراحل سے گزارنے، ان کی پیکنگ کرنے، مخصوص شناخت کے ساتھ بازار میں پیش کرنے اور پکانے کے لیے تیار یا براہِ راست کھانے کے قابل شکل میں دستیاب کرانے سے پیداوار کرنے والوں کو بہتر قیمتیں حاصل ہوتی ہیں، جب کہ اس کے ذریعے ملکی اور برآمدی منڈیوں میں صارفین کی بدلتی ہوئی پسند اور ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ قدر افزائی سے مچھلیوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی آتی ہے، انہیں زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور رسد کے پورے نظام میں معیار کے ضابطوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس سے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، خصوصاً ماہی گیروں، مچھلی پالنے والوں، خواتین کے گروپوں، نوجوانوں، امدادِ باہمی کی انجمنوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے، جو مچھلیوں کی عمل کاری، پیکنگ، سرد ترسیل، بازار رسانی اور خردہ فروشی سے وابستہ ہیں۔ اس طرح قدر افزائی منڈیوں سے روابط کو مستحکم کرتی ہے، آمدنی میں اضافہ کرتی ہے اور ماہی پروری کے شعبے کو محفوظ، سہولت بخش اور اعلیٰ معیار کی سمندری غذاؤں کی بڑھتی ہوئی منڈی میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔
قدر افزائی کی جانب اس پیش رفت کو عوامی سرمایہ کاری اور ہدف پر مبنی پالیسی اقدامات کے سلسلے سے تقویت ملی ہے، جن کا مقصد پیداوار سے لے کر منڈیوں تک اس شعبے کو مستحکم بنانا ہے۔ 2015 سے حکومتِ ہند نے ماہی پروری کے شعبے میں عوامی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور نیلگوں انقلاب اسکیم، ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا، پردھان منتری متسیہ سمردھی سہ یوجنا اور کسان کریڈٹ کارڈ جیسی اہم اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے 39,272 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا، پیداوار اور فصل کی کٹائی کے بعد کے انتظامی نظام کو مضبوط بنانا، نیز ملک بھر میں 74.66 لاکھ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، نقل و حمل اور رسد کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت 3,393.85 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 46,500 سہولتوں کا اضافہ کیا گیا ہے، جن میں مچھلیوں کی نقل و حمل کے نظام، مچھلیوں کی تھوک اور خردہ فروشی کی منڈیاں، فروخت کے چھوٹے مراکز، چارے کی تیار کرنے والی کارخانے، برف بنانے کے کارخانے، سرد خانے اور قدر افزائی سے وابستہ کاروباری اکائیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پانچ جدید اور اسمارٹ مچھلی منڈیاں بھی تیار کی جا رہی ہیں، جن میں جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے نظام، ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور رسد و ترسیل کے مربوط نظام کو یکجا کیا جائے گا۔ ان منڈیوں سے روزگار کے 15,900 مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
بنیادی ڈھانچے اور رسد و ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ معیار کی مچھلیوں کی قدر افزائی کے سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے معیاری خام مال کی دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ بھارت میں اعلیٰ قدر والی مچھلیوں کی مصنوعات کی قدر افزائی کے دائرے کو وسیع کرنے کے پیش نظر، معیاری خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس سمت میں محکمہ نے مچھلیوں کی ایسی اقسام تیار کرنے کے لیے جینیاتی بہتری کے اقدامات شروع کیے ہیں، جن کی نشوونما تیز ہو، بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بہتر ہو، ناموافق حالات کا مقابلہ کرنے کی قوت زیادہ ہو اور پیداواری صلاحیت بلند ہو۔ اس کوشش سے ٹراؤٹ، جھینگا، کٹلا، روہو، تلپیا، پینگاسیئس، سی باس اور اسکمپی جیسی اعلیٰ قدر والی مچھلیوں کی اقسام کی دستیابی میں مدد ملنے کی توقع ہے، تاکہ انہیں ملکی کھپت، عمل کاری اور برآمدات پر مبنی منڈیوں کے لیے فراہم کیا جا سکے۔ ان اقسام کی پیداوار کی بنیاد کو مضبوط بنا کر جینیاتی بہتری سے قدر افزائی سے وابستہ کاروباری اداروں کو تقویت مل سکتی ہے، مچھلی پالنے والوں کو اپنی سطح پر بہتر منافع حاصل ہو سکتا ہے اور بھارت کو ماہی پروری کی قدر افزا زنجیر میں مزید آگے بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان فوائد کو چھوٹے پیداوار کرنے والوں تک پہنچانے کے لیے ایسے ادارہ جاتی طریقۂ کار کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جن کے ذریعے پیداوار کو یکجا کرنے اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ ماہی پروری کے شعبے میں قدر افزائی کے فروغ کی کوششوں کو اجتماعی کاروباری ماڈل کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے، تاکہ چھوٹے ماہی گیر اور مچھلی پالنے والے پیداوار کے محدود پیمانے، سرمایہ کی کمی اور منڈیوں تک رسائی جیسی رکاوٹوں پر قابو پا سکیں۔ محکمہ نے 2,195 ماہی پرور کسان پیداواری تنظیموں کے قیام میں تعاون کیا ہے، جس سے پیداوار کرنے والوں کو اپنی پیداوار یکجا کرنے، وسائل کو مشترکہ طور پر بروئے کار لانے اور عمل کاری، مصنوعات کو مخصوص شناخت کے ساتھ بازار میں پیش کرنے اور ان کی فروخت کی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں حصہ لینے کا موقع مل رہا ہے۔ ان میں سے کئی تنظیموں کو کھلی رقمی تجارت کے نیٹ ورک سے بھی منسلک کیا گیا ہے، جس سے رقمی منڈیوں تک ان کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں اپنی مصنوعات کی مناسب قیمت حاصل کرنے کے بہتر مواقع مل رہے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمردھی سہ یوجنا کے تحت، این سی ڈی سی، نیفیڈ، ایس ایف اے سی اور نیرا میک جیسی درمیانی معاون ایجنسیوں کے اشتراک سے 5,500 ماہی پروری کی امدادِ باہمی کی انجمنوں کو ماہی پرور کسان پیداواری تنظیموں کے طور پر کام کرنے کے لیے مستحکم کیا جا رہا ہے۔ اجتماعی سودے بازی کی قوت بڑھانے اور پیداوار کرنے والوں کے گروپوں کو جدید قدر افزا زنجیروں سے جوڑنے کے ذریعے ان اداروں سے توقع ہے کہ وہ قدر افزائی پر مبنی ماہی پروری کے کاروبار کی جانب زیادہ جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پیش رفت میں مددگار ثابت ہوں گے۔
قدر افزائی پر دی جانے والی توجہ سے فصل کی کٹائی کے بعد کی سرگرمیوں اور ماہی پروری پر مبنی کاروبار میں خواتین کی شمولیت کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد تیار ہو رہی ہے۔ بھارت کے ماہی پروری کے شعبے میں خواتین ایک اہم قوت بن کر ابھری ہیں، خصوصاً فصل کی کٹائی کے بعد کی سرگرمیوں اور چھوٹے کاروباری اداروں میں، جہاں قدر افزائی نے آمدنی کے نئے ذرائع اور کاروبار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے تحت گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 1.28 لاکھ سے زیادہ خواتین مستفیدین کے فائدے کے لیے 4,155 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں مرکزی حکومت کا حصہ 1,572 کروڑ روپے ہے۔ اس تعاون سے خواتین کو مچھلیوں کو خشک کرنے، مچھلی کے اچار اور پاپڑ تیار کرنے، دھوئیں کے ذریعے محفوظ کی جانے والی مچھلیوں کی مصنوعات بنانے، مچھلی کا سفوف تیار کرنے، نیز پیکنگ اور خردہ فروشی جیسی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع ملے ہیں۔ مچھلیوں کی متحرک فروخت کے مراکز اور چھوٹی سطح پر عمل کاری کے کاروباری ادارے ساحلی، اندرونی اور شمال مشرقی ریاستوں میں خواتین کے لیے روزگار کے پائیدار ذرائع پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کم قیمت پر پروٹین سے بھرپور غذاؤں کی دستیابی بڑھا کر غذائی تحفظ کو بھی مستحکم کر رہے ہیں۔
بھارت کا ماہی پروری کا شعبہ اب محض پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے قدر افزائی پر مبنی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ایک مربوط نظام کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ اس تبدیلی کو عمل کاری، رسد و ترسیل، سرد خانوں کے بنیادی ڈھانچے، رقمی ذرائع اور کاروباری سرگرمیوں میں سرمایہ کاری سے تقویت مل رہی ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا، پردھان منتری متسیہ سمردھی سہ یوجنا، ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ اور کسان کریڈٹ کارڈ کے باہمی اشتراک سے اس شعبے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، قدر افزائی شدہ سمندری غذاؤں کی برآمدات میں توسیع، ماہی گیروں کی آمدنی میں بہتری، خواتین کے زیر قیادت کاروباری اداروں کے فروغ اور دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ بھارتی ماہی پروری کا مستقبل محض مچھلیوں کی پیداوار بڑھانے پر منحصر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا انحصار ایسی مضبوط اور بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی قدر افزا زنجیروں کی تعمیر پر ہوگا، جو اختراع، نقل و حرکت، عمل کاری اور منڈیوں کی پائیدار ترقی کے ذریعے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو صارفین سے جوڑیں۔
******
ش ح۔ ع و۔ش ت
U-No-6935